لوئیز آلتھیوسر (Louis Althusser)

لوئیز آلتھیوسر (Louis Althusser)
ڈاکٹر غلام شبیررانا
فرانس سے تعلق رکھنے والے ساختیاتی مارکسسٹ فلسفی لوئیز آلتھیوسر (1918-1990)کا شمار بیسویں صدی کے انتہائی اہم اور موثر فلسفیوں میں ہوتا ہے ۔گزشتہ صدی کے ساٹھ کے عشرے میں مارکسزم اور پس مارکس فلسفہ کے بارے میں اس کے خیالات کو دنیا بھر میں پزیرائی ملی۔صر ف دس سال بعد(1970)اس کے افکار کی تابانیاں قدرے ماند پڑ گئیں۔ گزشتہ صدی کے ساتویں عشرے میں مارکسزم اور ساختیات کے موضوع پر جن خیال افروز مباحث کا سلسلہ شروع ہوا وہ نتیجہ خیز ثابت ہوئے اوران کے معجز نما اثر سے فکر و نظر کے متعدد نئے دریچے وا ہوتے چلے گئے ۔ مارکسی تنقید پر بھی اس کے دُور رس اثرات مرتب ہوئے ۔ لوئیز آلتھیوسر نے مارکسزم کے مطالعہ کے لیے جن اصولوں کی جانب اشارہ کیا ہے ان کا مروّج اصولوں سے کو ئی تعلق نہیں بل کہ وہ بالکل جداگانہ حیثیت رکھتے ہیں ۔ اس کے افکار کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ ا دب اور نظریے کے باہم امتزاج سے لوئیز آلتھیوسر نے نو مارکسزم کی جو دل کش تصویر پیش کی وہ اس کی طرزِخاص ،اختراع اور ایک منفرد تجربہ ہے۔ساختیات اور پسِ ساختیات کو زادِ راہ بنا کر فکر و خیال کی دنیا کا سفر شروع کرنے والے اس دانش ور نے افکارِ تازہ کی شمع فروزاں کر کے ہوش و خرد اور ذکاوت و بصیرت کی نئی بستیاں آباد کرنے کی سعی کی ۔ ادبی تنقید سے گہری وابستگی نہ رکھنے کے با وجود لوئیز آلتھیوسرنے نہ صرف مارکسزم کے بارے میں منفرد اسلوب اپنایا بل کہ اپنے فکر پرور اور خیال افروز مباحث سے فکری اضمحلال اور تخلیقی انجماد سے نجات حاصل کرنے کی مقدور بھر کوشش کی ۔اس نے تخلیقِ ادب اور اس کے پس پردہ کار فرما نظریاتی عوامل کو کلیدی اہمیت کا حامل قرار دیا ۔اپنے جرأت مندانہ موقف اور دھنک رنگ مناظر کی جھلک دکھانے والے فکری روّیوں سے اس نے تخلیق ادب کو مقاصد کی رفعت کے لحاظ سے ہم دوشِ ثریا کرنے کی جو کوشش کی علمی و ادبی حلقوں میں اسے قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا ۔اپنے اشہبِ قلم کی جو لانیاں دکھاتے ہوئے لوئیز آلتھیوسرنے مارکسزم، ساختیات اور پس ساختیات کے موضوع پر جو مدلل گفتگو کی وہ ثمر بار ہوئی اور ان نظریات کے بارے میں قارئین میں مثبت شعور و آگہی پروان چڑھانے میں مدد ملی۔ لوئیز آلتھیوسر کے اسلوب کے بارے میں تاثر ہے کہ اس نے نو مارکسزم کی راہ ہموار کر دی ۔ مارکسزم اور ساختیات کے بارے میں پائے جانے والے سکوت اور انجماد کو پگھلانے کے لیے اس نے سنجیدہ کوششوں کا آغاز کیا ۔ اس نے مارکسزم کے متعلق اپنے خیالات کی وضاحت کی کہ اس سلسلے میں دو امور قابل توجہ ہیں:
1۔ہرنظریے کو ایک حقیقی کُل سے تعبیر کیا جانا چاہیے جو اپنے داخلی مسائل کے ذریعے پوری طرح متحد ہو ،اس طرح یہ بات نا ممکن ہو گی کہ معانی کے تغیر و تبدل کے بغیر کسی ایک عنصر کا اقتباس حوالے کے طور پر شامل کر لیا جائے ۔
