چند شاعر ہیں جو اس شہر میں مل بیٹھتے ہیں….. ورنہ لوگوں میں وہ نفرت ہے کہ دل بیٹھتے ہیں

یہ 13 جنوری 2018 کی ایک سرد شام تھی گھڑی کی سوئیاں ساڑھے چھ کاا علان کر رہی تھیں ہیوسٹن ہائی وے سکس ، شوگر لینڈ پر واقع چائے شائے باربی کیو کا اندرونی منظر باہر کی یخ بستگی سے یکسر مختلف تھا حسین و جھلملاتے آنچل، مسکراتے شاداں و فرحاں چہروں کے مالک یہ محبتوں کے پیکر ایک دوسرے سے اس تپاک سے مل رھے تھے کہ ہر فرد بیک وقت مہمان بھی لگ رہا تھا اور میزبان بھی ، خلوص و اپنائیت کی یہ نکہت فضا و مشامِ جاں کو معطر کر رہی تھی !!
نہیں جناب آپ کا اندازہ قطعی غلط ہے یہ شادی کا فنکشن تھا نہ سیاسی اکٹھ بلکہ پاک ادب کمیٹی یو ایس اے اور انجمنِ تقدیس ادب کے زیرِ اہتمام نوجوان وخوبصورت شاعر سید ایاز مفتی جنہیں دنیا ابنِ مفتی کے نام سے بھی جانتی ہے ان کے تیسرے شعری مجموعے ’’ طائرِ ہجرت ‘‘ کی تقریبِ رونمائی اور مشاعرہ کی گہما گہمی ہے جسے دیکھ کرمجھے محترم جاوید احمد یاد آگئے کتنا سچا اور کھرا شعر کہا انہوں نے کہ۔۔
چند شاعر ہیں جو اس شہر میں مل بیٹھتے ہیں
ورنہ لوگوں میں وہ نفرت ہے کہ دل بیٹھتے ہیں
سید ایاز مفتی المعروف ابنِ مفتی 1963 کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے ابتدائی تعلیم سمندری ،فیصل آباد سے حاصل کی جبکہ کراچی سے ماسٹر ان انٹر نیشنل ریلیشنز کرنے کے علاوہ سینٹرل ہومیوپیتھک میڈیکل انسٹیٹیوٹ اینڈ ہاسپیٹل سے ہومیو پیتھک میڈیکل سائنسز میں بھی دسترس حاصل کی۔اس کثیرالجہات شخصیت نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ 
میں کہاں رکتا ہوں عرش و فرش کی آواز سے 
مجھ کو جانا ہے بہت آگے حدِ پرواز سے
کے مصداق نعت خوانی کے میدان میں بھی اپنا لوہا منوایا اور معروف روحانی شخصیت وعالمی مبلغِ اسلام سید محمد مدنی میاں آف کچھوچھہ شریف سے ’’حسانِ ہیوسٹن ‘‘کا خطاب پایا جبکہ تخلیق کے باب میں اصنافِ سخن نظم ، غزل اور نعت میں ابنِ مفتی نے خوب خوب طبع آزمائی کی ۔ سید ایاز مفتی کی پہلی کتاب ’’ فرقِ سین شین ‘‘ جب زیورِ طباعت سے آراستہ و پیراستہ ہوئی تب آپ کی عمر محض 20 سال تھی 2007 میں’’ رہبر و رہنما ‘‘ جبکہ ’’ طائرِ ہجرت ‘‘ حال ہی میں منظرِ عام پر آئی جس کی تقریبِ رونمائی سے بات شروع ہوئی تھی اور محبوب کی زلفِ گرہ گیر کی طرح خدا معلوم الجھتی کہ سلجھتی چلی گئی بیسٹ ادب ایوارڈ 2010 ، بیسٹ نعت خوان ایوارڈ 2011، عالمی نظامت ایوارڈ 2013، حسان بن ثابت ایوارڈ 2014، ولایت ریڈیو ایوارڈ 2014 ، سید عبدالستار مفتی ایوارڈ 2015 کے حامل سید ایاز مفتی کا حال ہی میں’’ بدلتی دنیا پبلی کیشنز، اسلام آباد ‘‘ کے زیرِ اہتمام شائع ہونے والا 96 صفحات پر مشتمل تیسرا مجموعہ کلام ’’ طائرِ ہجرت ‘‘ 200 اشعار پر محیط ایک طویل نظم ، 4 قطعات ، 12 دیگر غزلوں اور3 ناقدانہ مضامین (عاصی رضوی ،مسرور احمد بریلوی،احسان الٰہی احسان) کو شاعر کی سرگوشی سمیت اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے نمونۂ کلام ملاحظہ فرمائیے ۔۔ 
بیٹھ کر ساتھ ساتھ کیا ہوگا
جب دلوں میں ہی فاصلہ ہوگا
اوٹ سے ظلمتوں کی دیکھو گر
