سرسید تحریک نے ہندستان کی ہمہ جہت ترقی کی تہذیب کو مرکزیت دی ۔پروفیسر اصغر عباس 

سرسید تحریک نے ہندستان کی ہمہ جہت ترقی کی تہذیب کو مرکزیت دی ۔پروفیسر اصغر عباس 
سرسید قدیم وجدید دونوں علوم کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے ۔پروفیسر اشتیاق احمد ظلی 
دارالمصنفین شبلی اکیڈمی میں ’’سرسید کی عصری معنویت‘‘ پر دوروزہ سمینار کا افتتاح، 

\سرسید تحریک ہندستان کی دونوں قوموں یعنی ہندؤو اور مسلمانوں کو برابرکی ترقی کے مواقع فراہم کرنا چاہتی تھی۔سرسید انیسویں صدی کے واحد ہندستانی لیڈر ہیں جنھوں نے غیر مسلم تعلیمی اداروں میں خود جاکر وہاں کے طلبہ اور اساتذہ کو مخاطب کیا اور وطن کی محبت اور متحدہ قومیت کا حقیقت پسندانہ تصور پیش کیا ۔ان خیالات کا اظہار ممتاز اسکالر اور سرسید اکیڈمی علی گڑھ کے سابق ڈائرکٹر پروفیسر اصغر عباس نے یہاں دارالمصنفین شبلی اکیڈمی اعظم گڑھ میں ’سرسید کی عصری معنویت‘ کے موضوع پر منعقدہ دوروزہ سمینار کے افتتاحی اجلاس میں کلیدی خطبے کے دوران کیا ۔سمینار کے افتتاحی اجلاس کی صدارت علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کے سابق وائس چانسلر جناب نسیم احمد(ریٹائرڈآئی اے ایس) نے فرمائی ۔اکیڈمی کے ڈ ائرکٹر پروفیسر اشتیاق احمد ظلی نے مہمانوں کا خیر مقدم کیا۔حافظ قمر عباسی نے کلام پاک کی تلاوت کی اور نظامت کا فریضہ اکیڈمی کے سینئر رفیق مولانا محمد عمیرا لصدیق ندوی نے فرمائی ۔
افتتاحی اجلاس میں پروفیسر اصغر عباس کی مرتبہ کتاب ’’شذرات سرسید ‘‘جسے کہ شبلی اکیڈمی نے شائع کیا ہے ،اجرا ہوااور ڈاکٹر محمد طاہر (شعبہ اردو شبلی پی جی کالج )کی مرتبہ کتاب ’علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ کاتوضیحی اشاریہ (۱۸۸۱۔۱۸۸۵)کا اجرا کیاگیا ۔اکیڈمی کی مطبوعات کی آن لائن خریداری اور مطالعہ کے لیے ای بک لانچنگ کی گئی ۔اس موقع پر جناب افضال عثمانی،عاکف عبدالرحمن ،مرزا ہمدان بیگ اور حافظ قمر عباسی کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا گیا جنھوں نے اس بڑے کام کو اپنی کوششوں سے آسان بنادیا ۔
پروفیسر اصغر عباس نے اپنے کلیدی خطبے کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ عا م طور پر لوگ سرسید کے اعمال و افکار کو مختلف خانوں میں رکھ کر دیکھتے ہیں۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ وہ انگریزی حکومت کے طرف دار تھے ،بعض انھیں فرقہ پرست ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ ان کی توجہ مسلمانو ں کی فلاح اور ترقی کی طرف تھی ۔کچھ ان کے عقلیت پسندانہ مذہبی خیالات کے باعث انھیں نیچری اور دہریہ کہتے ہیں ۔
