”بچوں کے سائنسی ادب کی ضرورت اوراہمیت” سیمینارکا انعقاد

بچوں کے سائنسی ادب کی ضرورت اوراہمیت
اُردو سائنس بورڈ کے زیرااہتمام اکادمی ادبیات اطفال اور ماہنامہ پھول کے اشتراک سے سیمینارکا انعقاد

از:حسیب اعجازعاشرؔ 
ایک طرف تو بچوں کا ادب ہی بہت کم تخلیق پا ررہا ہے دوسری طرف کمپیوٹراور موبائل جیسی ٹیکنالوجی کے بجا استعمال نے بچوں میں ویسے ہی مطالعے کا شوق بالکل ختم کر کے رکھ دیا ہے۔ایک کلک پر حسب منشاء لطف اندوز ہونے کو سب سامان میسر ہو تو مطالعے کی زحمت کیوں؟والدین بھی بچوں کے دلجمعی سے مصروف رہنے پر مطمعن نظر آرہے ہیں ،جبکہ یہ بات قابل فکر ہے جس سے والدین بے خبر ہیں کہ دن بھرگیمز میں مشغول رہنے کارٹون سے دل بہلانے سے بچوں کی شخصیت پرکئی منفی رحجانات اثرپذیر ہوتے ہیں؟یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہیے کہ مطالعہ شخصیت نے نکھار پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ نظریات،عقائد،خواہشات اور سوچ کو بہتر انداز میں سمجھنے کی صلاحیت بھی اُجاگر کرتا ہے ۔ میڈیکل ریسرچ کے مطابق مطالعہ ذہنی تناؤ کو دور بھی کرتا ہے اور دماغی انحاط کو بھی روکتا ہے ۔ ایک رپورٹ کے مطابق جن بچوں کو سات سال کی عمر میں پڑھنے کی تیز عادت ہوتی ہے آگے چل کے انکا آئی کیو بلند ہوتا جاتاہے۔اگر بچوں کو کسی نہ کسی صورت مطالعہ کیلئے راغب بھی کرلیا جائے تو خاطرخواہ وہ کتب عام میسر نہیں جو بچوں کو عصر حاضر کی جدید تقاضے سے ہم آہنگ رکھ سکیں۔یہ کیسے ممکن ہے کہ انڈروائیڈ پر وقت صرف کرنے والے بچے پرندوں،پریوں کی کہانیوں سے لطف اندوز ہوں؟ہمیں سمجھنا ہوگا کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے اس ترقیاتی دور میں بچوں کے ادب میں بھی سائنسی رنگ کو کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جاسکتا بصورت دیگر بچے ترقی کی دوڑ سے کہیں باہر نہ ہو جائیں ۔ اِس سنگین مسئلہ پر اہل قلم حضرات نے سنجیدگی غور وفکر شروع کر دیا ہے،خوش آئند بات ہے کہ اُنہیں اِس اہمیت کا احساس ہونے لگا ہے کہ نئی نسل کی اچھی تعلیم وتربیت ، تعمیر اورتشکیل کے لیے سائنسی ادب بہت ضروری ہے ۔اِسی حوالے سے اُردو سائنس بورڈ کے زیرااہتمام اکادمی ادبیات اطفال اور ماہنامہ پھول کے اشتراک سے’’بچوں کے سائنسی ادب کی ضرورت اور اہمیت‘‘کے موضوع پرایک سیمینارکا انعقادتازہ خوشبودارہواکا جھونکا ثابت ہوا ہے ۔ ڈاکٹر ناصر عباس نیر ڈائریکٹر جنرل اردو سائنس بورڈ کی زیرصدارت اس تقریب میں معروف ادیب ،دانشور اور ڈائریکٹر مجلس ترقی ادب ڈاکٹر تحسین فراقی کو خصوصی طور پر مدوح کیا گیا تھا سیمینارسے ڈاکٹرتحسین فراقی، ڈاکٹر ناصر عباس نیّر،ماہنامہ پھول کے ایڈیٹرشعیب مرزا، چیئرمین اکادمی ادبیات اطفال حافظ مظفر محسن، ڈاکٹر اشفاق احمد ورک، ڈاکٹر غفور قاسم شاہ، ڈاکٹر حمیراارشاد، پروفیسر شاہ زیب خان، پروفیسر ڈاکٹر طارق ریاض خان، زاہد حسن، نوید مرزا، جمیل احمد اورزاہد حمید نے خطاب کیا۔