افتخار راغبؔ کے تیسرے مجموعۂ کلام ’’غزل درخت‘‘ کی تقریبِ رونمائی

لفظوں میں احساس پرونے اور خیالات کو چہرہ عطا کرنے والے خوش فکر شاعر جناب افتخار راغبؔ کے تیسرے مجموعۂ کلام ’غزل درخت‘ کی تقریبِ رونمائی زیرِ اہتمام گزرگاہِ خیال فورم مورخہ ۷ فروری ۲۰۱۴ء ؁ بروز جمعہ کو ساڑھے آٹھ بجے شب علّامہ ابن حجر لائبریری بن عمران ، دوحہ، کے وسیع ہال میں منعقد ہوئی۔ اس تقریب کی صدارت قطر کی معروف ادب نواز و علم دوست شخصیت جناب محمد صبیح بخاری نے کی جب کہ جامعہ قطر میں لسانیات کے پروفیسر جناب رضوان احمد نے مہمانِ خصوصی کی نشست کو رونق بخشی۔ نظامت کے فرائض معروف شاعر جناب فرتاش سیّد نے انتہائی حسن و خوبی کے ساتھ انجام دیے۔ تقریب کا آغاز مولانا فیاض احمد فلاحی صاحب کی بابرکت تلاوتِ کلام اللہ سے ہوا جب کہ عالمی شہرت یافتہ شاعر جناب جلیلؔ احمد نظامی نے اپنی دل کش آواز میں ایک نعت پیش کی۔20140207_233539’غزل درخت‘ سے پہلے افتخار راغبؔ کے دو مجموعۂ غزلیات ۲۰۰۴ء ؁ میں ’لفظوں میں احساس‘ اور ۲۰۰۷ء ؁ میں ’خیال چہرہ‘ کے نام سے شائع ہو کر دنیائے ادب میں داد و تحسین حاصل کر چکے ہیں۔ ۱۸۴ صفحات پر مشتمل اس کتاب میں کل ۷۲ غزلیں شامل ہیں جسے عرشیہ پبلی کیشنز دہلی نے خوب صورت انداز میں شائع کیا ہے۔ سرِ ورق کے اندرونی حصے اور پسِ ورق پر مندرجہ ذیل رباعی کے علاوہ معروف شاعر و ادیب ڈاکٹر ظفرؔ کمالی کی گیارہ رباعیاں اعتراف کے طور پر شامل ہیں۔
ہو جائیں جو ہر دل کی طلب ایسے لوگ
کثرت سے یہاں ہوں گے کب ایسے لوگ
راغبؔ کو ظفرؔ آپ غنیمت سمجھیں
ڈھونڈے سے نہیں ملتے اب ایسے لوگ

