رمضان کریم، آئل ٹینکر، حکومت وقت پر طنزاور ہماری ذمہ داری

رمضان کریم، آئل ٹینکر، حکومت وقت پر طنزاور ہماری ذمہ داری کچھ عرصہ سے ٹی وی اخبار اور وسوشل میڈیا سے ذاتی وجوہات سے دور تھا لیکن قلم قبیلے سے تعلق ہونے کی وجہ سے دوست احباب کا بے حد مشکور ہوں جنہوں نے گاہے بگاہے مجھے پاکستان کے حالات سے باخبر رکھاخصوصی طور پر اپنے پیارے دوست کالمنگارایم ایم علی کا جن کا اپنا انداز بیاں بھی خوب ہے۔رمضان کریم ہمیں نیکی کی طرف راغب کرنے اور بدی سے بچنے کا درس دیتا ہے۔ اس ماہ مقدس سے ایک سبق یہ بھی ملتا ہے کہ ہمیں حلال کو اللہ تعالیٰ رضا کی خاطر چھوڑنا ہے لیکن جیسے یہ ماہ مکرم اپنے اختتام کو پہنچتا ہے ہمیں یہ سبق دے کر جاتا ہے کہ اب آپ کی تربیت ہو گئی ہے لہذا ب آپ نے حرام سے پورے (11) گیارہ ماہ بچنا ہے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم اس پر عمل پیرا ہوتے ہیں یا جیسے ماہ شوال کا چاند نظر آیا ہم اپنی عبادات کو بھول کر انہیں خرافات میں مشغول ہو جاتے ہیں جس سے اللہ کریم نے منع فرمایا۔حالانکہ ہم سب جانتے ہیں جب مزدور اپنی مزدوری مکمل کر لیتا ہے تو مالک اسے اس کی محنت کا اجر دیتا ہے اور ہم دنیاوی اجرو ثواب (پیسہ ، دولت) کی خاطر مالک کی باتیں بھی سنتے ہیں اور اپنی دھاڑی لینے کے لیے انتظار کی زحمت بھی برداشت کرتے ہیں لیکن افسو س صد افسوس رمضان کے پور ے مہینے میں اللہ کی عبادت و ریاضت میں وقت گذارتے ہیں ، خوب اللہ کو راضی کرنے کی کوشش کرتے ہیں صدقہ و خیرات کرتے ہیں لیکن جب دھاڑی ملنے کا وقت آتا ہے ہم اپنا کاسہ توڑ دیتے ہیں اور شیطانی اور دنیاوی عمل میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ اہل علم فرماتے ہیں چاند رات کو جسے ہم ہلڑ بازی اور شورشرابے میں گزار دیتے ہیں ۔اللہ کریم جتنے اپنے بندوں کو پورے رمضان میں جہنم سے نکالتے ہیں اس سے زیادہ اس چاند رات کو جہنم کی آگ سے آزاد فرماتے ہیں۔جہاں رمضان کریم اتنی برکتیں اور رحمتیں لاتا ہے وہیں شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے تا کہ اللہ کے بندے اپنے رب کو منانے میں دقت محسوس نہ کریں لیکن اس کے باوجود اگر اہم اپنے رب کو راضی نہ کر سکیں تو لمحہ فکریا ہے ۔ اللہ کریم قرآن مجید کی سورہ ال مطففین میں ہمیں کچھ یاد دہانی کراتے فرماتے ہیں۔(ناپ اور تول کرنے والوں کے لیے خرابی ہے۔جب ناپ تول کر لیں تو پورا لیں اور جب ان کو ناپ تول کر یں تو کم دیں۔کیا یہ لوگ نہیں جانتے کہ یہ اٹھائے بھی جائیں گے جس دن تمام لوگ اللہ کے سامنے کھڑے ہونگے۔سن رکھوبدکاروں کے اعمال سجین میں ہیں اور آپ کیا جانو سجین کیا ہے اور یہ ایک بڑا دفتر ہے لکھا ہوا) ایک حدیث پاک کا مفہوم ہے ۔ (من غشا فلیس منی)جس نے ملاوٹ کی وہ ہم میں سے نہیں۔ملاوٹ کا مطلب صرف دودھ میں پانی کی ملاوٹ نہیں، ایمان میں ملاوٹ، اللہ کریم کے ساتھ شریک ٹھہرانا، ناپ تول میں کمی کرنا، جھوٹ ، چغلی کرنا وغیرہ بھی ملاوٹ میں آتا ہے ۔ ہم اکثر یہ نعرہ لگاتے ہیں کہ آخرت میں دیکھا جائے گاحضور پُر نور حضرت محمد ﷺ ہماری مدد فرمائیں گے اس میں کوئی شک کی گنجائش نہیں کہ وہ شافی محشر نہیں لیکن اوپر بیان کر دہ حدیث پاک کے مفہوم میں دیکھیں تو صاف پتہ چلتا ہے کہ اگر روز محشر آپ ﷺ نے اپنا نہ بنایا تو کدھر جائیں گے۔ اب آئیں آئل ٹینکر کے واقعے کی طرف آتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں غربت انسان کو بہت کچھ کرنے پرمجبور کر دیتی ہے ۔لیکن قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے مایوسی کو گناہ قرار دیا ہے ۔