طارق اسمعیل ساگر کے نام سے  ان کی علمی وادبی خدمات کے اعتراف میں ایک پروقار تقریب  ساگر ایوارڈ 2018کا انعقاد

تقریب تقسیم ساگر ایوارڈ 2018 

رپورٹ.. شاد پندرانی

بلوچستان کے ساؤتھ ایسٹ میں واقع ضلع جعفرآباد تاریخی,ذرخیزاور اہم خطہ ہےاس خطے میں کئی اقوام آباد ہونے کی وجہ سے یہ مختلف زبانوں کا مرکز بھی ہے جس میں براہوئی,بلوچی,سندھی, سرائیکی کے علاوہ دیگر زبانیں بھی یہاں بولی جاتی ہیں.یہ ضلع کاشتکاری کے حوالے سے بھی بہت اہمیت کا حامل ہے جہاں سے سالانہ کئی ٹن چاول اور گندم کاشت کی جاتی ہے جو اعلی اور بہترین قسم کے ہونے کی وجہ سے پورے پاکستان میں مشہور ہیں.

بلوچستان کے اس ضلع کو یہاں کے علمی و ادبی ذوق رکھنے والے اہل قلم نے اسکی قدرومنزلت کو پاکستان بھر میں منفرد مقام پر پہنچا دیا ہے. ادبی رونقوں کو بحال رکھنے کیلیئے فکروعمل کا سلسلہ آج تک جاری وساری ہے.اس ضلع کی علمی وادبی روائتوں کو کو برقرار اور نوجوان نسل کو فروغ ادب کی طرف راغب کرنے کے لیئےضلع جعفرآباد کے ہیڈکوآرٹر ڈیرہ اللہ یار میں تشنگان علم وادب نے 

گزشتہ دنوں علمی,ادبی اور سماجی خدمات کے لیئے کوشاں ملی ادبی فاؤنڈیشن (پاکستان) ڈیرہ اللہ یار کے زیر اہتمام پاکستان کے معروف ادیب طارق اسمعیل ساگر کے نام سے  ان کی علمی وادبی خدمات کے اعتراف میں ایک پروقار تقریب  ساگر ایوارڈ 2018کا انعقاد ضلع کونسل ہال میں کیا گیا. نظامت کے فرائض درس وتدریس منسلک معروف ادیب شعلہ بیان محمدایوب منگریو نے اداکیئےاس پروقار تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا جسکی سعادت ہونہار طالبعلم محمد عزیر نے حاصل کی حضورصہ کی شان میں ڈیرہ اللہ یار کے مشہور نعت خواں محمد اویس لاشاری نے گلہائے عقیدت پیش کی.صدارت ضلع جعفرآباد کے بزرگ عالم ادیب پروفیسر جناب محمد ایوب منصور نے کی جبکہ مہمان خاص ADCجعفرآباد جناب محمد یعقوب بنگلزئی اور اعزازی مہمان پروفیسر ڈاکٹرمحترمہ زینت ثناء بلوچ تھیں.

چیئرمین محمد اسلم آزاد نے ملی ادبی فاؤنڈیشن کے اغراض ومقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ ایک علمی ادبی اور فلاحی تنظیم ہے جسکا مقصد عصر حاضر اور گمنام لکھاریوں کی حوصلہ افزائی کے لیئے جامع اقدات,ان کے لیئے تربیتی پروگرموں کا اہتمام اور نوجوان نسل کو علم و ادب کی اہمیت وافادیت کے متعلق آگاہی دینا ہے کیونکہ آج بہت سے نوجوان علم وادب سے دوری اختیار کیئے ہوئے ہیں یہ ہم سب کے لیئے باعث فکر ہے.انہوں نے مزید کہا کہ ملی ادبی فاؤنڈیشن اپنی مدد آپ کے تحت متعدد ادبی تقاریب کا انعقاد کراچکی ہےآج کا یہ تقریب بھی اس سلسلے کی ایک کڑی ہے.