عصرِ حاضر کے میرؔ سمجھے جانے والے معروف شاعر جناب کلیم احمد عاجرؔ کے علاوہ پروفیسر احمد سجّاد ، ڈاکٹر فیصل حنیف اور ڈاکٹر مولا بخش کے گراں قدر مضامین سے یہ کتاب مزید پر وقار ہو گئی ہے۔ ڈاکٹر فیصل حنیف کے انگریزی زبان میں تحریر کردہ مضمون سے چند اقتباسات نوجوان شاعر رویسؔ ممتاز نے پیش کیے۔ جب کہ اردو میں لکھے مضمون سے ڈاکٹرفیصل حنیف نے خود پر اثر انداز میں چند اقتباس پیش کر کے داد و تحسین وصول کی۔ آپ نے لکھا ہے کہ ’’ اگر کسی شعر میں سادگی، سلاست، اصلیت اور واقعیت، جوش، جدت، اثر پذیری، آفاقیت، اسلوب ہو وہ یقینی طور پر اچھا شعر ہوگا۔ ان خوبیوں کی عدم موجودگی میں شعر کی اہمیت اور خوبصورتی کم ہو جائے گی۔ان خوبیوں کو پیمانہ بنا کر، راغبؔ کے کلام کو پرکھا جائے تو راغبؔ کی کتاب’غزل درخت‘ میں سرو سے سر سبز مصرعے اور گل سے رنگیں تر شعر کثیر تعداد میں ملیں گے۔’غزل درخت‘سے پہلے ان کی دو کتابیں’خیال چہرہ‘ اور’لفظوں میں احساس‘ منظر عام پر آ چکی ہیں۔ راغبؔ کے کلام میں، ان کی زبان آوری اور معجز بیانی کی بدولت آج کے زبان و ادب کے انحطاط کے دور میں زبانِ اردو کی درخشانی صورتِ مہرِ نیم روز کھل کر سامنے آتی ہے۔ افتخار راغبؔ دبستانِ قطر کے نمائندہ شاعر اور زبان و بیان کے اعتبار سے اپنے اکثر ہم عصر شعراء کے لیے قابلِ تقلید ہیں ۔ راغبؔ کا شعر بہت ہی نکھرا اور رواں ہوتا ہے۔ ان کا رنگِ شعر ایک ایسی خاص ادا رکھتا ہے کہ وہ اِس دبستان میں تنہا معلوم ہوتے ہیں۔ شاعری میں زبان و بیان پر انھیں قدرت ہے اور شعری عیوب و محاسن پر گہری نظر۔ عروض کے ماہر ہیں۔ راغبؔ کے کلام میں اچھا شعر ڈھونڈنا نہیں پڑتا۔‘‘ P1030535کتاب میں موجود کلیم احمد عاجزؔ صاحب کے مضمون (اَیں۔۔۔ کس کی آواز ہے یہ؟ ) سے چند اقتباسات معروف شاعرا ور ادب پرور شخصیت جناب محمد رفیق شادؔ اکولوی نے مسکراہٹ بکھیرتے ہوئے اپنے منفرد انداز میں پیش کیے۔کلیم عاجزؔ صاحب نے افتخار راغبؔ کے متعلق لکھا ہے کہ ’’ اکیسویں صدی کے نقارہ خانے میں یہ طوطی کی آواز کیسے سما گئی؟ یہ ہمت اسے کیسے ہوئی، کون سا اعتماد اسے اس دور میں سہارا دے رہا ہے۔ میں نے سمجھا کہ یہ سہارا خارجی نہیں داخلی ہے۔ یہ اعتماد اس کی روح میں مسند نشیں ہے کہ اردو کا یہ اصلی لہجہ اور تیور ہے یہی دوامی ہے یہی جاودانی ہے۔ چالو لہجہ کرتب ہے پینترہ ہے وقتی ہے اور ہنگامی ہے۔ مگر یہ لہجہ اور تیور بہت مشکل ہے۔ اس کے لیے کلاسیکل دور کے مطالعوں میں ڈوبنا پڑتا ہے اور ڈوب کر نکلنا پڑتا ہے۔ ڈوبنا کون چاہتا ہے سطح پر تیرنا سب چاہتے ہیں۔ لیکن تیرنے سے گوہر کہاں ملتا ہے۔‘‘ آپ نے آگے تحریر فرمایا ہے کہ ’’ افتخار راغبؔ کے متعلق میں ایک بات اور کہہ دوں۔ وہ بات اب شاید نو جوانوں میں کسی پر صادق آتی ہو۔ وہ یہ کہ ان میں فطری جوہرِ شاعری ہے۔ وہ شاعری پر محنت کریں نہ کریں اگر شغل ہی جاری رکھیں گے تو ان کے سامنے کشادہ اور افتادہ راہیں خود بخود نمایاں ہوتی رہیں گی۔ انھیں فطری طور پر زبان و بیان اور اسلوب پر گرفت نظر آتی ہے۔ یہ بہت خوش نصیبی کی بات ہے ۔ وہ ہمیں کم سخن نظر آئے۔ کم سخنی کی ایک اہم شناخت اس بات کی ہے کہ وہ بامحل باتوں پر قابو دے دیتی ہے بے محل باتیں اس سے چھنٹ جاتی ہیں۔ کم سخنی باتوں کواندر اندر تولتی پرکھتی چھانٹی رہتی ہے اور اپنے اندر کی فنّی بھٹّی میں ڈالتی رہتی ہے۔ اسے پکاتی اور پختہ بناتی رہتی ہے۔ جب محل اور موقع آتا ہے تو بول دیتی ہے اور وہ بات باوضع با محل تراشیدہ اور سڈول بن کر سامنے آجاتی ہے۔‘‘
اسی کتاب میں پروفیسر احمد سجّاد نے لکھا ہے کہ ’’ فطرت میں جو سادگی و بے ریائی کے ساتھ حسن آفرینی ہوتی ہے وہی خصوصیات ایک فطری شاعر کے یہاں پائی جاتی ہیں،افتخار راغب ؔ کی خوش نصیبی کہ وہ ان خوبیوں سے متصف ہیں۔ کبھی کبھی تو یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ ان کی پوری شاعری سہلِ ممتنع کی شاعری ہے۔ صاف، سادہ، سلیس و فصیح مگر معنی خیز اور فکر انگیز۔ اس لیے بہت آسان اور دلکش ہوتے ہوئے بھی جملہ تہداریوں پر عبور حاصل کرنا مشکل ہے۔ ہوا اور پانی کس قدر سہل الحصول ہیں مگر انہیں اپنی مٹھی میں قابو کرنا ناممکن ہوتا ہے یہی حال راغبؔ کی شاعری کا ہے کہ ہر شعر دل کو چھو تو لیتا ہے مگر اس کی چوپہل کیفیات کو قابو میں کرنا مشکل ہے۔‘‘ 

