سندھ کے لافانی مورخ اور قادر الکلام شاعر میر علی شیر قانع ٹھٹوی

محمد عارف سومرو

سندھ کا قدیم شہر ٹھٹہ علم و ادب کے حوالے سے عالمی شہرت کا حامل تھا۔ یہ شہر کبھی نامور شعرا، تذکرہ نگار، مورخین، علما و فضلا، فقہا اور محدثین کی وجہ سے شہرت رکھتا تھا۔ یہ شہر مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی، مخدوم ابو الحسن صغیر ٹھٹوی مدنی، طاہر محمد نسیانی،مخدوم عبد الخالق ٹھٹوی، مخدومحمد معین ٹھٹوی، حافظ آدم طالب ٹھٹوی، مخدوم ضیاء الدین ٹھٹوی، مخدوم عبد اللہ واعظ ٹھٹوی اور دیگر مشاہیر کی وجہ سے پہچانا جاتا تھا۔ انہیں میں سے ایک سندھ کے لازوال مورخ اور شاعر میر علی شیر قانع ٹھٹوی شیرازی بھی تھے جنہوں نے تحفة الکرم، مکلی نامہ اور مقالات الشعرا جیسی مارکہ ٓرا تصانیف لکھ کر اہلِ علم پر احسان کیا۔ میر علی شیر قانع ٹھٹوی کے جدِ امجد سید شکر اللہ شیرازی تھے جو ہرات سے قندھارآئے اور وہاں سے سید شاہ مبین، سید کمال اور سید عبد اللہ کی رفاقت میں سن 927 ہجری میں ارغون حکمران شاہ بیگ ارغون کے دورِ حکومت میں ٹھٹہ تشریف لائے۔ یہ چاروں بزرگ علم و فضل یگانہ روزگار تھے جنہوں نے نہ صرف شہر ٹھٹہ بلکہ پورے سندھ کو اپنے علم وفضل سے منور کیا۔شاہ بیگ ارغون کے انتقال کے بعد ان کے بیٹے اور جانشیں شاہ حسن ارغون بدستور سید شکر اللہ شیرازی کے معتقد رہا اور اس نے سید موصوف کے علم و فضل، دینی عظمت اور بزرگی کے پیشِ نظر انہیں اپنی حکومت کا پہلا شیخ الاسلام معمور کرکے پورے سندھ کا منصبِ قضا ان کے سپرد کیا۔ سید شکر اللہ شیرازی ہی وہ شخصیت تھے جن کی نسل سے ٹھٹہ کے شکر اللہ سادات کا سلسلہ آگے بڑھا۔ یہی وہ موتیوں کی لڑی ہے جس کا ایک درِ شہوار سندھ کا لافانی مورخ، بے مثل تذکرہ نگار اور قادر الکلام شاعر میر علی شیر قانع ٹھٹوی تھا۔ میر علی شیر قانع ٹھٹوی 1140ھ بمطابق 1728ء میں سندھ کے علم و فضل کے حوالے سے عالمی شہرت یافتہ شہر ٹھٹہ میں پیدا ہوئے۔ میر علی شیر قانع نے اپنے وقت کے جید علما ء میاں نعمت اللہ اور میاں محمد صادق سے ان کے مدرسے میں تعلیم حاصل کی جو دینی و دنیوی علوم میں کامل دسترس رکھتے تھے۔ ان اساتذہ کے علاوہ میر علی شیر نے آخوند محمد شفیع (متوفی 1156ھ) سے بھی علم حاصل کیا۔ اس کے علاوہ مولوی مرزا جعفر شیرازی سیر و تفریح کے لیے جب ٹھٹہ آئے تو میر علی شیر نے ان سے بھی فیض حاصل کیا۔ آخوند ابو الحسن (بے تکلف) ٹھٹوی بھی فارسی میں میر علی شیر کے استاد تھے۔ میر علی شیر قانع کے خاندان کو کبھی بھی فکرِ معاش کا سامنا نہیں رہا۔ قدیم خاندانی دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ میر علی شیر کا خاندان شروع معاش کے حوالے سے ہی خوشحال اور فارغ البال تھا۔میر علی شیر کے جدِ امجد میر سید شکر اللہ شیرازی جب 927 ھ مین ہجری میں ٹھٹہ آئے تو ارغون سلطنت کی طرف سے وظیفہ جاری ہوا۔ مغل شہنشاہ ہمایوں کے فرمان سے معلوم ہوتا ہے کہ میر علی شیر کے خاندان کو ہمایوں کی طرف سے بھی وظیفہ جاری ہوا ور ساکرو پرگنہ میں کچھ زمین بطور مدد معاش ملی تھی۔ مرزا جانی بیگ نے بھی جون پرگنہ میں کئی گاوٴں میر علی شیر کے خاندان کو بطور مددِ معاش دئیے گئے۔ شہنشاہ جہانگیر نے سید ظہیر الدین بن سید شکر اللہ ثانی کے لیے دھان کی فصل کا کچھ حصہ سالانہ بطور وظیفہ مقرر کیا۔