ایک لڑکی…..سلمی صنم

کیسےکہوں؟کوئ نہیں جانتا..یہ جگمگاتا شہر..حسین رنگین طلسماتی،ہوشربا،اپنے آپ میں گم..یہ شہر ہر لمحہ چلتا ہے..روز ہی مجه سے ملتا ہے..اور بار بار پو چہتا ہے
وہ اہک لڑکی کہاں ہے؟
وہی جو سیم کی سجل لچکتی ہوئ بیلوں کی ٹهنڈی چهاوں میں بیٹهی اپنی آنکهیں بند کیے کچه گنگناتی تهی اور اس کی خاطر کوئ چرواہا املی کی گہنی چهاوں میں دوپہر کو بیٹها بانسری کی میتهی میٹهی تانیں چهیڑتا تها اور پاس کہیں تلیا میں اس کا ریوڑ دهوپ سے اپنا تن بچا رہا ہوتا…
وہ ایک لڑکی کہاں ہے؟
جو مہندی کی جهاڑیوں میں کبهی آنکه مچولی کهیلتی تهی یا زرد زرد خربوزوں سے لدی بیل گاڑیوں میں کهیتوں کے چکر لگاتی تهی..اور جب کالی سیاہ رات ہو جاتی.جگنو ٹمٹانے لگتے.چوپال میں کوئ قصہ چهڑ جاتا.لوگ جمع ہوتے.حقے گڑگڑاتے.اس لڑکی سے کہتے..اچها ہوا جو مٹی میں چهڑ کاو کیا.کتنی سوندهی سی خوشبو ہے.یہ اپنی ما ٹی ہے.یہ اپنا گاوں ہے.ہرے بهرے کهیت..لہلاتی فصل بل کهاتی پگڈنڈیاں..وہ لچکتی مٹکتی گهونگهٹ میں چهپی گوریاں..اور ان کے ساته شرماتی لجاتی وہ لڑکی.
وہ ایک لڑکی کہاں ہے؟
لیکن میں اس سے کہ نہ پائ..اے شہر تیری خاطر تجه سے ملنے وہ ایک لڑکی کسی پہاڑی چشمے کی طرح اچهلتے.رینگتے.اٹکتے.بل کهاتے اپنی آنکهوں میںنرم خنک دودهیا کہکشاں.چہرے پر گلابی چاندنی اور رگوں میں گنگاتی ندی لیے سویرے والی گاڑی سے تیرے پاس آئ تهی.وہ نہیں جانتی تهی.پہاڑی چشمے جب ندی کی صورت میدانوں میں اترتے ہیں تو غلاظت ان میں در آتی ہے.اے شہر ایک لڑکی جو تیری خاطر تجه سے ملنے تیرے پاس آئ تهی.اس نے دیکها تیری جگماہٹوں کےپیچهے دهندلاہٹیں ہیں ساری.تیری  طلسماتی کہانیاں جہهوٹی ہیں ساری..اور پهر پل پل مغائرت کا وہ کربناک احساس.اف کس قدر اجنبی تهی.غیرتهی وہ پردیسی تهی
اور پهر کسی دن تیری جگمگاتی سڑکوں پر ایک الاوء دہکایا گیا اور وہ اس دہکتے ہویے الاوء میں کود گئ تهی.
سلمی صنم
 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com