سیمینارمیں تسنیم جعفری، محمد نوید مرزا، زبیر وحید بٹ،حافظ محمد زاہد، محمد عتیق، مظہر چوہدری، طلبا سمیت اساتذہ، بچوں کے ادب کے ماہرین، کالم نگار، ادیب اوردیگر افرادنے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ 
پروگرام کا باقاعدہ آغاز جمیل احمد کی پرسوز آواز میں تلاوت قرآن پاک سے کیا گیا ۔نظامت کے فرائض پبلک ریلیشن آفیسر ذوالفقارعلی نے بڑے احسن انداز وبیان میں سرانجام دیئے ،اِن کا کہنا تھا کہ ایک کہاوت کے مطابق اگر ایک سال کیلئے منصوبہ بندی کرنی ہے کھیتی بار کرنا چاہیے، بیس سال کی منصوبہ بندی کرنی ہے تو باغات لگانے چاہیے اگر طویل المدت منصوبہ بندی کیلئے نسلوں کو تیار کرنا ہوگا ،اور یہ خواب ادب کے بغیر شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔
زاہدہ حمیدنے ابتدائیہ کلمات پیش کرتے ہوئے مہمانانِ گرامی کو خوش آمدید کہا ا،زاہدہ صاحبہ نے ’بچوں کے سائنسی ادب کی ضرورت اور اہمیت‘‘ کے موضوع پر اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ماحول، والدین، سکول،اساتذہ بچے کی تعلیم و تربیت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔ یہی عناصر بچوں کو سائنسی ادب کی جانب راغب کرنے میں اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں مگر افسوس کہ ہم تو ابھی زبان کی کشمکش کا ہی شکار ہیں اور یہاں کتاب خریدنے کو ہی فضول خرچی تصور کیا جاتاہے ۔ اِس موقع پر سائنس بورڈ کی جانب سے سائنسی علوم کی اشاعت و تشہیر کے حوالے سے کاوشوں کا بھی ذکر کیا گیا ۔اختتام پر انہوں نے اِس عزم کا اظہار بھی کیا ہے آئیے کتابوں کو تحفوں میں پیش کرنے کی عادت ڈالیں اور مل کر بچوں کو کتاب کے ساتھ دوستی کرنے کا ہنر سیکھا دیں ۔ 
ایڈیٹر پھول میگزین شعیب مرزا اپنے خیال کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سائنس اُردو بورڈ کے زیراہتمام یہ سیمینار بچوں میں سائنسی ادب کے فروغ کیلئے ایک سنگ میل ثابت ہوگی،اُن کا کہنا تھا کہ بچوں کیلئے سوالات و جوابات پر مبنی کتب زیادہ فروخت ہوتی ہیں ،سائنس اور ادب ہمارے حکمرانوں کی ترجیحات میں بھی شامل نہیں۔اُن کا خیال تھا کہ بچوں میں سائنسی ادب کو فروغ دینے کیلئے کتابوں سے زیادہ رسائل اہم کردار ادا کرسکتے ہیں ، جس سے بچوں میں قوت تخیل اور جستجو میں اضافہ ممکن ہے،جبکہ وقت تقاضہ کررہا ہے کہ ادیبوں کو سائنس کی جانب راغب کیا جائے اور سائنسی علوم پر عبور رکھنے والوں کو ادب کی جانب مائل کیا جائے۔
