شمعِ رسالت کا پہلا پروانہ  

مضمون نگار :  محمد ضیاء اللہ زاہد شجاع آبادی 

 ثانی اثنین فی الغار، ذاتِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ہزار جاں سے نثار ، شمع رسالت کا پہلا پروانہ ،خلیفة الرسول، خسرِ رسول،یارِ غار و مزارِ رسول اور صاحب الرسول صلی اللہ علیہ وسلم، جس ذاتِ گرامی میں یہ تمام اوصافِ حمیدہ یکجا ہیں وہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں ۔ 

سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ لازوال تدبر و بصيرت ، بے مثال عزم و استقلال، وفاداری ، ایثار و فداکاری اور انفاق فی سبیل اللہ کا مرقع خیر، ہر زمانے میں اہلِ حق اور متلاشیان راہِ حق اور رہروانِ راہِ ہدایت کے لئے    کامل و اکمل نمونہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔

 آپ کا نام عبداﷲ، ابوبکر کنیت، عتیق اور صدیق لقب ہیں۔

عتیق کے معنی آزادی کے ہیں ۔ اس لئے عتیق کہلائے کہ ایک بار آپ بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے تو سرکار دوعالمﷺ نے فرمایا ’’انت عتیق من النار‘‘ صدیق صدق سے نکلا ہے جس کے معنی سچائی کے ہیں چونکہ آپ ہمیشہ سچ بولتے تھے۔ اس لئے آپ کو صدیق کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے یا اس وجہ سے کہ معراج شریف کی سب سے پہلے آپ نے تصدیق فرمائی۔ اس وقت سے صدیق کہلائے۔ 

آپ کے والد ماجد

کا نام عثمان، کنیت ابوقحافہ، جبکہ والدہ ماجدہ

کا نام سلمی، کنیت ام الخیرٰ ہے اور حضرت سلمیٰ ابو قحافہ عثمان رضی اﷲ عنہ کی چچا زاد تھیں۔

 آپ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے تقریباً اڑھائی سال چھوٹے ہیں۔ آپ کا سلسلہ نسب ساتویں پشت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سلسلہ نسب سے مل جاتا ہے۔

 آپ زمانہ جاہلیت میں بھی قوم میں معزز تھے۔ آپ کا شمار مکہ کے بڑے اور کامیاب  تاجروں میں ہوتا تھا۔ 

 آپ نے زمانہ جاہلیت میں نہ کبھی بُت پرستی کی، نہ کبھی جھوٹ بولا، نہ کبھی کسی معاشرتی برائی کے مرتکب ہوئے اور نہ ہی کبھی شراب پی۔ ذکی اور فہم شعار تھے۔ صدق و عفت میں شہرت تھی۔ قبل از اعلان نبوت آپ سرکار دوعالمﷺ دوست و بہی خواہ تھے۔ ورقہ بن نوفل اور دیگر راہبوں سے سرکار دوعالمﷺ میں علامت نبوت کا علم حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ کو پہلے سے ہی ہوگیا تھا۔ اعلان نبوت کے منتظر تھے کہ بعد اعلان فورا ایمان لائیں۔ چنانچہ ایسا ہی کیا جوں ہی نبی معبوث نے اعلان کیا۔ آگے بڑھتے ہوئے اسلام قبول کیا۔ کسی کی مخالفت کو خاطر میں نہ لائے اور ہر طرح کی تکالیف کو جھیلا ، برداشت کیا۔ کفار مسلمان غلاموں کو تو طرح طرح کی ایذا دیا ہی کرتے تھے، مگر چونکہ مسلمانوں کی تعداد بڑھتی رہی اور بہت سے حضرت صدیق رضی اﷲ عنہ کی تحریک سے بھی اسلام لائے تھے تو قریش نے حضرت صدیق کو بھی تکالیف دینا شروع کردیں تھیں۔ 