نہ دل کشی کی تمنا نہ دلبری درکار
غزل درخت کو ہر دم ہے تازگی درکار

مذکورہ بالا شعر پر اظہارِ خیال فرماتے ڈاکٹر مولا بخش نے لکھا ہے کہ ’’ پہلے شعر میں ’غزل درخت‘ کی ترکیب آئی ہے جس کی تازگی کی تمنّا کی گئی ہے۔کیا غزل کا استعارہ درخت ہے یا درخت کا استعارہ غزل۔کہیں یہ کہنے کی کوشش تو نہیں کی گئی ہے کہ غزل بحیثیت ایک فن انسانی سماج کا ایک اجتماعی شعور ہے اور درخت پوری کائنات میں انسان کا ازلی دوست۔یعنی دونوں ایک ہی ہیں۔شاید یہی وجہ ہے کہ افتخار نے اپنی شاعری کے اس مجموعے کا عنوان ہی’ غزل درخت ‘رکھا ہے۔‘‘ 
تقریب میں قطر کے معروف ادب دوست شخصیت سیّد عبد الحئی صاحب نے پہلی بار تنقیدی مضموں پیش کیا جسے حاضرین نے خوب سراہا۔ آپ نے فرمایا کہ ’’ میں نے حسبِ استطاعت اس کتاب کا مطالعہ کیا اور تمام اچھے اشعار پر نشان لگا دیے لیکن جلد ہی مجھے احساس ہوا کہ کاش میں ایسے اشعار پر نشان لگاتا جو کم پسند آئے۔ اس طرح نشانات کی بھرمار سے کتاب بچ جاتی۔ ‘‘ آپ نے آگے فرمایا کہ کلیم عاجزؔ صاحب کی پذیرائی افتخار راغبؔ کے لیے سند کا درجہ رکھتی ہے۔ آپ نے یہ بھی کہا کہ افتخار راغبؔ میرے محبوب ترین شاعروں میں سے ایک ہیں۔ آپ نے اپنی پسند کے متعدد اشعار پیش کیے اور ان پر تبصرہ کیا اور سامعین نے بھی خوب داو و تحسین سے نوازا۔ قطر میں معروف خوش آواز گلوکار جناب ابوالخیر اور جناب محمد غفران صدیقی نے اپنی دل کش آوازوں میں راغبؔ کی دو منتخب غزلیں پیش کر کے سماں باندھ دیے جن کے مطلعے یوں ہیں۔

ترکِ تعلقات نہیں چاہتا تھا میں
غم سے ترے نجات نہیں چاہتا تھا میں
کس سے پوچھوں کسے پتا ہے یہ
پیار ہے یا فقط ادا ہے یہ

آیئڈیل انڈین اسکول میں استاد کے فرائض انجام دینے والے جناب مصطفےٰ مزمّل نے بھی اپنا مقالہ پیش فرمایا ۔ آپ نے’’غزل درخت‘‘ میں سائنسی مضامین پر کہے گئے اشعار کی طرف توجہ مبذول کرائی اور ان کی بھر پور وضاحت فرمائی جن میں مندرجہ ذیل اشعار بھی شامل تھے۔ 
ممکن نہیں مصافحہ پر ہیں تو روبرو 
اِک آئینے میں آ گئی دنیا سمٹ کے آج
تیزاب کی آمیزش یا زہر ہے پانی میں
مرجھانے لگے پودے کیوں عہدِ جوانی میں
آب و ہوا کی آنکھوں میں کیوں اشک آ گئے
شاید کوئی درخت ہرا کاٹنے لگا
پئے تندرستی و آسودگی
شجر کو ہے درکار گھر دھوپ کا

