نذر محمد گوندل کی تحریک انصاف میں شمولیت،باغی گروپ کے سر اُٹھانے کاخدشہ

45 ارب کی کرپشن میں ملوث ملزم کے مبینہ سہولت کار اور سگے بھائی نذر محمد گوندل کی تحریک انصاف میں شمولیت پر کارکنان سراپا احتجاج 

گزشتہ دنوں سابق صدر آصف علی زرداری کے قریبی ساتھی اور پیپلز پارٹی کے سابق رہنما نور عالم خان کے بعد فردوس عاشق اعوان کی پی ٹی آئی میں شمولیت کے بعدسے تاحال پیپلز پارٹی کی وکٹیں گرنے کا سلسلہ جاری ہے اورپی پی پی کے سنیئر رہنما سابق وزیر نذر محمد گوندل بھی پی ٹی آئی میں اعلانیہ شامل ہو چکے ہیں ۔جس کے باعث پاکستان تحریک انصاف کی لیڈرشپ کو اندرونی طور پر کڑی تنقید کاسامنا ہے ،ایک معروف تجزیہ کار کے مطابق بانی اراکین اور کارکنان کا موقف ہے ایسے کھوٹے سکوں اور کرپٹ عناصر کی پی ٹی آئی میں شمولیت سے پارٹی کی ساکھ بُری طرح متاثر ہورہی ہے ۔جو ہمارے لئے باعث شرمندگی ہے شاید یہی وجہ کے کچھ دنوں سے سوشل میڈیا پر تحریک انصاف کے سپورٹرز زیادہ متحرک نظر نہیں آرہے ۔ اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ الیکشن میں چند ایک سیٹ کی متوقع جیت کیلئے قائدین کی اپنے نظریات سے سودے بازی کسی صورت برداشت نہیں ۔اُن کا کہنا ہے پہلے ہمیں عبدالعلیم خان پر قبضہ گروپ جیسے الزامات کا سامنا ہے، جہانگیر ترین کی آف شورکمپنیاں بھی ہمارے لئے ایک معمہ بنی ہوئی ہیں ۔ نذرمحمد گوندل کی کرپشن میں مبینہ سہولت کار ی کی داستانیں بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔پارٹی کے بانی اراکین تو پہلے کنارہ کشی اختیار کرچکے ہیں ،صد افسوس کے جماعت کا مستقبل تاریک نظر آ رہا ہے ۔ 
یاد رہے کہ اپنے عہد کے وزیراعظم پاکستان یوسف رضا گیلانی نے خوراک وزراعت کے وفاقی وزیر نذرمحمد گوندل کے بھائی ظفرمحمد گوندل کو کرپشن کے الزامات پر ممبر این ایچ اے کے عہدے سے برطرف کر دیا تھا ۔جبکہ دسمبر2009میں اُس وقت کے وفاقی وزیر برائے خوراک و زراعت نذرمحمد گوندل کی مداخلت سے ایک بار پھر میرٹ کی دھچیاں اُڑاتے ہوئے ظفر محمد گوندل کو اسداللہ کی جگہ ای او بی آئی کا چیئرمین مقرردیا گیا تھا۔جس پر اپوزیشن کے آواز بلند کی مگر حکومت وقت کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ 
اور پھر وہی ہوا جسکا گماں کیا جا رہاتھا کہ میگا کرپشن کی ایک نئی داستان کا آغاز ہوااور یوں سپریم کورٹ کے حکم پر ظفر اقبال گوندل کو ڈیفنس فیز ٹو میں زرعی اراضی کو کمرشل اور رہائشی اراضی قرار دیکر فراڈ کرنے کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کر کے گرفتار کیا گیا۔خریدی گئی اراضی کا ریٹ 9 لاکھ روپے فی کنال تھا جبکہ ملزم نے جگہ خریدنے کیلئے سو گنا زیادہ قیمت ادا کی۔ علاوہ ازیں ملزم پراپنے بھائی نذر گوندل اور بھتیجے ندیم افضل چن کے حلقوں سے سیاسی بنیادوں پر بھرتیاں کرنے کا الزام ہے۔ ملزم نے ای او بی آئی میں کرپشن کر کے قومی خزانے اور غریب ملازمین کے فنڈز کو نقصان پہنچانے کے الزامات ہیں ۔
