گوشہء تابش کی شام میں آزادی کے رنگ

گوشہء تابش کی شام میں آزادی کے رنگ
تحریر و تہذیب؛ سعید احمد سلطان، صحرائے چولستان، بہاول پور پاکستان

’’ہمارا وطن دیارِ نور ہے، اس کے کوچے کوچے، قریے قریے، گلی گلی، نگر نگر، شہر شہر میں عظمت و رفعت کے بلند و بالا مینار روشن ہیں، جو دیکھنے والوں کو ہر آن نئے راستے اور جستجو کرنے والوں کو نئی منزلوں سے روشناس کراتے ہیں۔ یہاں تہذیبی آثار کے انمول خزانوں کے بے مثل انبار مستور ہیں، جن کو تلاش کرنے اور جن تک پہنچنے کے لئے پرخلوص کاوشوں کی ضرورت ہے۔ ‘‘
’’ہمار ا وطن دنیا بھر کے ملکوں میں بڑی اہمیت اور وقعت رکھتا ہے۔ یہاں تہذیب، ثقافت، سماجیت اور عمدہ روایات کے عمدہ سلسلے صاف شفاف آبشاروں کی صورت بہتے اور ہر ایک دیکھنے والی آنکھ کا دل لبھاتے ہیں۔یہاں کے بے مثال موسم ، خوشبو دار رنگ، اُجلے منظر، رواں دریا، گہرے سمندر، وسیع صحرا، شاداب وادیاں، تاریخی عمارتیں، قدیمی آثار اور پرخلوص سچے ، کھرے لوگ ، عجب سنجوگ سے جُڑ کر ایسی انمول داستانیں لکھتے ہیں جن کا ہر ورق بھرپور دلچسپی سے آراستہ ہوتا ہے۔‘‘
’’پاکستان ہمارا سوہنا من موہنا دیس ہے، جس کے ہر اک بھیس میں محبت، اپنائیت، چاہت اور رفاقت کے روشن و رخشاں رنگ چھپے رہتے ہیں۔ ہم اپنی نسل کو بتلائیں کہ یہ سارے اُجلے منظر اور رنگ ان کا قیمتی سرمایہ ہیں اور سرمایہ بے دردی سے لٹا یا نہیں جاتا بلکہ سینت سینت کر اور سنبھال سنبھال کر رکھا جاتا ہے۔ ‘‘
پاکستان ہمار ے بزرگوں ، ماؤں، بہنوں، بچوں کی بے مثل قربانیوں کا ثمر ہے، اس کی رگوں میں لاکھوں شہیدوں کا لہو بہہ رہا ہے، اس کی سانسوں میں باوقار کاوشوں کی آکسیجن رواں رہتی ہے، اور سب جانتے ہیں کہ اس صحت بخش گیس کی عدم موجودگی حیات کی کائنات کو اندھیروں میں ڈبو دیتی ہے۔
’’پاکستان ایک نظریہ ہے۔ پاکستان ایک عہد ہے۔ پاکستان ایک انمول تاریخ ہے۔ پاکستان ایک قیمتی عطا ہے۔ اور عطاؤں پر دینے والے کی شکر گزاری میں پور پور بھیگا رہنا ضروری ہے۔ سو ہمیں بھی پاکستان کی اہمیت اور افادیت کو سمجھتے اور سچے دل سے تسلیم کرتے ہوئے ہر آن اپنے رب کا شکر ادا کرتے رہنا چاہئیے کیونکہ یہ آج سے ستر برس پہلے کے اس ماہِ صیام کا تحفہ ہے جس کی ایک رات ہزار مہینوں سے بڑھ کر فضیلت رکھتی ہے ۔ وہ رات لیلۃ القدر کی ہے اور سال انیس سو سینتالیس میں چودہ اگست کو جب یہ چاند ابھرا تو وہی ہزار مہینوں سے بہتر رات جلوہ فگن تھی۔ ایسی عطا اور عنایت پر ہم اور ہماری ساری نسلیں شکر ادا کرتی رہیں تب بھی کم ہے۔‘‘ 