2 ۔ کسی خاص نظریے کے اس کُل کا مفہوم (اس مسئلے میں ایک انفردی سوچ)کا انحصار صداقت کے ساتھ اس تعلق پر نہیں جو اس سے جداگانہ حیثیت رکھتی ہو بل کہ اس کاانحصار اس تعلق پر ہے جو مروّج نظریات کے دائرۂ کار سے منسلک ہے ۔ سماجی مسائل اور معاشرتی ڈھانچہ جو نظریے کو بر قرار رکھنے میں معاون ہیں ان عوامل کی جلوہ گری کے شاہد ہیں۔فکر و خیال کے نقوش کی تزئین اسی احساس کا ثمر ہے ۔ 
دوسری عالمی جنگ (1939-1945)کے آغاز میں لوئیز آلتھیوسر سال 1939میں فرانسیسی فوج میں ملازم ہو گیا ۔سال 1940میں جرمن فوج نے اسے جنگی قیدی بنا لیا جہاں اسے بہت مصائب کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے حالاتِ زندگی سے آ گہی رکھنے والے احباب کا گمان ہے کہ جرمنی کے شمالی علاقے میں واقع جنگی قیدیوں کے کیمپ میں جنگی قیدی کے طور پر پانچ سال کا جو طویل عرصہ اسے گزارنا پڑا وہ اس کے لیے بہت کٹھن ثابت ہوا ۔جنگی قیدی کے طور پر اُسے جن اذیتوں ،عقوبتوں اور جان لیوا صدمات کا سامناکرنا پڑا ،ان کے مسموم اثرات نے اُسے ذہنی مریض بنا دیا۔ وہ زندگی بھر شدید ذہنی دباؤ کا شکار رہا اور اسے کئی بار برقی علاج ،منشیات کے اثرات کو زائل کرنے اور تحلیل نفسی کے لیے مخصوص شفا خانوں میں داخل کرایا گیا۔ دوسری عالمی جنگ کے اختتام پر جنگی قید یوں کے کیمپ سے رہائی ملنے کے بعدسال 1948میں وہ فرانسیسی کمیونسٹ پارٹی میں شامل ہو گیا ۔یہ سال اس کے لیے کامیابی کی نوید لایا اوراُسے فرانس کے ممتاز تعلیمی ادارے 201cole Normale Sup233rieureمیں تدریس پر مامور کیا گیا ۔ پیرس میں واقع ایکول (قائم شدہ :1794) کا شمار دنیا کے اہم تعلیمی اداروں میں ہوتاہے جہاں نئی نسل کی خاک کو اکسیر بننے کے فراواں مواقع میسر ہیں۔ لوئیز آلتھیوسر نے اس درس گاہ میں بتیس سال تک تدریسی خدمات انجام دیں ۔ تاریخ اور اس کے پیہم رواں عمل کے بارے میں اس قسم کا زاویۂ نگاہ ساختیات کے علم بردار فرانسیسی دانش وروں کلاڈ لیوی سٹراس ، رولاں بارتھ ، مشل فوکاں اور ژاک لاکاں کی تحریروں کا اہم وصف سمجھا جاتاہے ۔اپنے من کی غواصی کر کے سراغِ زندگی پانے کی لگن اور اپنے نفس کے تابع رکھتے ہوئے داخلیت پسندوجدانی کیفیات کے نمونے ،نظریہ وجودیت اور مظہریات کا جو تصور ژاں پال سارتر (Merleau-Ponty )اور میرلو پونٹے (Merleau-Ponty ) کے اسلوب میں نمایاں ہے ،اسی کی با ز گشت ان مشاہیر کے منفرد اسلوب میں بھی سنائی دیتی ہے ۔ لوئیز آلتھیوسر نے تاریخ کے مسلسل عمل پر اپنی توجہ مرکوز کر دی ۔اس کے خیالات سے یہ تاثر قوی ہو جاتاہے کہ اس نے تاریخ کو محض ایک مضمون کا ورق سمجھنے کے بجائے اصلاح احوال کی ایک نشانی اور عبرت کا ایک سبق قراردیا ہے ۔اس کے استدلال کا اہم پہلو یہ رہا کہ یہ تاریخ کا مسلسل عمل ہی جس کے وسیلے سے آئین�ۂ ایا م میں افراد اور اقوام کے طرز عمل کو دیکھا جا سکتا ہے ۔گردش دوراں کے نتیجے میں گردش ایام کا دوران،سعی و عمل کا میدان اور تاریخ کا عنوان تک بدل جاتا ہے ۔اردو نظم کے ممتاز شاعرمجید امجد نے کہا تھا :
سیلِ زماں کے ایک تھپیڑے کی دیر ہے 