مکہ میں جب مسلمانوں پر کفار کے مظالم حد سے بڑھ گئے اور نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر مسلمان حبشہ کی طرف ہجرت کرکے جانے لگے تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے بھی ہجرت کا ارادہ کیا اورآپ یمن کے راستے سے حبشہ کی جانب روانہ ہوئے۔ برک الغماد پہنچے ہی تھے (یہ مکہ سے یمن کی جانب پانچ دن کی مسافت پر ہے) کہ ابن دغنہ یعنی حارث بن زید قارہ قبیلہ کے سردار سے ملاقات ہوئی۔ اس نے کہا … اے ابوبکر! کہاں؟ آپ نے جواب دیا کہ میری قوم مجھے رہنے نہیں دیتی۔ میں چاہتا ہوں کہ وطن چھوڑ کر کہیں الگ عبادت کرتا رہوں۔ ابن دغنہ نے کہا، یہ نہیں ہوسکتا۔ تم جیسا نہ نکلے، نہ نکالا جاسکتا ہے، اس کے اصرار پر واپس آئے۔

ابن دغنہ نے سرداران قریش سے بات کی اور آپ دوبارہ مکہ میں رہنے لگے۔ عبادت الٰہی، تلاوت قرآن پاک کیا کرتے، بالآخر اعلانیہ عبادت و تلاوت کی وجہ سے پھر تکالیف شروع ہوگئیں۔

 ابن دغنہ نے آپ کوپناہ دی تھی۔ قریش کی شکایات پر اسے واپس لے لیا۔ اب آپ پر دوبارہ ظلم و ستم شروع ہوگیا تو آپ نے رسول اﷲﷺ سے مدینہ شریف کی ہجرت چاہی۔ آپ نے فرمایا اے ابوبکر جلدی نہ کیجئے، صبر کیجئے۔ کیا عجب کہ اﷲ تعالیٰ کسی اور بندہ کو آپ کے ساتھ کردے اور وہ آپ کے سفر کا ساتھی ہوجائے۔ آپ نے یہ جواب سن کر سفر کا ارادہ ترک کردیا اور مکہ میں رہ کر تکالیف برداشت کرتے رہے۔ یہاں تک کہ سرکار مدینہ علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ہجرت کی اجازت من جانب اﷲ ملی توآپ کے ہمراہ سفر کیا۔ حضرت ابوبکر نے پہلے ہی دو اونٹنیاں تیار کررکھی تھیں۔ ایک اونٹنی سرکار کو پیش کی لیکن سرکار عالمﷺ نے اس کی قیمت دی، سفر شروع کردیا۔ غار ثور میں تین دن قیام کیا پھر مدینہ کی طرف روانہ ہوئے۔ پور اراستہ آنحضورﷺ کی خدمت کرتے رہے حتی کہ مدینہ پہنچ گئے۔مدینہ شریف پہنچ کر رسول اﷲﷺ کی خدمت میں رہے ۔ 

اسلام قبول کرنے کے بعد آپ تمام غزوات و سرایا  میں شامل رہے اور زندگی کے ہر موڑ پر آپ شہنشاہ کونین صلی اللہ علیہ وسلم کے وزیر اور مشیر بن کر آپ کے رفیق و جان نثار رہے۔ ہجرت کے موقع پر آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رفیق سفر اور یارِ غار بھی ہیں

9ھ میں رسول اﷲﷺ نے آپ کو امیر حج بنایا اور خطبہ حج آپ ہی نے پڑھا۔

آپ کے فضائل اور کمالات انبیاء کرام کے بعد تمام اگلے اور پچھلے انسانوں میں سب سے اعلٰی ہیں۔ آپ نے مردوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کیا۔ آپ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بے انتہا محبت فرماتے تھے۔ 

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ لوگ اپنے ایمان کو چھپاتے تھے مگر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنے ایمان کو علی الاعلان ظاہر فرماتے تھے۔ (تاریخ الخلفاء صفحہ 25)

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی شانِ اقدس میں بہت سی قرآنی آیات نازل ہوئی ہیں۔ آپ کا ایمان تمام صحابہ میں سب سے کامل تھا۔ 