بھاگ سے تشریف لائے ہوئے نوجوان قلمکار مصنف محمد رفیق مغیری نے کہا کہ ہمارا معاشرہ دو دہائیوں سے تنزلی کا شکار ہے.انتہا پسندی,قتل و غارت گیری نے ہمارے معاشرے کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے یہ سب علم وادب سے دوری کا نتیجہ ہے اس لیئے ہمارے قلکاروں کو چائیے کہ اپنے تحریروں میں نوجوان نسل کو آگاہی کا پیغام دیں.انہوں نے کہا کہ اس طرح کے ادبی تقریبات کا اہتمام حکومتی سرپرستی میں ہونے چائیے لیکن ملی ادبی فاؤنڈیشن پاکستان نے یہ قدم اٹھاکر ایک تاریخ رقم کر دی ہے.

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نصیرآباد ویلفیئر سوسائٹی ڈیرہ مرادجمالی کے چیئر مین عادل ابڑو نے کہا کہ ضلع جعفر آباد ادبی لحاظ سے کافی ذرخیز ہے جہاں اعلی درجے کا ادب تخلیق ہو رہا ہےیہاں کے مقامی تخلیق کاروں کی مخلصانہ جستجو نے ادب کو مزید پروان چڑھایا ہے جسکی  وجہ سے آج جعفرآباد کا نام ادبی حلقوں میں معتبر مانا جاتا ہے.انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کے ادبی تقریبات میں اگر معروف ادیب یوسف عزیز مگسی کو یاد نہ کرنا ادبی محفلوں کی بے ادبی ہوگی,یوسف عزیزمگسی کا شمار ان ادباء میں ہوتا ہےجنہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے امن ومحبت کو فروغ دیا.انکا نام ادبی حلقوں میں ہمیشہ زندہ ہے اور رہے گا.انہوں نے ملی ادبی فاؤنڈیشن پاکستان کے تمام عہدیداران وممبران کو خراج تحسین پیش کیا اور اپنے ہر ممکن تعاون کا یقین دہانی بھی کرائی.عادل ابڑو نے ملی ادبی فاؤنڈیشن پاکستان کے اس ادبی کاوش کو سراہتے ہوئے نصیرآباد ویلفیئر سوسائٹی کی جانب سے ملی ادبی فاؤنڈیشن پاکستان کے تمام عہدیداروں کو انکے ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں نصیرآباد ادبی ایوارڈسے بھی نوازا.

جعفرآباد پریس کلب ڈیرہ اللہ یار کے صدر لعل محمد شاہین نے کہا کہ جعفرآباد کی تاریخ میں آج تک اس طرح کا ادبی تقریب منعقد نہیں ہوا.آج میرا سرفخر سے بلند ہوا ہے کہ جعفرآباد جیسے پسماندہ ضلع میں بھی علم وادبی خدمات سر انجام دینے والے قلمکار موجود ہیں اور اس تقریب کی وجہ سے ہم بھی ایوارڈیافتہ صحافی کہلائیں گے.اس جیسے ادبی تقریبات نوجوان نسل کو علم وادب کی طرف راغب کرنے میں بہترین راہنما ثابت ہوتے ہیں اسلیئے اس طرح کے ادبی تقاریب کا اہتمام کرنا ضروری ہے.ہم انشاءاللہ پریس کلب ڈیرہ اللہ یار اور ملی ادبی فاؤنڈیشن پاکستان کے اشتراک سے ہر سال پریس کلب میں ادبی تقریب اور محفل مشاعرہ کا انعقاد کریں گے.

جیکب آباد سندھ سے تشریف لائے ہوئے معروف افسانہ نگار سلیم اختر نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ادیب اس اماج کی دکھتی رگوں کو محسوس کرکے اس معاشرے کی عکاسی کرتا ہے.محبت وامن اور سلامتی کا پیغام پہنچانے والا قلمکار ایک بہترین ادب نواز اور زندہ قوموں کی نشاندہی کا سبب بھی ہوتا ہے.ملی ادبی فاؤنڈیشن نے اپنے حصے کی شمع تو روشن کردی ہے اب اس شمع کو ہمیشہ روشن رہنے کی ضرورت ہے. تاکہ یہ دھرتی علم وادب کی بہترین درسگاہ ثابت ہو سکے.