تخت وکلاہ و تاج کے سب سلسلے گئے 
اپنے نظریات میں ثابت قدمی لوئیز آلتھیوسر کا شعار تھا،ساختیات اور پسِ ساختیات کے مباحث کو اس اسلوب میں محوری حیثیت حاصل ہو گئی ۔اس نے مارکسزم میں کسی قسم کی ترمیم کو کبھی لائقِ اعتنا نہ سمجھا ۔کارل مارکس کے فلسفہ پر لکھے گئے اپنے تجزیاتی مطالعات میں اس نے واضح کیا کہ کارل مارکس نے انسانیت نوازی کی مظہر انفرادیت کو بہت اہمیت دی۔اس کے افکار میں تاریخ کو نشانِ منزل کی حیثیت حاصل ہے ۔ہیگل کے تصورات کی تشریح نے دراصل مارکس پر تاکید مزید کی عجیب صورت اختیار کر لی ہے ۔اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اہم تصورات فریبِ نظر کی بھینٹ چڑھتے چلے گئے ۔ کار ل مارکس کی قابل ستائش مساعی کا اہم نکتہ یہ ہے کہ اس نے تاریخ اور اس کے جاری عمل کی اہمیت پر توجہ دی ۔اُس کا خیال تھا کہ مارکس نے تقلید کی مہلک روش سے بچتے ہوئے نئے اسالیب کی جستجو کی ۔جرمنی کے تصوریت پسند فلسفی ہیگل (Georg Wilhelm Friedrich Hegel)سے ہٹ کر اس نے اپنی الگ راہ متعین کی ۔ وہ ہیگل (1770-1831 )کے بجائے جرمن فلسفی ،سیاسی تھیورسٹ اور ماہر معاشیات مارکس (Karl Marx)کے تصورات کو قدر کی نگا ہ سے دیکھتا تھا۔اپنے عہد کے نامور انقلابی،ماہر عمرانیات،ماہر معاشیات اور مورخ کارل مارکس ( 1818-1883)نے اپنی افتاد طبع سے کام لیتے ہوئے ہیگل کے تصورات کے سرابوں سے بچ کر اپنے لیے جس طرز اداکا انتخاب کیا اسے پزیرائی ملی۔ ہیگل سے منسوب ادبی اور ثقافتی تھیوری کلیت (Totality)اورمیزان لگانے کے عمل(Totalization ) پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے لوئیز آلتھیوسرنے اُسے نظر انداز کر دیا ۔ کلیت کی تھیوری در اصل عمیق مطالعہ اور تحلیل و تجزیہ کی ایک ایسی صورت ہے جس میں اجزا کو منتشر کرنے کے عمل سے اس کی ترکیب کو سمجھا جاسکتا ہے ۔اس کی مختلف صورتیں ہیں جیسے پارہ پارہ کرنا ،ریزوں اور کرچیوں میں با نٹنا ،انتقال ملکیت،عرق پاشی اور تجسیم وغیرہ۔ ہیگل نے اس بات پر زوردیا تھا کہ اس دنیا میں ہر کُل کی روح اس کے اجز ا میں پنہاں ہے۔ ہنگری سے تعلق رکھنے والے مارکسی فلسفیلو کاس (Gy246rgy Luk225cs)نے مارکسزم کی جو تو ضیح پیش کی دراصل ہیگل کے تصورات کی آئینہ دار ہے ۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ہیگل ہی کے تصورات پر لوکاس(1885-1971 ) کی تنقیدکا قصر عالی تعمیر ہوا ہے۔ لوکاس نے سماجی زندگی کو ایک ایسے کُل کے رُوپ میں پیش کیا جس میں ہر جُزو کو کُل کی ایک نا گزیر محوری حیثیت کا حامل سمجھا جاتا ہے ۔ لوئیز آلتھیوسر نے لوکاس کے ادبی نظریات کو بے وقت کی راگنی قرار دیا اور انھیں نا قابلِ عمل قرار دیتے ہوئے انھیں تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔لسانیات اورتنقیدی حقیقت نگاری میں لوئیز آلتھیوسر نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ مارکسزم کے مطالعات کے بارے میں لوئیز آلتھیوسر نے لکھا ہے :