قرآن مجید میں الحمد سے والناس تک ایک لاکھ چودہ ہزار یا چوبیس ہزار صحابہ کرام کی جماعت میں سے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ہی ایک فرد ہیں جنکی صحابیت پر اللہ رب العزت نے نص صریح کے ساتھ مہر تصدیق لگا دی۔ ان کو صحابی رسول، اللہ تعالی نے خود قرار دیا ہے۔ غار ثور میں ہجرت کے وقت حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا یارِ غار ہونے کا شرف آپ کو نصیب ہوا۔ اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے سورہ توبہ کی آیات میں اس طرح شان بیان کی گئی۔

 إِلاَّ تَنصُرُوهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللّهُ إِذْ أَخْرَجَهُ الَّذِينَ كَفَرُواْ ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لاَ تَحْزَنْ إِنَّ اللّهَ مَعَنَا فَأَنزَلَ اللّهُ سَكِينَتَهُ عَلَيْهِ وَأَيَّدَهُ بِجُنُودٍ لَّمْ تَرَوْهَا وَجَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِينَ كَفَرُواْ السُّفْلَى وَكَلِمَةُ اللّهِ هِيَ الْعُلْيَا وَاللّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌo

(التوبه، 9 : 40)

’’اگر تم ان کی (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی غلبہ اسلام کی جدوجہد میں) مدد نہ کرو گے (تو کیا ہوا) سو بے شک اللہ نے ان کو (اس وقت بھی) مدد سے نوازا تھا جب کافروں نے انہیں (وطنِ مکہ سے) نکال دیا تھا درآنحالیکہ وہ دو (ہجرت کرنے والوں) میں سے دوسرے تھے جب کہ دونوں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ) غارِ (ثور) میں تھے جب وہ اپنے ساتھی (ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ) سے فرما رہے تھے غمزدہ نہ ہو بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے پس اللہ نے ان پر اپنی تسکین نازل فرما دی اور انہیں (فرشتوں کے) ایسے لشکروں کے ذریعہ قوت بخشی جنہیں تم نہ دیکھ سکے اور اس نے کافروں کی بات کو پست و فروتر کر دیا، اور اللہ کا فرمان تو (ہمیشہ) بلند و بالا ہی ہے، اور اللہ غالب، حکمت والا ہےo‘‘

اس میں ’’اذ یقول لصاحبہ‘‘ جب وہ اپنے ساتھی (ابوبکر صدیق) سے فرما رہے تھے کے الفاظ قرآن مجید میں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا سب سے بڑا بیانِ فضیلت ہے اور یہ لقب کائناتِ صحابہ میں کسی اور کو عطا نہیں کیا گیا۔

ابو داؤد میں ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے ابو بکر سن لو میری اُمت میں سب سے پہلے تم جنت میں داخل ہوگے۔ (ابوداؤد)

حضرت ابو سعید خذری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ قیامت کے دن تین کُرسیاں خالص سونے کی بنا کر رکھی جائیں گی اور ان کی شعاعوں سے لوگوں کی نگاہیں چندھیا جائیں گی۔ ایک کرسی پر حضرت ابراہیم علیہ السلام جلوہ فرما ہوں گے دوسری میں بیٹھوں گا اور ایک خالی رہے گی۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو لایا جائے گا اور اس پر بٹھائیں گے۔ ایک اعلان کرنے والا یہ اعلان کرے گا کہ “آج صدیق اللہ کے حبیب اور خلیل کے ساتھ بیٹھا ہے۔“ (شرف النبی امام ابو سعید نیشاپوری صفحہ 279)۔

ترمذی شریف میں ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس کسی نے بھی میرے ساتھ احسان کیا تھا میں نے ہر ایک کا احسان اتار دیا علاوہ ابوبکر کے۔ انہوں نے میرے ساتھ ایسا احسان کیا ہے جس کا بدلہ قیامت کے دن ان کو اللہ تعالٰی ہی عطا فرمائے گا۔ (ترمذی شریف)