مزید براں سبکدوش ہونے والے ای او بی آئی کے چیئرمین اور سابق وفاقی وزیر نذر گوندل کے بھائی ظفر اقبال گوندل کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں بھی شامل کیا گیا تھا۔جبکہ کوڈائریکٹر ایف آئی اے محمد مالک نے اپنے دفتر میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا تھا کہ کمرشل بینکنگ سرکل کراچی میں مکمل کی جانے والی تحقیقات میں یہ انکشاف ہوا تھا کہ2011-12میں ای او بی آئی نے کراچی ایئر پورٹ کے قریب4ایکڑ اراضی2ارب34 لاکھ روپے کے عوض خریدی جبکہ اراضی کی حقیقی مالیت اس سے کہیں کم تھی۔ابتدائی تحقیقات کے مطابق ارضی کی خریداری کے عو ض ادائیگی ایک سے زائد اقساط میں اراضی کی ملکیت کی حامل2خواتین نگہت اسد اور ماہم اسد کے اکاؤنٹ میں منتقل کر دی گئی اور بعد ازاں پہلے سے طے شدہ فارمولے کے تحت ایک ارب روپے سابق سربراہ ای او بی آئی ظفر اقبال گوندل اور ڈائریکٹر جنرل انویسٹمنٹ کو بطور رشوت ادا کر دیے گئے۔ڈائریکٹر ایف آئی اے نے بتایا کہ تاحال زمین کا قبضہ خریدار یا فروخت کنندہ کسی کے پاس بھی نہیں ہے اور اراضی کی ملکیت کے کئی دعوے دار ہیں۔ ایف آئی اے کے مطابق اس ڈیل میں ایک سابق وزیر اعظم کے قریبی رشتہ دار بھی ملوث ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ فوج کے زیر انتظام ڈی ایچ اے کے ادارے کے اکاؤنٹس منجمند کیے گئے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ نذرمحمد گوندل پر رشوت اور اپنے اختیارات کے غلط استعمال، اقرباپروری کے تسلسل میں وفاقی وزیر کے بیٹے کے دوسست کی 20گریڈ پر بھرتی،بغیر اشتہار کے 61ملازمین کے بھرتی،ای او بی آئی کے خرچ پر خریدی گئی کروڑوں روپے مالیت کی لگژری گاڑیوں کا خاندان کے افراد کے زیراستعمال رہنے، ظفراقبال گوندل کے طرف سے سابق وزیر خزانہ شوکت ترین کے سلک بنک میں 37کروڑ اور سابق وفاقی وزیر شیریں رحمان کے شوہر کے بنک تعمیرمائیکرووفنانس بنک میں 42کروڑ ایمپلائز کے جی پی فنڈز کی رقم رکھوانے، جہاں سے کروڑوں روپے کی کمیشن حاصل کرنے ،جیسے الزامات کی خبریں بھی اخبارات کے شہ سرخیاں بنتی رہی ہیں ۔ 
ایک خبر کے مطابق تحریک انصاف کے کارکنان اپنے قائدین کے سامنے شدید سراپا احتجاج ہیں کہ 45 ارب کی کرپشن میں ملوث ملزم کے بھائی نذر محمد گوندل کو پارٹی میں کیوں شامل کر لیا گیا ؟تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ تحریک انصاف کے قائد کے آمرانہ رویے سے جماعت کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے،دوسروں سے چالیس سال کا حساب مانگنے والا قائد ایک گھر کا حساب دینے سے قاصرہے،عدالت میں پارٹی کو بیرون ملک سے فنڈنگ جیسے کیس کا بھی سامنا ہے ،اور پھر پارٹی میں کھوٹے سکے کی شمولیت،کوئی شک نہیں تحریک انصاف میں سے ایک اور باغی گروپ منظرعام پر آ جائے ۔ ناقدین کا کہنا ہے تحریک انصاف ایک مافیا کا روپ دھارتی جارہی ہے۔ جو صرف جماعت کیلئے ہی نہیں پاکستان کے سیاسی منظرنامے کیلئے بھی فکرانگیز بات ہے ۔ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com