,,It is not possible to commit oneself to Marxist study of Marx,s Early Works(and of the problems they pose) without rejecting the spontaneous or reflected temptations of an analytico-teleological method which is always more or less haunted by Hegelian principles.It is essential to break with the presuppositions of this method,and to apply the Marxist principles of theory of ideological development to our object.,,(1)

زندگی کا ساز بھی ایک عجیب ساز ہے ،سُر ،لے اور آہنگ سے محروم یہ پُر اسرار ساز ہر لمحہ اپنی تا ن سنا رہا ہے مگر کوئی اس پر کان نہیں دھرتا۔جس وقت کنوارے لوئیز آلتھیوسرکی عمر تیس سال تھی تو وہ لا اُبالی پن کے زیر اثرکتابِ زیست میں درج شباب کے باب کا مطالعہ کرنے پر مائل ہوا۔سال 1946کے آغاز میں اس کی ملاقات ایک حسین و جمیل نرس ہیلن رٹ مین (Helene Rytman )سے ہوئی جس کی عمر اڑتیس سال تھی ۔اس ملاقات میں دِل کے افسانے نگاہوں کی زباں تک پہنچے۔با ت چل نکلی تو زبانی اور عملی طور پر نرس نے لوئیز آلتھیوسر کو حسن و رومان اور جنس و جنوں کی اس حسین وادی کی سیر کرائی جس سے وہ اب تک نا آشنا تھا۔ جلد ہی دونوں کی شادی ہو گئی اور قربتیں حقیقتوں میں بدل گئیں مگر قلب اور ذہن کے فاصلے کم نہ ہو سکے ۔سہاگ رات ہی اس نو بیاہتا جوڑے کے لیے ایک منحوس شگون بن گئی جس کی صبح ہوتے ہی لوئیز آلتھیوسر کو دماغی امراض کے معالج کے پاس لے جانا پڑا۔اپنی بیوی کے ساتھ تعلقات میں سر دمہری کے باعث گھریلو حالات کی تلخی اور سمے کے سم کے ثمر کی اذیت ناک تلخی سے نجات حاصل کرنے کی خاطراُس نے کسی اور مہ جبیں سے پیمانِ وفا باندھنے کا قصد کیا ۔جلدہی لوئیز آلتھیوسر ایک اور حسینہ کی زلف گرہ گیر کا اسیر ہو گیا ۔ لوئیز آلتھیوسر کے اس نئے رومان کا اس کی بیوی ہیلن رٹ مین کو شدید قلق تھا ۔وہ اپنے شوہر کے ہرجائی پن،بے مروتی اور بے وفائی سے نالا ں اور اس کے روّیے سے ناخوش و بیزار رہنے لگی ۔گھریلو معاملات اس قدر تلخ ہوتے چلے گئے کہ لوئیز آلتھیوسر کو سال 1950میں پھر دماغی امراض کے ہسپتال میں داخل کرانا پڑا۔فلسفی لوئیز آلتھیوسر کی زندگی کا سفر تو افتاں و خیزا ں کٹ رہا تھا مگر اپنے گھر میں خلوص ،وفا ،اعتماد ،ایثار اور بے لوث محبت کی فضا عنقا ہونے کے باعث اس کا پُورا وجود کرچیوں میں بٹ رہا تھا ۔لوئیز آلتھیوسر اور ہیلن رٹ مین دونوں اپنے دِل پہ جبر کرکے کشمکش روزگار میں وقت گزار رہے تھے ۔سولہ نومبر 1980کی شام لوئیز آلتھیوسر ایک رومانی ماحول میں اپنی اہلیہ ہیلن رٹ مین کی گردن کا مساج کر رہا تھا۔ طویل عرصے کے بعد اپنے شوہر کے ہاتھوں کے لمس نے ہیلن رٹ میں کو مد ہوش کر دیا او روہ بے خودی اور جذب�ۂبے اختیار سے سرشار ہو کرآنکھیں بند کیے لوحِ دِل پر نقش ایام گزشتہ کی دھندلی تصاویر کی جھلکیاں دیکھنے لگی ۔ مساج کی نرمی اور گداز سے سرشار ہو کر ہیلن رٹ مین نے آ نکھیں بند کر لیں اور نہ جانے کس جہاں میں کھو گئی ۔ اس اثنأ میں لوئیز آلتھیوسرنے اچانک اپنی بیوی کا گلا گھونٹ کر اسے قتل کر دیا ۔ لوئیز آلتھیوسر کی ذہنی حالت اس قدر ابتر تھی کہ اُسے پاگل خانے میں بھجوا دیا گیا جہاں وہ تین سال زیرِ علاج رہا ۔جب وہ سال 1983میں پاگل خانے سے باہر آیا تو اس نے اپنی زندگی کے منتشر ناخواندہ اوراق اور تلخ یادوں کے الم ناک اثرات اور سانحات کی ترتیب پر توجہ دی۔ اس کی دلی تمنا تھی کہ اس کی کتاب زیست کا افسانہ پڑھ کر لوگ عبرت حاصل کریں ۔اس کی خود نوشت (The Future Lasts Forever: A Memoir) اس کی موت کے بعد شائع ہوئی۔
زندگی بھر لوئیز آلتھیوسرایک فلسفی کے روپ میں ایثار ،محبت،وفا،خلوص اور دردمندی کی طلب میں جی کا زیاں کرتا رہا ۔ مگر یہ فلسفی محبت کی گتھیاں کیسے سلجھاتا جب اُسے یہ بھی معلوم نہ تھا کہ محبت کسی قسم کے لین دین کا نام ہر گز نہیں ۔محبت تویک طرفہ اور بے ساختہ عمل ہے جس میں جفا کے بدلے میں بھی وفاکے پھول نچھاور کر نا اہل درد کا امتیازی وصف ہے ۔ اپنی جذباتی شکست و ریخت ،ذاتی انا کے مصلوب ہونے اور اپنی شخصیت کے خود ساختہ قصر عالی شان کے مکمل انہدام کے بعدوہ اِس دھوپ بھری دنیا میں سایہ طلب مار امارا پھرتا رہا ۔حسینوں کی بے داد گری کے بعد وہ انصاف کے حصول کے لیے ہر در پہ دستک دیتا رہا اور عدل کی زنجیر ہلاتا رہا مگر اُس کی آہ و فغاں صدا بہ صحرا ثابت ہوئی۔ لوئیز آلتھیوسرکی یہ خود نوشت حسرتِ انصاف کے جذبات سے لبریز ہے جس میں مصنف نے ازخود منصف کا منصب سنبھال کر اپنے ہی خلاف ایسا فیصلہ لکھ دیا ہے جس میں نہ صرف اس عادی دروغ گو فلسفی کی ملمع کاری ،جعل سازی ،جنسی جنون ،ہوس ،حرص اور مکر کا پردہ فاش کیا گیا ہے بل کہ اس خسیس کی شخصیت کے بھی پرزے ہوا میں اُڑتے دکھائی دیتے ہیں۔ادب،نظریہ،جمالیات اوراخلاقیات پر بے تحاشا لکھنے والے اس فلسفی کے اندر چُھپا ہوا سفاک قاتل اپنی زندگی میں کن جرائم میں ملوث رہا اس کا احوال اس خود نوشت میں مذکور ہے ۔بھیڑیا جب کسی بھیڑ کو دبوچ لیتا ہے تو وہ نوگرفتار بھیڑ کی چیخ پر کوئی دھیان نہیں دیتا بل کہ لذتِ ایذا حاصل کرنے کے لیے بے بس بھیڑ کی شہ رگ میں اپنے نو کیلے دانت پیوست کر دیتا ہے ۔ اس جو فروش گندم نما فلسفی کی منافقت کا یہ روپ حد درجہ لرزہ خیز اور اعصاب شکن ہے ۔
ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ
دیتے ہیں دھوکا یہ بازی گر کُھلا 
اگرچہ مطالع�ۂ ادب کے والے سے لوئیز آلتھیوسر کے اثرات واضح نہیں مگر فلسفہ لسانیات،مارکسزم،پس مارکسزم،نو مارکسزم اور تنقیدی حقیقت نگاری کے موضوع پر اُس کے خیالات میں قارئین نے اپنی دلچسپی کا اظہار کیا۔اس کے شاگردوں اور عقیدت مندوں کا ایک وسیع حلقہ موجود ہے جنھوں نے اس فلسفی کے افکار کی دوبارہ جانچ پرکھ شرو ع کر دی ہے ۔عملی زندگی میں لوئیز آلتھیوسر کی تین رفاقتیں قابل توجہ خیال کی جاتی ہیں۔پہلی رفاقت کمیونسٹ پارٹی کے ساتھ،دوسری رفاقت کمیونسٹ پارٹی میں اپنی شریک کار اور بعد میں شریک حیات ہیلن رٹ مین کے ساتھ اور تیسری رفاقت جو دمِ آخریں تک بر قرا رہی وہ دماغی امراض کے شفاخانوں کے ساتھ تھی ۔یہ آخری رفاقت تو اس کی جان لے کر ہی رہی۔