قطر کے معروف شاعر جناب امجد علی سرورؔ نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے فرمایا کہ جس شاعر کے اندر اپنے اشعار کو کاٹنے کا حوصلہ پیدا ہو جائے اسے اچھا شاعر ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ راغبؔ اپنی غزلوں میں سے اشعار کو کاٹنے میں ذرا بھی نہیں جھجکتے۔ آپ نے فرمایا کہ افتخار راغب ؔ اپنے قول و فعل سے ہمیشہ اسلامی اقدار کی نمائندگی کرتے ہیں اور اصولوں پر مضبوطی سے جمے رہتے ہیں۔قطر کے ایک اور معروف شاعر جناب محمد ممتاز راشدؔ نے کتاب کی مختلف خوبیوں کو اجاگر کرتے ہوئے فرمایا کہ’’ یہ کتاب متعدد خوبیوں کی حامل ہے اچھی شاعری کا اچھا تناسب، معیاری کاغذ، معیاری طباعت، کتابت کی غلطیوں سے تقریباً مبرّا۔ مجموعی طور پر بہت کامیاب کتاب ہے۔‘‘
مہمانِ خصوصی جناب ڈاکٹر رضوان احمد نے اپنے مقالے میں فرمایا کہ میں نے اس کتاب کا بہت غور سے مطالعہ کیا ہے۔ میری نظر میں اس کتاب کی اہمیت اس لیے بھی بہت زیادہ ہے کہ راغبؔ صاحب نے اس چھوٹی سی کتاب میں زندگی کے بیش تر پہلوؤں کا جو نمونہ پیش کیا ہے وہ بہت اہم ہے۔ آپ نے کشمکشِ انتخاب ، آفاقی اقدار، انسانی رشتوں کی باریکی اور عشق و محبت کے عنوانات کے تحت گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے مندرجہ ذیل اشعار کے علاوہ متعدد اشعار پیش کیے اور ان کی خوبیوں کی طرف اشارہ کیا۔ 

ساتھ رہنا بھی غیر ممکن ہے
رہ بھی سکتے تِرے بغیر نہیں
ایک وحشت ہے کہ جینے نہیں دیتی راغبؔ 
اِک محبت ہے کہ جینے کی دعا کرتی ہے

منزل کی جستجو میں ہے اِک سمت کارواں
مطلب پرست قافلہ سالار اِک طرف
جب دل سے نکلتا ہی نہیں خوف تو راغبؔ 
کیا گردن و پا میں پڑی زنجیر نکالوں

’تم‘ سے مجھ کو ’آپ‘ تم کہنے لگو
دوستی وہ دن نہ دکھلائے کبھی

ترا مشورہ ہے بجا مگر میں رکھوں گا اپنا خیال کیا
مِرا دل کسی پہ ہے آگیا مِرا حال ہوگا بحال کیا

خوش فکر شاعر جناب مظفر نایابؔ نے اپنے مندرجہ ذیل چار مصرعے افتخار راغبؔ کی نذرکیے۔ اس کے بعد انھوں نے صدرِ تقریب جناب محمد صبیح بخاری کی طبیعت کی ناسازی کے سبب ان کا بہت ہی پُر مغز مضمون اپنے منفرد انداز میں پیش کیا۔
یہ ’غزل درخت‘ ان کی کاوشوں کا ثمرہ ہے
سہلِ ممتنع جن کا قیمتی اثاثہ ہے
افتخار راغبؔ کو جانتے ہیں سب نایابؔ 
آسمانِ اردو کا خاص اِک ستارہ ہے

صدرِ محترم جناب صبیح بخاری نے اپنے مضمون میں شعر اور غزل کے تعلق سے بہت ہی علمی تمہیدی گفتگو سے آغاز کرتے ہوئے اشعار کے اجزائے ترکیبی اور ان کے باہمی ربط و تعلق کو بنیاد بنا کراپنی بات کو آگے بڑھایا۔ اس ضمن میں مرزا سوداؔ ، میر تقی میرؔ ،ابراہیم ذوقؔ اور جگرؔ مراد آبادی کے اشعار پیش کرنے کے بعد آپ نے فرمایا ہے کہ ’’میں نے راغبؔ کی ’غزل درخت‘ کتاب سے ایسے ہی چند اشعار اکٹھا کیے ہیں جن میں ایک یا دو تین الفاظ کی مدد سے شعر کے مفہوم ، معنویت ، شعریت ، کیفیت اور نشریت کی شدت کو بڑھایا ہے تو کہیں معتدل کیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں میں نے راغبؔ کی شاعری میں moderetors کے استعمال کا تجزیہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ ‘‘ آپ نے مندرجہ ذیل اشعار کے علاوہ کئی اشعار پیش کیے اور ان کے moderetors کی طرف اشارہ کیا ۔
اندازِ ستم اُن کا نہایت ہی الگ ہے
گزری ہے جو دل پر وہ قیامت ہی الگ ہے
ختم وابستگی نہ کر مجھ سے
میں ہوں دشمن تو بد دعا ہی دے

