سورج کا سفر‘‘ کی رونمائی اور کل پاکستان محفلِ مشاعرہ

رپورٹ : جاوید احمد جاویدؔ 
گزشتہ روز جناح ہال احمدپورشرقیہ میں دبیرالملک نقویؔ احمدپوریؒ کی 21ویں برسی عقیدت و احترام سے منائی گئی۔ اس موقع پر 1952ء سے 1996ء تک مختلف رسائل و جرائد میں شائع ہونے والے نقوی احمدپوریؒ کے نثری نگارشات پر مشتمل ساجد درانی قادری کی تحقیق وتدوین پرمبنی کتاب ’’سورج کا سفر‘‘ کی رونمائی اور کل پاکستان مشاعرہ کا انعقاد ’’بزمِ نقوی‘‘ احمدپورشرقیہ کی جانب سے کیا گیا۔تقریب کی صدارت معروف شعراء کرام کے پینل نے کیا جن میں میاں چنوں سے تشریف لائے ہوئے معروف شاعر عمران طاہرؔ واسطی ، بزمِ نقوی کے سرپرست تنویرِ سحرؔ گھوٹکی سے تشریف لائے ہوئے معروف شاعر اظہرؔ ادیب شامل تھے۔ جب کہ مہمانانِ خصوصی اسسٹینٹ کمیشنر مہر عبدالرؤف ، میاں مزمل ندیم وائس چیرمین بلدیہ احمدپورشرقیہ جب کہ دیگر مہمانانِ گرامی میں بہاول پور کے معروف شاعر عاصم ثقلین درانی ، خان پور سے مجاہد جتوئی ، مرزا حبیب ، احمدپورشرقیہ سے سید راشد جمال نقویؔ ،دلشاد ندیم ھاشمی ، رحیم یارخان سے شہزاد عاطر ، لاہور سے شہزاد اسلم راجہ ، اور رائیس عبدالکریم سعیدی تھے۔
جن اصحاب نے ’’سورج کے سفر‘‘ پر مقالے پڑھے انِ میں بہاول پور سے عاصم ؔ ثقلین ، محمدیونس خان ، خان پور سے مجاہد جتوئی ، مرزا حبیب ،ملتان سے عبدالباسط بھٹی شامل تھے۔
مشاعرے میں جن شعراء نے حصہ لیا اِن کے اسمائے گرامی اور نمونۂ کلام پیش ہے۔
گو وفا داری پہ مائل دل ہے اپنا ہر گھڑی
اتنا بھی سادہ نہیں ، ہر ایک فنکاری کرے
( سید عمران طاہر ؔ واسطی)
کسی کی آنکھ کا کاجل ہے گفتگو کرتا
کسی کی مانگ کے تارے اُداس رہتے ہیں
(تنویرِ سحرؔ )
باہر سے نہیں ٹوٹ کے اندر سے گِرا ہوں
اس بار میں اِک دستِ ہنرور سے گرا ہوں
(اظہرؔ ادیب)
دونوں جانب ہی کڑی دھوپ ہے اب کے ثقلینؔ 
سایہ اندر کہیں دیوار میں رکھا ہوا ہے
(عاصم ثقلینؔ )
اس شہرِ بے لباس میں اِک بالباس تھا
کل وہ بھی پتھروں کا نشانہ ٹھہر گیا
(سجادؔ راکب)
یہ میری دھول مٹی زندگانی
تمہاری بے دھیانی کا سفر ہے
(حافظ جمشید احمد جمشیدؔ 
ساجدؔ ہمارے ساتھ تھیں محفل کی گرمیاں
جب ہم تھے گرم لہجوں کا جنگل سفر میں تھا
(ساجد درانی قادری)
صدیوں سے میرے دل میں پڑی خاک اڑائی
اک یاد کے مجنوں نے بڑی خاک اڑائی
(شہزاد عاطرؔ )
شہر دی دوزخ دے وچ کیوں بل جلوں
جا آ جنگل ڈو واپس ول جلوں
(شاہد عالم شاہدؔ )
لوکاں نوں اے ماری جاندے
ہتھاں وچ سپارے لے کے
(علی رضا دانش)
کتنا سادہ ہے تو کہ یار سے
آج کے دور میں مشورہ چاہئیے
(سید عبداللہ انصرؔ )
ایک نظر میں دل موہ لینا
تو بھی جادوگر لگتا ہے
(شاہد یاسر)
مجھ سے پہلے تو اس نے دیکھا ہے
مُنہ دیکھائی بھی آئینہ سے لو
(امان اللہ لاڑ)
ھِ موسم مست پیار دا
یا میکوں سڈ یا آپ آ
(مختیار مستؔ )
چاند کا پہلو ملا ذرے سے اختر بن گیا
تھا مثالِ آبِ جو لیکن سمندر بن گیا
راقم الحروف (جاوید احمد جاویدؔ 
مشاعرہ کے اختتام پر معروف گلوکار اور احمدپورشرقیہ کے کونسلر محمدجمیل احمد پروانہ نے نقویؔ احمدپوری کا کلام ترنم سے سنایا جس سے تمام سامعین بہت محظوظ ہوئے۔
تقریب میں شہر بھر اور مضافات سے شعروسخن شناس ، ادیب ، دانشور اور سیاسی و سماجی شخصیات نے بھرپور شرکت کی۔ جن میں میاں محمد یونس ، محمدظفر تاج ، محمد قاسم قریشی ، جمیل احمد پروانہ ،مہر سعید احمد سعیدی ، ڈاکٹر میاں صدیق آثم ، شبیر احمد فراز ،محمد سلیم لکھویرا ، ایڈووکیٹ سید محمد ارشد بخاری ، ایڈووکیٹ سید واجد حسین بخاری ، رانا محمد سلیم ، محمد تاج علوی ، علی رضا کاظمی ، قربان حسین درانی ، سید منیر حسین بخاری ، محمد سلیم سعیدی ، عمران لاڑ ، نذر حسین اور دیگر نے شرکت کی۔
سٹیج سیکریٹری کے فرائض معروف دانشور ابوبکر انصاری نے انجام دیئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com