قانون بھی غائب اور انصاف بھی ناپید

قانون بھی غائب، انصاف بھی ناپید

تحریر: فرقان گوہر

حال ہی میں ايک پاکستانی مسلمان کی ویڈیو دیکھی جسے دوسرے پاکستانی مسلمانوں نے مقدس نعروں کی گونج میں اس درندگی سے قتل کیا کہ ایسے دردناک مناظر دیکھ کر بھی کلیجہ منہ کو آتا ہے، اس سے بھی افسوسناک بات یہ کہ کچھ لوگ فقط تماشائی بنے منظر کشی میں اتنے مگن تھے انہیں احساس تک نہیں کہ یہاں کسی کی جان پر کیا گذر رہی ہے ۔ تعجب کی انتہا نہ رہی یہ جان کر کہ سب کچھ ایک یونیورسٹی میں ہو رہا تھا۔ یونیورسٹی ایک اعلی تعلیمی ادارہ ہے، جہاں پڑھے لکھے،تہذیب یافتہ اور سمجھدار حضرات اپنا تعلیمی سلسلہ پایہ تکمیل تک پہنچانے آتے ہیں، جب اس کی یہ حالت ہے تو باقی معاشرے کی حالت زار کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ ہر معاشرے میں جرم ثابت کرنے کے مختلف طریقہ کار موجود ہیں، جرم کے ثابت ہونےسے قبل کسی بھی انسان کو سزا دینا نہ کسی تہذیب سے میل کھاتا ہے، نہ کسی قانون میں اس کی گنجائش ہے، ہاں کچھ ڈکٹیٹر تھے، جنہیں اپنے مد مقابل کو تہس نہس کرنے کے لیے ان کے جرم کی ہی ضرورت نہ تھی اس کا ثابت ہونا تو درکنار۔ قوانین ہمیشہ انسانیت کے احترام میں وضع کیے جاتے ہیں اور انسانی تہذیب کے ارتقاء کی علامت ہوتے ہیں۔ جو معاشرہ جتنے بہتر قوانین بنا سکے اور جتنا بہتر عمل کر سکے اسی قدر وہ سعادتمند ہوتا ہے۔ لیکن اس کے لیے انسان کو سب سے پہلے انسانیت کی سطح تک آنا پڑھتا ہے، تعجب کی بات یہ ہے کہ یہ ہماری یونیورسٹیاں ہیں، جو انسانیت کا احترام سکھانے کی بھی صلاحیت کھو چکی ہیں۔ میں نے پاکستانی مسلمان کو خاص طور پر پوائنٹ آوٹ کیا، کیونکہ آج ہم ہی ہیں جو سارے جہان کا درد اپنے جگر میں لیے گھوم رہے ہیں، دنیا میں مقدسات کے نام پر ہر جگہ ہمارا استعمال ہو رہا ہے۔ قرآن و سنت کے واضح اصولوں کی روشنی میں اطمینان سے یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ پاکستان کے اندر مذہب کے نام پر جس جنون کو رواج دیا جا رہا ہے، اس کا اسلام سے دور دور کا بھی کوئی تعلق نہیں۔ اسلام جہاں امن و سلامتی کا دین ہے، وہیں اس میں رحم اور محبت بھی ہے، وہیں قانون کی پاسداری اور انصاف کی دعوت عام بھی ہے۔ قرآن کریم کے مطابق رسولوں کے بھیجے جانے کا ایک ہدف یہ تھا کہ لوگ خود انصاف کے تقاضے پورے کریں(سورہ حدید ، آیہ۲۵)۔ یعنی لوگوں کو انصاف کا شعور دینا انبیاء کرام [ع]کی بنیادی ذمہ داری قرار پائی، جس شعور کی روشنی میں لوگ خود انصاف کی راہ میں قدم بڑھائیں۔ انصاف کا عام فہم مفہوم یہ ہے کہ جو چیز اپنے لیے پسند ہو وہی دوسروں کے لیے بھی پسند کی جائے، عام طور پر کوئی بھی واقعہ رونما ہونے کے بعد چند دن تک فضا گرم رہتی ہے، قلمکار، اینکرز اور رپورٹرز کو ایک ٹاپک مل جاتا ہے، لکھنے بولنے اور ہلا گلا کرنے کے لیے، لیکن عملی طور پر انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لیے اقدام پر بہت ہی کم توجہ دی جاتی ہے۔ جبکہ یہ ہمارے قومی مسائل ہیں، ان سے احساساتی برتاو کرنے کی بجائے بنیادی تبدیلی کی ضرورت ہے، ہمیں یہ سوچنا ہو گا کہ اس جنونی صورتحال کو کیسے وجود میں لایا گیا اور کس حکمت عملی کے تحت اس کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے؟ اپنے نوجوان اور جوان طبقے میں ایک ایسے شعور کو بیدار کرنے کی ضرورت ہے، جس سے وہ اسلام کو خود سمجھنے کی صلاحیت پیدا کریں ، تاکہ کسی بھی جنونی آدمی کے سامنے زانو خم کر کے اپنی دنیا اور عاقبت کو تباہ نہ کریں۔ توہین رسالت ایک بہت ہی وسیع و عریض مفہوم ہے، مثلا اگر ایک باپ اپنے بیٹے کو حکم دے اور وہ اس کی ایک نہ سنے اور منہ موڑ کر دوسری طرف چل دےتوکیا یہ توہین ہے یا نہیں؟ ہمیں پانچ مرتبہ نماز کا حکم ملتا ہے اور بہت سے مسلمان نماز کو نہیں جاتے، تو پھر ایسے میں کتنے ہی مسلمانوں کو توہین رسالت کے جرم میں مکوں، گھونسوں، لاتوں،، لاٹھیوں، جوتوں سے مار مار کر ستیا ناس کرتے جائیں، اورادھ موا کرکے پھر گولیوں سے چھلنی کر دیں، کم پڑے تو امریکہ اور روس سے “بندے “منگوا لیں۔ سودی نظام کو قرآن نے خدا اور رسول سے جنگ قرار دیا ہے(سوره بقره آيت279)، کتنے مسلمان سود کھاتے ہیں، بینکوں کے سود کے علاوہ قرضوں پر بھی سود کھاتے ہیں، تو پیغمبر اسلام [ص]سے جنگ کرنا کیا توہین رسالت ہے یا نہیں؟ ایسی دسیوں مثالیں دی جا سکتی ہیں، جن کے تحت بڑے آرام سے ہم جذبات کو بھڑکا کر لوگوں کو بیوقوف بنا سکتے ہیں، لیکن انصاف کے تقاضے کچھ اور ہیں۔ انصاف یہ کہتا ہے کہ جرم کی تعریف معین ہونی چاہیے، جرم کی نوعیت کا تعین کرنا اولین ضرورت ہے۔ اگلی بات اس کا ثابت ہونا ہے، محکمے میں جب تک کوئی جرم ثابت نہ ہو وہ کا لعدم ہوتا ہے، بے حیثیت ہوتا ہے۔ ابن عباس کی روایت کے مطابق رسول اکرم [ص] کے سامنے ماعز نامی ایک آدمی نے آکر اقرار کیا کہ اس نے زنا کیا ہے، آپ نے فرمایا: شاید آپ نے چوما یا فقط دیکھا ہے[مسند احمد]۔ قرآن کریم نے کہا ہے کہ جب تم پر کوئی سلام کر دے تو اسے بے ایمان کہنے کا تمہیں کوئی حق نہیں ہے(سوره نساء آيت 94)۔ سلام ایک عام سا معاشرتی شعار ہے جو اسلام نے میل جول کے لیے وضع کیا ہے۔ اس آیت میں واضح پیغام ہے کہ امن و آشتی کے لیے عام سا بہانہ کافی ہے۔ جبکہ سزا دینے کے لیےبات بالکل برعکس ہے، کہیں دو گواہ تو کہیں تین ، کہیں چار، اور اوپر سے گواہوں پر کڑی شرائط کا رکھنا، سب یہ بتاتا ہے کہ ہر مسلمان جو ظاہری کلمہ پڑھ لے وہ محترم ہے، اس کا جان و مال محفوظ ہے ۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ نہ کوئی قانون سازی ہو رہی ہے، اور نہ انصاف کے تقاضے پورے ہو رہے ہیں، قانون نافذ کرنے والے ادارے تماشا دیکھ رہے ہیں، اور لوگ دست بہ گریباں ہیں۔ نہ خدا سے شرم، نہ رسول رحمت کا حیاء، نہ مہذب دنیا کی جگ ہنسائی کی پروا اور نہ ہی مذہب کی بدنامی کا خوف، جرم پر جرم کیے جا رہے ہیں اور حکومت ڈھیٹ تماشائی ہے ۔ ہمارے دانشوروں کو چاہیے کہ اس قانون کی وضاحت فرمائیں اور اس کے مختلف پہلووں کی تشریح کریں، اس کے شرعی ثبوتوں اور دلائل پر بھی بحث ہونی چاہیے، کیونکہ اسلامی قوانین کے سرچشمے واضح اور معین ہیں، یعنی کوئی بھی قانون تبھی شرعی حیثیت رکھ سکتا ہے جب قرآن و سنت میں ہو یا پھر سب مسلمان اتفاق رائے رکھتے ہوں، یا عقل کی روشنی میں ثابت ہو رہا ہو، بہرحال اس کی حیثیت کو پرکھ کر بحث کرنا بھی اسلامی سکالرز کی ذمہ داری ہے۔ تعجب ہوتا ہے علماء کے اس بے موقع سکوت پر جو اتنے بڑے ظلم پر چپ سادھے گویا “صوم الصمت ” رکھے ہوئے ہیں، لیکن یاد رکھنا چاہیے کہ ظلم و ستم تو ہمیشہ برا ہوتا ہی ہے، لیکن مقدسات کی آڑ میں کیا جانے والا ظلم اس لیے بھی خطرناک ہوتا ہے، کہ اس سے خود ان کے تقدس پر سوالیہ نشان اٹھ سکتا ہے ۔ اس لیے سب سے بڑی ذمہ داری اسلام کا درد رکھنے والے علماء کی ہے کہ مٹھی بھر نادان لوگوں کا ساتھ دینے کے بجائے اسلامی قانون و شریعت کی حیثیت کو بچانے کی فکر کریں اور واضح طور پر اعلان کریں کہ اسلام ایک قانون مند نظام رکھتا ہے جہاں ہر جرم کی سزا موجود ہے اور اسے ثابت کرنے کا طریقہ کار بھی ، جرم کو ثابت کرنے سے پہلے چھوٹے سے چھوٹا اقدام بھی انصاف کے دائرے سے باہر ہے، چہ رسد کہ اتنی بڑی سفاکیت کی داستان رقم کر دی جائے۔ قانون کے تقاضے حکومت اور عدلیہ کو پورے کرنے چاہییں اور انصاف کے تقاضے ہر ایک کو۔ اس لیے حکومت سے یہ تقاضا ہے کہ قانون ہاتھ میں لینے والوں کو کڑی سے کڑی سزا دے کر نشان عبرت بنا دینا چاہیے، تاکہ آیندہ کوئی پاکستانی شہری قانون ہاتھ میں لے کر ایسے گھناونے جرائم کا مرتکب نہ ہو اور ایسی درندگی ، سفاکیت اور بربریت کی جرات نہ کی جا سکے۔ [فرقان گوہر]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com