خلوتِ غارِ حرا ادبی انعکاس

آخری چراغ 
خلوتِ غارِ حرا ادبی انعکاس
تحریر: محمود فاروقی۔۔۔ ترتیب: عبد العزیز
وہ شرارِزندگی جو جنت سے زمین پر اترا، وہ چراغ جو اندھیرے سمندر میں سفینۂ نوح ؑ کو روشن کرررہا تھا۔ وہ روشنی جسے ابراہیم ؑ شہراُر سے لے کر چلے تھے اور کبھی دیدۂ یعقوب ؑ میں نور بن کر اتری تھی۔ اور پھر کبھی روزن زنداں سے یوسف ؑ کنعاں تک پہنچی تھی، جو فرعون کے دربار میں موسیٰ ؑ کے روشن ہاتھ پر جلوہ فگن ہوئی تھی اور جسے سلیمان ؑ اعظم نے اپنے ہیکل کو منور کیا تھا، اور جو صدیوں تک یروشلم کے مناروں پر فروزاں رہی، اور پھر جب یروشلم اس روشنی سے محروم ہوگیا تو عیسیٰ ؑ ابن مریم مسیح ناصری اس چراغِ ہدایت کو تھامے ہوئے پہاڑی پر چلے اور انہوں نے اپنے حواریوں کو خوش خبری سنائی۔
’’اندھیری دنیا کا چراغ روشن ہوکر رہے گا۔ تب سارے چہرے پہچان لئے جائیں گے کہ کون خداوند خدا کی 
بادشاہت کا طلب گار ہے، اور کون روشنی سے منھ پھیر کر الٹے قدم بہکنے والا گنہگار ہے۔!‘‘
اُف یہ بھیانک کائی:
دنیا کے قدیم، مقدس ترین شہر میں زندگی بہت فرسودہ اور زنگ آلود ہوگئی تھی۔ موت کی طرح دھند لاگئی تھی۔ ذہنوں میں صدیوں کا جمود اور برسوں کا تعطل کائی کی طرح جم گیا تھا۔ یہ کائی بہت پرانی، تہہ بہ تہہ تھی۔ اس پر کاہنوں کے بے ربط مگر ہول انگیز بول ثبت تھے، مقدس مزامیر میں پڑھی جانے والی ناقابل فہم روایات جذب تھیں۔
یہ تہہ بہ تہہ کائی! ذہن پر، خیال پر، علم پر، فکر پر، انسان کے اندر، انسان کے باہر، سب جگہ اس کائی نے قبضہ جما رکھا ہے۔ اس سے کیسے چھٹکارا ملے؟
کیسے ہیں یہ لوگ!
یہ لوگ جو حرم کے گرد چکر لگاتے ہیں، جو بازاروں میں لین دین کرتے ہیں ، جو سامانِ تجارت سے لدے ہوئے اونٹ لیکر صحرا کا دل چیرتے کبھی شام کبھی مدائن کی طرف نکل جاتے ہیں، جو عکاظ کے میلے میں سڑی ہوئی کھجوروں کی شراب پیتے، اور پانسے پھینک کر جوا کھیلتے اور اپنے روایتی آہنگ میں شعر کا جواب شعر سے دیتے، اور بات بات پر تلوار چمکاتے نظر آتے ہیں، جو سنگِ دلی سے اپنی نومولود بیٹیوں کا گلا گھونٹ کر زمین میں دبا دیتے ہیں، جو بے جان پتھروں کے سامنے پیشانی جھکائے گڑ گڑاتے ہیں، جو اپنے غلاموں سے وحشیانہ سلوک کرتے ہیں، جو لین دین میں دھوکہ اور فریب کو ہنر جانتے ہیں، جن کے بوڑھے حریص اور دقیانوسی توہمات میں مبتلا ہیں، جن کے نوجوان لہو و لعب میں اور اوچھے مشغلوں میں منہمک ہیں۔ یہ غصے کے، نفرت کے، حسد کے بھوت! ارے یہ لوگ محبت سے کتنی دور چلے گئے ہیں؛ انہیں کون واپس لائے؟
اندھیرا، ہولناک اندھیرا
یہ کیسا اندھیرا ہے؟
علم کی گھپاؤں میں بڑا ہولناک اندھیرا ہے۔ فکر و خیال کی دنیا حرکت و تموج سے محروم ہے۔ تحقیق کی راہیں تاریک پڑی ہیں۔ تلاش کرنے والے صدیوں پہلے نہ جانے کب آئے تھے۔ اور اب، قرن ہاقرن سے منزلیں گوش بر آواز، آنے والے قدموں کی راہ تک رہی ہیں! کوئی ہلکی سی چاپ؟ کسی دامنِ گزراں کی سرسراہٹ؟ کسی عطر ساماں، رہ نور دکی مہک؟ 
نہیں، نہیں، کچھ بھی نہیں!کوئی بھی نہیں! اس طرف کوئی نہیں آیا! نہ صدا نہ باز گشت ! کچھ بھی نہیں! بس ایک سنسناتا ہوا تاریک خلا ہے! تاریک خلا جس میں کچھ سجھائی نہیں دیتا! آسمان زمین سے بہت دور چلا گیا ہے! بہت اونچا! دور دور تک ہلکی سی شعاع بھی نہیں دکھائی دیتی! دل اندھیرے ہیں، اور روحیں تاریک! اندھیرا! افق سے افق تک اندھیرا!
