رحمان کی صف ۔۔۔تحریر:مریم شکیل

زندگی کو سوچنے بیٹھیں تو یہ عجب رنگ اوڑھ چُکی249 عجب مقام پر آن کھڑی ہوی ہے. ہر طرف افراتفری کا عالم ہے. بچے سے لے کر بوڑھے سب پر انجانا خوف مسلط ہے. نوجوان نسل ڈپریشن249 بے سکونی اور اذیت کا شکار ہے. کامیابی کی کھوج اور پرفیکشن کی چاہ میں آج کا انسان ادھوراہ ھو رھا ھے. دن رات ایک کیے ہر شخص محنت کر رہا ھے اپنی ذندگی کو بہتر سے بہترین کرنے کے لیے. لیکن پھر بھی حالات ہیں کہ بگڑتے جارہے ہیں. تعلیم عام ہورہی ھے. لیکن مجموعی طور پر ھم میں شعور کی کمی ھے. ان باتوں کو اگر سوچنے بیٹھیں تو ہر حساس انسان سوچ کی اتھاہ گہرائیوں میں جا غرق ہو. ھم بچپن میں پڑھتے تھے کہ مل کر کام کرنے میں برکت ہوتی ھے. آج ھم محنت کرتے ھوے بھی تنزلی کا شکار ھیں کیونکہ ھماری کوششیں249 محنتیں انفرادی سطح کے لیے مخصوص ھے. افسوس کہ ساتھ کہنا پڑھ رھا ھے کہ ھم ذھنی طور پر مفلوج ھوتے جارھے ھیں. ھمارا المیہ ھے کہ جب ھم معاشرے کی براء کا تزکرہ کرتے ھیں تو اپنے آپکو باھر کھڑا کر کے جائزہ لیتے ھیں. خیر آگر میں یہاں ھمارء کوتاھیوں کا ذکر کروں تو صفحات بھر جائیں. ھمیں حل سوچنا ھے. اور حل صرف رحمان کی صف میں شامل ھو کر ھی ممکن ھے. جب کوی مشکل آتی ھے تو رحمان کے بندے اپنی غلطی ڈھوندتے ھیں اور اصلاح کی کوشش کرتے ھیں. ملت کے کسی ایک فرد کی تکلیف بھی انہيں بے چین رکھتی ھے. اور انکی کوششيں انسانيت کی بہتری کے لیے ھوتی ھیں سو ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا. اپنے گناھوں پر نظر ڈال لی جائے249 اور اصلاح کی کوشش کی جاے تو چمن میں بہار کا آغاز ھو سکتا ھے. دوسروں کی بھلاء میں اپنی مسکراہٹ ڈھونڈ لی جائے 249 تو یقيننا بیسکونی دور ھو جاے گی. اللہ ھمیں حقيقی ذہنی آذادی دے.اور ایک دوسرے کی عزت کرنے کی توفيق دے. کہ ھم متحد ھو جایءں. اور اسلام کی خدمت کر سکیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com