فاصلہ

 دلپذیرجنجوعہ

1970 کے الیکشن کا زمانہ تھا ، لاہور سے اٹھی پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماء ذوالفقار علی بھٹو کا پورے ملک میں طوطی بولتا تھا ، پیپلز پارٹی کا نعرہ تھا روٹی، کپڑا ، مکان نا انصافی اس وقت بھی تھی مگر اتنی نہ تھی کہ سیاسی پارٹی اپنے نعرے میں اس کا ذکر کرتی ۔ شائد موٹر سائیکلوں کی کمی کے باعث سڑکوں پر کرپشن کے مظاہرے نایاب تھے، جاگیر داروں اور صنعتکاروں کے ظلم میں پسی عوام نے اس نعرے کو ہاتھوں ہاتھ لیا ۔ بھٹو کی پیپلز پارٹی نے اگر حلقے میں کھمبے کو ٹکٹ دیا تو عوام نے اسے بھی ووٹ دے کر کامیاب کرایا ۔ کھمبے کی اصطلاح بھی اسی زمانے کی ایجاد ہے ۔ مثال کے طور پر راولپنڈی کی ضلع کچہری میں خورشید حسن میر نام کے ایک وکیل ہوا کرتے تھے ، مقدموں کی نایابی کا شکار مگر پیپلز پارٹی کے ٹکٹ نے انھیں پاکستان کی قومی اسمبلی کا ممبر بنوا دیا۔پہلے وہ وزیر بے محکمہ بنائے گئے ، جی ہاں اس زمانے میں ایسے وزیر بھی ہوا کرتے تھے جن کے پاس کوئی وزارت نہیں ہوا کرتی تھی ایسے وزیروں کو وزیر بے محکمہ کے نام سے لکھا اور پکارا جاتا تھا۔ خورشید حسن میر صاحب بعد میں ریلوے کے وزیر بنا دئے گئے اس زمانے میں ہم اخبار میں دلچسپی سے پڑہا کرتے تھے کہ ریل کا پورا انجن کیسے غائب کیا جاتا ہے۔ خود بھٹو صاحب البتہ امین تھے ۔ سیاستدان کے لیے صادق ہونا ممکن ہے یا نہیں ، یہ تو لال حویلی والے شیخ صاحب ہی بتا سکتے ہیں ۔ بھٹو صاحب نے اپنی مدت بھی پوری کی اور دوسرا الیکشن بھی کامیابی سے لڑا، مگر ان کی چاند جیسی شکل کے مقابلے میں پہلے نو اور پھر گیارہ ستارے لائے گئے ۔ در اصل بھٹو مخالف اتحا د بنانے والوں کے جھنڈے میں گیارہ ستارے تھے۔کیونکہ اس وقت سیاسی پارٹیاں ہی اتنی تھیں۔ چوبیس گھنٹے چلنے والے درجنوں ٹی وی چینلوں کی جگہ صرف ایک سرکاری ٹی وی ہوتا تھا جو مخصوص وقت پر کھلتا اور بند ہو جاتا تھا۔ ایف ایم ریڈیو سے لوگ نامانوس تھے۔ سوشل میڈیا کا تصور بھی نہیں تھا جلد ہی عوام کو یقین ہو گیا کہ ان کے ووٹ چوری ہو گئے ہیں۔ بھٹو کے خلاف ایک بلند آواز ریٹائرڈ ائر ماشل اصغر خان کی ہوا کرتی تھی ان کی پارٹی کا نام جسٹس پارٹی تھا، جیسے آج کل نواز شریف کے مقابلے میں عمران خان صاحب ہیں اور ان کی پارٹی کا نام تحریک انصاف ہے۔جلسے کم اور جلوس زیادہ نکلا کرتے تھے ۔ ایک دن راولپنڈی میں جلوس نکلا کسی نے جی ایچ کیو کے سامنے بینر لٹکایا جس پر لکھا تھا ْ خلقت مٹ جائے گی تب انصاف کرو گےْ عوام کی فریاد سن لئی گئی ۔ بھٹو کے ساتھ جو ہوا سو ہوا مگر خلقت خدا کے مطالبے پرملک میں مارشل لاء لگا دیا گیا۔ مارشل لا لگ جانے پر شیریں بانٹنے کی روائت کی ابتداء بھی ہوئی ، ورنہ اس سے قبل مارشل لاء کی أمد پر شیرین تقسیم نہیں ہوتی تھی،عام طور پر مانی ہوئی منت کے پورا ہو جانے پر شیرین تقسیم کی جاتی ہے، عوام کی منت پوری ہوئی اور پاکستان کو جنرل ضیاء الحق کی صورت میں ایسا مرد مومن نصیب ہوا جو کھلی استین والا کرتاپہنتا ، نیو یارک میں اللہ کے اس بندے نے اللہ کی کتاب کی تلاوت کی ریت ڈالی، اللہ نے اسے اپنے گھر بلایا تو امام کعبہ مقام امامت سے یہ کہہ کر ہٹ گئے کہ آپ امت کے رہنماء ہیں امامت فرمائیں، پھر انھوں نے تلاوت کی خود بھی گریہ کیا اور اپنے مقتدیوں کو بھی رلایا ، ایسے ہی بتایا جاتا ہے ، شہادت کی موت مرے اور ان کی باقیات فیصل مسجد کے باہر دفن ہیں، پھر سیاستدان آئے کبھی بے نظیر تو کبھی نواز شریف ، مگرعوام راولپنڈی کے جی ایچ کیو کے باہر پھر بینر لگا چکے تھے۔ ہاتھ دعا کے لئے اٹھے تو فضاوں سے شرف قبولیت اترا ۔ یہ ساری تمہید اس لیے بیان کی کہ اس دن ایک بالکل ہی نوجوان، گل خان ، مسکراتاہو�آیا ْ آپ نے رات کو خطاب سنا ْ پھر خود ہی کہنے لگا ْ اب ہمیں صیح آدمی ملا ہے ْ میں اس کی خوشی پہ خوش تھا ْ آپ بھی کچھ کہیں ْ میں کہنا چاہتا تھا ْ برخوردار تم نے یہ خطاب زندگی میں پہلی بار سنا ہے ْ میں چپ رہا کہ گل خان کے چہرے پر آئی امید بھری مسکرائٹ اچھی لگ رہی تھی آج جمعہ کی نماز پڑھ کر راولپنڈی اور اسلام آباد کو ملانے والی مرکزی شاہراہ کے پل پر کھڑا ہوا ہوں میرے ساتھ گل خان بھی ہے میں نے پوچھا گل خان بتا سکتے ہو یہاں سے جی ایچ کیو کا فاصلہ کتنا ہے ْ ْ جتنا ان لوگوں ْ گل خان نے مجمع کی طرف اشارہ کر کے کہا ْ اور عوام میں ہے ْ Islamabad. 10 November 2017

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com