علم ہے رخت سفر میرِ کارواں کے لئے

علم ہے رخت سفر میرِ کارواں کے لئے
تحریر : نعیم بلوچ
علم کا نور ستاروں کے نور کی طرح چھن چھن کر آتا ہے اور ہر شعبہ زندگی کو منور کرتا ہے۔ شمع صلح محبت کی تجلی، معاشرت اور معیشت کے پھولوں کی رنگینی، تقدیس و پاکیزگی کی جہت، شریعت کے باغ کی پھبن، نظام عبادت و عقیدت کی رعنائی، اخلاق و مروت کی زیبائی، مساوات و برابری کا فرش، اخوت کی جہانگیری کا حسن، اتحادواتفاق کا گلشن، جنت نشان، علم وعرفان کے حسن و جمال ہی کی وجہ سے ہے۔
حدیث نبوی کی روشنی میں معلم ہو یا متعلم، حاکم ہو یا محکوم، سبھی میرِ کارواں ہیں۔ اور علم سب کے لئے زادِراہ، علم حیات القلوب ہے، نورالبصائر ہے، شفاء الصدور ہے، ریاغ العقول ہے۔ عل ہی وہ میزان ہے جس میں اقوال و احوال اور اعمال وزن کیئے جاتے ہیں، علم ہی وہ حٓکم یہے جو شک و یقین اور ضلالت و ارشاد میں فیصلہ دیتا ہے۔ علم ہی معرفت الہیٰ کا ذریعہ ہے۔ علم ہی سے رب العالمین کی تحمید و تمجید ہوتی ہے۔ علم ہی کائنات کی وسعتوں میں کمند ڈالنے کا فہم عطا کرتا ہے۔ امام احمد بن حنبلؒ فرماتے ہیں کہ "علم کی ضرورت اکل وشرب سے بھی قوی تر ہے۔ خوردونوش کی ضرورت تو شب وروز میں صرف دو بار پڑتی ہے، مگر علم کی ضرورت ہر سانس کے ساتھ وابستہ ہے۔ اسی لئے تو علم ہے رخت سفر میرِ کارواں کے لئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرِکارواں جملہ علوم و براہین کا سلطان ہوتا ہے۔۔۔۔ اس لئے خالق کائنات نے تمام انبیائے کرام کو وصفِ علم سے نمایاں فرمایا۔۔ حضرت آدم علیہ السلام کو "وَعَلَّمَ اٰدَمَ الاَاَسَمَآءَ کُلَّھَا" ۔ (البقرہ)
کے ذریعے فرشتوں پر ممتاز ٹھرایا۔ حضرت ابراہیمؑ نے اپنے باپ کے سامنے یٰٓاَبَتِ اِنّی قَد’ جَآءَ نَی مِنَ العِلمِ (سورۃ مریم) کا نعرہ بلند کیا۔۔ حضرت داوٗد اور حضرت سلیمان ؑ کو وَلَقد’ اٰتَینَا دَاودَسُلَیمَانَ عِلمَاَََ کا شرف حاصل ہوا۔ علم ہی کو زادِراہ بنانے کیلئے حضرت موسیٰ علیہِ السلام نے خضر علیہِ السلام سے عآیٰ اَن’ تْعَلِِّمَنِ مِمَّاعُلِِّمَت’ رُشداََ۔ کے الفاظ میں اپنے طالب علم ہونے کا اظہار کیا۔۔۔۔۔
حضرت یعقوبؑ کو وَاِنَّہُ لَذُو’عِلمّ لِِّمَا عَلَّمَنٰہُ۔ کی فضیلت عطا ہوئی۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے دلائل توحید کے ثبوت میں اپنی شہادت، ملائکہ اور صاحبانِ علم کی شہادت کو مستحکم فرمایا ہے۔ اور معلمِ انسانیت کو رَبِ زِد’نِی عَلمَاَ کی دعا سکھائی۔۔۔۔ جبکہ"عَلَّمَ الاِنسَانَ مَالَم’ یَعلَم’" کی پہلی نوید سناکر علم کو جملہ نعمائے عالیہ سے برتر قراردیا ہے۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے بلندی علم کو ایمان کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔
تیرے علم و محبت کی نہی ے انتہا کوئی
نہیں ہے تجھ سے بڑھ کر سازِِفطرت میں نوا کوئی
