مقدمہ (کتاب: سچے رُوپ کے درشن)

مقدمہ (کتاب: سچے رُوپ کے درشن)

صنف :محمد عارف چودھری

مقدمہ نگار: راجہ عدیل بھٹی

قرآن مجید فرقانِ حمید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے ۔۔۔ مَا فَرَّطْنَا فِیْ الکِتَابِ مِن شَیْ ء ہ (سورۃ الانعام :6 ، آیت :38 ) ترجمہ: ہم نے کتاب (قرآن مجید) میں کوئی چیز نہیں چھوڑی (جسے صراحتاً یا اشارۃً بیان نہ کر دیا ہو) متذکرہ بالا آیت قرآنی میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح الفاظ میں فرما دیا ہے کہ قرآن مجید فرقانِ حمید میں کوئی ایسی چیز نہیں جسے بیان نہ کیا ہو۔ جہاں صراحتاً یعنی کھلم کھلا لکھنے کی ضرورت تھی ، کھلم کھلا‘ شفاف اور واضح لکھ دیا اور جہاں اشاروں کی ضرورت تھی وہاں اشارۃً لکھ دیا۔ اب یہ ہماری کم عقلی اور کم علمی ہے کہ ہم کسی چیز کو یا اس کے متعلق قرآن مجید فرقانِ حمید میں سے ڈھونڈنے سے قاصر ہیں اور اس چیز کو قرآن حکیم میں سے ڈھونڈنے کے بجائے غیر مسلموں کے عقائد اور ان کی تہذیب و ثقافت سے ڈھونڈ رہے ہیں ۔ جس کی سب سے بڑی وجہ ’’ہماری دین مبین یعنی اسلام سے دُوری ہے‘‘۔ اسلام ایک مکمل ضابطہ ٔ حیات اور مکمل فلسفۂ حیات ہے ۔ جس میں ہماری ہر طرح کی رہنمائی موجود ہے ۔ قرآن کریم نہ صرف رشد و ہدایت کا منبع ہے بلکہ یہ ہمارے لیے مکمل اسلامی قانون کی حیثیت بھی رکھتا ہے ، جسے قانونِ قدرت بھی کہا جاتا ہے ۔ اس پاک کتاب میں نہ صرف مسلمانوں بلکہ تمام بنی نوع انسان کیلئے حدود و قیود کا تعین کر دیا گیا ہے کہ اگر یہ کام (یعنی نیک اعمال) کرو گے تو اس کے صلے میں انعام و اکرام سے نوازے جاؤ گے اور اللہ ربّ العزت کی بارگاہ میں معزز ٹھہرو گے اور اگر یہ کام (یعنی بُرے اعمال جس کی دینِ فطرت (اسلام) ممانعت کرتا ہے) کرو گے تو اس کی پاداش میں سخت عذاب میں مبتلا کیے جاؤ گے اور اللہ عز و جل کے ہاں ذلیل و ملعون ٹھہرو گے۔ قرآن حکیم فرقان مجید کی عملی تفسیر ہمارے پیارے آقا نامدار نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی حیات مبارکہ اور سیرتِ طیبہ ہے ‘ جو نہ صرف ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے بلکہ روزِ محشر عذابِ الٰہی سے نجات اور کامیابی کا ذریعہ بھی ہے ۔ اسلئے ہمارے لیے رسول کریم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی زِندگی بہترین نمونہ ہے ۔ حیرت ہے آج کے انسانوں اور بالخصوص مسلمانوں پر کیونکہ ان کے پاس ایک مکمل ضابطہ ٔ حیات اور فلسفۂ حیات (وہ بھی خدائے بزرگ و برتر کی طرف سے ودیعت کیا ہوا) موجود ہونے کے باوجود ہم اغیار اور غیر مسلموں کے نظام حیات اور فلسفۂ حیات کے پیچھے بھاگ رہے ہیں جو کہ عام انسانوں کابنایا ہوا اور کئی غلطیوں اور خامیوں سے بھرا ہوا ہے لیکن اس کے برعکس ہمارے پاس اللہ ربّ العزت کا ودیعت کیا ہوا ضابطہ ٔ حیات اور فلسفۂ حیات (قرآن اور سنت نبویؐ) کی صورت میں موجود ہے جو تمام تر اغلاط اور خامیوں سے پاک اور مبرا ہے ، جس کے اپنانے سے انسانوں کو فائدہ ہی فائدہ ہے نقصان کا کہیں احتمال نہیں ۔ ہمارے نزدیک آج کے مسلمانوں کی پستی اور دین سے دُوری کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ جب تک ہم نے اللہ عز و جل کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھا ہم کامیاب و کامران رہے ، جونہی ہم نے اللہ کی رسی کو چھوڑا ہم تفرقے میں بٹتے چلے گئے اور آج کے مسلمانوں کی صورت میں کُرّہِ ارض پر تذلیل و تضحیک کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں بھٹکے ہیں کہ اپنے اصل دین مبین کی پیروی کرنے کے بجائے غیر مسلموں کے نقش قدم اور ان کی تہذیب و ثقافت کو اپنا کر ذریعہ نجات ڈھونڈ رہے ہیں جو کہ ناممکن ہے ۔ بلکہ یہ ایسے ہی ہے کہ جیسے کسی صحرا میں سراب کے پیچھے بھاگنا، جس سے پانی تو میسر نہیں آتا مگر ہاں انسان مزید نڈھال ضرور ہو جاتا ہے ، یہی حال ہم مسلمانوں کا بھی آج کے دور میں ہے ۔ خطہ جموں و کشمیر ضلع میرپور کے ملحقہ علاقہ کھڑی شریف جسے اولیائے اللہ کی سرزمین بھی کہا جاتا ہے (اس دھرتی پر دو مشہور و معروف روحانی ہستیاں ہو گزری ہیں حضرت پیر محمدؒ المعراف پیرا شاہ غازی دمڑیاں والی سرکاراور عارف کھڑی رومیٔ کشمیر حضرت میاں محمد بخشؒ)سے تعلق رکھنے والے محمد عارف چودھری نے کتاب ہذا ’’سچے رُوپ کے درشن‘‘ کے ذریعے یہی بات ثابت کرنے کی سعی کی ہے کہ اسلام سے دُوری ، مسلمانوں کے زوال کا سبب بنی ہے ۔ اب یہ بات سمجھانے میں محمد عارف چودھری کتنے کامیاب ہوئے ہیں اس کا صحیح جواب قارئین کتاب پڑھ کر ہی دے سکتے ہیں ۔کیوں کہ کہا جاتا ہے کہ قاری بڑا نقاد ہوتا ہے ۔ بہر حال محمد عارف چودھری اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے کتاب کو منظر عام پر لے آئے ہیں جس میں ان کو سوچ کا محور ’’دین اسلام سے دُوری ہی مسلمانوں کے زوال کا سبب ہے‘‘ اگر آج ہم واپس اپنے اصل (دین اسلام) کی طرف لوٹ آئیں تو آج پھر مسلمانوں کا عروج اپنے کل کی طرح ہو سکتا ہے ۔ مگر یہ تبھی ممکن ہے جب ہم دوبارہ دین اسلام کی طرف راغب ہوں گے۔ کتاب ہذا مفید معلومات‘ دُنیا کی مختلف تہذیب و ثقافت سے آشنائی‘ رسم و راج اور انسانی رویوں کی ترجمانی بھی کرتی دکھائی دیتی ہے ، جو قارئین کیلئے دلچسپی اور ذہنی ترو تازگی کا ساماں بھی مہیا کرتی ہے ۔ کتاب ہذا میں محمد عارف چودھری نے نہایت ہی شستہ‘ سادہ اور بلیغ زبان استعمال کی ہے تا کہ عام قاری بھی اس سے بھرپور استفادہ کر سکے اور بعض جگہوں پر انہوں نے افسانوی رنگ بکھیرنے کی بھی کاوش کی ہے جس میں وہ کامیاب نظر آتے ہیں، اس سے چودھری صاحب کے اندر کے لکھاری کا ایک نیا اسلوب بھی سامنے آتا ہے ۔ چودھری صاحب کے نزدیک اسلام سے دُوری کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ مسلمانوں کا اپنی تہذیب و ثقافت چھوڑ کر غیر مسلموں کی تہذیب و ثقافت میں جا کر بسنا اور پھر ان کی تہذیب و ثقافت کو اپنے اوپر حاوی کر لینا ہے ۔ جس کی بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ وہاں غیر مسلم ممالک میں مسلمانوں نے جا کر اور وہاں کی ظاہرہ چمک دمک دیکھ کر اپنے دین مبین سے دُوری اختیار کر لی اور خود کو کسی بھی موقع پر بچانے کی کوشش نہیں کی یا کوشش کی بھی تو بالکل نہ ہونے کے مترادف۔ بقول شاعر۔۔۔ بڑا بچایا پر ہویا دامن کنڈیاں تھیں بچان نئیں اے اور عارفِ کھڑی حضرت میاں محمد بخشؒ بھی شاید اسی لیے دوسری تہذیبوں میں جانے سے منع فرماتے ہوئے کچھ یوں لکھتے ہیں اپنے دیس دے باغاں وچوں تُمے چن چن کھائیے غیر ملک دے باغاں اندر میوے لین نہ جائیے آئیے اب ذرا محمد عارف چودھری صاحب کی تحاریر کا جائزہ لیتے ہوئے دیکھتے ہیں کہ وہ حق قلم کیسے نبھاتے ہیں …؟ محمد عارف چودھری ’’ تخلیق کائنات میں انسان کی تخلیق‘‘ کے عنوان سے کچھ یوں رقمطراز ہیں ۔ ’’……وہ واحدٗ لا شریک ہے ‘ یہ اُس کا کمالِ شوق ہے کہ اُس نے انسان کو تخلیق کیا اور اس کی رشد و ہدایت اور رہنمائی کیلئے مختلف اوقات میں اپنے محبوب بندوں (انبیاء کرام) پر اپنا الہامی کلام بذریعہ روح الامین نزول فرمایا اور یہ سلسلہ اللہ ربّ العزت کی آخری الہامی کتاب (قرآن مجید) اور اپنے پیارے حبیب حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم پر آ کر اختتام پذیر ہوا ۔ قرآن پاک اللہ تعالیٰ کی آخری الہامی کتاب ہے اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم آخری نبی یعنی خاتم النبین ہیں…‘‘ متذکرہ بالا موضوع میں ہی ایک اور جگہ کچھ یوں رقمطراز ہیں۔ ’’……دُنیا کا کوئی بھی انسان کتنا ہی صاحب علم اور کسی بھی بڑی سے بڑی یونیورسٹی سے فارغ التحصیل کیوں نہ ہو ‘ اگر اُس کا عقیدہ اللہ پا ک کی ذاتِ اقدس‘اللہ پاک کی آخری الہامی کتاب قرآن حکیم اور آخری پیغمبر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم پر نہیں ہے تو وہ ’’جاہلِ مطلق‘‘ ہے ‘ وہ گمراہ اور راندۂِ درگاہ ہے …‘‘ اسی طرح چودھری صاحب ’’انسان کا دوسری تہذیبوں میں مدغم ہونا‘‘ کے عنوان سے مفید معلومات فراہم کرتے ہوئے ایک پہرے میں یوں رقمطراز ہیں۔ ’’……دُنیا میں سب سے زیادہ تارکین وطن / امیگرانٹس (Immigrants) امریکہ میں ہیں ۔ جبکہ یورپ میں فرانس اور برطانیہ میں ہیں ۔ البتہ جرمنی ‘ ہالینڈ ‘ سکینڈے نیویا میں بہت سے مسلمان Immigrants ہیں ۔ ان تمام ممالک کو اس وقت افرادی قوت کی ضرورت تھی ۔ چوں کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد پچاس ‘ ساٹھ کی دہائی میں یورپ کی معیشت باقی دُنیا سے بہت بہتر تھی ۔ جنگ عظیم کی وجہ سے ہونے والی تباہی کے سد باب اور تعمیر و ترقی کیلئے یورپ کو افرادی قوت کی ضرورت تھی ۔ اُس وقت انسان ذہنی طور پر اتنا پسماندہ نہیں تھا لہٰذا یورپ کی حکومتوں نے انہیں خوش آمدید کہا…‘‘ جبکہ ’’دوہری شہریت‘‘ کے عنوان سے چودھری صاحب کچھ یوں خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ ’’……دوہری شہریت (Dual Citizenship) آج بھی ایک سہولت (Facility) ہے جو غیر ملکی یہ Facility حاصل کرتا ہے اس کیلئے یہ ایک ’’پروانۂ آزادی‘‘ ہے اور اُس کے تحفظ کی ضمانت ہے ۔ جہاں تک ریاست سے وفاداری کا تعلق ہے ‘ وہ دونوں کیلئے وفادار ثابت ہوتا ہے۔ جس وقت دوہری شہریت (Dual Citizenship) کا رواج ہوا ‘ اُس وقت انسانی ذہن اتنا پسماندہ نہیں تھا ، یہ سب کچھ یعنی Dual Citizenship کا نظام انسان دوستی کے تحت کیا گیا تا کہ دوسرے ممالک سے آنے والے افراد اپنے آپ کو قانونی طور پر غیر ملکی تصور نہ کریں اور ملکی تعمیر و ترقی میں اپنی ذہنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں…‘‘ ’’دوہری شہریت کی افادیت‘‘ کے عنوان سے چودھری صاحب دوہری شہریت کے متعلق اپنی آراء کچھ یوں ظاہر کرتے ہیں۔ ’’……حکومتی عہدوں پر فائز اعلیٰ عہدیداران کی اکثریت امریکن نواز ہے۔ اس لیے میری سپریم کورٹ آف پاکستان کو تجویز ہے کہ دوہری شہریت (Dual Citizenship) رکھنے والے نہ صرف پارلیمنٹ ممبر یا سینٹ کے ممبر بلکہ ان کا دائرہ کار فوج کے جرنیلوں ، دیگر فوجی اعلیٰ عہدیداران ، ججز ، تمام سفارت خانوں میں پاکستان کی طرف سے تعینات سفیر اور سفارتی عملہ اور NGO's میں دوہری شہریت (Dual Citizenship) کے حامل افراد کی دوہری شہریت (Dual Citizenship) ختم کی جائے ۔ نیز اس سے ان کی ملکی وفاداری کا امتحان بھی ہو جائے گا کہ وہ اپنے اسے سوہنے اور پیارے وطن عزیز پاکستان کے کتنے وفادار ہیں…‘‘ ’’منشیات کا استعمال اور اس کے مہلک اثرات‘‘ کے عنوان سے چودھری صاحب نشے کے متعلق دلچسپ معلوم فراہم کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ نشے کا رواج حقے سے سب سے پہلے مصر میں شروع ہوا جس کے متعلق یوں لکھتے ہیں۔ ’’……دُنیا میں نشے کا رواج حقے سے شروع ہوتا ہے جس کا آغاز مصر سے ہوا۔ مصر دُنیا کی پرانی تہذیب ہے ۔ آج بھی مصری لوگ حقے کا استعمال کرتے ہیں ۔ حقہ بنیادی طور پر کسی جملے میں امدادی فعل کے طور پر محفل میں استعمال ہوتا ہے ۔ چوں کہ آج بھی اگر کوئی شخص اکیلا حقہ پی رہا ہے اور اُس کا گھر گلی کے قریب ہے ، خصوصاً دیہات میں تو اگر راہ چلتے مسافر کو حقہ نوشی کی عادت ہے تو وہ بلا تکلف سلام کے بعد حقہ کے پاس بیٹھ جائے گا اور حقہ پینے والا اسے حقہ پیش کر دے گا…‘‘ ’’ہم جنس‘‘ (Lesbian & Gay) کے عنوان سے محمد عارف چودھری صاحب نسلِ انسانی کی غیر فطری ہم جنسی کے متعلق اپنے تاثرات اور اپنی آنکھوں دیکھا حال کچھ یوں رقم کرتے ہیں۔ ’’……انسان کو جنسی (Sex) کے طور پر اللہ تعالیٰ نے مرد اور عورت کے رُوپ میں پیدا کیا ہے ۔ عورت اور مرد کے میلان سے ہی نسلِ انسانی کی بقاء ہے ۔ حضرت آدمؑ اور حضرت حواؑ کے جوڑے سے اس کائنات پر نسلِ انسانی کا سلسلہ جاری ہے ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی شان ہے کہ وہ اولاد کے سلسلے میں کسی کو درجن بھر بچے عطا فرماتا ہے اور کسی کے ہاں کچھ بھی نہیں ہوتا ۔ یورپ اور امریکہ میں کئی لوگ دانستہ بچے پیدا نہیں کرتے (اور اس کا رواج پوری دُنیا میں عام ہو رہا ہے) کچھ لوگ اسقاط حمل (Abortion) کرواتے ہیں ۔ کئی ایک ممالک نے ایک یا دو بچوں سے زائد پر سرکاری طور پر پابندی لگا رکھی ہے‘ جس کی مثال چائینہ ہے …‘‘ ’’یورپ اور امریکہ کا جمالیاتی حسن اور شہری آزادیاں‘‘ کے عنوان سے محمد عارف چودھری جب یورپ ‘ امریکہ اور وطن عزیز کا سیاسی منظر نامے میں تقابل کرتے ہیں تو کچھ یوں رقمطراز ہوتے ہیں۔ ’’……چوں کہ پوری دُنیا کے لوگ ایک دوسرے کے مذہب ‘ رسم و رواج ‘ تہذیبوں اور طرزِ حکومت سے واقف ہو گئے ہیں جس کی وجہ سے انسانی زندگی کے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ جب پورے یورپ اور امریکہ کی ڈیموکریسی میں بسنے والے شہری ‘ پاکستان اور اس جیسے دوسرے ممالک اپنی جمہوریت کا موازنہ کرتے ہیں توآئندہ جلسے میں قومی لیڈروں پر پھول نچھاور کرنے کے بجائے پتھر مارنے کا سوچتے ہیں …‘‘ ’’ریاست ہائے متحدہ امریکہ‘‘ کے عنوان سے ایک پہرے میں مسلمانوں اور امریکیوں کا تقابل یوں پیش کرتے ہیں ۔ ’’……مسلمانوں کا فلسفۂ زندگی امریکیوں سے مختلف ہے ۔ مسلمان طاقت سے کسی کو زیر نہیں کرتا بلکہ اخلاق سے کرتا ہے اور اپنے کردار کا اللہ تعالیٰ کے آگے جواب دہ ہے ۔ چوں کہ مسلمانوں کا ایمان ہے کہ مرنے کے بعد قبر میں اُس سے باز پُرس ہوگی اور انسان کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور روزِ محشر برپا ہو گا ۔ جس میں انسانوں کو جزااور سزا دی جائے گی…‘‘ ’’پاکستان میں بحران اور دُنیا کے موجودہ حالات‘‘ کے عنوان سے چودھری صاحب وطنِ عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان کے بہتر مستقبل کیلئے اپنی ایک منفرد اور قابل عمل تجویز پیش کرتے ہیں کہ کیسے مملکتِ خداداد پاکستان کے حالات بہتر ہو سکتے ہیں …؟ اس ضمن میں کچھ یوں رقمطراز ہیں ؛ ذرا ملاحظہ کیجئے ۔۔۔ ’’……ویسے میرے خیال میں میری ایک تجویز ہے کہ پاکستانی عوام کی مشاورت سے پاکستان پارلیمنٹ کیلئے ایک ٹینڈر نوٹس جاری کیا جائے جس سے پاکستان میں پارلیمنٹ کو ہائر کیا جائے ۔ ہم دُنیا بھر سے پارلیمنٹ کی تعداد کے برابر لوگوں کو ہائر کریں گے جن میں ہر طرح کے ماہرین ہوں گے ۔ ان لوگوں کی سہولیات اور تنخواہ موجودہ پارلیمنٹ کے ممبران کے برابر ہو گی اور اس کے عوض ہم عوام ان سے یہ درخواست (Request) کریں گے کہ وہ ہمارا ملکی نظام بہتر کریں ۔ ہمیں کام کے آدمی مل جائیں گے ایسے لوگوں کا سروس پیریڈ (Servis Period) اسمبلی کی مدت تک یعنی پانچ سال کیلئے ہو گا اگر کسی ممبر نے یعنی وزیر ٹرانسپورٹ یا بجلی ‘پانی نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا تو اس کی ملازمت میں توسیع کر دی جائے گی اور اگر ہم اس کے کام سے مطمئن نہ ہوئے تو ہم کسی دوسرے سے یہ خدمات حاصل کر لیں گے …‘‘ قصہ مختصر کتاب ہذا دلچسپ معلومات سے آراستہ ہو پیراستہ ہے جو قارئین کو بوریت کا شکار نہیں ہونے دیتی بالکل قاری کی ذہنی تروتازگی کا ساماں مہیا کرنے کے ساتھ ساتھ قاری کے ضمیر کو جھنجھوڑتے ہوئے اُس بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ اُمید کامل ہے کہ کتاب ہذا اپنی منفرد طرزِ بیانی کی وجہ سے عوام الناس میں مقبولیت حاصل کرے گی اور قارئین بھی اسے پڑھ کر استفادہ کریں گے ۔ گہرائی و گیرائی سے پڑھنے والے سچے رُوپ کا درشن بھی کر سکتے ہیں کیونکہ سچے رُوپ کا درشن صرف اور صرف اللہ عز وجل کے بتائے ہوئے رستے ‘ اس کے نیک و کار (انبیاء علیہ السلام) پر ایمان لا کر اور دین حنیف (اسلام) کی پیروی کر کے ‘ ہی کیا جا سکتا ہے ۔ ’’سچے رُوپ کے درشن‘‘ منظر عام پر لا کر محمد عارف چودھری نے اپنے حصے کا کام کر دیا ہے اب ہمیں بھی اپنے حصے کا کام کرتے ہوئے دین مبین (اسلام) کی طرف واپس لوٹنا چاہیے تا کہ اُس واحدٗ لا شریک کی بارگاہِ اقدس میں سُرخرو ہو سکیں ۔ دُعا ہے اللہ ربّ العزت کے حضور کہ وہ ہم سب کو اپنے پیارے حبیب حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے نقشِ قدم پر چلانے کی ہمت اور توفیق عطا فرمائے اور قرآن حکیم فرقان حمید کی تعلیمات پر صدقِ دِل سے عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے ۔ ہم مسلمانوں کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کی جو کاوش محمد عارف چودھری صاحب نے کی ہے ‘ انہیں بھی اپنے خاص فضل و رحمت سے نوازے …آمین!!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com