میری تخلیقی و ازدوجی زندگی کے42سال

میری تخلیقی و ازدوجی زندگی کے42سال

* ڈاکٹر رئیس صمدانی

یہ تحریر ایک اعتبار سے میری عمر رفتہ کی داستانوں میں سے ایک ہے، اس لیے کہ میں اپنی حیات کے مختلف پہلوؤں کو مختلف موضوعات کے تحت قلم بند کرتا رہا ہوں، اب تک آپ بیتی کے حوالے سے جو کچھ بھی لکھ بلاکسی تکلف اور تصنع کے لکھا، اس تحریر کا مقصد بھی ہر گز اپنی ستائش نہیں بلکہ اپنی زندگی میں پیش آنے والے واقعہ کی ہما ہمی اور گہما گہمی کو قلم بند کرنا ہے اور مستقبل کی نسلوں کے لیے اپنی زندگی کے تجربات و مشاہدات کو چھوڑ جانا ہے شاید اس سے کسی ایک لیے بھی مثبت پہلو نکل آئے۔ الحمد اللہ 20دسمبر 2017 ء کو میری تخلیقی اور ازدواجی زندگی کے42سال اختتام کو پہنچے حسن اتفاق میری تخلیقی زندگی کی عمر بھی ا تنے ہی برس کی ہوچکی۔ اولین کتاب 1975ء میں منظر عام پر آئی تھی جب کہ زندگی کا دوسرا بازو، دوسرا پہیہ بھی مجھے اسی سال میسر آیا۔گویا تخلیقی سفر اور ازدواجی زندگی کا سفر ساتھ ساتھ شروع ہوا۔ تخلیقی سفر کی کتھاتو کئی بار بیان ہوچکی ، مختصر تفصیل صرف اس قدر ہے کہ 1975ء میں عام موضوعات پر لکھنے کے عمل نے تحقیق و تخلیقی موضوعات نے علمی وا دبی موضوعات کی جانب رخ موڑدیا ، اس ذوق نے مجھے ادب کی مختلف اصفاف جیسے خاکہ نویسی، رپوتاژ، منظر کشی، سفرنامہ نگاری، کہانی نویسی، کالم نگاری جیسی اصناف تک پہنچا دیا ۔اب ادب کے وسیع سمندر میں ٹامک ٹوئیے ماررہا ہوں۔ صلاحیت بھر کچھ لکھ لیتا ہوں۔ 34تصانیف و تالیفات 650مضامین جن میں سے 450سے زیادہ مضامین و کالم ہماری ویب پر آن لائن موجود ہیں۔ تخلیقی زندگی کا سفر جاری و ساری ہے دیکھتے ہیں کہ یہ کب اور کہا ں جا کر رکتا ہے اردو کی اصناف خاکہ نویسی اور کالم نگارہ اس وقت غالب ہیں اس عمل میں معاش کے مشاغل بھی علمی ، تعلیمی اور پیشہ ورانہ عمل سے تعلق رکھتے تھے ،انہوں نے مجھے علم و ادب کے دریا سے باہر نکلنے ہی نہ دیا۔ مختلف کالجوں سے سرگودھا یونیورسٹی اس کے بعد منہاج یونیورسٹی اور علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں تدریسی، علمی وادبی مشاغل نے ادھر ادھر کی سوچ سے محفوظ رکھا۔مَیں نے تصنیفی ، تالیفی، علمی وادبی میدان میں اب تک جو بھی تیر مارا ہے وہ انگلی کٹا کر شہیدوں میں داخل ہونے کے مترادف ہے۔ تفصیل حال ہی میں شائع ہونے والے سہہ ماہی ادبی جریدے ’’سلسلہ‘‘ کے خاص نمبر میں درج ہے ۔زندگی رہی تو تخلیقی زندگی پر تفصیلی بیانیہ یا آپ بیتی لکھنے کی کوشش کرونگا۔یہاں میرا موضوع اپنی ازدواجی زندگی کے42 سال مکمل کی تکمیل پر جو جشن میرے بھائیوں بھتیجو اور بھانجوں، پوتوں اور پوتیوں نے منایاوہ میرے لیے اعزاز ہے، اس کی کچھ تفصیل یہاں لکھ رہا ہوں۔تاکہ سند رہے اور مرنے کے بعد کسی کے کام آئے۔ زندگی کیا ہے؟ کائینات کی سب سے قیمتی نعمت، یہ رشتے ناتے سب زندگی سے جڑے ہیں، رشتے وسیع ہوکر خاندان بنتے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا شکر و احسان ہے کہ اس نے زندگی کی نعمت سے نوازا ، یہی زندگی علمی، ادیب و تخلیقی زندگی کے ساتھ ساتھ ازدواجی زندگی خوش اسلوبی سے اور خوش و خرم طریقے سے بسر ہوئی اور اب بھی اطمینان و سکون کا عمل جاری و ساری ہے ۔ زندگی ہے تو سب کچھ ہے ، زندگی نہیں تو کچھ بھی نہیں۔ زندگی کے بارے میں قرآن نے کیا کہا ، قرآن کی سورۃ اَلعَنکَبُوت آیت64 میں کہا گیا کہ ’’اور یہ دنیا کی زندگی تو صرف کھیل اور تماشہ ہے ۔ اور ہمیشہ کی زندگی (کا مقام) تو آخرت کا گھر ہے۔ کاش یہ (لوگ) سمجھتے ‘‘۔ سورۃ الکھف آیت 54میں کہا گیا ’’ اور اُن سے دُنیا کی زندگی کی مثال بھی بیان کردو (وہ ایسی ہے ) جیسے پانی جیسے ہم نے آسمان سے برسایا ۔ تو اس کے ساتھ زمین کی روئیدگی مل گئی پھر وہ چُور اچُور اہوگئی کہ ہوائیں اُسے اُڑاتی پھرتی ہیں۔ اور کدا تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے‘‘۔ سورۃ یونس میں زندگی کو مینہ یعنی بارش سے تشبیح دی گئی ۔ تو یہ دنیاوی زندگی در اصل آخرت کی زندگی کی تیاری کا وقفہ ہے، اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم آخرت کی تیاری کیسے کرتے ہیں۔ معاش کی فکرٹھیک لیکن اپنے آپ کو اے ٹی ایم مشین بنالینا مناسب نہیں،رزق کا وعدہ تو ہمارے پیدا کرنے والے نے کیا ہے وہ ہر ایک کو زرزق دے گا اور دے رہا ہے۔ سات پردوں میں چھپے ننھے جانور کو بھی، سیپی بیٹھے کیڑے کو بھی، پہاڑوں میں چھپے چھوٹے بڑے جانور سب اللہ کی اس نعمت سے فیض یا ب ہورہے ہیں۔ وہ انسانوں کو بھی بلارنگ و نسل، چھوٹے بڑے، عاقل بالغ، کالے گورے، مسلمان ، غیر مسلک سب کو رزق دینے کا وعدہ ہے اور اپنے وعدہ کے مطابق ہر ایک کو رزق پہنچ رہا ہے۔ہمارا فرض اولین اس شکران نعمت کے ساتھ ساتھ فرض کی ادئیگی کو یقینی بنا نا، انسانیت کی خدمت کا بڑا اجر بتا یا گیا ہے ۔ علمی و ادبی میدان میں اپنا حصہ شامل کرنا بھی خدمت ہے، حصولِ علم اور اور ترسیل علم تو بڑی نعمت ہے۔ اس کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ میں نے اپنی زندگی میں جو کچھ کیا شوق اور خدمت کے جذبے سے کیا۔ میری ازدواجی زندگی کا باقاعدہ آغاز یعنی حجاب و قبول کے تین بول تو 20دسمبر 1975کو بھری محفل میں اد ا کیے، میں باسی تو کراچی کا تھا لیکن اس مقصد کے لیے ہمیں باراتیوں کے ہمراہ دریائے سندھ کوعبور کرنا پڑا، سندھ کے شہر حیدر آباد کے علاقے لطیف آباد میں ہماری سسرال تھی وہاں بھی گورنمنٹ کالج اور گورنمنٹ غزالی کالج کی دیوار کے سائے تلے حجاب و قبول کی رسم ادا ہوئی۔ لیکن اس زندگی کا بیج اس وقت بو دیا گیا تھا جب ہم نے بولنا بھی شروع نہیں کیا تھا ہماری عمرِ عزیز ابھی صرف تین برس تھی پھر کچھ یوں ہوا ’’جمعہ 7 دسمبر1951ء کی صبح، ہماری چھوٹی خالہ جوکراچی سے سیکڑوں میل دور اندرون سندھ ’تھاروشاہ‘ میں رہا کرتی تھیں کے آنگن میں پہلی لڑکی نے جنم لیا، نام ’شہناز‘ قرار پایا، ہمارے والدمرحوم اپنی سالی اور ہم زلف سے بہت محبت اور عقیدت رکھتے تھے۔ وہ دور ہی رشتوں کو اہمیت دینے اور باہم محبت کا تھا،انہوں نے پانچ بج کر پانچ منٹ پر ریڈیو پر اعلان کردیا، اس وقت ٹی وی تو تھا نہیں وگر نہ جیو پر اعلان نہ ہوتاتو کم از کم پٹی تو چل ہی جاتی کہ ’یہ لڑکی میری ہوئی‘،میَں حیرت و یاس کی مورت بنا اپنے ابا کی بات کو غور سے سن رہا تھا ، میری قسمت کا فیصلہ بغیر مال دیکھے کس بے باکی اور دھڑلے سے کر رہے تھے، کہتے ہیں کبھی زبان سے نکلی کوئی خواہش اﷲ تعالیٰ سن لیتا ہے، شاید یہ بھی قبولیت کی گھڑی تھی،اﷲ نے میرے اباکی یہ خواہش سن لی،فرشتوں نے پکے رجسٹر میں ہمارے نام لکھ کر مہر ثبت کر دی ، میَں نے بھی بڑے ہوکر اپنے والدین کے فیصلے کو خوش دلی سے قبول کیا اس دوران نظریں اِدھر اُدھر بہکی بھی خاص طور پر جامعہ کراچی کی چکا چوند روشنی نے متاثر بھی کیا لیکن اﷲ نے ثابت قدم رکھا ،28 سال بعد 20دسمبر1975ء میں میَں اور شہناز شادی کے بندھن میں بندھ گئے۔ چار دھائیاں اوپردو سال ہوچکے ہیں، بندھن قائم ہے، کب تک قائم رہتا ہے ، یہ خدا کو معلوم، مختلف جہات سے مکمل شریک سفرہیں ،مزاج شناس، ہم نوا اور ہم قدم بھی، خواتین میں گفتگو کو طول دینا مشترکہ عادت ہے۔اس سے دنیا کے سارے ہی مرد دچار ہیں ، ہم مکہ، مدینہ، جدہ ، فیفا (جیذان) کے پھیرے ساتھ ساتھ کرچکے ہیں۔ عمرے بے شمار کیے گزشتہ سال حج کی سعادت بھی حاصل ہوئی۔ اﷲ نے دوبیٹوں عدیل صمدانی اور ڈاکٹر نبیل صمدانی، بیٹی فاہینہ (مہناز)سے نوازا، بڑی بہو مہوش اور چھوٹی ڈاکٹر ثمرا ہے۔ دونوں ہی سعادت مند ہیں۔ ہمارے پوتے صائم عدیل ،ارسل نبیل، صارم عدیل ، پوتی حبیبہ عدیل نواسہ ارحم اور نواسیاں نیہا اور کشف میری کل کائینات ہے۔ عدیل اپنی فیملی کے ہمراہ جدہ میں مقیم ہے۔ بیٹی اور داماد عاصم مشکور نے جرمنی کو اپنا مسکن بنا لیا ہے، بفضل تعالیٰ خوش ہیں۔والدین کو اولاد کی خوشی زیادہ عزیز ہوتی ہے، ا س سے فرق نہیں پڑتا کہ وہ نذدیک ہیں یا دور، میڈیا نے ویسے بھی دوریوں کی دیوار کو مسمار کردیا ہے۔لیکن کسی کسی وقت بیٹے اور بیٹی کی دوری کا احساس ہوتا ہے لیکن یہ سوچ کر اپنے آپ کو تسلی دے لیتے ہیں کہ اب ان کی خوشی اور ان کی اولاد کا مستقبل ہماری خوشی سے زیادہ اہم ہے۔ وہ جہاں بھی رہیں خوش رہیں۔ میرے چھوٹے بیٹے نبیل اور بہو ثمرا جو ڈاکٹر ہیں نے میری خاطر ریالوں چکا چوند روشنی کو میرے خاطر خیر باد کہا اور واپس چلے آئے، والدین کی خاطر اس قسم کی قربانی کی مثالی کم کم ملتی ہیں۔ اللہ انہیں اس قربانی کا صلاح عطا فرمائے۔ یہ آج سے سات سال قبل جب مجھے دل کی تکلیف ہوئی ، نوبت انجوگرافی اور انجو پلاسٹی کی آگئی نتیجے میں ایک اسٹینٹ بھی ڈلا تو ہمارے بیٹے صاحب نے سعودی عرب کی نوکری کو خیر باد کہا کراچی واپس آگئے۔ کہتے ہیں کہ شادی سے قبل زندگی سو فیصد ہوتی ہے، شادی کے بعد پچاس فیصد رہ جاتی ہے، اس لیے کہ پہلے زندگی کی گاڑی ایک پہیے سے چل رہی ہوتی ہے اب دوسراپہیہ لگ جاتا ہے پھر اولاد کی نعمت سے انسان سرفراز ہوجائے تو زندگی دس فیصد رہ جاتی ہے لیکن سو فیصد سے دس فیصد رہ جانے والی زندگی میں جو حسن، خوبصورتی ، خوشنمائی ، دلبربائی ، بہار اور جوبن ہوتا ہے وہ اُس سو فیصد والی زندگی سے کہیں زیادہ حسین ہوتی ہے جس کا کوئی نعمل بدل نہیں۔ وہی زندگی تو مرنے کے بعد بھی ہمیں زندہ رکھتی ہے۔ دسمبر کے دوسرے ہفتے لاہور گیا جہاں منہاج یونیورسٹی میں اپنی تدریسی مصروفیات اور دوستوں سے ملاقات میں ایک ہفتہ بہت مصروف گزرا، تیسرے ہفتے میرے بھانجے عدنان شاہد احمد صدیقی اور بھتیجے تحریم احمدصمدانی کی شادی تھی۔ ان شادیوں کے لیے میں نے لاہور میں اپنا قیام مختصر رکھا۔ تحریم کی شادی 20دسمبر کو شروع ہوئی ، اُسی دن ان کے گھر پر ہی رسمِ ابٹن تھی بہن بھائیوں کا ہی اجتماع تھا لیکن گھر کے باہر خوبصورت پنڈال سجایا گیا تھا، کمکموں سے پنڈال روشن ہورہا تھا، اسٹیج پر خوبصورت کرسی سجی ہوئی تھی، دائیں بائیں تخت ، گاؤ تکیے لگے ہوئے، درمیان کرسیاں اور بفے لگے ہوئے۔ خوشی کا بھر پور اظہار ۔ تحریم صاحب کی رسم ابٹن اختتام کو پہنچی ، احباب کھانے سے فارغ ہوئے، ہمیں تو یاد بھی نہیں تھا کہ 20دسمبر ہماری زندگی کا ایک اہم دن ہے جس نے ہماری زندگی میں ایک ایسی تبدیلی پیدا کی تھی کہ ہم اس کا پھل آج تک کھا رہے ہیں۔ ہمارے بھتیجے توحید ، تحریم اور بھتیجیوں اقراء و نشاء نے ہمیں سرپرائز دینے کا منصوبہ بنایا ، بچوں نے ہم دونوں کو اسٹیج پر جانے کو کہا، ہم کچھ پریشان تھے کہ کیا معاملہ ہے، دیکھتے ہی دیکھتے ہمارے سامنے دو عدد کیک رکھے تھے، اور کچھ بھتیجوں نے اضافی شمعیں ، قمقمے اور پھل چھڑیاں بھی روشن کین، معلوم ہوا کہ ہماری شادی کے 42ویں سال کو سیلی بریٹ کیا جارہا ہے۔ اب ہم دونوں کچھ دیر کے لیے محفل کے روح روا ں تھے کیک کاٹا گیا، تالیاں بجیں ، خوشیوں کا سماء تو پہلے ہی تھا، ہمیں احساس دلا گیا کہ ہماری ازدواجی زندگی 42کی ہوچکی۔ اب ہماری عمر کا اندازہ لگا نا بھی کوئی مشکل کام نہیں ویسے بھی مرداپنی عمر چھپانے کے قائل نہیں ہوتے ۔ابھی چند دن قبل کی خبر ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے سیکریٹری جنرل تاج حیدر جو ڈرامہ نگار، پالیسی منصوبہ ساز اور سیاست داں بھی ہیں، کسی ڈرامے میں اداکاری کے جوہر بھی دکھا چکے ہیں نے 75سال کی عمر میں ناہید وسیع حیدر سے شادی کی ، یہ ان کی چوتھی شادی ہے۔ان کی نئی شریک سفر میڈیا سے ہی تعلق رکھتی ہیں۔ ایک سے زیادہ شادی کوئی معیوب بات نہیں، اسلام تو چار کی اجازت دیتا ہے لیکن کچھ حدود و قیود اور لوازمات کے ساتھ۔ لیکن ہم تو ایک ہی کہ قائل ہیں ۔ جس طرح دو بچے ہی کافی اسی طرح ایک بیوی ہی کافی ہے۔ فیس بک پر مختلف قسم کے کمنٹس پڑھنے کو ملے کسی نے کہا کہ بڑے میاں کو اس عمر میں کیا سوجھی، دلھن کے بجائے تسبیح لانے کی عمر ہے، یہ عمر تو پوتے اور پوتیوں کی شادی کے دن ہیں وغیرہ وغیرہ۔ لیکن کوئی کچھ بھی کہے یہ ہر ایک کا نجی مسئلہ ہوتا ہے۔ انہوں نے مناسب جانا ہوگا، ضرورت ہوگی، ممکن ہے کوئی نیک عمل شامل ہو، کوئی غلط کام نہیں کیا، بعض سیاست دان اور میڈیا کے لوگ چوری چھپے یہ کام کرتے ہیں ، بعض کے تو اسکینڈل سامنے آتے ہیں اس اعتبار سے سابق سینیٹر صاحب نے کھلے عام شادی کر کے اچھی مثال پیش کی۔ اس سے بہت سو میں جر أت پیدا ہوئی ہوگی، حوصلہ ملاہوگا، ہمت آئی ہوگی اور دلیری بھی پیدا ہوئی ہوگی۔ہم ذاتی طور پر اس قسم کی خوشیوں کوسیلی بریٹ کرنے کے قائل نہیں ، کسی نے بہت درست کہا کہ سالگرہ کا مطلب تو یہ ہوتا ہے کہ آپ کی زندگی کا ایک سال کم ہوگیا اور حقیقت میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ کسی شاعر نے درست کہا ہے ؂ زندگی تو ہی بتا کیسے تجھے پیار کروں تیری ہر سانس میری عمر گھٹا دیتی ہے یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ سالگرہ جیسی تقریبات فضول اور ان کی کوئی شرعی حیثیت نہیں، ہم سے اگر پہلے کہا جاتا تو ہم اس فضول خرچی کی کبھی اجازت نہ دیتے ،اُس وقت بے بس سے ہوگے ، بچوں کی خوشی کی خاطر سر تسلیم خم کیا۔ لیکن کم از کم یہ احساس بھی تو سامنے آیا کہ ہماری زندگی کاایک سال اور کم ہوگیا، نہیں معلوم کتنی زندگی باقی ہے یہ احساس پیدا ہوا کہ ہم باقی ماندہ زندگی میں آخرت کی زندگی کا سامان پیدا کرلیں۔ اپنا محاسبہ کریں کسی حد تک اپنے عیوب پر بھی غور و فکر کریں، کہ ہم کہاں غلطیاں کر رہے ہیں، کہاں کوتاہیاں ہورہی ہیں ، انہیں دور کرنے کی کوشش کریں۔ الحمد اللہ میں نے بھر پور زندگی گزاری، نشیب و فراز ضرور آئے، مشکلات نے پیچھا کیا، پریشانیوں نے مجھے بے سکون کیا، بیماریوں نے یکے بعد دیگرے مجھے خوب گھیر الیکن اللہ نے ہر بار بخیر عافیت صحت یاب کیا۔ اپنوں اورپرایو ںں نے تیرو نشتر برسائے، اللہ نے ثابت قدم رکھا، قدرت نے ہمیں برداشت اور سن کر خاموش ہوجانے کا حوصلہ خوب خوب عطا کیا ہے، اب جب کہ ہم بڑھاپے کی دہلیز پر پہنچے اس خصوصیت میں کمی آتی جارہی ہے پھر بھی کوشش کرتے ہیں کہ اپنی اس خوبی کو تھامے رکھیں۔لیکن د کھ پریشانی اور مشکلات زندگی کا حصہ ہیں انہیں ہر صورت خوش دلی اور صبر کرتے ہوئے برداشت کرنا چاہیے ، اس لیے کہ یہ بھی اللہ ہی کی طرف سے آتی ہیں اور وخوشیا ں بھی دینے والی وہی ذات ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com