بزم اردو قطرکا سالانہ سیمینا را ور عالمی مشاعرہ


بزم اردو قطرکا سالانہ سیمینا را ور عالمی مشاعرہ
رپورٹ محمد طاہر جمیل۔ میڈیا سیکریٹری بزمِ اردو قطر دوحہ
سر سید احمدخان کی پیدائش کے دو سو سال مکمل ہونے پر اس سال دنیا بھر میں انکی دو سو یں سالگرہ کا جشن منایا جارہا ہے اسی مناسبت سے قطر کی قدیم ترین ادبی تنظیم جو ۱۹۵۹ ؁ء سے باقاعدگی سے ادبی تقریبات کا اہتمام کر رہی ہے اور اب تک ۱۳ سیمینار کراچکی ہے ۲۳ نو مبر ۲۰۱۷ ؁ء کو دوحہ کے ریڈیسن بلو ہوٹل کے خوبصورت وینس ہال میں چودھواں سیمنار ’’ محسن ملت سر سید احمدخان‘‘کے عنوان سے منعقد کیا ۔ سر سید احمد خان 17اکتوبر 1817 کو دہلی میں پیدا ہوئے اور1875 ء میں علیگڑھ میں ممڈن اینگلو اورینٹل کالج کی بنیاد رکھی جس نے بعد میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کا درجہ حاصل کیا جس کا شمار دنیا کی چند عظیم یونیورسٹیوں میں ہوتا ہے۔ سر سَیّد کی والدہ نہایت روشن خیال، ذی فہم اور نیک سیرت خاتون تھیں۔ان کی تربیت اور شائستگی کا سر سَیّد کی زندگی پر خاص اثر ہوا۔ 1869ء میں بنارس سے انگلستان روانہ ہوئے۔ 1876ء میں پنشن لے کر مستقل طور پر علی گڑھ میں رہنے لگے۔ 27 مارچ 1898ء میںآپ کا انتقال ہوا۔
بزم اردو کے جنرل سیکریٹری احمد اشفاق نے پروگرام کے پہلے حصہ کا با قاعدہ آ غاز کیا سب سے پہلے اسٹیج کو پُر رونق کرنے کے صدارت کیلئے بزم کے سرپرستِ اعلیٰ صبیح بخاری، مہمانِ خصوصی کی نشست کیلیے مہمان مقرر مشتاق احمد نوری مہمانان اعزازی،رانا محمد ایوب اورخالد داد خان اور ڈاکٹر آفتاب مجاہدجبکہ بزم کی نمائندگی کے لیے چیئرمین بزم شوکت علی نازکو زحمتِ نشست دی گئی۔ اسٹیج کے سج جانے کے بعد تقریب کا باقاعدہ آغاز قاری سیف الرحمن کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا ۔ سیمینار کی نظامت شوکت علی ناز نے کی اور استقبالیہ پیش کیا۔ بزمِ اردو کے صدر اعجاز حیدر نے بزم کا تعارف،بزم کے قیام سے آج تک ہونے والے پروگرامز، عہدیداران اور موجودہ انتظامیہ تک پیش کیا ، انکے بعدبزم کے فانسس سیکرٹری راقم اعظمی نے مشتاق احمد نوری کا تعارف ان کے فن اور شخصیت کے حوالہ سے پیش کیا۔ ہندوستان سے تشریف لائے ہوئے معروف محقق ، شاعر اور ادیب جناب مشتاق احمد نوری کا تعلق بھارت کی ریاست بہار سے ہے۔آپ کے تین ناول تلاش، بند آنکھوں کا سفر اور چھت پر ٹہری دھوپ کے علاوہ کئی تحقیقی مضامین شائع ہو چکے ہیں۔ شوکت علی ناز نے مشتاق احمد نوری کو سیمنار میں مقالہ پڑھنے کی دعوت دی ،مشتاق احمد نوری نے پہلے بزم کو خراجِ تحسین پیش کیا جس کے بعد انہوں نے اپنے مقالے میں سر سید احمد خان کی زندگی کے مختلف پہلو ءں اور ان کے کارناموں پر تفصیل سے روشنی ڈالی ، انہوں نے کہا کہ محسن ملت سر سید احمد خان نے اپنی پوری زندگی ہندوستان کے مسلمانوں کی تعلیم اور بہتری کیلئیے وقف کر دی تھی۔سر سید کا شمار ایسی عہد ساز شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنے فکر و عمل کے ذریعہ اپنی قوم میں ایسا انقلاب برپا کر دیا جس کے اثرات آج بھی محسوس کئے جاتے ہیں اور ان کے کارنامے صدیوں تک یاد رکھے جائیں گے۔سر سید اپنی ترقی پسندانہ سوچ اور اپنے کئی متنازعہ بیانات کی وجہ سے مسلسل تنقید کا بھی نشانہ بنتے رہے مقالے کے بعد سر پرست اعلی صبیح بخاری نے مہمان مقرر مشتاق احمد نوری اورسماجی خدمات کے صلہ میں سمیر چوپڑا کو لوحِ سپاش پیش کیا ۔ جناب مشتاق نوری کے مقالہ کے بعد بزم کے سر پر ستِ اعلیٰ جناب صبیح بخاری نے اپنا پراعتماد اور پر اثر صدارتی خطبہ پیش کیاصبیح بخاری نے اپنے خطاب میں بزم کے لئے اپنے اس عزم کا پھر اعادہ کیا کہ وہ اردو کے فروغ کیلئے کام کرتے رہیں گے ۔ انہوں نے اس قدر کامیاب پروگرام پیش کرنے پر بزمِ اردو قطر کے عہدیداران کو مبارکباد دی اور اپنی خوشی اور مسرت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ قطر اب اردو کا گڑھ بن چکا ہے اردو کے فروغ وترویج کے لئے جتنے طریقے جتنی صورتیں ہو سکتی ہیں عمل میں لائی جا رہی ہیں ۔