آپ نے مزید فرمایا کہ ’غزل درخت‘ میں اس طرح کے چونکا دینے والے اشعار جن میں وجد آفرینی اور الفاظ میں خیالات کی باریکی سموئی ہوئی ہے ، کی بہتات ہے جس کو اہلِ نظر یقیناً سراہیں گے۔
صاحبِ کتاب جناب افتخار راغبؔ نے اظہار خیال کرتے ہوئے گفتگوکرنے والے اور مقالہ پیش کرنے والے تمام مخلصین کا شکریہ ادا کیا اور اس شاندار تقریب کے انعقاد کے لیے گزرگاہِ خیال فورم کے تمام ذمہ داران کا بھی شکریہ ادا کیا۔ مہمانِ خصوصی ڈاکٹر رضوان احمد نے اپنی گفتگو میں فرمایا کہ ڈھائی تین گھنٹے سے یہاں ایک ہی کتاب پر مختلف زاویوں سے لوگ گفتگو کر رہے ہیں اور بڑی تعداد میں سامعین پوری یکسوئی اور انہماک کے ساتھ ہمہ تن گوش ہیں یہ بہت بڑی بات ہے اور کتاب کی کامیابی کی دلیل ہے۔ آپ نے افتخار راغبؔ کو اس کامیابی کے لیے مبارک باد پیش کی۔ اپنے صدارتی خطبے میں جناب محمدصبیح بخاری نے بھی افتخار راغبؔ کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے گزرگاہِ خیال فورم کا بھی شکریہ ادا کیا۔
20140207_213358آخر میں جناب شادؔ اکولوی نے گزرگاہِ خیال فورم کی جانب سے اظہارِ تشکر کرتے ہوئے تقریب کے صدرِ محترم جناب محمد صبیح بخاری ، مہمانِ خصوصی جناب پروفیسر رضوان احمد ، صاحبِ کتاب جناب افتخار راغب ؔ ، ناظمِ تقریب جناب فرتاشؔ سید اور تمام مضمون نگاران کے علاوہ تمام حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔ اس کے بعد لذتِ کام و دہن اور گروپ فوٹو کے ساتھ تقریب اختتام پذیر ہوئی۔ دوحہ میں موجود تمام اہم شعرا و ادبا اور عاشقانِ اردو نے تقریب میں شرکت کی جن میں چند نمایاں نام مندرجہ ذیل ہیں: جناب عتیق انظر ، جناب ڈاکٹر عطاء الرحمن ندوی ، جناب مرزا اطہر بیگ ، جناب اشرف صدیقی، جناب شوکت علی نازؔ ، جناب طاہر جمیل ، جناب علی عمران ، جناب طاہر گلشن آبادی ، جناب منصور اعظمی ، جناب فیروز خان، جناب غلام سرور ، جناب فاروق احمد ، جناب شمس الدین رحیمی ، جناب شجاعت علی ، جناب علیم اختر ، جناب عبدالمجید ، جناب شمس الحق آزاد ، جناب فیض الرحمن اقدس ، جناب محمد غوث ، جناب غلام نور ، جناب افسر عاسمی، جناب ذاکر حسین ، جناب ذوالفقار ابراہیم ، جناب عزیزالحق ، جناب محمد اجمعین ، جناب محمد ایوب اور جناب امام حسین ۔