کوئی سورج نکل رہا ہوگا
آج جو راہزنی میں یکتا ہے
دیکھنا کل یہ راہنما ہوگا
۔۔۔۔۔۔
پھر سے وہ لوٹ کر نہیں آیا
پھر دعا میں اثر نہیں آیا
لکھتے دیکھا تھا خواب میں ان کو
اب تلک نامہ بر نہیں آیا
یوں تو پتھر بہت سے دیکھے ہیں
کوئی تم سا نظر نہیں آیا
۔۔۔۔۔
ہم سے ملتے تھے ستارے آپ کے
پھر بھی کھو بیٹھے سہارے آپ کے
کیسا جادو ہے سمجھ آتا نہیں
نیند میری خواب سارے آپ کے
۔۔۔۔۔
وطن سے دور ماں سے دور اک گھاٹے کا سودا تھا
خسارا لے لیا میں نے افادہ چھوڑ آیا ہوں
۔۔۔۔۔
بھلا کیسے بتاؤں میں کہ کیا کیا چھوڑ آیا ہوں 
میں کچھ سکوں کی خاطر اک خزانہ چھوڑ آیا ہوں
۔۔۔۔
کبھی جاؤں تو ہنستا ہوں ، چلا آؤں تو روتا ہوں
میں آدھا آ گیا ہوں خود کو آدھا چھوڑ آیا ہوں
طائرِ ہجرت کے حوالے سے عصرِ حاضر کے انتہائی اہم و معتبر شاعر جناب قمر رضا شہزاد لکھتے ہیں کہ’’ سید ایاز مفتی نہایت چابکدستی سے رواں دواں مصرعوں میں اپنے دل کی بات بیان کرتے ہیں اور یہ وہ ہنر ہے جو شعر کو دوام بخشنے کی اہلیت رکھتا ہے تازہ کاری اور نئی بات کہنے کی کوشش نے ان کی غزل کو مزید توانا کیا ہے ‘‘
خوبصورت و توانا لب ولہجے کے مالک جناب جاوید احمد یوں رقم طراز ہیں کہ ’’مفتی کی غزلیں دیکھنے کو ملیں تواندازہ ہوا کہ وہ بہت عرصے سے غزل پیمائی میں مبتلا ہیں اور غزل کی روایت کو برقرار رکھے ہوئے ہیں روایت سے نکل کر جدید تناظر میں داخل ہونے کی جستجو بھی کئی ایک مقامات پر نظر آئی امید کی جانی چاہئے کہ ان کا یہ مجموعہ کلام اہلِ نظر کی توجہ ضرور کھینچے گا ‘‘
ڈاکٹر سید شہزاد احمد کی رائے یہ ہے کہ ’’ ابنِ مفتی ہمیشہ سے ہی حیران کن اور ناممکن کو ممکن کر دکھانے والی شخصیت رہے ہیں ‘‘
نظم کی نامور شاعرہ محترمہ بشرٰی سعید کہتی ہیں کہ ’’ طائرِ ہجرت ایسا شعری اظہار ہے جس نے دیارِ غیر میں بسنے والوں کے احساسات اور جذبات کی بھرپور ترجمانی کی ہے جو میرے نزدیک ایک منفرد کوشش ہے اسے جتنا بھی سراہا جائے کم ہے ‘‘
صدر ایوانِ ادب چکوال جناب احسان الٰہی احسان یوں اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں ’’ طائرِ ہجرت مہد سے لیکر کالج ، جوانی، محبت، دوستی ، وطن پرستی ، مذہبی رواداری اور اس کے فقدان جیسے موضوعات کا بھی ابنِ مفتی نے احاطہ کیا ہے اور ایسی تمام رویات جنہیں ہم ترک کرتے جارہے ہیں ان کی طرف بھی توجہ دلائی ہے میں امید کرتا ہوں کہ یہ کتاب منفرد اور اچھوتے انداز کی کتاب قرار پائے گی ‘‘
سرپرستِ اعلٰی تقدیسِ ادب یو ایس اے جناب مسروراحمد بریلوی ان الفاظ میں ابنِ مفتی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں ’’ ایاز مفتی نے ہر اک خیال کو آئینۂ خیال بنایا ہے وہ مزید لکھتے ہیں کہ ابنِ مفتی وہ پودا ہیں جو تنا ور درخت کی شکل اختیار کر چکا ہے جس کی گھنی چھاؤں سے غالباََ پورا ہیوسٹن مستفید ہو رہا ہے ‘‘
عالی جناب عاصی رضوی کہتے ہیں کہ غیر معیاری کلام ہو یا ترنم حلق سے نہیں اترتا مگر مفتی صاحب کے ترنم نے تو مجھے مسحور کر دیا ان کی کاوش ادب نواز طبقے میں بے حد سراہی جائے گی ‘‘ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com