نظریہ ،سماجی تشکیل ،سائنس اور ادبیات کے ربط پر لوئیز آلتھیوسر کے خیالات اس کی فلسفیانہ بصیرت کے منفرد انداز سامنے لاتے ہیں۔ مختلف نظریوں جن میں مذہبی، اخلاقی، قانونی اورسیاسی نظریے شامل ہیں، کی ساخت اور ان کے دائرۂ کار پر اپنے تجزیاتی مطالعات کو وہ نہایت صراحت سے پیش کرتا ہے ۔ اس کا خیا ل ہے کہ کچھ نظریے ایسے بھی ہی ہیں جو افراد کی زندگی کے لیے نا گزیر ہیں جیسے صداقت ،انصاف اور فرائض وغیرہ۔ وہ نظریاتی تاثیر کو نظریہ کی عطا قرار دیتاہے،ادب اور فنون لطیفہ کے بارے میں اس کا قیاس ہے کہ ان کے سوتے جمالیاتی تاثیر سے پُھوٹتے ہیں اور علم کی ضیاپاشیاں سائنس کی مرہون منت ہیں۔ان سب کی تاثیر کو وہ انسانی احساس و ادراک کے منطقوں سے تعبیر کرتا ہے ۔ اپنے تمام تحقیقی کام جس میںآغاز سے لے کر سال 1960تک کا عرصہ شامل ہے ،میں لوئیز آلتھیوسر نے جدلیاتی مادیت اور تاریخی مادیت کے امتیاز کو پرکھنے کی مقدور بھر کوشش کی ہے ۔وہ ان میں پائے جانے والے باہمی ربط کو بھی موضوعِ بحث بناتا ہے اور یہ جاننے کی سعی کرتا ہے کہ سائنس اور فلسفہ کے ساتھ اِن کے عام تعلق کی نوعیت کیاہے ۔وہ معاشرہ جہاں سر مایہ دارانہ نظام کا تسلط قائم ہے وہاں ادب اور ثقافت کی ترجمانی کے سلسلے میں لوئیز آلتھیوسرکے تصورات سے استفادہ نا گزیر ہے ۔اگرچہ لوئیز آلتھیوسر نے ساختیات پر گرفت کی ہے مگر تاریخی حقائق سے معلوم ہوتا ہے کہ سال 1960کے عشرے میں وہی مارکسی ساختیات کی اہم نمائندہ آواز ثابت ہوا۔اس نے مارکس پر کیے جانے والے اعتراضات کا مدلل جواب دیا اورمارکسی روایات کا دفاع کرنے میں کوئی کسر اُٹھا نہ رکھی۔ لوئیز آلتھیوسر لوگوں کے اعمال ،ترجیحات ،اقدار،اُمنگوں ،تمناؤں ،فیصلوں ،پسند و نا پسند اور تخلیقات کو سماجی تجربات سے تعبیر کیا۔اس کے خیالات سے یہ تاثر ملتا ہے کہ تاریخی تناظر میں وہ نظریہ کو غیر متبدل سمجھتا تھااور نظریہ کو تاریخ کے حصار سے بالا تر سمجھتاتھا ۔نظریہ کیا ہے اس کے بارے میں وہ لکھتا ہے:
,,Ideology is a ,Representation, of imaginary Relationship of individuals to their Real Conditions of Existence,,(2)
اپنے وجود کی حقیقی کیفیات و شرائط کے ساتھ افراد کے تخیلاتی ربط کی حقیقی نمائندگی ہی نظریہ ہے ۔معاشرتی زندگی میں نظریہ کو کلیدی اہمیت کا حامل سمجھا جاتا ہے۔ کسی معاشرے میں جب موقع پرست اقلیت اپنے مکر اور جبر کے ہتھکنڈوں سے اکثریت کو تابع بنا کر مجبور انسانوں کے چام کے دام چلاتی ہے تو وہاں نظریہ مسخ ہو جاتا ہے ۔جس طرح اقوام کی عنان افراد کے ہاتھوں میں ہوتی ہے بالکل اُسی طرح نظریہ بھی افراد کے کاروبارِ شوق ،تسبیحِ روز و شب کے دانہ دانہ کے شماراور آئین�ۂ ایام میں اُن کی ہر ادا کا مظہر ہوتا ہے ۔یہ ایک مسلمہ صداقت ہے کہ فنون لطیفہ کادامن گل ہائے رنگ رنگ سے لبریز ہے ۔یہاں عنبر فشاں پھولوں کی صد رنگی اور عطر بیزی سے قارئین ادب کا قریۂ جان معطر ہو جاتا ہے ۔ یہ حالات کی ستم ظریفی نہیں تو اورکیا ہے کہ اس کے باجود یہاں قربتیں مفقود اور فاصلے موجود ہیں ۔