رپورٹ : گزرگاہِ خیال فورم ، دوحہ ، قطر

3 comments

  1. ادب کافروغ اور ادیب کی فلاح و بہبود کے بارے میں چند تجاویز
    تحریر
    علامہ محمد یوسف جبریل
    اگر آپ اپنے ملک میں ادب کا فروغ چاہتے ہیں۔ تو ادیب کی فلاح و بہبود کا خیال کریں ۔ ادب کا فروغ اتنا ہی ہو گا جتنا کہ لوگوں کے دلوں میں ادب کا شوق ہو گا۔ پرانے زمانوں میں لوگوں اور ادب، لوگوںاور ادیب کے مابین جو تعلق تھا، اس کا تجزیہ کیجئے اور اس کے مطابق لائحہ عمل تیار کیجئے ۔ جس مال کی منڈی میں کھپت ہوتی ہے ،وہی مال لایا جاتا ہے ۔ ادب کس قسم کا ہونا چاہیئے؟ تھیٹر میں جگت بازی اور فخش گوئی بھی ادب ہے اور سعدی ،اقبال اور اکبر الہ آبادی کاکلام بھی ادب ہے ۔ یہ ادیب کا کام ہے کہ وہ اپنے لئے موضوع کاانتخاب کرے ۔ ادب صرف دنیاوی ضروریات کے حصول کا ذریعہ نہیں، اس میں پیغام اور پیغمبری اصلاح بھی ہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ موضوع شاعر اور ادیب کے اندر سے پیدا ہوتا ہے ،تاہم حالات معاشرہ اور مانگ بھی واضح طور پر موضوع کو متاثر کرتے ہیں ۔ موضوع کے متعلق علامہ اقبال کو سنیئے ۔ نظم کا موضوع ہے ۔ ’’ عبدالقادر کے نام‘‘ ۔
    اٹھ کہ ظلمت ہوئی پیدا افق خاور پر
    بزم میں شعلہ نوائی سے اجالا کردیں
    ایک فریاد ہے مانند سپند اپنی بساط
    اسی ہنگامے سے محفل تہ و بالا کر دیں
    اہل محفل کو دکھادیں اثر صیقل عشق
    سنگ امروز کو آئینہ فردا کر دیں
    جلوہ یوسف گم گشتہ دکھا کر ان کو
    تپش آمادہ تر از خون زلیخا کر دیں
    اس چمن کو سبق آئین نمو کا دے کر
    قطرۂ شبنم بے مایہ کو دریا کر دیں
    رخت جاں بتکدہ چیں سے اٹھا کر اپنا
    سب کو محو رخ سعدی و سلیمیٰکر دیں
    دیکھ یثرب میں ہوا ناقئہ لیلیٰ بیکار
    قیس کو آرزوئے نو سے شناسا کر دیں
    بادہ دیر ینہ ہو اور گرم ہوایسا کہ گداز
    جگر شیشہ و پیمانہ و مینا کر دیں
    گرم رکھتاتھا ہمیں سردیء مغرب سے جو داغ
    چیر کر سینہ اسے وقف تماشا کر دیں
    شمع کی طرح جیئیں بزم گہہ عالم میں
    خود جلیں دیدۂ اغیار کو بینا کر دیں
    ہر چہ در دل گذرد وقف زباں دارد شمع
    سوختن نیست خیالے کہ نہاں دارد شمع
    یہ ہے علامہ اقبال کا موضوع اور لائحہ عمل ۔ اب شاعر کیا ہے؟ انہیں کی زبان سے سنیئے۔
    قوم گویا جسم ہے افراد ہیں اعضائے قوم
    منزل صنعت کے ر ہ پیما ہیں دست و پائے قوم
    محفل نظم حکومت چہرہ زیبائے قوم
    شاعر رنگیں نواہے دیدۂ بینائے قوم
    مبتلائے درد کوئی عضو ہو روتی ہے آنکھ
    کس قدر ہمدرد سارے جسم کی ہوتی ہے آنکھ
    (بانگ درا)
    اگرچہ موضوع شاعر اور ادیب کے اندر سے پیدا ہوتا ہے ،تاہم حالات، معاشرہ اور مانگ بھی موضوع کو متاثر کرتی ہے۔
