قائدِ اعظم اور بچے

قائدِ اعظم اور بچے
تحریر ؛مراد علی شاہدؔ دوحہ قطر
بچے من کے سچے اور قوم کے معمار اور مستقبل ہوتے ہیں۔یہ مقولہ آپ نے کہیں نا کہیں سنا یا پڑھا ہوگا۔اس کی وجہ شائد یہ ہوگی کہ بچے ورقِ ابیض کی طرح ہر قسم کے داغ اور دھبوں سے ماورا اپنے من کی طرح اجلے اور سُچے ہوتے ہیں کہ ان پہ جو بھی تحریر نقش کر دی جائے وہ مستقل تقدیر بن کر محفوظ ہو جاتی ہے۔ایسے ہی آپ بچوں کے تربیت جیسے کریں گے ویسے ہی وہ تعمیل کریں گے۔گویا بچے بڑے بزرگوں کا پر تو ہوتے ہیں۔اگر ہماری زندگی بے ترتیب،بنا انظباطِ اوقات اور بغیر ڈسپلن کے ہو گی تو بچے بھی ایسی ہی عاداتِ اضداد کا مجموعہ ہوں گے۔ان باتوں کا حل اس بات میں مضمر ہے کہ ہمیں ان کی زندگیوں کو تربیت کی ایسی پٹڑی پر چڑھا دینا چاہئیے کہ جس کا آخری اشٹیشن کامیابی و کامرانی ہو۔ایک فلاسفر کا مقولہ یاد آگیا کہ ’’تم مجھے بچوں کی زندگیوں کے ابتدائی سال دے دو میں تمہیں کامیاب قوم کی ضمانت دیتا ہوں‘‘
شائداس بات کا ادراک قائدِ اعظم کو تھا اسی لئے وہ بچوں کو والہانہ پیار کیا کرتے تھے۔انہیں بچوں کی شرارتیں بھی بھلی معلوم ہوتی تھیں۔وہ ہمیشہ بچوں کی حوصلہ افزائی فرماتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ انہیں میں سے کوئی کل کا اقبال اور جناح ہو گا۔ان کی زندگی کے چند ایسے واقعات جن سے بچوں کے ساتھ ان کا والہانہ پن جھلکتا دکھائی دیتا ہے۔
ایک بار قائد نے ایک بچے سے پوچھا کہ تم بڑے ہو کر کیا بننا چاہتے ہو؟
بچے نے جواب دیا’’قائدِ اعظم‘‘۔۔۔۔جناح چند لمحے سوچتے رہے اور پھر فرمانے لگے 
کہ ’’ہاں پاکستان کو ایک اور جناح کی ضرورت ہے‘‘
ایک بار مسٹر جناح کسی جلوس میں جا رہے تھے کہ دو بچے اپنے مکان کی چھت پر سے ہاتھ ہلا رہے تھے۔جناح نے نہ صرف ان بچوں کو ہاتھ ہلا کر جواب دیا بلکہ ان کی طرف سے پھینگے گئے دو سنگتروں کو بھی قبول کیا اور سارا راستہ ان کو ہاتھوں میں پکڑے رکھا کہ یہ بچوں کی مجھ سے محبت ہے۔
1940 ؁میں قائد دہلی تشریف لے جا رہے تھے۔غازی آباد ریلوے اشٹیشن پر ان کااستقبال ہونا تھا عقیدت مندوں کا ایک ہجوم امُڈ آیا تھا۔ان میں ایک دس سالہ بچہ بھی تھا جو ہار لئے کھڑا تھا۔قائد خود اس بچے کے پاس گئے اور خود جھک کر اس بچے کو ہار پہنانے کا کہا۔اور بچے سے سوال کیا کہ تم کیوں آئے ہو؟
’’آپ کو دیکھنے کے لئے‘‘
’’مجھے دیکھنے کی وجہ‘‘
’’قوم کے لئے‘‘
قائد نے اس بچے کو شاباش دی اور فرمایا کہ مجھے آج جان کر بہت خوشی ہوئی کہ مسلمان بچوں میں بھی قوم کا احساس بیدار ہو گیا ہے۔
قیامِ پاکستان سے قبل ایک بچے نے جناح کو رومال بھیجا جس پر پاکستان کا نقشہ بنا ہوا تھا۔جناح نے ایک موقعہ پر وہ رومال ماؤنٹ بیٹن کو دکھایا اور کہا کہ
’’جس قوم کے بچوں کا یہ جذبہ ہوتو کون سی طاقت پاکستان کے قیام کو روک سکتی ہے‘‘؟
ایک بار ایک بچے نے منی آرڈر بھیجا تو قائد نے خود وصول کر کے اس ہر دستخط فرما دئیے۔حالانکہ سیکرٹری و دیگر عملہ موجود تھا۔قائد کا کہنا تھا کہ 
’’بچہ میرے دستخط دیکھ کر خوش ہوگا‘‘
بیگم رعنا لیاقت علی لکھتی ہیں کہ ایک بار میرے بیٹے اشرف نے دو تیں بار قائد کی موجودگی میں بدتمیزی کی تو میں نے اسے معافی مانگنے کا کہا لیکن میں حیران ہو گئی کہ جناح صاحب اس واقعہ سے لطف اندوز ہو رہے ہیں اور مسکرا رہے ہیں۔
ان واقعات سے ہمیں جناح کی عظمت اور بچوں سے محبت کا بخوبی اندازہ ہو جانا چاہئیے۔
 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com