صریرِ خامہ کو بھی نوائے سروش کا ایک انوکھا رُوپ سمجھا جاتا ہے ۔نظریہ کے متعلق لوئیز آلتھیوسر جو غیر معمولی تھیوری پیش کرتا ہے بعض اوقات وہ اس قدر ناہموار صورت اختیار کر لیتی ہے اور ایسے نزاعی موڑ سامنے آتے ہیں کہ اس پر خود متضاد ہونے کا گمان گزرتا ہے ۔جہاں تک ادب اور فنون لطیفہ سے متعلق مباحث کا تعلق ہے یہ حقیقت کُھل کر سامنے آ تی ہے کہ مارکس اور لوئیز التھیوسرکے تصورات میں حد فاصل موجود ہے۔وہ سماجی نظام کے بجائے سماجی تشکیل پر توجہ دیتا ہے اور سماجی تشکیل کو ایک موثر اور قابل عمل اصطلاح کے طور پر متعارف کراتا ہے ۔ لوئیز آلتھیوسرآئیدیالوجی کی تعریف کرتے ہوئے دو پہلو مدِ نظر رکھتا ہے کہ یہ مقتدر حلقوں کے طرزِ عمل کی عکاسی کرتا ہے اور ان کے غلبے کی حفاظت بھی اسی کے دم سے ہے۔ایسا نہیں ہو نا چاہیے کہ آئیڈیالوجی کذب و افترا پر مبنی شعور،ذہنی تطہیر کے حربے اور متوسط طبقے کے فریب نظر کی لفظی مرقع نگاری کی صورت میں سامنے آ ئے۔اس کا خیال ہے کہ آ ئیڈیالوجی سخت گیر تصورات کا مجمو عہ نہیں ہے جن پر کوئی شخص شعوری طور پر غور کرتا ہے اور اس پر کامل ایقان رکھتا ہے ۔اس بحث میں کئی سخت مقامات بھی آ تے ہیں جہاں لوئیز آلتھیوسر کُھل کر مارکس سے اختلاف کرتا ہے اور اپنے موقف کے حق میں دلائل دیتاہے۔جن منابع کی غواصی سے کوئی نظریہ منصۂ شہود پر آتا ہے اور جن مظاہر کی گرہ کشائی اُس کا اعجاز سمجھا جاتاہے در اصل اُنہی سے دُوری ہی اس کا لائحہ عمل قرار پاتا ہے۔اس قسم کی دُوری پر عمل پیراہونے کے بعد نظریہ اپنے الگ وجود کا اثبات کرتا ہے ۔ لوئیز آلتھیوسراس خیال کا حامی ہے کہ بادی النظر میں فنون لطیفہ ،سائنس اور نظریہ جداگانہ حیثیت رکھتے ہیں مگر ان کی ثقافتی اہمیت اور ہمہ گیر افادیت کا عمیق مطالعہ کرنے سے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ رخشِ حیات کے مانند یہ بھی ہمہ وقت رواں دواں رہتے ہیں۔و ہ اس امر کی جانب متوجہ کرتا ہے کہ فنون لطیفہ اور سائنس دونوں کا نظریہ کے ساتھ مساوی نوعیت کا ایک فاصلہ موجود رہتا ہے جو کہ ان کی اصلیت پر حاوی ہے ۔یہی فاصلہ انھیں مطلق العنان حیثیت عطا کرتا ہے اور اس دنیا کے آ ئینہ خانے میں قطرے میں دجلہ اور جزومیں کُل کا منظر دیکھنے کے لیے بے تاب چشم بینا پر سات پردوں کی اصلیت کے راز کُھلنے لگتے ہیں۔فنون لطیفہ اور ادب میں پائی جانے والی فکر و خیال کی یہ دُوری ان کے الگ الگ شعبوں اور میدانِ عمل کی حدود کی تفہیم کے لیے ضروری ہے۔ لوئیز آلتھیوسر نے مارکس کے نظریات کی تشریح کا جو سلسلہ شروع کیا اور مارکس کی جو تخیلاتی تصویر پیش کی اس میں بہ ظاہر وہ کہاں تک کامیاب ہوا ا س کے بارے میں ولیم لوئیز نے لکھا ہے :
