زلزلہ کے اسباب و اثرات! ہمیں کیا کرنا چاہیے

زلزلہ کے اسباب و اثرات! ہمیں کیا کرنا چاہیے
امیر محمد اکرم اعوان:
پوری قوم کو ۸ اکتوبر ۲۰۰۵ میں آنے والے زلزے نے ہلا کر رکھ دیا تھا جس کے اثرات بہت دیر بعد تک باقی رہے اور بارہ سال گزرنے جانے کے بعد اس زلزلے سے ہونے والی تباہیوں کے اثرات ابھی تک موجود ہیں۔اس زلزلے میں لاکھوں گھر تباہ ہوگئے،لاتعداد افراد جاں بحق ہوئے،سڑکوں کی سڑکیں اور پل اس زلزلے کی نذر ہوئے۔جب یہ زلزلہ آیاکئی دنوں تک میڈیا پر خبریں آتی رہیں اور اس وقت ٹیلی ویژن پر یہ بھی بحث رہی کہ کیا یہ زلزلہ عذابِ الٰہی تھا ؟ نبی کریم ﷺ کے فضائل میں سے ایک فضیلت یہ بھی ہے کہ آپ ﷺ کی بعثت کے بعددنیا سے اجتماعی عذاب اٹھا لیے گئے۔ جس طرح پہلے قوموں کی قومیں مسخ ہو جاتی تھیں ، غرق ہو جاتی تھیں یا تباہ ہو جاتی تھیں وہ سلسلہ اب روئے زمین پر کہیں بھی رونما نہیں ہو۔یہ زلزلے ہوں ،سمندری طوفان ہوں یا قوموں اور ملکوں کے درمیان جنگیں ہوںیا اندرونی خانہ جنگی ہو۔ قرآن حکیم نے اس انداز سے لیا ہے کہ وقتاً فوقاً لوگوں کو تنبیہ کی جاتی ہے تاکہ وہ توبہ کرلیں، اللہ کی طرف واپس لوٹ آئیں یہ درست ہے کہ جب اعمال خراب ہوتے ہیں ،کردار بگڑتے ہیں اور ظلم عام ہوتا ہے تو کوئی نہ کوئی مصیبت اس کے نتیجے میں ضرورآتی ہے ۔یہ بالکل اس طرح ہے جیسے کوئی آدمی کھانے میں بدپرہیزی شروع کردیتا ہے۔ غلط سلط کھاتا ہے تو بالآخر کوئی نہ کوئی بیماری اس کے وجود میں پیدا ہو جاتی ہے۔ یہ اس کھانے کی بدپرہیزی کا پھل ہوتا ہے ثمر ہوتا ہے اسی طرح جب عمومی کردار بگڑتے ہیں ،اخلاقیات اپنی حدود سے متجاوزہوجاتی ہیں، ایمانیات میں کمی آتی ہے ،لوگوں میں طمع یا لالچ بڑھ جاتا ہے، مظلوموں کو انصاف نہیں ملتاتو یہ بالکل ایک ایسے نظام کی طرح ہے جیسے ایک فرداورایک وجود کا ہے۔ ایسے ہی ایک قوم کا،ایک ملک کا ہے جس کے نتیجے میں اس طرح کی صورت حال پیدا ہوجاتی ہے کہ کسی نہ کسی جگہ زلزلہ آجاتا ہے اوریہ ایک تنبیہ ہوتی ہے۔ جس طرح مریض جب طبیب کے پاس پہنچتا ہے تو وہ بتاتا ہے کہ بھئی آپ نے یہ بد پرہیزی کی ہے ۔آپ نے یہ چیزیں غلط کھائیں ان کا کھانا چھوڑ دیں یا کم کردیں یا اپنی غذا کو متوازن کریں یا اس کے بدلے یہ، یہ چیزیں کھائیں تو وہی مریض جب پرہیز کرتا ہے تو اﷲ اسے شفاء دے دیتا ہے ۔اسی طرح جب قوموں کے مزاج بگڑتے ہیں توتنبیہ کے لئے (سورۃ الروم:41 ) خشکی میں ،سمندروں میں فساد پیدا ہوتا ہے، سمندروں میں طغیانیاں آتی ہیں، سمندروں میں جنگیں ہوتی ہیں، سمندروں میں لوگ غرق ہوتے ہیں،زمین پر لڑائیاں لگتی ہیں اور اسی طرح سے فطرت کے طوفان بپا ہوتے ہیں، کہیں زلزلہ آتا ہے، کہیں آتش فشاں پھٹتا ہے ۔