صدرمحفل محمد ایوب منصور نے کہا کہ علم وادب کے فروغ کے لیئے تمام قلمکاروں کو مل جل کر کام کرنا چائیے تعصب اور گروہ بندی کو ختم کر کے پائیدار ادب تشکیل دینے کا وقت آگیا ہے.اس جاگیردارانہ معاشرے میں کبھی شائستہ ادب تخلیق نہیں ہو سکتا کیونکہ ازل سے جاگیردارنہ صرف عوام دشمن ہے بلکہ ادب اور ادیبوں کا دشمن بھی ہے.اسلیئے اس معاشرے کو محبت کا گہوارہ بنانے کے لیئے اپنی فنی اور فکری صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں.

اعزازی مہمان پرفیسر ڈاکٹر محترمہ زینت ثناء بلوچ نے کہا کہ علمی,ادبی اورسماجی اعتبار سے اس خطے کی تاریخ,تہزیب اور ثقافت بہت ہی اہمیت کا حامل ہے.اگر ہم ادبی تاریخ کا مطالعہ کریں تو اسمیں بہت سے اعلی پائیہ کے خواتین رائٹرز کا ذکر بھی ملتا ہےجنہوں اس خطے کی تہزیب و ثقافت کو اپنی تخلیقی قوت سے بلند مقام تک پہنچایا ہے.انہوں نے مزید کہا کہ اصل تخلیق کارتو خواتین رائٹرز ہوتی ہیں جنکی مختلف موضوعات ان کی بہترین تخلیق کی ترجمانی کرتی ہیں اس لیئے جب تک ہم خواتین رائٹرز کو ان کے مرتبہ میں رہتے ہوئےانکا ادب تخلیق نہیں کرینگے تو تب تک ہم ادب کے صحیح راستے متعین نہیں کرسکتے.اس موقع پر ملی ادبی فاؤنڈیشن کے چیئرمین محمد اسلم آزاد نے محترمہ زینت ثناء بلوچ کو بہترین ادب تخلیق کرنے پر ایوارڈسے نوازا.

مہمان خاص ADCجناب محمد یعقوب بنگزئی نے کہا کہ استحقام پاکستان اور سلامتی کے لیئے نوجوان نسل کو علم وادب جیسے ہنر سے آراستہ کرنا ضروری ہے.پاکستان کا ہر نوجوان باکمال صلاحیتوں کا مالک ہے انہوں نے کہا کہ وہ معاشرہ کبھی ترقی کے منازل طے نہیں کر سکتا جہاں علم وادب سے دوری اختیار کی ہو.جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں ہر چیز میسر ہےاسلیئے تحقیق کے ذریعے ادب کو فروغ دیں تاکہ نوجوان نسل کی بہترین آبیاری ہو سکے.انٹرنیٹ کے منفی استعمال نے ہمیں کتب بینی سے دور کردیا ہےاسلیئے گردآلود اورمنجمند ذہنوں کو ترغیب دینے کے لیئے لائبریریوں کا قیام بھی اشدضروری ہے تاکہ نوجوان نسل میں میں کتاب پڑھنے کا شوق پیدا ہو.

اس تقریب میں معروف شاعر جناب پروفیسرمنظوروفا,

شمس ندیم,عاشق بلوچ, شمس مہجور اوربقاءمحمدبقاء نے اپنااپنا کلام سناکر خوب داد سمیٹی.

اس تقریب میں پاکستان بھر سے تشریف لانے والے قلمکاروں,صحافیوں,سماجی کارکنوں کے علاوہ دیگر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو ساگر ادبی ایوارڈ سے نوازا گیا.

اختتامی کلمات ملی ادبی فاؤنڈیشن کے فنانس سیکریٹری ایم اے شکیل نے تمام شرکاء کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا.

جاری کردہ.. شاد پندرانی

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com