 حضرت ابو صدیق رضی اللہ عنہ کا مقام تمام صحابہ میں سب سے افضل ہے کوئی صحابی ان سے بڑھ کر فضیلت والا نہیں۔ یوں تو آپ کے فضائل بے شمار ہیں جن کو احاطہ تحریر میں لانا ممکن نہیں مگر چار خوبیاں آپ میں ایسی ہیں جو کسی بھی صحابی میں نہیں۔ حضرت امام شعبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو چار ایسی خوبیوں سے سرفراز فرمایا جن سے کسی کو سرفراز نہیں کیا۔ اول آپ کا نام صدیق رکھا اور کسی دوسرے کا نام صدیق نہیں۔ دوئم آپ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غارِ ثور میں رہے۔ سوئم آپ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت میں رفیقِ سفر رہے۔ چہارم حضور سرور کونین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو حکم دیا کہ آپ صحابہ کرام کو نماز پڑھائیں تاکہ دوسرے لوگوں کے آپ امام اور وہ آپ کے متقدی بنیں۔

11ھ پیر 8 جون 632ء کو جہان فانی سے رسول خداﷺ نے پردہ فرمایا۔ اب مہاجر و انصار میں جان نشینی کے مسئلہ پر کچھ اضطراب تھا۔ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور بیعت کرلی اور تمام مہاجرین اور انصار نے بھی بیعت کرلی۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے نہایت دانش مندی سے الجھن کو سدھارا اور خلیفہ بننے کے بعد طرح طرح کے پیش آمدہ مسائل کو نہایت حسن و خوبی سے نمٹایا اور جو فتنے اٹھے، اس کی سرکوبی کی۔ جمع قرآن کی ابتداء خلیفہ دوئم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے مشورہ سے آپ ہی نے کی۔ آپ 13ھ جمادی الاخر میں دنیا فانی سے رخصت ہوئے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے رحلت سے قبل اکابرین صحابہ کے مشورے کے بعد حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کو اپنا جانشین مقرر کردیا۔

 آپ انبیاء کے بعد تمام انسانوں میں افضل البشر ہیں۔ آپ سے 142 احادیث مروی ہیں۔ آپ کی فضیلت میں بے شمار احادیث مبارکہ وارد ہیں۔ آپ نے دو سال تین ماہ خلافت ادا فرماکر بے شمار عظیم کارنامے انجام دیئے۔ عدل و انصاف آپ کا معمول تھا۔ امت مسلمہ کو عظیم فتنہ و فساد سے نجات دی۔ مانعین زکوٰۃ کا قلع قمع کیا۔ شعائر اسلام کو زندہ کیا۔ جھوٹے مدعیان نبوت کو کیفر کردار تک پہنچایا۔

1: حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ اور حضرت عمر رضی اﷲ عنہ جنت کے ادھیڑ عمر والوں کے سردار ہیں۔ ہر اولین اور آخرین سے سوائے انبیاء اور مرسلین کے۔ اے علی! جب تک وہ زندہ ہیں کسی کو خبر نہ دینا۔

2: مجھے کسی کے مال نے نفع نہیں دیا جتنا ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے مال سے نفع دیا۔

3: اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ

’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کسی قوم کے لئے مناسب نہیں کہ ان میں ابوبکر صدیق موجود ہوں اور اُن کی امامت اِن (یعنی ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ) کے علاوہ کوئی اور شخص کروائے۔ ‘‘

(ترمذی، السنن، کتاب : المناقب عن رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم، باب : فی مناقب ابی بکر وعمر رضی اﷲ عنهما کليهما، 5 : 614، رقم : 3673)

4: ’اُمُّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنھا سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم عتیق یعنی اﷲ تعالیٰ کی طرف سے آگ سے آزاد ہو۔ پس اُس دن سے آپ رضی اللہ عنہ کا نام ’’عتیق‘‘ رکھ دیا گیا۔‘‘

(ترمذی، السنن، کتاب : المناقب عن رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم، باب : فی مناقب ابی بکر وعمر رضی اﷲ عنهما کليهما، 5 : 616، رقم : 3679)

5: ’’حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : حضرت جبرائیل علیہ السلام نے میرا ہاتھ پکڑا، پھر مجھے جنت کا وہ دروازہ دکھایا جس سے میری اُمت (جنت میں) داخل ہو گی۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یا رسول اﷲ! کاش میں آپ کے ساتھ ہوتا تاکہ میں بھی جنت کا وہ دروازہ دیکھتا تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یقینا تم تو میری اُمت کے وہ پہلے شخص ہو جو جنت میں اُس دروازہ سے داخل ہو گا۔‘‘