    جب لوگ یہ کہنا شروع ہو جائیں کہ مغلیہ سلطنت کا بیڑہ شاعروں نے غرق کیا ہے یعنی شاعری برصغیر میں اسلامی سلطنت کے خاتمے کا باعث بنی ہے ۔ اور پھر اس کے باوجود برصغیر کے مسلمانوں کے مابین مغلیہ سلطنت کے خاتمے کے بعد انگریز کی غلامی کے دوران عظیم المرتبت شاعر نمودار ہوں مثلاََاکبر الہٰ آبادی ، مولانا حالی، علامہ اقبال اور ان کے علاوہ درجنوں نہیں سینکڑوں اول درجے کے شاعر پیداہوں ۔ اسی خیال کے ماتحت کہ برصغیر میں اسلامی سلطنت کے زوال کا سبب شاعری ہوئی ہے ۔ علامہ اقبال نے یورپ کے قیام کے دوران ۸ ۔ ۱۹۰۵ ء کے دوران شاعری کو ترک کرنے کا ارادہ کیا مگرعلامہ کے اس ارادے کو ترک کرانے والا پروفیسر آرنلڈ ایک انگریز تھا ۔ اس طرح دنیائے اسلام اور پوری انسانیت کو اقبال کے کلام کی صورت میں ایک بیش بہا پیغام ملا ۔ برصغیر کے مسلمانوں کے اس خیال کے ضمن میں کہ مغلیہ سلطنت کے زوال کا سبب شاعری بنی ہے ۔ علامہ اقبال کا ایک شعر کوٹ کیا جا سکتا ہے ۔ سنیئے
    مدیر مخزن سے کوئی اقبال جا کے میرا پیام کہہ دے
    جو کام کچھ کررہی ہیں قومیں انہیں مذاق سخن نہیں ہے
    میں نہیں جانتا کہ لوگ اس شعر کا مفہوم کیا لیتے ہیں لیکن میرا خیال یہ ہے کہ شعر کے دوسرے مصرعے کے آخیر پر ضرور سوالیہ نشان نصب کیا جائے یعنی ان قوموں کو مذاق سخن ہے۔
    جب مسلمان بادشاہوں کے دربار میں شاعروں اور ادیبوں کی شاہانہ پذیرائی ہوتی تو اس عمل کی خبر سب لوگوں میں بجلی کی سرعت کے ساتھ پھیلتی اور لوگوں کے دلوں میں اس کی تاثیر سرایت کر جاتی ۔ ۱۹۶۴ء میں لاہور میں میری ایک ملاقات کے دوران علامہ اقبال کے فرزند ارجمند جناب جاوید اقبال نے مجھے بتایا کہ حضرت علامہ مرحوم کی زندگی کے آخری پانچ سال بیماری اور بے روزگاری کے سال تھے ۔ اس دوران اگر نواب بھوپال آپ کو پانچ سو روپے ماہوار وظیفہ نہ دیتے ۔ تو میں ، میری امی، میری ہمشیرہ منیرہ اورحضرت علامہ اسی بیٹھک میں بھوک سے غرق ہو جاتے ۔ اس ملک میں بڑے بڑے امیر لوگ بیٹھے تھے مگر کسی کو یہ خیال نہ تھا کہ ایک شخص اپنا کام چھوڑ کر ہمارا کام کرتا ہے ،کم از کم اس کی روٹی پانی کا تو بندوبست ہونا چاہیے ۔ مجھے اس کی اس بات میں میرے لئے ایک وارننگ نظر آئی ۔ میں نے کہا۔ ۔برادرم۔ میں اب دریا کے درمیاں ہوں ۔ پیچھے مڑوںتو صریح ناکامی ہے۔ آگے چلوں ۔ تو کامیابی کی ا مید کی جا سکتی ہے ۔ میںنے جو کچھ کیا ہے وہ اللہ، اس کے رسول کی خاطر کیا ہے وہی مالک ہے ۔مگر اس بات میں یہ نکتہ پوشیدہ ہے کہ ادیبوں اور شاعروں کو معاشی طور سے بے نیاز کیا جائے ۔ ان کی ٹھیک ٹھیک کفالت ہونی چاہیے تا کہ وہ بے فکر ہو کر اپنا کام کر سکیں ۔ بالخصوص آج کی اس صبر آزما تشنگی اور بے رحم ، کمر شکن ، جگر شکن اور دلشکن احساس کرسنگی کے د ور میں جب چیل آسمان سے انڈا چھوڑ رہی ہے اور شیر کچھارسے نکل کرتالاب میں ڈبکیاں کھا رہا ہے، مچھلیاں پانی کے اندر تڑپ رہی ہیں ۔ بے چارہ شاعر اور ادیب پیٹ کی آگ بجھانے کے لئے سرگرداں ہے اور غریب اور بے چارہ مصنف ٹکریں مار مار کر اور ہفت قلزم آب اور ہفت قلزم صحرا اور فلک بوس پہاڑ عبور کرکے جب اشاعت کے میدان میںاترتا ہے تو اس کے چودہ طبق روشن ہو جاتے ہیں اور دن میں تارے نظر آنے لگتے ہیں اور دھکے الگ لگتے ہیں اور تصنیف اول تو چھپتی نہیں چھپ جائے ۔ تو ردی بیچنے والوں کے دالان کی زینت بنتی ہے ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    علامہ محمد یوسف جبریل
    ادارہ افکارجبریل قائداعظم سٹریٹ نواب آباد واہ کینٹ
    http://www.oqasa.org