تو اﷲ کریم فرماتے ہیں کہ یہ بھی انسانی کردار کا ایک اثر ہوتا ہے۔ یہ کوئی اجتمائی عذاب نہیں ہوتا اور نہ ہی سارے کردار کا احتساب کرکے اس کی سزا دے دی جاتی ہے بلکہ (سورۃ الروم:41 )’’ ان کے بعض کرتوتوں کا ثمر انہیں چکھایا جا ئے ان کے بعض کرتوتوں کا نتیجہ ان کے سامنے کیا جائے‘‘ اوراس سے مقصد تباہی یابربادی نہیں ہوتا۔ مقصد یہ ہوتا ہے کہ انہیں توبہ کی توفیق نصیب ہو اور وہ بالکل اسی طرح جس طرح مریض بدپرہیزی سے بچنے کی کوشش کرتا ہے اور پرہیز اختیار کرتا ہے اسی طرح اپنے کردار کی اصلاح کریں اور اﷲ کی بارگاہ میں اﷲ کے حضور میں واپس آجائیں ۔دنیا کا نظام انسانی کردار سے بہت زیادہ مربوط ہے ۔ہم جو کچھ کہتے ہیں، ہم جو کچھ کرتے ہیں ،ہمارا قول ہو یا ہمارا فعل ہواس کا ایک اثر پیدا کرتا ہے جس سے پوری فضا متاثر ہوتی ہے، پوری کائنات متاثر ہوتی ہے۔ اب اگر اجتماعی طور پر ہم جھوٹ بولنا شروع کردیں اﷲ کریم ہم سب کو اس سے بچائے ۔تو ایک تاریکی یا ایک ظلمت یا اس کا ایک منفی نتیجہ آہستہ آہستہ پوری فضا میں پھیلتا جائے گا۔ کسی بڑی جھیل میں آپ چھوٹا سا کنکر بھی پھینکیں تو لہریں بڑی دور تک جاتی ہیں۔ حلقے بنتے چلے جاتے ہیں۔ اسی طرح اگرساری قوم چھوٹے چھوٹے کنکر پھینکنا شروع کر دے تو پھراس کا نتیجہ کیا ہوگا؟اگر اس سے بڑھ کر قتل عام، خانہ جنگی شروع ہو جائے ظلم اور زیادتی شروع ہوجائے۔
نبی علیہ الصلوۃ والسلام ﷺ نے مسلمان افواج کو عین حالت جنگ میں معابد کے تحفظ کا حکم دیا۔کفار کی عبادت گاہوں پر چھیڑ چھاڑ کرنے سے منع فرمایا حتی کہ ان لوگوں کو بھی چھیڑنے سے منع فرمایاجو عبادت گاہوں میں موجود ہوں خواہ وہ وہاں بتو ں کی پوجاکر رہے ہوں یا اپنے عقیدے کے مطابق کوئی بھی عبادت کررہے ہوں یہ بے ضرر لوگ ہیں انہیں نہ چھیڑا جائے۔آپ آج کے حالات کا اندازہ کیجئے کہ وہ مساجد جن کے بارے ارشاد ہوتا ہے (سورۃ الجن :18 )’’ تمام مسجدیں صرف اﷲ کی ہیں‘‘ اگر ہم یہیں سے شروع کریں تو ہمیں پہلے تو اﷲ کی مسجد تلاش کرنا دشوار ہوجاتا ہے ۔کوئی کسی فرقے کی ہے ،کوئی کسی طبقے کی ہے یاکوئی کسی محلے کی ہے ہر ایک کی ایک ملکیت ہے۔ وہ چاہتے ہیں تو وہاں کسی کو نماز ادا کرنے کی اجازت دیتے ہیں ،نہیں چاہتے تونماز ادا کرنے کی اجازت بھی نہیں دیتے ۔یہ تو ایک زمانے سے آ رہا ہے اور اس سے آگے بڑھ کر مساجد میں ان لوگوں کو جو اﷲ کے حضو ر دست بدست باوضو رکوع وسجود میں مصروف ہیں انہیں شہید کردیا جاتا ہے۔ گولیاں چلا دی جاتی ہیں۔ حالانکہ مسجد کی عظمت تویہ تھی کہ اﷲ کریم کا ارشاد ہے (البقرہ :114)’’ کسی کوکبھی یہ زیب نہیں دیتا تھا کہ جو لوگ مسجد میں داخل ہوں اور اﷲ جل شانہ کی عظمت اور جلال سے لرزاں و ترساں نہ ہوں‘‘یعنی اﷲ کا دربار ہے۔ ا للہ جل شانہ کی بارگاہ ہے اور عظمت الٰہی سامنے ہو۔ اپنی کمزوری اور اپنی بے ما ئیگی کو سامنے رکھ کر وہاں اس حال میں جانا چاہئے کہ آدمی کے حلیے ،شکل، کردار اور ایک ایک قدم سے عظمت الٰہی ٹپک رہی ہو۔ اب چہ جائکہ وہاں جا کر کوئی گولی چلائے اور نمازیوں کو ہی شہید کردے۔اس کے نتیجے میں قدرتِ باری کی جانب سے لو گوں کو تنبیہہ کرنے کے لیے،لوگوں کو جھنجھوڑنے کے لیے زمین کے کسی نہ کسی حصے پر زلزلہ آجاتا ہے تاکہ لوگ نصیحت پکڑیں ۔اپنے کردار کی اصلاح کریں اور ایسے کام نہ کیے جائیں جس سے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہو۔
اسی طرح لین دین میں جب بد اعتدالی اور بدیانتی ہوتی ہے کہ آپ قیمت توپوری لے لیتے ہیں چیز خراب دیتے ہیں بلکہ اب تو اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ قیمت پوری سے بہت زیادہ وصول کر لی جاتی ہے اور جو چیز دی جاتی ہے وہ صحیح سے بھی بہت کم ہوتی ہے۔ ملاوٹ ہوتی ہے، اسی طرح اخلاق وکردار ہے، بڑے کی عزت، چھوٹے سے شفقت اور عالم انسانیت سے انس۔ انسان تو بنا ہی انس سے ہے اور انس یا محبت پوری انسانیت کے لیے عام ہے امت مرحومہ کو اﷲ کریم نے تمام امتوں،جو گزر چکی ہیں پر ان پر فضیلت دی ہے۔ آنے والی امت تو کوئی ہے نہیں سب امتیں پہلے گزر چکیں اورآپ ﷺاللہ کے آخری نبی اور رسولﷺ ہیں اور آپ کی امت آخری امت ہے تو فرمایا(سورۃ آل عمران: 110)’’تمام امتوں میں تم بہترین امت ہو کس لیے ہو؟ تمہیں اس لیے کھڑا کیا گیا ہے کہ تم دوسروں کے لیے جیتے ہو دوسروں کے کام آتے ہو پوری انسانیت کی بہتری اور فلاح کا سوچتے ہو۔‘‘
اس میں مسلمان کا کردار کیا ہونا چاہیے ؟اور ہم کیا کررہے ہیں؟ کس طرف جارہے ہیں؟ کیا آج ہمیں آپس میں ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان سے محبت ہے؟ کیامسلمان ،مسلمان کا قتل نہیں کرتا؟کیامسلمان دوسرے مسلمان کی آبرو کا تحفظ کرتا ہے ؟کیا مسلمان ،مسلمان کے مال کو لوٹ نہیں رہا ؟ کیا تجارت میں ہم ایک دوسرے کو دھوکہ نہیں دے رہے؟ کیا ہم لین دین کے معاملے میں کھر ے ہیں ؟ تو جب یہ سب چیزیں خراب ہوتی ہیں تو ہر خرابی کا ایک اثر کائنات میں پھیلتا ہے جس طرح سائنس دانوں کی تحقیق ہے کہ مختلف گیسیں(gasses )زیرزمین جمع ہوتی ہیں پھر ان سے دھماکہ ہوتا ہے، آگ بنتی ہے یالاوا بنتا ہے اور کہیں آتش فشاں پھٹ جاتا ہے۔ کہیں زیرزمیں دھماکہ ہوتا ہے اور اس سے زلزلہ آجاتا ہے کہیں سمندر میں رونماہوتا ہے تو اس سے طغیانی اور سمندری طوفا ن آجاتے ہیں تو بالکل اسی طرح ،جس طرح وہ گیسیں اکٹھی ہوتی ہیں اسی طرح انسانی کردار کے اثرات بھی جمع ہوتے ہیں اور پھر کہیں نہ کہیں وہ پھٹ پڑتے ہیں۔ اب یہ کہنا کہ یہ عذاب الٰہی تھا۔ میں نے یہ بھی سنا بعض لوگوں نے کہا وہ جی الیکشنوں میں دھاندلی ہوئی اس لیے عذاب آگیا کتنی عجیب بات ہے کہ الیکشنوں میں جو لوگ منتخب ہوئے وہ تو تخت و تاج پر سریر آراء ہیں اور جو غریب دور دراز بیٹھے تھے وہ مر گئے۔ یہ پھر عجیب قسم ہے عذاب کی کہ جن کو آپ غلط کہہ رہے ہیں وہ تو ٹھیک ہیں اور جنہیں اس بات کی خبر بھی نہیں تھی وہ مارے گئے یہ عذاب نہیں ہاں تنبیہ ضرور ہے، انتباہ ضرور ہے کہ لوگوں کو سمجھ آئے کہ ہم جو کر رہے ہیں اس کی اصلاح کرنی چاہیے ۔ہمیں واپس آنا چاہیے۔ ہمیں اپنے کردار سے لے کر اپنے ایمان اور اپنی سوچوں تک کو درست کرنا چاہیے۔ انسان اپنے تمام علم کے باوجود، انسان اپنی تمام دانش کے باوجود، انسان اپنی ساری تو انائیاں صرف کرکے بھی عظمتِ رسول اﷲ ﷺ کی انتہا کو نہیں پا سکتا اور کیسے پا سکے گا ؟کہ(سورۃ الاعراف :156)’’اللہ کی رحمت تمام کائناتوں سے وسیع تر ہے ‘‘اور ایک ایسی ہستی جسے مجسم رحمت بنا کر اللہ نے مبعوث فرما یا(سورۃ الانبیاء :107 )اﷲ کریم رب العالمین ہے اﷲ کریم کی ایک ذا ت کو چھوڑ کر باقی ساری کائناتیں عالمین میں موجود ہیں اﷲ کے سوا جو کچھ ہے جہاں کوئی ہے وہ سب عالمین میں موجود ہے اسی لیے اﷲ رب العالمین ہے تمام عالمین کا خالق ہے ،مالک ہے ،پالنے والا ہے اور نبی کریم ﷺ رحمت العالمین ہیں جتنی رحمت عالمین پر اﷲ کی ہوتی ہے وہ ساری مجسم ہو کر ایک وجود عالی بن گیا محمد رسول اﷲ ﷺ تو حضور اکرم ﷺ کی بعثت سے لے کر قیام قیامت تک آپ کی نبوت موجود ہے آپ کی برکات موجود ہیں آپ کا دین موجود ہے جو کتا ب آپﷺ پرنازل ہوئی وہ موجود ہے اور ان شاء اﷲ ہمیشہ یہ صورتحال رہے گی۔ اب اس میں بھی اگر ہم پر مصیبتیں آتی ہیں،تباہیاں آتی ہیں تو اس کا سب سے بڑا سبب رحمت سے دوری ہے۔ جس طر ح صحت سے دوری بیماری کاسبب ہوتی ہے ۔بیماری جتنی آتی ہے اتنی صحت خراب ہوجاتی ہے ۔اسی طرح جتنی اس طرح کی آفات آتی ہیں وہ نشاندہی کرتی ہیں کہ ہم رحمتِ الٰہی سے اتنے دور ہیں ۔