(ابو داؤد، السنن، کتاب السنة، باب الخلفاء، 4 : 213، رقم : 4652)

5: ایک موقع پر جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صدقہ دینے کا حکم فرمایا تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس جو کچھ تھا وہ سب کچھ لے کر حاضر خدمت ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے ابوبکر! اپنے گھر والوں کے لئے کیا چھوڑ آئے ہو؟ انہوں نے عرض کیا : میں ان کے لئے اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چھوڑ آیا ہوں۔‘‘

(ترمذی، السنن، کتاب المناقب عن رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم ، باب فی مناقب ابی بکر و عمر رضی الله عنهما کليهما، 6 : 614، رقم : 3675)

6 : ’’حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے جنگِ ذاتِ السلاسل کا امیرِ لشکر بنا کر روانہ فرمایا جب میں واپس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا : (یارسول اﷲ!) عورتوں میں آپ کو سب سے زیادہ محبت کس سے ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : عائشہ کے ساتھ۔ میں نے پھر عرض کیا : مردوں میں سے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اُس کے والد (ابوبکر رضی اللہ عنہ) کے ساتھ۔ میں نے عرض کیا : پھر اُن کے بعد؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : عمر بن خطاب کے ساتھ۔ اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُن کے بعد چند دوسرے حضرات کے نام لئے۔‘‘

(بخاری، الصحيح، کتاب : فضائل أصحاب النبي صلی الله عليه وآله وسلم، باب : من فضائل أبی بکر الصديق، 3/1339، الرقم : 3462)

حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا :

’’حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہمارے سردار، ہم سب سے بہتر اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہم سب سے زیادہ محبوب تھے۔‘‘

(ترمذی، السنن، کتاب المناقب عن رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم ، باب مناقب ابی بکر صديق رضی الله عنه 5 : 606، رقم : 3656)

7: ’’امام زہری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ سے فرمایا : کیا تم نے ابوبکر (صدیق رضی اللہ عنہ) کے بارے میں بھی کچھ کلام کہا ہے۔ انہوں نے عرض کیا : جی ہاں (یا رسول اﷲ!)۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : وہ کلام پڑھو تاکہ میں بھی سنوں۔ حضرت حسان رضی اللہ عنہ یوں گویا ہوئے : وہ غار میں دو میں سے دوسرے تھے۔ جب وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لے کر پہاڑ (جبل ثور) پر چڑھے تو دشمن نے اُن کے ارد گرد چکر لگائے اور تمام صحابہ رضی اللہ عنہم کو معلوم ہے کہ وہ (یعنی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ) رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے محبوب ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی شخص کو اُن کے برابر شمار نہیں کرتے ہیں۔ (یہ سن کر) رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہنس پڑے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دندانِ مبارک ظاہر ہو گئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے حسان تم نے سچ کہا، وہ (ابوبکر رضی اللہ عنہ) بالکل ایسے ہی ہیں جیسے تم نے کہا ہے۔‘‘

(حاکم، المستدرک، 3 : 67، رقم : 4413)

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے جو محبت تھی وہ صرف اس وجہ سے نہ تھی کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کرتے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سب کچھ نچھاور کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہتے تھے بلکہ یہ محبت اس وجہ سے بھی تھی کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنی ذاتی خصوصیات، اپنے اعلی اوصاف اپنے کردار اور باکمال صلاحیتوں کی وجہ سے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نگاہ میں بہت اونچا مقام رکھتے تھے۔

حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے فضائل سے کتب بھری ہوئی ہیں۔ اﷲ تعالیٰ ہمیں ان کے دامن سے وابستہ رکھے اور ان کے طفیل ہماری مغفرت فرمائے۔ آمین

تڑپنے پھڑکنے کی توفیق دے

دلِ مرتضیٰ، سوزِ صدیق دے

(اقبال

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com