    Research Articles | Main Page | Photo Gallery | Earn Cash | OQASA IT Wing. Designed by Rizw

  2. اُٹھیں اب ظلمِ ظالم کے لئے سینہ سپر ہو کر
    دھاڑیں بیشہءِ روباہِِ دوں میں شیرِ نر ہو کر 
    مٹا دیں ھستی اس دنیا سے ہر نمرود و فرعوں کی
    سنان و خنجر و شمشیر و پیکان و تبر ہو کر
    گلستانِ جہاں میں مثلِ شبنم اشک ٹپکائیں 
    گلِ انسانیت پر شامِ غم میں چشمِ تر ہو کر
    اگر راہوں میں دامِ مکر و تذویرِ جدید آئیں 
    گذر جائیں ضمیر حلقہءِ تارِ نظر ہو کر
    طلسمِ دورِ حاضر کی شب یلدائے ظلمت کو 
    مٹا دیں نورِ ایمانی میں انوارِ سَحر ہو کر 
    الم نشرح کو حرزِ جاں کئے دل میں اُتر جائیں
    گدازِ سینہء بے تابِ انساں میں اثر ہو کر
    گدازِ سوزِ باطن سے دلِِ خورشید کو چیریں 
    شعاعِ شعلہء دردِ فلک تابِ جگر ہو کر 
    فقلنا الضرب کی بانگِ قہر گوں گونجی زمانے میں 
    ہلا دیں کاخِ باطل لرزہء شق الحجر ہو کر 
    بھڑک اُ ٹھے ہیں شعلے نائرہء نمرود کے ہر سو
    لپک جائیں خدا کا نام لے کے بے خطر ہو کر 
    فسونِ لاالہ سے فتنہء دوراں کو بٹھلا دیں 
    اگر دنیا میں اُٹھا ہے یہودی فتنہ گر ہو کر
    فلک کی وسعتوں میں ضوئے ایماں بن کے ہم چمکیں 
    ہلالی پرچم و انجم میں تنویرِ نظر ہو کر 
    یکادُ البرقُ یخطفُ کی مثل ابصارِ لادینی
    اُچک لیں سینہء کافر سے مازاغ البصر ہو کر
    چمکنا ہے تمھیں اے ملتِ بیضا کے دردانو
    جبینِ آدمیت پر شعاعِ آبِ زر ہو کر
    قیاس و ظن و اوہام و گمانِ دورِ باطل کو 
    مٹا دیں اُٹھ کے لوحِ عرش پر شق القمر ہو کر
    محمد ابن قاسم کی قسم اقصائے عالم میں 
    بٹھا دیں دھاک اسلامی تہور کی ببر ہو کر
    خدا کے دیں کو پھیلا دیں زمیں کے گوشے گوشے میں 
    بکھر جائیں جہاں میں مصطفے ﷺ کے نامہ بر ہو کر 
    چلیں جبریلؔ ہو جائیں غبارِ جادہء مدینہ
    لپٹ جائیں قدومِ مصطفے ﷺسے سنگِ در ہو کر

    Back to Conversion Tool

  3. علامہ محمد یوسف جبریل کے  بین الاقوامی  رسالوں میں مضامین کی اشاعت
    علامہ محمد یوسف جبریل نے بین الاقوامی رسائل سے بھی خط وکتابت  جاری رکھی اور ان کے مکتوب بین الاقوامی اخبارات و رسائل میں شائع ہوئے۔ چونکہ ان کا موضوع ایٹم بم اور الہامی حیثیت ہے، لہذا دنیا یہ جاننا چاہتی تھی کہ علامہ صاحب کی ایٹم بم اور قرآن حکیم کے حوالے سے جو ریسرچ ہے اس کا تجزیہ کیا جائے۔ تمام ممالک کے سفیر، وزرائے اعظم، صدور، سائنس دان اور اہل علم طبقہ نے علامہ صاحب کے مضامین کا بھرپور مطالعہ کیا۔  بلیٹن آف دی اٹامک سائنٹسٹس شکاگو سے نکلتا ہے اور صرف اور صرف  ایٹمی سائنس دانوں کا مخصوص رسالہ ہے۔ اس رسالہ نے علامہ صاحب کے لیٹر شائع کئے۔ بلیٹن آف اٹامک سائنٹسٹس نے جون 1989 ء میں علامہ صاحب کو ایک خط لکھا۔ جنابLen Ackland, editor  ؒنے بعنوان Writers advisory   کے تحت Past, present and potential Contributors to the Bulletin of the Atomic Scientists  ایک خط تحریر کیا۔ اور اس میں نیوکلیئر دور کے مسائل کے بارے میں گفتگو کی اور ان کے خیال میں  نیوکلئر ایج میں ملٹریزم انسانیت کے لئے ایک خطرہ بن چکا ہے اس کے خلاف محاذ بنانے کے لئے بلیٹن آف دی اٹامک سائنٹسٹس اپنی خدمات کو بڑھانا چاہتا ہے۔ اور انہوں نے توقع کی کہ آنے والے دور میں بلیٹن ایک بہترین میگزین ثابت ہو گا۔ اس کے لئے ان کو بلیٹنز اور رپورٹس دو الگ الگ سیکشن بنانے ہیں اور جناب جاہن اسحاق، میکائل فلورنی اور دوسرے احباب واشنگٹن رپورٹ پر مستعدی سے کام کر رہے ہیں۔ اور ان نئی تخلیق شدہ سیکشنز کو میگزین میں باقاعدہ مناسب جگہ  دی جائے گی۔ تاکہ قارعین  ان رپورٹوں کو اچھی طرح سے پڑھ سکیں۔ اس کے بعد ایڈیٹر  نےرسالہ کی دوسری تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ علامہ صاحب کو بلیٹن اور رپورٹ کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا اور ان سے اپیل کی کہ وہ میگزین کے لئے مضامین بھیجیں۔
    یوسف جبریل فاؤنڈیشن پاکستان
    http://www.oqasa.org

     

Leave a Reply to shaukat awan Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com