ذمہ دار صحافت ،وقت کی ضرورت 

تحریر: ڈاکٹر عثمان غنی 
مکمل سچ کے تین اجزاء ہیں ،سچ بولنا ،سچ سننا اور سچ لکھنا، لکھنے کی صنف صرف چند لوگوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے اور سچ لکھنا کن آبلہ پاؤؤں کا مقدر ہے ایک دفعہ ذہن بہت کچھ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے مزید براں ستم یہ کہ سچ سننے کی عادت بھی ناپید ہوتی جارہی ہے، سچ سننے کی عادت کی ابتدا خو د سچ سے دامن گیر ہونے سے ہوتی ہے ،صحت مندمعاشرتی رویوں کے لیے اختلاف نہایت اہم چیز ہے جمہوری اذیان اور مثبت رویوں کی پرورش اختلاف کے سامنے آنے سے ہو پاتی ہے جس کو صحت مند معاشرہ کشادہ دلی سے قبول کرتا ہے اور پھر اس سے مثبت نتائج اخذ کیے جاتے ہیں جو ملک و قوم کی ترقی کے لیے سود مند ثابت ہوتے ہیں صحت مند اختلاف کا وجود صحت مند معاشرے کی بقاء ہے اس کو کسی نعمت خداوندی سے کم نہیں گردانا جاتا جس سے ہمیشہ نئے راستوں ،نئی منزلوں کا تعین ہو پاتا ہے کسی بھی معاشرے میں رائج الوقت جمہوریت اور آزاد اظہاررائے کا دارومدار وہاں پر ابھرنے والے وقتاً فوقتا اختلافی سوالات سے کیا جا سکتا ہے عقلمندذہن ہمیشہ اختلا ف کو خوش آمدید کہتا ہے مگر فرسودہ سوچ اسے اعلان جنگ کا رنگ دے ڈالتی ہے ،اختلاف کو جنگ نہیں کہا جاسکتا جنگ ضرور اختلاف ہوتی ہے اس کا تعلق سرحدی حدود و قیود کے اختلاف سے لے کر نظریاتی و معاشرتی اختلافات تک ہو سکتا ہے ،بعض جھگڑے ذاتی انا پر ڈٹ جانے سے’ پوائنٹ آف نوریٹرن‘ تک جا پہنچتے ہیں جہاں برداشت کا عنصر نہ ہونے کی وجہ سے پل بھر میں اپنے، بیگانے ہو جاتے ہیں صبر وشکر، برداشت،صلح گو رویہ اختلاف کا بند تالا کھولنے کی واحد کنجی ہے فقر فقیری کو اپنی زندگی کا نصب العین بنانے والے درویش نے کہا تھا دشمن وہ ہے جو تم سے تمہاری خوبیاں بیان کرے اور لوگوں سے تمہاری خامیاں ،بقول تنویر سپرا 
الفاظ جم گئے تو لہو کھولنے لگا 
میں چپ ہوا تو میرا بدن بولنے لگا 
گرم موسم سے منسوب مئی کے مہینہ کے تیسرے دن (3مئی )کو دنیا بھر میں ورلڈ پریس فریڈم ڈے کے نام سے منسوب کیا گیا ہے ۔مقصد اس کا یہ ہے کہ پریس کی آزادی کو درپیش مشکلات اور ان کے حل پر غور و فکر کرنے کے لیے مختلف تقریبات کا انعقاد کیا جا سکے ساتھ ہی عوام اور بزر جمہروں کو اس بات سے روشناس کرایا جا سکے کہ صحت مند معاشرے کے لیے آزادانہ اظہار خیال کتنا ضروری ہے یونیسکو نے اس دن کے حوالے سے’ یونیسکو ورلڈ پریس فریڈیم انعام‘ کا انعقادبھی کیا ہوتا ہے ۔صحافت سے تعلق رکھنے والے جو لوگ اپنی جان کو خطرات میں ڈال کر اپنے پروفیشنل فرائض کی ادائیگی نہایت جرات و بہادری سے کر ڈالتے ہیں انہیں اس انعام سے نوازا جاتا ہے، اس کی ابتدا 1997میں ہوئی تھی اس انعام کے حق دار کا انتخاب پریس سے متعلقہ 14پروفیشنل اخبار نویس کرتے ہیں یہ انعام کولمبیا سے تعلق رکھنے والے صحافی Guillero-Cano-Sozoکی قربانی یاد دلاتا ہے جس کو 17دسمبر1886کو کولمبیا کے طاقتور ڈرگ مافیا کے خلاف جنبش قلم کی پاداش اسے موت کے منہ تک لے گئی تھی عین اس کے دفتر کے سامنے اسی’’ جرم ‘‘کی پاداش میں اسے انتہائی سفاکی سے قتل کر دیا گیا تھا ،دنیا میں سب سے پہلے آزاد اور ذمہ دار میڈیا کی ضرورت کو سمجھتے ہوئے ورلڈ پریس فریڈم ڈے منانے کا اعلانUNنے کیا تھا آزاد اور ذمہ دار صحافت ہر دور میں وقت کی ضرورت رہی ہے جہاں زبان پر تالا کا پہرہ ہو قلم بیڑیاں پہنے ہوئے ماتم کناں ہو اس سے بڑی معاشرتی تباہی کی بنیاد کیا ہو سکتی ہے ۔انسانی حقوق کا عالمی منشور (یونیورسل ڈیکلریشن آف ہیومن رائٹس )UDHR1948کے آریٹیکل 19کو بلا خوف وخطرآزادی اظہار رائے کو وقت کی ضرورت کا اہم جز سمجھتے ہوئے اس سے منسوب کیا گیا ہے، سچ کے راستہ میں رکاوٹ اور مخالفت کا سامنے آنا کوئی نئی بات نہیں آپ ؐ کی زندگی قدم قدم پر ہماری رہنمائی کرتی ہے خوش نصیب ہے وہ جو حق پر لبیک کہہ ڈالتا ہے ۔