’’وہ استحصال، جبر، ظلم اور استبداد سے نجات کی رات تھی جس کے طلوع کے لمحات میں اقبال کی فکر اورقائدِ اعظم محمد علی جناح کی رہبری شامل تھی۔یہ اُس رات کی عطا ہے کہ جن مسلمانوں کو عبادت کرنے، ذاتی سما جی روایات نبھانے،مثبت معاشرتی رویوں کو ادا کرنے، اپنی سانسیں جینے، اپنے روز شب گزارنے کی قیدتھی وہ ہر اک جبر، غلامی اور قید سے آ زاد ہو گئے۔ دنیا کے نقشے پر پاکستان کو وجود ایک معجزہ ہے اور معجزے روز روز کب نمودار ہوتے ہیں، سو ہمیں اس معجزے کی سچے دل سے قدر کرتے ہوئے یہاں کی فضاؤں میں وہ آزادانہ رنگ گھولنے چاہئیں جن میں اسلا می فکر اور پاکستانی تہذیب کے پہلو شامل ہوں۔‘‘
ان خیالات کا اظہار بہاولپور، دارالسرور کی ادبی تنظیم، بزمِ ثقافت پاکستان کے ادبی پڑاؤ میں منصبِ صدارت پر فائز سفیرِ کتاب، سابق پارلیمینٹیرین، سیاسی و سماجی شخصیت، ادیب و شاعر سیّد تابش الوری تمغہء امتیاز نے صدارتی کلمات میں کیا۔ یاد رہے یہ ادبی پڑاؤ ہر شمسی مہینے کی سولہ تاریخ کو منعقد ہوتا ہے جس میں شہر اور ملک کے ادیب، شاعر، دانشور اہلِ علم اور قد آور لوگ شامل ہوتے اور اپنی فکری کاوشوں سے نئی نسل کی تربیت کا سامان کرنے کی سعی کرتے ہیں۔
دوسری جانب بہاول پور کی ایک اور علمی، ادبی، تنقیدی رنگوں سے آراستہ تنظیم ادبی بیٹھک شعور ہر ہفتے بدھ کی شام اپنا اجلاس منعقد کرتی ہے۔ اب کے سولہ تاریخ کو بدھ تھا سو شعور کے اراکین نے کمال مہربانی سے اپنا اجلاس ملتوی کر کے ادبی پڑاؤ میں آمیز کر دیا۔ میزبانِ مکرم اور صدرِ پڑاؤ سید تابش الوری نے نوجوانوں کے اس ایثار کا اعتراف کرتے ہوئے تمام اراکین شعور کا شکریہ ادا کیا۔ اجلاس میں ایک اور ادبی تنظیم کتھارسس آرٹس فورم کے اراکین بھی شامل تھے، ان کا بھی شکریہ ادا کیا گیا۔
ماہ اگست کے ادبی پڑاؤ میں میرے شہر کی معروف محقق، دانشور،نقاد، معلمہ ، افسانہ نگار اور سابق صدر شعبہ اردو واقبالیات اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور پروفیسر ڈاکٹر مزمل ناز بھٹی صاحبہ بطور مہمانِ خصوصی شامل تھیں۔ انہوں نے خصوصی کلمات میں فرمایا کہ’’ آزادی جیسی نعمت کا احساس و ادراک کرنا بے حد ضروری ہے کیونکہ اسی سوچ کی بنیاد پر ہی ہمارے رویّے بنتے سنورتے ہیں۔ ہمیں آزاد فضاؤں اور ہواؤں کا احساس اسی وقت ہوتا ہے جب ہم حالات اور مشکلات کی چکی میں پستے لوگوں، قوموں ، قبیلوں کے روز و شب کے معاملات کو دیکھتے ہیں ۔ وہ مجبور، بے کس اور بے نوالوگ اپنی زندگی جینے کی آس لگائے رکھتے ہیں مگر جبر اور استحصال پسند لوگ انہیں اس نعمتِ عظمیٰ سے ہمیشہ محروم رکھتے ہیں ۔ کھونٹے سے بندھے جانور بھی ان سے بہتر زندگی گزار رہے ہوتے ہیں ، یقین نہ ہو تو غلام ملکوں کی اقوام کا جائزہ لے لیجئے ہر ایک پہلو نشابر ہو کر روبرو آجائے گا۔ ‘‘
