پھولوں کو گلستاں میں کوئی خار نہ سمجھے ہم اہلِ وفا ہیں کوئی غدار نہ سمجھے

پھولوں کو گلستاں میں کوئی خار نہ سمجھے ہم اہلِ وفا ہیں کوئی غدار نہ سمجھے
بزم غزل کی طرف سے شاندار آن لائن مشاعرہ کا انعقاد

پٹنہ25 اگست(نمائندہ)آن لائن مشاعروں کے لیے دنیا بھر میں مقبول واٹس ایپ گروپ بزم غزل کی طرف سے ایک شاندار آن لائن بین الاقوامی مشاعرہ کا اہتمام کیا گیا۔ مشاعرہ کی صدارت قطر میں مقیم معروف شاعر اور بز م اردو قطر کے جنرل سکریٹری احمد اشفاق نے فرمائی جبکہ نظامت کا فریضہ نوجوان شاعر ایم آر چشتی اور کامران غنی صبا نے مشترکہ طور پر انجام دیا۔ دیر رات تک چلے اس مشاعرہ میں جن شعرائے کرام نے اپنے کلام سے نوازا ان میں صدر اور ناظمین مشاعرہ کے علاوہ ڈاکٹر واحد نظیر، مرغوب اثر فاطمی،نیاز نذر فاطمی،ڈاکٹر منصور خوشتر،نور جمشیدپوری، اصغر شمیم، منصور قاسمی،عظیم انصاری،نصر بلخی، جہانگیر نایاب، جمیل ارشد خان، ایم رضا مفتی، انعام عازمی،نشاط فاطمہ، ایم عالم صدیقی، حسن امام قاسمی،تحسین روزی،سید محمد جلیل، آصف اعظم، امام قاسم ساقی، قمر عالم قمر اور شیخ محمد ہاشم کے نام قابل ذکر ہیں۔ صدر مشاعرہ احمد اشفاق نے مشاعرہ کی کامیابی پر منتظمین بزم غزل اور شعرا و شاعرات کو مبارکباد پیش کی۔ ڈاکٹر منصور خوشتر کے شکریہ کے ساتھ مشاعرہ کے اختتام کا اعلان کیا گیا۔ مشاعرہ میں پیش کئے گئے کلام کا منتخب حصہ پیش خدمت ہے:
احمد اشفاق
جو وفا اور بے وفائی سے ہیں یکسر نابلد
ہے تعجب کہ وہی غدار طے کرنے لگے
مرغوب اثر فاطمی
کس صورت نقاشِ ازل نے
خود کو طشت از بام کیا ہے
نیاز نذر فاطمی
آنکھ میں، دل میں یا پھر میرے جگر میں رہیے
سارے گھر آپ کے گھر ہیں کسی گھر میں رہیے
سید محمد جلیل
روزِ روشن کی طرح رات منور ہوگی
دن یہ تاریکی سے بھر جائے گا سوچا بھی نہ تھا
عظیم انصاری
فکرو نظر کا نور نہ درد جگر کی لو
افسوس ہو گیا کفِ ایمان بے چراغ
اصغر شمیم
جو مکیں تھے شہر کے سب اپنے گھر میں چھپ گئے
کیا کوئی فتنہ اٹھا ہے، کچھ نہ کچھ تو بات ہے
نصر بلخی
منافقت کو بنایا ہے اپنا طرز عمل
مری طر ف سے کسی دل پہ کیوں غبار آئے
ایم آر چشتی
کبھی فرصت ملے تو اپنے دل سے پوچھ لینا تم
تمہارے بعد میرے زندگی کیا زندگی ہوگی
ڈاکٹر منصور خوشتر
وضع داری دوستوں سے ہو سکی اتنی نہیں
دشمنوں میں رات دن ہوتا رہا چرچا مرا
کامران غنی صبا
چلو ہوش آیا سبھی کچھ لٹا کر
کہ اس عشق میں تو خسارہ بہت ہے
نور جمشیدپوری
متحد ہو جاؤ اب انسانیت خطرے میں ہے
اب بھیانک دور کا ہر سو ہوا آغاز ہے
منصور قاسمی
پھولوں کو گلستاں میں کوئی خار نہ سمجھے
ہم اہلِ وفا ہیں کوئی غدار نہ سمجھے
جہانگیر نایاب
عادت سی پڑ گئی ہے جو تنقیص کی مجھے
کیڑے نکالتا ہوں خود اپنے وجود میں
تحسین روزی
امیر شہر کا فرمان ہے خموش رہو
مگر یہ صبر کسی روز پھل بھی لائے گا
ایم رضا مفتی
کوئی کس کا یہاں منتظر رہا ہوگا
سڑک کنارے پرانا مزار سا کچھ ہے
انعام عازمی

جمیل ارشد خان
ارشد مریض عشق کا بے کار ہے علاج
وہ کیا جیے گا جس کے نہ دل میں امنگ ہو
ایم عالم صدیقی
ہوتا بلندیوں پہ بھی اس کا سفر مگر
قطرے کو تھا غرور سمندر سے کٹ گیا
نشاط فاطمہ
کچھ رواداریاں رہیں قائم
اتنا اچھا نہیں برا ہونا
حسن امام قاسمی
مفلسی میں ہائے رے یہ بے بسی
دور ہم سے دوست سارے ہو گئے
شاہنواز اختر
اگر چہ لوگ وفاؤں کی بات کرتے ہیں
مرا ضمیر یہ کہتا ہے اعتبار نہ کر
آصف اعظم
ہر جانب ویرانی کیوں
خون سے سستا پانی کیوں
امام قاسم ساقی
شب کی چادر پر سجانے کے لیے اک کہکشاں
جنگلوں سے جنگنوؤں کی اک قطار آنے کو ہے
شیخ محمد ہاشم
ہر اک سوال کا ممکن نہیں جواب ہاشم
سوال خود بھی بہت کچھ جواب دیتا ہے
قمر عالم قمر
ہمارے ہاتھ میں سچ کا عَلَم تو بولے گا
زبان کاٹ بھی دوگے قلم تو بولے گا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com