مدارس میں عصری تعلیم پر زور

مدارس میں عصری تعلیم پر زور
شہر مدنپلّی آندھرا پردیش بھارت:

آج کے بچّے مستقبل کے شہری ہوتے ہیں۔اچّھے اور قابل شہری بننے کے لئے انہیں بچپن ہی سے معیاری اور مستند تعلیم فراہم کرنی چاہئے۔اس کے لئے حکومت آندھراپردیش کء ایک اسکیموں اور نت نئے پروگراموں کو روبہ عمل لارہی ہے۔ہمہ گیر تعلیم کے فقدان کودورکرتیہوئے نئے سرے سے بچوں میں ہمہ جہتی نشوونما کے ضمن میں سرکاری سکول اور دینی مدارس میں بہ یک وقت یکساں تعلیمی آموزشی مواقع فراہم کئے جارہے ہیں۔گذشتہ چند سال سیسروسکشھا ابھیان آندھراپردیش بچوں کے موقوف میں جدید ٹکنالوجی، سائنسٹفک رجحان، قوّت تدبّر کے فروغ میں گامزن ہے۔ریاست میں موجود دینی مدارس میں زیر تعلیم طلبا کیلئےSUPPORT TO MADARASAاسکیم کے تحت ودیا والنٹیرز کا تقرر، دوپہر کے کھانا کا نظم، درسی کتابوں کی سربراہی، کمپیوٹرس وغیرہ کو مہیا کیاجارہاہے۔فی الحال ریاست گیر سطح پر 255مدارس سروسکشھا ابھیان کے اشتراک اور تعاون سے مستفید ہورہے ہیں۔موجودہ اسٹیٹ پراجکٹ ڈائرکٹر جناب جی۔سرینیواس آئی۔اے۔ ایس اور مائنورٹی کنسلٹنٹ جناب ڈاکٹر ناصر صاحب کے خدمات قابل ستائش ہیں۔سریکاکلم اور وجیہ نگرم اضلاع کے سوا مابقی 11اضلاع میں تقریباً اٹھارہ ہزار طلباوطالبات کے لئے 630ودیا والنٹیرز بحسن خوبی اپنے فرض منصبی سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔
جاریہ تعلیمی سال18 ۔2017کے تحت گذشتہ ماہ ہی دینی مدارس کو عصری تعلیم سے مستحکم کرنے کے لئے ریاست کے سطح پر سہ روزہ اردو مدرسہ والنٹیرز ماڈیول کی ترتیب وتدین ورکشاپ منعقد کیا گیاتھا۔جس میں ریاست سے کء ایک ماہر مضمون اساتذہ شامل تھے۔مزید برآں اضلاع کے سطح پر اس ماہ نومبر کے 25۔21تواریخ میں پانچ روزہ تربیتی پرگرام برائے مدرسہ ودیا والنٹیرز کا اہتمام و انصرام کیا گیا ہے۔سروسکشھا ابھیان کے شعبہ اردو سے وابستہ ریاست کے پیڈگاجی اسسٹنٹ افسر جناب شیخ عبدالغنی کونینؔ بحیثیت اسٹیٹ ابڑرور مختلف اضلاع کا معائنہ کر نے کے بعداس بات کا اظہار کیا کہ بروقت وبرمحل تربیتی پروگرام چل رہا ہے۔ساتھ ہی ساحلی اضلاع مشرقی ومغربی گوداوری، کرشنا، پرکاشم، وشاکھاپٹنم میں اردو زبان کی تخم ریزی وآبیاری اور دفاع و بقاء شدت سے ضروری ہے۔جبکہ رائلسیما علاقے میں اردو زبان عروج کے بجائے زوال کی جانب کوچ کررہی ہے۔لہذا ہر محبّ اردو کو چاہئے کہ آنے والی نسلوں کے دسترس میں اردوزبان کی ترسیل کے لئے عملی کاوشوں کو بروئے کار لے آیءں۔۔شہر مدنپلی میں منعقد شدہ ٹریننگ سنٹر کا آپ نے معائینہ کیا اور بتلایا کہ درس وتدریس کے دوران کمرہ جماعتوں کا نظم ایسا ہوجو بچوں میں تشویق کوابھاریں۔انکی فطری صلاحیتوں پر کھرااترے، یہی نہیں بلکہ بچوں کا اپنی مرضی سے بلا خوف وخطر، شراکت داری، انجان طورپر کچھ نہ کچھ سیکھنا ہی بچوں کی عین فطرت ہوتی ہے۔مزید آپ نے بتلایا کہ شدت کے ساتھ بچوں کے حقوق کی پامالی ہورہی ہے۔والدین، سرپرست، اساتذہ، محکمہ تعلیم سے وابستہ افسران، عوامی نمائندے، سیاسی لیڈر پر زمہ داری عائد ہے کہ وہ بچوں کو ان کے اپنے حقوق سے ہمکنار کروایءں اس کے بجائے بالکل درکنار ہیں۔قانون حق تعلیم جسکی تلخیص اور تمہید بچوں کے حقوق کی ترجمانی ہے۔چیدا چیدا کلیدی نکات پر روشنی ڈالی۔درسی کتب پر کماحقہ آگہی، تعلیمی معیارات کاحصول، گریڈننگ اور امتحانی نظام کے طریقہ کار، سوچھ بھارت۔سوچھ ودیالیہ، ویڑن ہریتاندھراپردیش، تعلیم صحت وعامہ وغیرہ نکات پر طائرانہ روشنی ڈالی۔

ضلع چتّور کے اکیڈمک مانٹرنگ افسر مع کورس ڈائرکٹرجناب محمدخاں نے بتلایا کہ مذہبی تعلیم تمام علوم کاسرچشمہ ہے۔اسکے ساتھ ساتھ عصری علوم سے واقفیت نء چیالنجوں کو تسخیر کرنے میں ممد ومعاون ثابت ہوتے ہیں۔اردوزبان کی تدریس، منصوبہ بندی، معلم کی پیشہ وارانہ تیاری، متعلم کی آمادگی، جانچ کی حکمت عملی اور نمونہ پرچہ سوالات کے بارے میں والنٹیرز کو مفید معلومات سے آراستہ کئے۔اس تربیتی پروگرام میں بحیثیت ضلعی ریسورس پرسنس جناب حفظ الرّحمن، جناب شاہ نواز، جناب اسدالّلہ شاہ، جناب، صادق علی شاہ، جناب الحاج شعیب احمد، جناب صادق پاشاہ، جناب فیاض احمد، جناب غضنفرعلی، جناب اکبرعلی، جناب شفیع الرّحمن جناب رگھوناتھ وغیرہ سیشن واری ذمہ داریوں کو بحسن خوبی نبھارہے ہیں۔

****
رپورٹ از
از۔۔ شیخ عبدالغنی کونینؔ محلوی
سروسکشھا ابھیان، آندھراپردیش
امراوتی۔وجئے واڑا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com