جتنا حصہ قوم کا متاثر ہوتا ہے اس کے بارے بھی اللہ کریم فرماتے ہیں کہ سارا نہیں بلکہ بعض چیزوں کا نتیجہ انہیں دکھایا جاتا ہے کہ اگر رحمت سے دور رہوگے تو یہ حال ہوگا لہٰذاہمیں سوچنا یہ چاہیے کہ اگر ایک شخص کسی مکان سے اپنا ایک بازو نکالتا ہے اور اس پر اولے برستے ہیں تواسے چاہیے کہ وہ بازو مکان کے اندر کھینچ لے چونکہ باہر تو اولے برس رہے ہیں اور اگراس کا سارے کا سارا جسم ہی باہر نکل جاتا ہے تو پھرسارے بدن پر برسیں گے تو یہ ہمارا وہ کردار ہے جس کے لیے قرآن حکیم نے حکم دیا تھا۔
جو چیزیں ایسے کردار کی، ایسے اعمال کی بنیاد بنتی ہیں جن پر آگے جاکر تباہی آتی ہے یا ہمیں سختی سے متنبہ کیا جاتا ہے، تنبیہ کی جاتی ہے تو اس سے سبق یہ حاصل کرنا چاہیے۔ بڑے خوش نصیب ہیں وہ لوگ جنہوں نے سبق حاصل کرلیا اور بڑی دریادلی سے مصیبت زد گان کی مدد کے لیے دام ،درم، سخن جو کچھ ہوسکا ان کے لیے کیا ۔صاحب قلم نے اپنا قلم استعمال کیا، شاعر نے اپنی شاعری اور اپنے شعروں میں اُس دکھ کو سمودیا۔ خطیب نے اپنی خطابت میں دلجوئی کی۔ دولت مندوں نے اپنی دولت سے ان کی مدد کی۔ جوان بچے اپنی جوانیا ں دے کر ان ویرانوں میں سرگرداں رہے۔ کوئی بے گوروکفن لاشوں کو دفناتا رہا۔ کوئی زخمیوں کو اٹھا تا رہا اورکوئی بیماروں کو دوائی پہنچا تا رہا کوئی بھوکوں کو خوراک پہنچا رہا تھا۔ کچھ دینے والے تھے، کچھ لے کر جانے والے تھے، کچھ پہنچانے والے تھے۔ اسی طرح پورا ملک، ہماری فوج اور ہمارے سویلین ادارے سارے لائق تحسین ہیں جو اس کام میں حصہ لے رہے تھے۔ لیکن یہ وقتی اور جذباتی نہیں ہونا چاہیے یہ تبدیلی لمحاتی نہیں ہونی چاہیے ایک حادثہ ہوتا ہے ہم وقتی طور پر بڑا اثر لیتے ہیں اور اس کی طرف دوڑتے ہیں لیکن چند دن بعد اسے بھول جاتے ہیں اور پھر وہی پہلا کردار واپس آجاتا ہے ایسا نہیں ہونا چاہیے یہ ایک بہت بڑا سبق ہے اور اس سے ہمیں اپنے اصلاح احوال کی کوشش اوریہ سبق حاصل کرنا چاہیے کہ آئندہ ہم ایسے کردار کو نہ اپنائیں جس کا سبب تباہی ہو تاہے۔
اللہ کریم ہم سب لوگوں کی کاوش اور کوشش قبول فرمائے اور اللہ عزم وہمت دے قوم کو سلامت رکھے اس ملک کو اور اللہ ہمیں یہ قوت و طاقت عطا فرمائے اور یہ شعور عطا فرمائے کہ ہم رحمت عالم ﷺ سے اللہ کی بے پناہ رحمتیں وصول کریں اور اس کی تنبیہات سے اور اس کی سختی سے محفوظ رہیں اللہ کریم سب کے اعمال وکردار کو حسن عطا فرمادے ہمیں برائیوں سے نجات دے اور اپنی اطاعت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com