جمیل احمد نے ’’اُردو سائنس بورڈ‘‘کے قیام کے مقاصد اور کامیابیوں کے حوالے تفصیلی تعارف پیش کیا ۔ نوید مرزا نے موضوع کے حوالے سے اپنے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سائنس ایسا عمل ہے جو کائنات کے ذرے ذرے کا علم دیتا ہے اور موجودہ دور میں سائنسی بنیادوں پر علم حاصل کرنے کی ضرورت ہے ۔ بچوں کے نصاب میں یہ علم تو قدرے موجود ہے مگر غیرنصابی تعلیم میں سائنس کافقدان ہے، ہمیں طویل المدت اور جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے تا کہ جدید اور نئی دنیا کی ترقی سے ہم آہنگ ہوا جائے اِنہوں نے اِس حوالے سے تجاویز بھی پیش کئے ۔ 
غفور ہاشمی کا کہنا تھا کہ سائنس بورڈ نے وقت کی اہم ضرورت کو سمجھا ہے جس پر ادارہ خراجِ تحسین کا مستحق ہے،آج کی تقریب ایک مثبت اور اہم قدم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم بچوں کے ادب میں بہت پیچھے ہیں ۔اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ہم بچوں کے ادب میں بہت پیچھے ہیں اور بچوں کے ادب میں سائنس رنگ کی افادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ۔
حمیدہ ارشاد نے اپنے اظہارات کا خیال کرتے ہوئے کہا کہ بچوں میں مطالعے کا ذوق کم ہو رہا ہے ۔ الیکٹرانک میڈیا کے اس دور میں بچوں میں سائنس کا رحجان پیدا کرنا بہت ضروری ہے ،بڑی اہم نقطے پر متوجہ مرکوز کراتے ہوئے کہا سائنسی ادب بھی اپنی زبان میں ہی منتقل ہونا چاہیے۔
اشفاق احمد ورک تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اردو ادب کے ادارے سیاسی بندربانٹ کی نذر ہو چکے ہیں ۔مگر یہاں میرے لئے باعث مسرت ہے کہ اُردو سائنس نے اس سنجیدہ معاملے کی جانب اہم پیش رفت کی ہے ۔ بچگانہ ادب کے ساتھ ساتھ بچوں کا ادب بھی تخلیق ہونا چاہیے (شرکاء اِس بیان پر کھلکھلا اُٹھے)،انہوں نے مزید کہا کہ مطالعہ زندگی میں نکھار پیدا کرتا ہے مطالعے سے بچے اپنامستقبل خوش تلاش کرنے کے اہل ہوجاتے ہیں ۔
محمد اسلام نشترنے سائنسی ادب پر کام کرنے والے لکھاریوں کو قابل احترام قرار دیا ، انہوں نے سیرحاصل گفتگو کرتے ہوئے پاکستان میں سائنسی ادب پر ہونے والے کاوشوں کا بھی تفصلی تذکرہ سماعتوں کی نذر کیا ۔اس حوالے سے بزم سائنسی ادب کے عملی اقدامات پر روشنی ڈالی ۔انہوں نے کہا کہ ہمیں سائنسٹفک سوسائٹی تشکیل دینے کے اقدامات اُٹھانے ہونگے،کام وہی طریقے وہی بس ہمیں تقریروں کے دائرہ کار سے نکل کر عمل کرکے دکھانے کی اشد ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ جب سائنس دوسروں کی ہے تو زبان بھی اُن کی ہو گی ،اگر ہم حوصلہ بلند رکھتے ہوئے چلتے رہے تو سائنس بھی اپنی ہوگی اور زبان بھی اپنی۔ہمیں جامع سائنسی لغت تیار کرنا ہو گی کیونکہ سائنسی ادب کی بات کرنے والوں کی آج تربیت بھی سائنسی نہیں ،جس کے لئے تازہ صلاحیتیں ہمیں نوجوانوں سے ہی مل سکتیں ہیں ، انہوں نے خوشی کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح اہل قلم کا مل بیٹھنا غمازی ہے کہ خیالات ابھی زندہ ہیں ۔ 
