’’چراغ کو جلتا رہنا ہے ‘‘

’’چراغ کو جلتا رہنا ہے ‘‘
تحریر مجیداحمد جائی ۔۔ملتان شریف
اگست کے مہینے سے میری بہت سی یادیں وابسطہ ہیں جب جب اگست کا مہینہ آتا ہے میرے لیے خوشیاں ،مسرتیں لے آتا ہے اور بے پناہ رحمتیں ،نعمتیں دے کر جاتا ہے اورمیں اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لاتا ہوں ۔اس بار بھی میں خوشیوں کے جھرمٹ میں جھوم رہا ہوں ۔جی ہاں ۔خوشیاں میرے آنگن میں ،میری روح تک رقصاں ہیں ۔میں کیوں نہ جھوموں ،میں جشن کیوں نہ مناؤں ۔18اگست 2017کا حسین ترین دن تاریخی اور یادگار بن گیا ہے ۔میری زندگی کا خوبصوت ترین دن ۔یہ دن میری لائبریری کے لئے ان منٹ نقش چھوڑ کرحسین یادوں میں اضافہ کر گیا ہے ۔
اس مبارک دن کو ’’مجید احمد جائی ادبی لائبریری ‘‘کا افتتاح ہوا ۔میں کیوں نا شکریہ ادا کروں اپنے دل کے ہیروکا جنہوں نے ہر موقع پر میرا مان بڑھایا ،مجھے تھپکی دی ،میرا حوصلہ بڑھایا ۔اس عظیم شخصیات کے ہاتھوں میری لائبریری کا افتتاح ہونا میرے لیے کسی عظیم تحفہ سے کم نہیں ہے ۔پہلے آپ کی تحریروں نے اپنا گرویدہ بنایا اور اب آپ کی سادہ طبیعت نے ،خوش اخلاقی ،اعلی ظرفی نے مجھے دیوانہ کر دیا ہے ۔خوشی کے اس موقع پر میری خوشیوں میں اور اضافہ ہوا جب ’’بے ثمرراہ کا مسافر‘‘ میرے ہاتھوں میں آئی ۔آپ کی تحریریں میرے دل کی ترجمان ہوتی ہیں ۔
18اگست کی سہانی،مبارک گھڑی کو مقررہ وقت کے مطابق سجاد جہانیہ کے دست مبارک سے افتتاح ہوا ۔سجاد جہانیہ نے سرخ فیتہ اپنے ہاتھوں سے کاٹ کر مجیداحمد جائی ادبی لائبریری کا افتتاح کیا اور خصوصی دُعا کرائی ۔اس موقع پر سجادجہانیہ کے ساتھ میرے عزیز دوستوں اور اہل علاقے نے پُرجوش شرکت کی ۔جناب اظہر سلیم مجوکہ ،ملک فیاض اعوان (بزم احباب)صاحب ،قاری محمد عبداللہ ۔،مفتی عزیز الرحمان ،خصوصی شرکت کی ۔آپ لوگوں کی آمد سے جنگل میں منگل کا سماں بندھ گیا ۔
دعائیہ تقریب کے بعد حاضرین نے لائبریری کا وزٹ کیا اور مبارک باد کے پھول نچھاور کرتے رہے ۔لائبریری میں مہمانان خصوصی کے قدم رکھتے ہی راقم الحروف نے پھولوں کے ہار پہنا کر ان کا استقبال کیا ۔اس موقع پر کرن کرن روشنی کی پوری ٹیم پُر جوش انداز میں استقبال کرتی نظر آئی۔علی عمران ممتاز نے مجیداحمد جائی کو پھولوں کے ہار پہنائے اور مبارک باد دی ۔