جب ہم اپنے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں تو سیدھا سیدھا یہ سمجھ میں آتا ہے کہ ہم اللہ کی تقسیم پر راضی نہیں اور ہم اس سے بہتر کر سکتے ہیں۔ آئل ٹینکر پہلے ہی قدرتی آفت کا شکار ہوچکا تھا یہ سار ا کا سارا آئل اس مالک کی ملکیت تھا جس کا نقصان ہوا۔ ہمیں کوئی حق نہیں تھا کہ ہم بالٹیاں اور لوٹے لے کر اس آئل کو اکھٹا کرتے کیوں کہ یہ بھی چوری کے زمرے میں آتا ہے جب تک ہم اپنے اعمال کو درست نہیں کرتے ایسی مصیبتیں نازل ہوتی رہیں گی۔ ان تمام خاندانوں سے انتہائی عقیدت اور ہمدردی ہے جو اس سانحہ میں شہید ہوئے اللہ تمام کے درجات بلند فرمائے جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور جو بیمار ہیں ان کو اپنی جناب سے صحت کاملہ و عاجلہ فرمائے آمین ۔ لیکن افسو س اس سانحہ سے بھی ہم نے کچھ نہیں سیکھا اور کچھ دنوں کے بعد ایسا ہی ایک اور واقعہ کراچی میں پیش آیا اور لوگ آئل جمع کرنے وہاں بھی پہنچ گئے۔ ایک نقصان تو یہ ہوا کہ لوگ اللہ کو پیارے ہوئے جس کے بے حد دکھ اور افسو س ہے لیکن اس سے بڑے افسوس کے بات یہ ہے کہ لوگوں نے خوب اپنی سیاست چمکائی ،حکومت وقت کو خوب آڑے ہاتھ لیا ۔ہر صاحب زی شعور جانتا ہے کہ ایک چھوٹی سی چنگاری پوری کی پور ی بستی کو راکھ کا ڈھیر بنا سکتی ہے تو پھر کیسے اور کس کے کہنے پر بہتے آئل کو بالٹیوں میں بھرنا شروع کیا کون لوگ تھے جنہوں نے معصوم شہریوں کو اس گھناؤنے جرم میں مبتلا کر کے اتنی زندگیوں کو گُل کیا؟۔آفات بلیات قدرت کی طرف سے ہوتی ہیں وہاں بڑی سے بڑی حکومت کچھ نہیں کر سکتی ا ن آفات سے بچنے کے لیے دعا کا حکم اور نیک کام کرنے کا ارشاد ہے۔اسلام میں تو نیکی کو ظاہر نہ کرنے کا کہا گیا ہے(ایک ہاتھ سے دو تو دوسرے ہاتھ کو پتہ نہ چلے) لیکن ہم جب تک اپنی پوری مشہوری نہیں کر لیتے اور صدقہ و خیرات لینے والے کو پوری طرح دیکھا نہیں لیتے اس کی عزت کو مجروح نہیں کر لیتے تب تک چین سے نہیں بیٹھتے ۔یہ سارا عمل ریا کاری میں آتا ہے جس پر اللہ کریم نے آیت کریمہ میں اظہار بھی کیا ہے۔(سورہ ماؤن میں دکھلاوہ کرنے والوں کے لیے بہت سخت وعید ہے ) ہمیں حکومت وقت پر تنقید کرنے کی بجائے پہلے اپنے آپ کو درست کرنے کی ضرورت ہے جب تک ہم میں احساس ذ مہ داری پیدا نہیں ہو جاتا ہمیں کسی پر تنقید کا کوئی حق نہیں۔ جو کام حکومت کا ہے وہ اپنے حصے کاکام کر رہی ہے ، ہسپتال، سڑکیں، سکول، تعمیرو ترقی، کالجز یونیورسٹیز، توانائی کے بحران پر قابوپانے کے لیے منصوبہ جات تکمیل کے مراحل میں ہیں۔ہمیں قرآن سے مکمل رہنمائی لینی چاہیے کسی کا حق نہیں مارنا چاہیے لوٹ مار کی زندگی سے باہر آنا ہوگا ۔ ہماری اخلاقی تربیت کی بہت ضرورت ہے مال جمع کرنے سے بچنا چاہیے اور بلاوجہ حکومت وقت کو طنز کا نشانہ نہیں بنانا چاہیے ایک دوسرے پر عیب نہیں لگانے چاہیں بہتان نہیں لگانا چاہیے ۔اللہ تعالیٰ نے سورہ الحمزہ میں ارشاد فرمایا۔(خرابی ہے ہر طعن کرنے والے،عیب لگانے والے کے لیے، جو مال جمع کرتا ہے اور اس گن گن کر رکھتا ہے)اس آیت کریمہ سے ہمیں سبق حاصل کر نا چاہیے کہ کسی پر عیب نہ نگایا جائے کسی کی کردار کشی نہیں کرنی چاہیے بلکہ اللہ کے حضور معافی طلب کرنی چاہیے۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے گھر اور بڑے گھر پاکستان کی حفاظت کریں اس کے اثاثہ جات کو نقصان نہ پہنچائیں۔ ہمیں اپنے لیول پر اپنے حصے کا کام ایمانداری سے کرنا چاہیے پھر انشاء اللہ ہمارے ملک میں امن قائم ہو گا لوگ خوشحال زندگی بسر کریں گے اور کسی بھی جگہ پڑی کوئی چیز وہیں پڑی رہے گی جب تک کہ اس کے اصلی مالک تک نہ پہنچ جائے اور نہ ہی آئل ٹینکر جیسے واقعات دوبارہ رونما ہونگے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com