پروفیسر ڈاکٹر مزمل ناز بھٹی صاحبہ نے فرمایا کہ’’ ہمیں انگریز حاکمیت اور ہندو تعصب سے جس قدر اذیّت اور تکالیف کا سامنا کرنا پڑا اس کا اصلی درد ہمارے بزرگ جانتے ہیں جن کی جان چوبیس گھنٹے سولی پر ٹنگی رہتی تھی، وہ اپنے آقاؤں کی خدمت بھی کرتے تھے اور بدلے میں مظالم بھی سہتے تھے۔ عقیدے کی آزادی ان سے دور تھی۔عمل کی آزادی ان سے روٹھی ہوئی تھی۔ معاشی سرگرمیوں کی آزادی ان سے پرے تھے۔ وہ تو گویا بس زندہ لاشیں تھیں جو بظاہر متحرک ہوتی ہیں لیکن حقیقت میں گرمیء حیات سے خالی۔ اپنی زبان بولنا، اپنی راہ چلنا، اپنا کاروبار کرنا، اپنی بہتری سوچنا ان کے لئے منع تھا۔ اس صورتحال نے انہیں یہ ادراک دیا کہ اگر آج آزاد زندگی کے لئے جاگنے میں کوتاہی ہوئی تو صدیاں اسی غلامی میں گزر جائیں گی اور نسل در نسل یہی تسلسل قائم رہے گا۔ یہ فکر ان کو سر سید سے لے کراقبال تک تمام مشاہیر اور مفکرین نے دی اور قائد کی رہنمائی میں انہوں نے حرکت و عمل کا آغاز کر دیا جس کا نتیجہ پاکستان کی صورت میں نکلا۔ ہم خوش قسمت ہیں کہ آزاد فضاؤں اور ہواؤں میں سانسیں لے رہے ہیں۔ بزمِ ثقافت پاکستان کا ادبی پڑاؤ اسی تہذیبی زندگی کو پروان چڑھانے کے لئے نوجوان نسل کی رہبری کر رہا ہے، سیّد تابش الوری صاحب مبارک باد کے مستحق ہیں کہ وہ اس طرح کی فکری محافل اپنے گھنے سائے تلے سجاتے ہیں اور یوں انشاء اللہ ایک نیا عہد جگمگائے گا جس کے آثار ہم دیکھ رہے ہیں ۔‘‘
تقریب کا باقائدہ آغاز اللہ رب العزت کے با برکت کلام سے ہوا، سعادت نوجوان شاعر عاطف نصیر نے سمیٹی۔ جناب مجیب الرحمان خان صاحب نے بارگاہِ نبوتﷺ میں نذرانہء عقیدت پیش کیا ۔ نثری سیشن میں جناب ناصر حسنی نے ڈاکٹر انور سدید بارے اپنا خاکہ پیش کیا۔ مہمان شاعر نادر لاشاری نے ملی نظم اور غزل سے پڑاؤ میں رنگ بھرے۔
دوسرے سیشن میں مشاعرہ سجایا گیا ۔شعرائے کرام کے اسمائے گرامی اور نمونہ ہائے کلام ملاحظہ فرمائیے۔
وہ شخص میرے سل میں اُتر گیا۔۔۔۔میں روکتا رہا وہ گذر گیا ( عنبر)
اچھا اب میں چلتا ہوں۔۔۔دیکھئے پھر کب آتا ہوں( افضال الرحمان ہاشمی)