Althusser turned blind eye to developed aspects that fit with his anti-humanist interpretation.His insistence on existence of an epistemological break in Marx was likewise an interpretation only authorized by a selective reading of Marx.That towards the end of his career Althusser himself expressed agreement with Raymond Aron,s view that what he had produced between 1960 and 1966 was an ,,imaginary Marxism,, and hegradually backed away from claiming an epistemological break in Marx,s development would lend further support to criticism that Althusser,s goal of uncovering the ,,real Marx ,,was not met .( 3) ,,
بائلر یونیورسٹی ٹیکساس میں تدریسی خدمات مامور ، ادبی تھیوری اورمابعد جدیدیت میں اختصاص رکھنے والے ڈاکٹر لیوک فریٹر(Dr.Luke Ferretter) نے لوئیز آلتھیوسر کے اسلوب پر جو داد تحقیق دی ہے اسے بہت پزیرائی ملی۔ سال 2006میں شائع ہونے والی اس کی کتاب ’’ Louis Arthusser‘‘ میں مصنف نے لوئیز آلتھیوسر کے اسلوب کی وضاحت کی ہے اور بتایا ہے کہ اس نے مارکس کے کام کی ترجمانی کس انداز میں کی ہے ۔اس کتاب میں مطالعہ کے دوران کن مسائل و مضمرات کی جانب متوجہ کیا گیا ہے ۔ نظریہ کی تنقید اور ثقافت کے لیے اس کی اہمیت خاص طور پر لوئیز آلتھیوسرکی جمالیاتی حس اور تنقیدی بصیرت کا تجزیہ کیا گیا ہے ۔لوئیز آلتھیوسر کے تصورات سے فنون لطیفہ ،تھیٹر اور آرٹ پر مرتب ہونے والے اثرات کو بھی زیر بحث لانے کی کوشش کی ۔ فلسفہ میں ہر کام کا آساں ہونا ایک دشوار امر سمجھا جاتا ہے ۔مار کسزم کی تقلید کے بارے میں ایک دشوار ی کا ذکر کیا جاتا ہے کہ مارکسزم کا پیروکار بننا دشوا ر نہیں۔تاریخ کا ایک غیر مختتم عمل ہوتا ہے سیلِ زماں کے ایک تھپیڑے کی دیر ہے اس کے بعد تخت و کلاہ و تاج کے سب سلسلے ،کرو فر،جاہ و جلال اور فکری کمال زوال کی زد میں آ جاتا ہے ۔ مارکسزم کی تھیوری تاریخ کے طوماروں میں دب سکتی ہے ،اس کے تصورات ابلق ایام کے سُموں کی گرد میں اوجھل ہو سکتے ہیں،یہاں تک کہ یہ تھیوری خود اپنی ہی انجمنِ خیال میں بھی قبولیت کے اعتبار سے پیچھے رہ سکتی ہے ۔اگر کبھی یہ محسوس کیا جانے لگے کہ ایسا ہی لرزہ خیز لمحہ آ پہنچا ہے اور نجاتِ دیدہ و دِل کے گھڑی سے وابستہ حقائق خیال و خواب ہو تے چلے جا رہے ہیں تو یاس و ہراس کا شکار ہونے کے بجائے رہ نوردان شوق کو لوئیز آلتھیوسر کی تجزیاتی تحریروں کا مطالعہ کر نا چاہیے ۔یہ تحریریں مارکسی فکر کے متعلق متنوع مضامین تازہ وسائل اور درپیش مسائل کے بارے میں مثبت شعور و آگہی فراہم کریں گی اور روشنی کا سفر جاری رکھنے کے لیے نشانِ راہ ثابت ہو ں گی ۔ 
شاید ہمارے بعد کوئی ہم کو پوچھ لے 
ہم نے بھی اپنے نام کا کتبہ لکھا لیا 
(رام ریاض )

مآخذ
1.Louis Althusser: For Marx , Verso London, 2005,Page,62. 
2. Louis Althusser:Essays on Ideology,Verso,London,1984,Page,36. 
3. Willaim S. Lewis: Louis Althusser and the Traditions of French Marxism, Lexington Books London,1971,Page189. 
————————————————————————————————————————————————————————–
Dr.Ghulam Shabbir Rana (Mustafa Abad Jhang City)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com