بات صرف ایک دن کی نہیں!

بات صرف ایک دن کی نہیں!

تحریر: خواجہ مبشر

اکثر نوجوان نسل بلخصوص کالجزاور یورنیورسٹیز میں پڑھنے والے انجام اور سزا و جزا کی پروا کئے بغیر ،مسلمان ہوتے ہوئے، ایمان کے تقاضوں کو پس پشت ڈال کر۔(جبکہ ایمان حیا کا ایک بڑا حصہ ہے: سنن ترمذی) جوڑوں کی شکل میں ایک دوسرے کے رشتے کو محبت کا نام دے کر کئی کئی سالوں تک ایک ساتھ رہتے ہیں۔ بوقت شدتِ خواہش جب جوانی کا جنونِ سر پر سوار ہوتا ہے تو اپنی ہوس کی آگ کو بجھانے کےلئے بےشرمی و بے حیائی کی ہر حد پار کر جاتے ہیں۔ حدیث کے الفاظ ہیں کہ ہر مذہب کا کوئ نہ کوئ امتیازی وصف رہا ہے اور اسلام کا امتیازی وصف حیاء ہے(سنن ترمذی) دوسری حدیث میں ذکر ہےکہ جب انسان میں شرم و حیا نہ رہے تو وہ بڑی سے بڑی بیہودگی، نافرمانی اور فساد برپا کر سکتا ہے( صحیح البخاری) ہر طرف سوشل میڈیا پر مختلف تبصرے ہو رہے ہوتے ہیں میڈیا پر چرچے ہونے شروع ہو جاتے ہیں شوروغل مچا ہوتا ہے کہ ویلن ٹائن ڈے مغربی تہوار ہے مسلم کا نہیں اسکا احتجاج کرنا چاہئے، ویلن ٹائن ڈے ٖفحاشی پھیلانے والا دن ہے اسکو نہیں ماننا چاہئے۔ مسلم اور ویلن ٹائن نہیں نہیں بلکل نہیں قطعی نہیں۔ بات بجا ہے۔ مگر یہ بات صرف ایک دن کی نہیں! اس دیس میں بلخصوص کالجز اور یونیورسٹیز میں ہر روز ویلن ٹائن منایا جاتا ہے، روزانہ کی بنیاد پر نجانے کتنے نوجوان اس زنا جیسی بدکاری کا ارتکاب کرتے ہوں گے، کتنی عصمتیں تار تار ہوتی ہوں گی، کتنی بیٹیاں خوشی سے لٹتی اور برباد ہوتی ہوں گی، اور کتنے بیٹے فخر سے جنسی تسکین کو ناجائز طریقوں سے پورا کرتے ہوں گے۔ جب والدین کی طرف سے شادی کے وقت کا تعین ہوتا ہے توان میں سے بعض نوجوان لڑکے لڑکیاں مختلف جسمانی و دماغی بیماریوں اور پریشانیوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ دوسری جانب والدین اپنی زمہ داری صرف و صرف کالجز اور یورنیورسٹیز میں داخلہ دلوانے اور اخراجات برداشت کرنے تک ہی سمجھتے ہیں۔ تاکہ وہ باصلاحیت اور پیشہ وارانہ مہارت حاصل کر کے اچھی دنیا بنا سکیں۔ یا پھر کالجز یونیورسٹیز سے فراغت کے بعد بنا اولاد کی رضا مندی جانے، مہذب۔۔۔، عزت دار۔۔۔، باوقار۔۔۔، برسرِروزگار۔۔۔ اور شریف۔۔۔ گھرانے تلاش کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ بھلے اپنی اولاد میں یہ اوصاف ہوں یا نہ ہوں۔ آگے والا فرشتہ ہونا چاہیے۔ کالجز یورنیورسٹیز کا یہ حال ہے کہ ان کو سمنبھالنے والے عہدہ دران اپنی ذمہ داریاں صرف اور صرف مادیت پرستی کی تعلیم دے کر ماہانہ تنخواہ حاصل کر لینے تک ہی سمجتے ہیں۔ اداروں میں کیا کچھ چل رہا ہے کیا کچھ ہو رہا ہے اسکی انکو کچھ خبر نہیں ہوتی نہ ہی اسکو اپنی ذمہ داریوں کا حصہ سمجھتے۔ جن اداروں کو والدین اپنی نسل کا مستقبل سنوارنے کے لئے اپنی اولادیں سونپ آتے ہیں وہاں وہ ہر جائز اور ناجائز کام سے اپنا مستقبل داغ دار کر کے واپس نکلتے ہیں۔ اخلاقی و روحانی تعلیمات سے دور دور تک ان اداروں کا کوئی سروکار نہیں، انکو تو بس صرف ایڈمیشن اور پیسہ دولت سےغرض ہے، مستقبل جائے بھاڑ میں۔ جن اداروں میں نوجوان پیشہ وارانہ تعلیمات حاصل کر کے دنیا میں عزت و وقار کے ساتھ جینا چاہتا ہے درحقیت عزت و وقار کی چادر وہ اسی ادارے میں ہی اتار کر پھینک آتا ہے۔ اسی جدوجہد میں لڑکپن سے جوانی اورجوانی سے بڑھاپا تک لگ جاتا ہے مگر افسوس انکی روحانی تعلیمات انکی اخلاقیات،انکی جوانی کی ضروریات پر نہ کوئی دھیان دیتا ہے نہ کوئی پروا کرتا ہے، اور نہ ہی کوئی زمہ داری اٹھاتا ہے۔ انسانی جبلت کو مد نظر رکھتے ہوئے جوان ہوتے ہی جوانی کا لطف اٹھانے کے لئے جائز طریقے سے نکاح کر دیا جائے تو بہترین ہے تاکہ برائی کا بروقت سدباب ہو سکے۔کیونکہ اسلام کے نزدیک زنا کا سدباب برقت نکاح ہے۔ کیا تکلیف ہو گی والدین کو اگر نکاح کے بعد بھی دونوں فریقین کے تعلیمی اخراجات انکے برسرِ روزگار ہونے تک مل جل کر برداشت کرلیں؟ شرط صرف یہی ہے کہ وہ جب کمانے لائق ہو جائیں گے تب ہی انکو نکاح کی اجازت ہے ورنہ نہیں۔ بھلے اللہ کی زمین پر جگہ جگہ زنا کرتے پھریں؟ والدین سے کیا انکے اپنے والدین نے بھی نکاح کے لئے برسرِروزگار ہونے اور اپنے پاوں پر کھڑے ہونے کی قید و بند لگائی تھی؟ ادھر زمانےمیں موجود جہیز جیسی لعنت اور دیگر مہنگی مہنگی رسوم و رواج نے نکاح کو اتنا مشکل ترین اور مہنگا بنا دیا ہے کہ یہ عام اور غریب آدمی کی پہنچ سے تو ایسے دورہو گیا جیسے دوا بچوں کی پہنچ سے دور رکھی جاتی ہے۔ مجبوراً وہ غریب آدمی یہ جانتے ہوئے بھی کہ زنا حرام ہے اسی کی جانب بھاگتا ہے کیونکہ آج کل معاشرے میں زنا کافی سستا ترین ہو چکا ہے۔ رہا سہا کام یہودی میڈیا کی یلغار ہے جو بدترین شکل میں فحاشی، آزادی اور ماڈرن ازم کے زیریلے ٹیکے بھر بھرکر میٹھے میٹھے انداز سے نوجوان نسل میں لگا رہا ہے۔ نوجوانو کے لئے ترغیب اور آسانی یہی ہے کہ نوجوان نسل اگر اپنی مرضی سے کسی کو پسند کرتے ہے اور جائز طریقے سے نکاح کرنا چاہتے ہیں تو ان پر کوئی پابندی نہیں، کوئی قید بند نہیں کوئی جبر نہیں یہی در حقیقت اسلام نے اصل آزادی آپکودی ہے۔ یہ آپکا حق ہے کہ آپ اپنی پسند ک شادی کر سکتے ہیں۔ انکے والدین کو بھی کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے بشرطیہ کہ وہ جائز نکاح کے خواہاں ہوں انکی ہر حال میں سپورٹ اور مدد کرنا چاہیے۔ ہر شخص کو چاہئے کہ نکاح کو آسان بنانے میں اپنا اہم کردار ادا کرے۔ اور رشتوں کو مظبوطی سے جوڑے رکھنے کی ترغیب بھی ساتھ ساتھ اپنی نسلوں کو دیتے رہیں۔ سوچ کو بدلیں اپنی نسلوں کی اخلاقی و روحانی تربیت کریں وقت نکالیں۔ اپنی اولادوں کو پیدا کر کر کے پھیکتے نہ جائیں وہ توجہ چاہتی ہیں آپکا۔ یہی اثاثہ ہیں ملک و قوم کا یہی سرمایہ والدین کے لئے دنیا و آخرت کا۔ نوجوان نسل کے لئے اقبؔال اپنے پیغام میں لکھتے ہیں کہ ؎ تو رازِ کُن فکاں ہے اپنی آنکھوں پر عیاں ہو جا خودی کا رازداں ہو جا خدا کا ترجماں ہو جا خودی میں ڈوب جا غافل، یہ سرِزندگانی ہے نکل کر حلقۂ شام و سحر سے جاوداں ہو جا اقبال چاہتے تھے کہ نوجوان مغرب کی پیروی کرنے کے بجائے اپنے اسلاف کی زندگیوں کا مطالعہ کریں۔اور اس مطالعے سے اپنی زندگیوں کو قابلِ تقلید بنائیں۔وہ مغربی تہذیب کی عارضی چکا چوند کو مسلم نوجوانوں کے لئے انتہائی نقصان دہ سمجھتے ہیں کیونکہ یہ ظاہری چمک دمک روحانی اقدار سے ہٹ کر صرف مادی ترقی کی طرف لے جاتی ہے،جبکہ اسلامی تہذیب اور ہمارے اسلاف کی تعلیمات ایک پائیدار روحانی ترقی اور انسانی بھلائی کے دروازے کھولتی ہیں: علامہ اقبال کو اس بات پر افسوس رہا کہ ہمارے آبأو اجداد کی لکھی ہوئی کتابیں یورپ میں نصاب کا حصہ ہیں مگر مسلم نوجوان اس سے استفادہ کرنے سے محروم ہیں۔وہ ہمارے اسلاف کی کتابوں سے، جو کہ علوم کے سرچشمے ہیں، سیراب ہو کر دنیا پر حکومت کر رہے ہیں اور ہم ان علوم کو کھو کر غیروں کے کاسہ لیس بن چکے ہیں۔یہ صورت حال اپنے فرائض سے غافل ہونے،تساہل پسندی اور دوسروں پہ انحصار کی عادت کے سبب پیدا ہوئی ہے جس کا نقصان ہماری آنے والی نسلوں کو بھی ہو سکتا ہے تحریر: خواجہ مبشر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com