ویل ڈن کیفے درویش، ویل ڈن درویشو۔۔۔۔ فاطمہ فیاض

کوئین میری کالج سے چندقدم آگے گاڑی نکلی ہی تھی کہ میری نظرپٹرول پمپ کیساتھ ایک کیفے پرپڑی،،بورڈپرلکھاتھا”کیفے درویش”۔۔۔

تجسس ہواکہ دیکھیں،یہ کیساکیفے ہے؟۔۔قریب جانے پرایک بورڈپرنظرپڑی۔۔اس بورڈپرتحریرکچھ یوں تھی۔۔۔

“اگر آپ اپنے بچے کوفاسٹ فوڈ کھلانے کی گنجائش نہیں رکھتے،تب بھی چلے آئیں۔۔یہاں اللہ کاکھاتا چلتاہے۔۔

یہ لائن پڑھتے ہی میں آبدیدہ ہوگئی،کیفے کے اندرجانے کی خواہش تھی لیکن ہال کھچا کھچ بھراتھا،تھوڑا انتظارکیا،جائزہ لیا،بہت سے لوگ ایسے بھی فاسٹ فوڈ کھاکرنکل رہے تھے جنہیں بل اداکرنے کی ضرورت نہیں پڑی،دروازے کیساتھ ایک دیوارمحبت بنائی گئی ہے جس پرانسانیت سے محبت کرنے والے مختلف اچھے انسانوں کی طرف سے دوسرے انسانوں کے لیے پہلے ہی بکنگ کرائی گئی تھی،پرچیوں کی ایک لمبی قطارتھی،جہاں شایدمزیدپرچی کے لیے بھی جگہ درکارہوگی۔۔کھڑے کھڑے ملازمین سے کیفے دروازے کے مالکان کے بارے میں جانکاری حاصل کی کہ یہ کون فرشتہ صفت انسان ہیں جنہوں نے اپنے کاروبارمیں انسانیت کے بھلے کواولین ترجیح بنارکھاہے،معلوم ہواکہ یہ اہل قلم ہیں،اوران کا بزنس کاطریقہ بھی جداگانہ ہے،فقیرانہ ہے،درویش صفت یہ لوگ کاروبار دماغ سے کم اوردل سے زیادہ چلارہے ہیں۔۔۔۔

میں کچھ دیررکی رہی کہ شاید رش ختم ہوجائے مگرمزیدوقت درکارتھا،ملازمین نے میرے بیٹھنے کابندوبست کرناچاہامگر میں نے اس وجہ سے معذرت کرلی کہ کیاپتہ جو سیٹ میرے لیے خالی کرائی جائے اس پرکوئی حقیقی درویش ہی نہ بیٹھاہو،اس کادل ٹوٹ جائے اوراوپروالا ناراض ہوجائے،جہاں اوپروالے کی رضاکی خاطر مفت کھانے دیئے جارہے ہیں وہاں مجھے آداب ملحوظ خاطر رکھنے چاہیں۔۔۔

مجھے کیفے درویش اچھالگا،میری خواہش ہے کہ ہمارے ملک کے ہرشہر،ہرگلی میں ایسے کیفے درویش کھل جائیں جہاں سے میرے وطن کے غریب امیروں کی طرح پروٹوکول کیساتھ کھاناکھائیں۔۔ویل ڈن کیفے درویش۔۔ویل ڈن درویشو۔۔

بشکریہ: آزاد 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com