پروفیسر اصغر عباس نے کا کہا کہ سرسید نے ان تمام مسائل کو جو ہندستان اور مسلمانوں کو درپیش تھے ایک مجموعی نظر سے دیکھتے تھے اور ان کی تحریک کی غرض و غایت یہ تھی کہ ہندستان اور مسلمان خواب غفلت سے جاگیں ۔انھوں نے کہا کہ علی گڑھ تحریک ہندستان کی دوسری اصلاحی تحریکوں کی طرح مذہبی تحریک نہیں تھی بلکہ ہندستان کی ہمہ جہت ترقی کی ایک تہذیب پر مرتکز تحریک تھی ۔ پروفیسر اصغر عباس نے یہ بھی کہا جہاں تک ہندستانی مسلمانوں کی سماجی اصلاح کے کام کا تعلق ہے سرسید اپنے زمانے میں بھی اور آج تک تنہا ایسے شخص تھے جنھوں نے جدید زمانے کی اہمیت کو پورے طور پر محسوس کیا اور مسلمانوں کی سماجی زندگی کے ہر پہلو کو ایسی اعلی بصیرت اور دانائی بخشی کہ جس کی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی ۔
صدارتی خطاب میں علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کے سابق وائس چانسلر جناب نسیم احمد نے کہا کہ سرسید اور ان کی تحریک کی معنویت آج بھی اتنی ہی جتنی کہ ان کے زمانے میں تھی ۔ضرورت ہے کہ ہم سرسید کے افکار اور ان کے عملی اقدامات کا تعارف کرائیں ۔ان کا شمار ہندستان کی عظیم شخصیات میں کیا جاتا ہے اور ان کی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے اور سرسید نے بے شمار موضوعات پر لکھا ۔ ان کی تحریریں آج بھی معنویت سے لبریز ہیں ۔جناب نسیم احمد صاحب نے کہا کہ سرسید عملی آدمی تھے اور انھوں نے جو سوچا کرکے دکھا دیا مگر آج صرف دعوے اور وعدے ہیں ۔
ابتدا میں خیر مقدمی کلمات ادا کرتے ہوئے دارالمصنفین شبلی اکیڈمی کے ڈائرکٹر پروفیسر اشتیاق احمد ظلی نے کہا کہ زندہ قومیں اپنے محسنین کو یاد رکھتی ہیں آج کا یہ سمینار قوم کے ایک عظیم محسن کی یاد میں ہے ۔انھوں نے کہا کہ سرسید کی غیر معمولی کوششیں کے باوجود آج ہم تعلیم کے میدان میں جہاں ہیں اگر سرسید نہ ہوتے تو ہم آج یہاں بھی نہ ہوتے ۔انھوں نے کہا کہ سرسید جدید علوم کے حامی ہونے کے ساتھ ساتھ قدیم علوم کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے ۔اس کی گواہ سرسید کی کتابیں ہیں کہ ان کا ماضی کا کس قدرگہرا رشتہ تھا ۔اس موقع پر انھوں نے کہا کہ سرسید اور شبلی دونوں ایک دوسرے کے قدر شناس تھے اور اس کی بے شمار مثالیں موجود ہیں ۔ 
افتتاحی اجلاس کے بعد مقالہ خوانی کا سلسلہ شروع ہوا اور مقالات کے پہلے اجلاس کی صدارت پروفیسر مظہر مہدی نے کی اور نظامت ڈاکٹر عمیر منظر نے انجام دی ۔پہلے اجلاس میں ڈاکٹر راہی فدائی (سرسید کے افکار اور جنوبی ہند ) ڈاکٹر محمد الیاس الاعظمی(سرسید اور اعظم گڑھ)ڈاکٹر عطا خورشید (کیا سیرت فریدیہ سرسید کی تصنیف ہے )ڈاکٹر عمیر منظر (مکاتیب سرسید کی عصری معنویت )ڈاکٹر خان احمد فاروق (سرسید کی تعلیم )ڈاکٹر جمشید احمد ندوی (افکار سرسید شذرات سرسید کی روشنی میں )ڈاکٹر محمد طاہر (اسلوب سرسید کا تنقیدی جائزہ )ڈاکٹر محمد شارق (سرسید اور اردو زبان و ادب )نے مقالے پڑھے ۔
اس موقع پر مختلف علمی وادبی شخصیات موجود تھیں بطور خاص جناب نوشاد انصاری،ڈاکٹر نیاز احمد داؤدی،ڈاکٹر افضال احمد ،مولانا محمد طاہر مدنی ،مولانا ابو البقا ندوی ،جناب اقبال بیگ صاحب وغیرہ موجود تھے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com