جو بات کر رہا ہوں میں لپٹی ہوئی نہیں۔۔۔امید کوئی آپ سے رکھی ہوئی نہیں(خالد محبوب)
چراغ ہاتھ میں تو ہے۔۔۔ بجھے ہوئے نہیں ہیں ہم(سیّد خرم پیرزادہ)
اے زندگی قبول کر ۔۔۔۔مرے ہوئے نہیں ہیں ہم
اے وطن پیارے وطن تجھ پہ مری جان فدا(شبیر کلامی)
جیں ڈینہہ تیڈی اکھ پوسی۔۔۔اے ککھ وی تھی لکھ پوسی (اشرف خان)
دُکھدی لکڑ آس تیڈی اے۔۔۔دُکھدی دُکھدی بکھ پوسی
اگر طوفانی جذبوں کو کنارا مل گیا ہوتا۔۔میری خاموش حسرت کو سہارا مل گیا ہوتا(نادر لاشاری)
ہے بے مثال جگ وچ سوہنا وطن اساڈا۔۔۔بلبل اساں ہیں ایندے اے ہے چمن اساڈا( سردار خادم حسین مخفی)
شکر ہے آئینہ سازی بھی ہنر ہے ورنہ۔۔۔اپنی مرضی کے سبھی عکس بنانے لگتے(عاطف نصیر)
بے خیالی میں کسے چوم لیا تو نے۔۔۔تیرے آگے مری تصویر نہیں ہے میں ہوں ( افضل خان)
رات بھر روتی رہیں تنہائیاں۔۔۔ دن کی دھرتی میں اُگیں رُسوائیاں (ظہور احمد آثم)
اے شمع نہ لے شب کو مری نرغے میں اپنے۔۔جگنو ہوں شرر بار ہوں پروانہ کہاں ہوں (قیوم سرکش)
میرے سارے خواب تجھ پر آئینہ ہو جائیں گے۔۔اپنی آنکھوں کے دریچوں میں سجاؤں گا تجھے
اپنی زلفوں کو بچھایا تو نے میری راہ میں۔۔۔تُو جب آئے گا پلکوں پر بٹھاؤں گا تجھے(سید تابش الوری)
جناب بلال جاوید میرے شہر اور وطن کے سجیلے اور رسیلے رنگوں کو عمدہ انداز میں دنیابھر میں متعارف کرانے میں مصروف ہیں۔ سہارا وہ تہذیبی، ثقافتی، قدرتی مناظر کا لیتے ہیں اور اپنے معتبر کام کو نام
انہوں نے دے رکھا ہے، See Pakistan…Love Pakistanاس سلسلے میں ان کی تصاویر کی نمائش دنیا بھر میں ہوتی ہے۔ پاکستان کے سترویں(۷۰) جشنِ آزادی کے موقع پر اوٹاوہ کینیڈا میں ان کی تصاویر کی نمائش جاری ہے۔ یہ پاکستان سے محبت کا ایک عمدہ انداز ہے۔ بلال جاوید آرٹ ڈیزائینر اور ڈائیریکٹر ہیں، پاکستان کے لئے ریکارڈ قائم کرنے میں مصروف ہیں مگر صلے اور ستائش کی تمنا کے بغیر۔ادبی پڑاؤ کے سب اراکین نے ان کو مبارک باد پیش کی۔
کتاب دوست انسان اور ادب پرست شخصیت جناب محسن رضا جوئیہ ایڈووکیٹ، جناب کاشف سلیم ایڈووکیٹ، جناب ناصر اعوان، جناب عبدالخالق قریشی، مہر ناصر سیال اور دوسرے مہربانوں نے بلال جاوید کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی۔ محبتوں کا سفر جو جشنِ آزادی کی خوشی کے رنگ ساتھ لئے ہوئے تھا اپنے اختتام کو پہنچا اور دلوں میں پاکستان سے محبت کا جذبہ نئے انداز سے جگمگانے لگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com