مجیداحمد جائی ادبی لائبریری کے وزٹ کے بعد تلاوت قرآن پاک ،نعت خوانی کرائی گئی ۔علی عمران ممتاز نے کرن کرن روشنی ٹیم کا مہمانوں سے تعارف کروایا اور مجیداحمد جائی ادبی لائبریری کا تعارف پیش کیا ۔ملک محمد فیاض اعوان (بزم احباب)کو اظہار خیال کے لئے دعوت دی گئی ۔ملک محمد فیاض اعوان صاحب نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے مجیداحمد جائی کو اس کاوش پر مبارک باد دی اور بزم احباب کے پلیٹ فارم پر اعزاز کے طور پر تقریب کروانے کا اعلان بھی کیا ۔قاری محمد عبداللہ صاحب نے اظہار خیال کرتے ہوئے مجیداحمد جائی کی اس کاوش کو نہ صرف سراہا بلکہ دلی خوشی کا اظہاربھی کیا اور اُنہوں نے بھی اعزاز کے لئے ملتان آرٹس کونسل میں تقریب کروانے کا اعلان کیا۔جناب جنید اکرم انصاری نے خوبصورت الفاظ میں اس کاوش کو سہراتے ہوئے مبارک باد کے پھول نچھاور کیے ۔جناب اظہر سلیم مجوکہ صاحب نے کتاب دوستی کوفروٖغ دینے کے اس کام کو سراہتے ہوئے مسرت کا اظہار کیا اور اپنی کتب ’’آس کی تتلیاں ‘‘اور بہت سی کتب لائبریری کے لئے بطور عطیہ عطا کیں۔انہوں نے مزید کہا کہ مجیداحمد جائی نے اپنی سالگرہ سے دو قبل اپنے علاقے بلکہ پورے معاشرے کو خوبصورت تحفہ عطا کیا ہے۔(یاد رہے بیس اگست کو میری سالگرہ ہوتی ہے ) ۔صدر محفل جناب سجاد جہانیہ صاحب نے مجیداحمد جائی ادبی لائبریری کے اجرا ء پر مبارک باد ساتھ نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں اس نیک کام کے لئے مجیداحمد جائی کو مبارک باد پیش کرتا ہوں اور ان کے اس مقصد کے لئے ہر لمحہ ہر پل اپنی خدمات دیتا رہوں گا۔کافی دیر محترم سجاد جہانیہ صاحب لائبریری کی کتب کا تفصیلی جائزہ لیتے رہے ۔مجیداحمد جائی ادبی لائبریری کے لئے اپنی کتب ’’بے ثمر راہ کے مسافر‘‘عورت کتھا ‘‘کے ساتھ تیس خوبصورت کتب کا عطیہ عطا کیا اور وعدہ فرمایا کہ بہت جلد اور بھی کتب لائبریری کے لئے ارسال کروں گا۔آخر میں راقم الحروف مجیداحمد جائی کو اپنے خیالات کے لئے دعوت دی گئی ۔اس موقع پر آنے والے تمام دوستوں اور اہل علاقے کا شکریہ ادا کیا اور لائبریری کے مقصد اور اجراء کے حوالے سے شرکاء کو بریف کیاگیا ۔کتاب کی اہمیت اور ضرورت پر روشنی ڈالی گئی اور دوستوں کو دعوت دی گئی کہ اس لائبریری کے لئے اپنی خدمات کا موقع فراہم کریں ۔مجیداحمد جائی ادبی لائبریری میں ان پڑھ حضرات کو کتاب پڑھ کر سنانے کی سہولت دی جائے گی اور لائبریری میں کتب پڑھنے والوں کو ریفریش منٹ دی جائے گی ۔آخر میں مجیداحمد جائی ادبی لائبریری کی کامیابی و کامرانی کے لئے خصوصی دعا کرائی گئی اور شرکاء کی خاطرو تواضع کی گئی ۔اس دوران کتاب اور کتاب دوستی پر سیر حاصل گفتگو جاری رہی اور سبھی شرکاء نے خوشگوار موڈ میں سلفیاں بھی بنوائیں ۔سورج کے غروب ہوتے ہی اس حسین دن کا اختتام ہوا ۔یوں یہ دن میری یاداشت میں حسین یادیں نقش کرکے رخصت ہو گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com