معلمِ انسانیت حضرت محمدﷺ سے بڑھ کر میرِ کارواں اور کون ہو سکتا ہے۔ اس سالارِ اعظم نے فرمایا "وَالعلمُ سَلاحِی’" یعنی علم میرا ہتھیار ہے۔۔۔۔ اور اس عظیم زادِراہ کے ذریعے صُفَّہ کی درسگاہ کے معلم قدسﷺ نے ریت کی مسند پر بیٹھ کر کرسیوں اور ڈیسکوں کے بغیر خاکی ونوری، انسی و جانی کو ایسے ایسے علام سے مستفید فرمایا کی یہ ذرہ ہائے بے مقدار آسمانِ علام پر تابان نجوم بن کر چمکے۔۔۔ ان کے حافظوں کی امنت گاہیں کمپیوٹر سے زیادہ طاقتور تھیں اور وہ وَاَنتُمُ الاَعلَونَ اِن’ کُنتُم’ مُّومِنِینَ کی عملی تفسیر بنے۔۔۔ انہیں کے گھوڑوں کی ٹاپوں کی رب نے قسم کھائی ہے۔ انہوں نے ملک فتح کر نے کے ساتھ ساتھ لوگوں کے دل و دماغ بھی فتح کیے۔ انہوں ے بندہ نوازیوں کے آئین مرتب کیے اور تمام سائنسی علوم کی بنیاد آلی۔ اس لیئے بلا مبالغہ یہ کہ دیتا ہوں کہ آذانِ بلالی، انتظام صدیقی، عدلِ فاروقی، سخاوتِ عثمانی، غربِ حیدری، شہادت حسینی، لقمان ؑ کی حکمت، ابن رشدؒ اور فارابیؒ کی شہرت، امامغزالیؒ کا فلسفہ حقیقت، بایزید بسطامی کی عظمت، سعدیؒ کی ہر دلعزیزی ، غالبؒ کی جازبیت، اقبالؒ کی فکر اور جناحؒ کی تدبیر۔۔۔۔۔ کسی بھی فرد کی میراث نہیں بلکہ یہ تو میرے آقاﷺ کے فرمان "والعلم سلاحی" کا اعجاز ہے۔۔
اے علم کیا ہے تو نے ملکوں کو آباد
غائب ہوا جہاں سے وہاں آیا زوال
ان پر ہوئے غیب کے خزانے مفتوح
ٹھرایا جنہوں نے تجھے راس المال
کس قدر مقام غور ہے کہ ہد ہد پرندے کے پاس اگر نئی خبر بطور زادِراہ نہ ہوتی تو حضرت سلیمانؑ اسے سزا دیتے یا ذبح کر دیتے۔ اگر شکاری کتے یا باز کے پاس شکار کا علم نہ ہوتا تو ان کا پکڑا ہوا شکار کبھی حلال نہ ہوتا۔۔۔۔۔ اسلام میں تو یہ ایک جانور یا پرندے کے علم کی اہمیت ہے۔۔۔ انسان کے علم کاتذکرہ تو انجم شماری کے مترادف ہے۔ مگر افسوس! کہ آج میرِ کارواں میں وقارِزندگی ہے، نہ معیارِ زندگی، علم شرمندہٗ عمل ہے نہ قلم تابندہ عقل، بندہ آفاق بہت ہیں مگر صاحب آفاق کوئی نہیں۔۔۔۔۔۔۔ کتاب خواں بہت ہیں مگر صاحب کتاب کوئی نہیں۔۔ اے میرِکارواں یاد رکھ۔۔
زندگی کچھ اور شے ہے علم ہے کچھ اور شے
زندگی سوزِ جگر ہے علم ہے سوزِ دماغ
علم میں دولت بھی ہے قدرت بھی ہے لذت بھی
ایک مشکل ہے کہ ہاتھ آتا نہیں اپنا سراغ
میرِکارواں سے درخواست ہے کہ میرے نوجوان شمع عظمت کے پروانے ہیں، یہ اقبال کے شاہین ہیں۔ یہ خودی کے ترجمان ہیں۔ یہ مستقبل کے میرِکارواں ہیں۔ یہ اپنے دامن پھیلا کر میرِ کارواں سے استدعا کر رہے ہیں کہ ہم شاہین ہیں تو ہمیں پرواز سکھا دو۔۔۔ ہم گفتار کے غازی تو ہیں مگر ہمیں کردار کے غازی بنا دو۔۔ ہم مجاہد تو ہیں ہمیں محمد بن قاسم بنا دو۔۔ ہم ساجد تو ہیں مگر ہمیں سجدہ شبیری بنا دو۔۔ ہم پھول تو ہیں ہمیں مسکرانا سکھا دو۔۔ ہم سونا تو ہیں ہمیں کندن بنا دو۔۔
زندگی ہو میری پرونے کی صورت یارب
علم کی شمع سے ہو مجھ کو محبت یارب

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com