اور یہ آوازیں
یہ کیسی آوازیں ہیں؟
اس تاریک خلا میں مختلف سمتوں سے آتی ہوئی، یہ پُر اسرار آوازیں، کاہنوں کے بے ربط مگر ہول انگیز بول!ناقابل فہم پیچ در پیچ روایتوں کے تذکرے! چیختے چلاتے توہمات! بھنبھناتے ہوئے سحر!
اندھیرا پُر اسرار تھا، اس کا بولتا ہوا سکوت پُر اسرار تھا۔ اس پردۂ سکوت میں دور سے آتی ہوئی آوازیں، صدیوں کی سرگوشیاں، آپس میں ٹکرا رہی تھیں۔ قیاس و گمان حقیقت و یقین سے الجھے ہوئے تھے۔ یوں:
ابراہیم ؑ نے بیت اللہ کی بنیاد رکھی تھی، موسیٰ ؑ بنی اسرائیل کو سمندر کا دل چیر کر اپنے ساتھ لائے تھے۔ 
عیسیٰ ؑ نے آسمانی رحمتوں کی بشارت سنائی تھی۔
یہ اللہ کے فرستادہ مقدس بنے تھے۔
نہیں، نہیں! یہ اللہ کے اوتار تھے!
یہ اللہ کے بیٹے تھے!
یہ جز بھی تھے کل بھی! ارے یہ تو خداوند تھے!
تجلی! وہ تجلی کہاں ہے؟
اندھیرے سکوت سے بلند ہوتی ہوئی یہ آوازیں کتنی متضاد، پر اسرار اور کتنی پریشان کن تھیں! مگر آہ! حقیقت کیا ہے؟ حقیقت کہاں ہے؟ تجلّی! وہ تجلی کہاں ہے؟ کہاں؟ کیوں؟ کیسے؟ کس کے ذریعہ؟
ام القریٰ سے چھ میل کے فاصلہ پر حرا کی سنگین خاموشی میں یہ سوال بڑی اہمیت اختیار کرگیا تھا۔ آنکھیں نیم وا تھیں۔ لب بند تھے۔ روح بے قرار تھی بے چین و مضطرب تھی، سراپا سوال تھی اور سراپا مجسم روح تھا ایک خاموش مگر بولتا ہوا سوال! ایک بولتی ہوئی مگر خاموش روح!
تجلی! وہ تجلی کہاں ہے؟
حرا کی خنک خاموشی میں انتظار کتنا بھاری اور بوجھل ہوگیا تھا!
مگر ایک شام
آخر ایک شام، ڈوبتے سورج کی زرد دھوپ میں، حدت شوق اور گرمی طلب نے حرا کی سنگینی کو پگھلا دیا! پروں کی پھڑ پھڑاہٹ سنائی دی! اللہ کا مقدس فرشتہ اس تجلی کو جلو میں لئے نمودار ہوا، جو وقفہ وقفہ سے زمین پر اتر رہی تھی، جس کا عرصہ سے دنیا کو انتظار تھا۔ تجلی نمودار ہوئی گراں بار پلکیں اٹھیں، نظارہ چشم منتظر میں گھل گھل گیا!دل بیتاب کا ہر شگوفہ کھل کھل اٹھا، روح کے تشنہ لب نم نم ہوگئے! سوال کا جواب مل گیا، گتھیاں سلجھ گئیں، حقیقت واشگاف ہو گئی۔ فرشتے نے اللہ کا کلام سنایا۔ رب کائنات کے اپنے بول! جن میں زم زم کی طراوت اور کوثر کی شیرینی گھلی ملی تھی!
’’پڑھو اپنے رب کے نام کے ساتھ جس نے پیدا کیا! انسان کو جمے ہوئے خون کے لوتھڑے سے 
انسان کی تخلیق کی۔ پڑھو!اور تمہارا رب بڑا کریم ہے جس نے قلم کے ذریعے علم سکھایا۔ انسان کو وہ علم دیا جسے وہ جانتا نہ تھا۔‘‘
اللہ کے رسول ؐ نے پڑھا اور صدیوں سے جمی ہوئی کائی پھٹ گئی۔ زمانوں کا جمود ٹوٹ گیا۔ اندھیرے بھاگے، حرا جگمگا اٹھا اور پھر حرا سے نکلنے والی تجلی نے زمانے کو روشن کردیا۔ دنیا کو اس کا گمشدہ چراغ مل گیا۔ 
کرن کرن اجالے
راہ نمائی کا ستارہ دامن شپ پر ہیرے کی طرح دمک رہا تھا۔ اللہ رب العالمین نے پردۂ شب کو چاک کرکے روئے سحر کو جلوہ آرا کردیا تھا۔ اندھیروں اور ظلمتوں کا دور ختم ہورہا تھا۔ اجالے کرن کرن بڑھے چلے آرہے تھے اور اس نور و ظلمت کی حد فاصل پر اللہ کا ایک رسول ؐ کھڑا ہوا اللہ کی آیات پڑھ رہا تھا۔ اس کے مخاطب اس کے اپنے وطن اپنے قبیلے کے لوگ تھے۔ اس کے مخاطب دنیا جہان کے لوگ تھے۔ اس کا خطاب دنیا کے آخری کنارے تک کیلئے تھا۔ ان سارے زمانوں تک کیلئے جو مستقبل کے بطن میں پوشیدہ تھے۔ کروڑوں انسانوں کیلئے جو پیدا ہوچکے تھے اور جو عالمِ وجود میں آنے والے تھے ان سب کیلئے، جو دامنِ صفا سے عرصۂ قیامت تک پھیلے ہوئے تھے۔ نسل در نسل! عصر بہ عصر۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com