بقول شاعر 
حق بات یہ کٹتی ہے تو کٹ جائے زبان میری
اظہار تو کر جائے گا جوٹپکے کا لہو میرا
2016میں پاکستان کو صحافیوں کے لیے چوتھاDangerousترین ملک گردانا گیا تھا ۔جس میں انٹر نیشنل فریڈیم آف جرنلسٹ (IFI)کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ میں نوے کی دہائی سے اب تک 15ہلاکتوں کی تصدیق کی گئی ہے اظہار رائے کی آزادی کے معاملے میں اس خطہ کو Not Freeبھی کہا گیا ہے سچ کو تصدیق کے بعد پوری دیانتداری سے عوام تک پہنچانا کسی بھی صحافی کے بنیادی فرائض میں شامل ہوتاہے آزادی اظہار رائے کی ضمانت آئین میں درج کی گئی ہے جو صرف کتابوں تک ہی محدود ہو کر رہ گئی ہے ۔ہر طرح کی آزادی کی موجودگی کا پتہ رائج الوقت معاشرتی قدروں سے کیا جاسکتا ہے نہ کہ کتابوں میں موجود آزادی کا ایک لفظ لکھ دینے سے، پاکستان ایسے ملک میں جہاں سول اور ملٹری ادوار وقفے وقفے سے حکومت کرتے رہے ہیں پریس کی آزادی بھی بُری طرح مسخ ہوتی رہی ہے ایک دور میں خبریں ’’نوک پلک ‘‘سنوارنے کے لیے PIDمیں بھیجی جاتی رہی ہیں تا کہ قوم صرف ’’سچ‘‘سے آگاہ و شناسا ہو سکے، بدلتے وقت کے دھاروں کے بعد میڈیا کو پاکستان میں’’ آزاد‘‘گردانا جاتا ہے مگر اس آزادی کومضبو ط بنانے کے لیے کچھ قوائد و ضوابط سامنے نہیں آسکے پاکستان میں ایک وزارت اطلاعات ونشریات کی وزارت ہے ۔ کام اس کا مگر یہ رہا ہے کہ جوں ہی اپوزیشن کا کوئی بیاں سامنے آئے جواب آں غزل کے طور پر فوری اس اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائے ۔ساتھ ہی اپنے صالح قائدین کے بارے میں ان کی پارسائی کا کوئی مشہورقصہ بھی قوم کو سنا دیا جاتا ہے ۔ریٹنگ کے جنون میں مبتلا ہمارا میڈیا ذمہ دار صحافت کے تقاضے بعض اوقات پورے نہیں کر پاتا خبر کی کوریج کو صرف منفی چیزوں تک محدود کر دینا ،ذمہ دار صحافت کی پہنچان نہیں تاہم پاکستان ایسے ملک میں اس کا یہ فائدہ ضرور ہوا کہ ارباب اختیار’’ نوٹس‘‘ لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں درآں حالیکہ میڈیا خبر نہ نشر کرے تو بڑے لوگ معاملے کا علم ہونے کے باوجو د بھی ٹس سے مس نہیں ہوتے برداشت اور صبر و تحمل کا رویہ نہ ہونے کی وجہ سے اخبار نویس اکثر زیر عتاب رہتے ہیں ،سیاستدان جب اپوزیشن میں ہوتے ہیں تو کرپشن اور بد عنوانی کے قصے ان کی نازک طبیعت پر چنداں ناگوار نہیں گزرتے مگر جب یہ لوگ حکومت میں آتے ہیں تو ان کی عقل و حیرت کو اپنی ہی کارستانیاں کسی الف لیلیٰ کی کہانیوں سے کم معلوم نہیں ہوتیں آزاد اور ذمہ دار میڈیا کی موجودگی میں عوام کو ملک کے معاملات کے بارے میں آگاہی حاصل ہوتی رہتی ہے مگر جب خبر کا زاویہ بدل دیا جا ئے تو نظر آنے والا Imageبھی دھندلا جاتاہے ،جس سے نہ صرف جہالت پرورش پاتی رہتی ہے بلکہ کرپشن، بد امنی، دہشت گردی، کینہ فساد کا دور دور ابھی اپنے پورے عروج پر رہتا ہے تاہم میڈیا کے لیے ایک مکمل Code of Conductکی بھی ضرورت ہے جو مناسب اور غیر مناسب چیزوں کو چھاپنے کے بارے میں آگاہی فراہم کر سکے کسی بھی چیز کی آزادی کو صرف کاغذ کی حد تک آزاد لکھ دینے سے آزادی نہیں مل جاتی اس کے لیے آزاد اور خوشگوار ماحول کی موجودگی ضروری ہے پاکستان میں بے شمار قدرت کی نایاب چیزیں موجود ہیں جن کو مناسب کوریج فراہم کر کے لوگوں کی معلومات میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com