پروگرام کے دوسرے حصہ میں باری تھی عالمی مشاعرہ کی جسکی نظامت کے فرائض معروف شاعر اور بزم کے جنرل سیکریٹری احمد اشفاق نے اپنے مخصوص انداز سے ادا کئے، مشاعرہ کی صدارت جناب صبیح بخاری نے کی مہمان خصوصی جناب مشتاق احمد نوری جبکہ مہمانان اعزازی کی نشستیں حسن عبد الکریم چوگلے، حبیب النبی اور محترمہ ملن ارون کے حصہ میں آئیں اور بزم کی نمائندگی اعجاز حیدر نے کی ۔ احمد اشفاق ہر شاعر کو خوبصورت انداز سے شاعرکے اپنے اور اساتذہ کے اشعار سے اسٹیج پر آ نے کی دعوت د یتے اور شاعر کی عزت افزائی کرتے رہے اور دعوت کلام دیتے رہے۔
شعرائے کرام کے کلام سے منتخب اشعار 
ظریف مہر بلوچ 
؂ جاننے والے جان جاتے ہیں
کس کوکس بات سے شکایت ہے
راقم اعظمی 
؂ یوں تو غفلت میں بہت دور نکل جاؤ گے
وقت کے ساتھ چلر گے تو سنبھل جاؤ گے
طاہر جمیل 
؂ اشک تم آج ندامت کے بہا لو طاہرؔ 
کل کو ممکن ہے تجھے وقتٍ ندا مت نہ ملے
اطہر اعظمی
؂تیری جفاؤں سے ٹو ٹ کر بھی یہ حوصلہ ہے سنور رہا ہوں
تیرے ہی لہجہ میں بات کر کے میں تجھ کو کمزور کر رہا ہوں
اشفاق دیشمکھ 
؂میں گھر کے کا م کرتا ہوں بڑی ایمانداری
نہ جانے کیوں مری بیگم مجھے سرکار کہتی ہے
مظفر نایاب 
؂ نہیں رکھتے پرکھ کندن کی بے شک
خرا شوں کو ملمع کہنے والے
عادل مظفر پوری
؂ ایسا نہیں کے میں کوئی گمنام شخص ہوں
سب جا نتے ہیں مجھ کو میں ایک عام شخص ہوں
قیصر مسعود 
؂یہ بھی قربت کا ایک پہلو ہے
تُو جو رکھتا ہے فاصلہ میرے ساتھ
ڈاکٹر آفتاب مجاہد 
؂ کیا بتائیں ہم کیسے صبح و شا م کرتے ہیں
روز روز جینے کا انتظام کرتے ہیں
اعجاز حیدر 
؂ کہہ رہا تھا میں بات رُک رُک کر 
آپ بولے تھے کس روانی میں 
سید فہیم الدین
؂ تو بار بار یہ کیوں کروٹیں بدل رہا ہے؟
تو اُٹھ کے بیٹھ ’ بہانہ کو ئی بنا ‘ چلا جا
منصور اعظمی
لکیریں ایسی کبھی کوئی کھینچ سکتا نہیں
ہتھیلیوں پہ جو ربٍ قدیر کھینچتا ہے
احمد اشفاق 
؂مختلف سمتوں سے گھر پر انگلیاں اُٹھنے لگیں
فیصلے جب ہم سرٍ بازار کرنے لگے
ندیم ماہر 
؂صبر اور شُکر بنا یا ہے وطیرہ اپنا
ہم نے اللہ سے بس اپنی ضرورت مانگی
عزیز نبیل
؂خُدا بچائے کسی کی نطر نہ لگ جائے
ذرا سی عمر میں شہرت سے خوف آتا ہے
شوکت علی ناز
؂مجھ کو درٍ حضور پہ جا کے ملی اماں
خوش بخت مجھ سا کو ئی زما نے ہے کہاں
؂لازم ہے اُن ﷺکا نام بھی نامٍ خدا کے بعد
ذکرٍ نبی ﷺ نہ ہو تو مکمل نہیں اذاں
عتیق انظر 
؂چمک آنکھوں کی رخصت ہو رہی ہے
مرے خوابوں کی ہجرت ہو رہی ہے
؂جی نہیں لگتا من کی باتوں میں 
دھیان رہتا ہے دھن کی با توں میں 
مشتاق احمد نوری 
؂نیند آخر اُڑ گئی اب کروٹیں بدلا کرو
ہم نہ کہتے تھے سہانے خواب تم دیکھا کرو
؂تیرے آنے کی خبر نے مجھے بے چین رکھا
سو گیا چاند مگر نیند نہ آئی مجھ کو 
پروگرام کے آخر میں جناب صبیح بخاری اور جناب حسن چو گلے نے اپنے خیا لات کا اظہا ر کیا اور بزم کو کامیاب پروگرام کے انعقاد پر مبارکباد دی۔ 
بزم کے نائب صدر منصوراعظمی نے اظہار تشکر پیش کیا جس کے ساتھ یہ کامیاب تقریب اپنے اختتام کو پہنچی ۔ 
محمد طاہر جمیل۔ دوحہ قطر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com