میاں نور محمد کلہوڑو کے فرمان سے معلوم ہوتا ہے کہ میر علی شیر کے والدکو سید عزت اللہ شیرازی کو جگت پور اور ککرالہ کے کئی گاوٴں بطور جاگیر ملے۔ اس کے علاوہ میان غلام شاہ کلہوڑو اور میر فتح علی خان تالپور نے بھی میر علی شیر کے خاندان کو وظیفہ جات اور مراعات عطا کیں۔ میر علی شیر سندھ کے کلہوڑا دربار کے شاہی مورخ تھے۔ کلہوڑا حکمران میاں غلام شاہ کلہوڑو نے انہیں کلہوڑا خاندان کی تاریخ لکھنے پر معمور کیا لیکن وہ یہ کام نا معلوم وجوہات کی بنا پر مکمل نہ کرسکے۔ میر علی شیر قانع بارہ سال کی عمر یعنی 1152 ھ میں جب وہ مکتب میں سبق آموزی میں تھے ، مشق سخن کی ابتدا کی۔ اسی عمر میں آٹھ ہزار اشعار کا دیوان مرتب کیا جس میں سبھی اصناف سخن شامل تھیں۔ لیکن نا معلوم وجوہات کی بنا پر تمام دیوان دریا برد کردیا۔ تقریباً دو سالہ خاموشی کے بعد یعنی 1155ھ میں میر علی شیر کی میر حیدر ابو تراب کامل جیسے استاد سے ملاقات ہوئی اور اسی بزرگ کی صحبت کی بدولت دوبارہ شاعری کا آغاز کیا اور ان کی شاگردی اختیار کی۔ میر علی شیر قانع کثیر و التصانیف مصنف تھے۔ انہوں نے شاعری، تاریخ، تذکرہ، سیرو سیاحت، لغت، دائرة المعارف اور سوانح سمیت مختلف موضوعات پر لاتعداد کتب تحریر کیں۔ ان تصانیف میں دیوان علی شیر ، مثنوی قضا و قدر، مثنوی قصہٴ کامروپ ، دیوان قال غم،ساقی نامہ، واقعات حضرت شاہ، تزویج نامہ حسن و عشق، اشعار متفرقہ در صنایع و تاریخ، بوستان بہار المعروف مکلی نامہ، مقالات الشعرا، تاریخ عباسیہ، تحفة الکرام ، اعلان غم (مثنوی)، زبدة المناقب (خلفائے راشدین اور حضرات اثنا عشری کے مناقب)، مختار نامہ (مختار ثقفی کے حالات)، نصاب البلغا(قاموس کی طرز پر کتاب)، مثنوی ختم السلوک، شجرہٴ اطہر اہلبیت، معیار سالکان طریقت (سندھ اور بیرونِ سندھ 500 بزرگ و مشاہیر کا تذکرہ، بیاض محک الشعرا اور انشائے قانع وغیرہ شامل ہیں جن میں سے سب سے زیادہ شہرت تحفة الکرام کو ملی۔ میر علی شیرکا مطالعہ وسیع تھا جس کا ثبوت تحقة الکرام میں جا بجا نظر ٓتا ہے۔انہوں نے تحفة الکرام لکھ کر سندھ اور تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے اہلِ علم پر عظیم احسان کیا۔ اس کتاب کا مصنف کے دستخط شدہ نسخہ اورینٹل کالج لاہور کے سابق پرنسپل مولوی محمد شفیع کے ذاتی کتب خانے لاہور میں اور دو نسخے برٹش میوزیم لندن میں مصنف کے خط میں موجود ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ میر علی شیر 1188ھ تک مذکورہ کتاب میں ترمیم و اضافہ کرتے رہے تھے۔ افغان محقق عبد الحئی حبیبی کے مطابق "میرقانع ایک توانا مصنف، دقیق مورخ اور فارسی زبان کے اچھے شاعر تھے۔ ان کی منزلت اور ان کے علم کا اندازہ ان کی تالیف کردہ کتب اور ان کی تالیفات کے تنوع سے لگایا جاسکتا ہے۔ میر قانع فنِ تاریخ گوئی، صنائع و بدائعِ ادبی میں خاص طور پر مہارت رکھتے تھے۔فنِ لغت، الفاظ کی شناسائی اور مختلف زبانوں جیسے عربی، فارسی، ترکی ، سندھی اور ہندی وغیرہ کی اصطلاحات کے متعلق وسیع معلومات رکھتے تھے۔مختصر الفاظ میں کہیں تو میر علی شیر قانع جیسے بافضیلت اور ہنر مند رجال زمانے میں کم ہی نظر آتے ہیں"۔ سندھ کے عظیم مورخ اور باکمال شاعر 1203ھ کو 64 سال کی عمر میں ٹھٹہ شہر میں اس دارِ فانی سے کوچ کرگئے اور اپنے پیچھے علم و ادب کے شاہکار یادگار چھوڑ گئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com