زاہد حسن نے اپنے تاثرات میں کہا کہ اس تقریب کے انعقاد میں سائنس اُردو بورڈ کی بچوں کے روشن مستقبل کیلئے فکرمندی کی جھلک نظر آ رہی ہے ۔ انہوں نے کہ اکثر و بیشتر احباب اس بات پر متفق ہیں کہ بچوں میں مطالعے کا رحجان پیدا کیا جائے ،تو یہاں اس نقطے پر غوروفکر کی ضرورت ہے کہ بچوں میں مطالعے کا رحجان کیسے پیدا کیا جا سکتا ہے ؟بچوں میں ہفتے میں ایک دو کہانیاں سنائیں جائیں تا کہ وہ آہستہ آہستہ خود مطالعے کی جانب آئیں،جدید خطوط پر کتابیں شائع کی جائیں،دوسری زبان کی کتابوں کے متراجم بھی ہونے چاہیے ۔
پروفیسر ڈاکٹرطارق خان (سائنسی بابو)نے کہا یہ بات باعث تقویت ہے کہ معاشرے میں وہ افراد موجود ہیں جو اس نقطے پر سوچ رہے ہیں کہ بچوں میں سائنسی ادب کو کیسے فروغ دیا جائے؟سائنسی ادب پر اپنے نقطہ نظر پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہم صرف بٹن دبا پر ایٹمی طاقت نہیں بن گئے،بلکہ پس پردہ ایک ویژن اور ایک مشن تھا ۔تفکر سے کام لیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ آپﷺ کی حیات طیبہ بھی سائنس ہے۔ سائنس کوئی لکھنے یا پڑھنے کا نام نہیں بلکہ سائنس تو طرزِعمل اور طرزِ فکر کا نام ہے اور اس کے لئے علم درکار ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کہانی ہی ذہن سازی کرتی ہے اور بچوں میں مطالعے کا شوق بڑھانے کے لئے میں ضروری سمجھتا ہوں کہ طلبا و طالبات میں مطالعے کے خصوصی نمبر ملنے چاہیے جس سے لائبریروں ،بک سٹال میں طلبا و طالبات کی جانب رحجان پیدا ہوگا۔
پروفیسر شاہ زیب کا کہنا تھا کہ پاپولر سائنس کو بطور صنف متعارف کروانے کی اشد ضرورت ہے ۔
کادمی ادبیات اطفال کے وائس چیئرمین حافظ محمد مظفر محسن اپنے خیالات پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود بچوں کو جنوں پریوں کی کہانیاں پڑھائی جا رہی ہیں ،ڈاکٹر ناصر عباس نیّر کی سرپرستی سائنس اُردو بورڈ صیح سمت پر گامزن ہے،ادب میں سائنسی ترقی کیلئے اپنی نئی نسل کو ساتھ لے کرچلنا ہو گا۔ 
ڈاکٹر تحسین فراقی نے سیمینارسے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ سائنس سے منہ موڑنا دین پر عمل نہ کرنے کے مترادف ہے،قرآن تفکر کرنے کی تلقین کرتا ہے، علم حیوانات، علم نباتات، علم ریاضیات، علم فلکیات سمیت دیگر علوم کی نشاندہی قرآنی آیات میں ہی ملتی ہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ کہ نوجوان نسل کے لیے عمدہ سائنسی ادب کی تخلیق کے ذریعے ان کی بہتر تربیت کی جاسکتی ہے۔ اس سے نئی نسل کو آئندہ زندگی میں درپیش چیلنجوں کو احسن انداز میں نمٹنے کے لیے پوری طرح تیارکیا جاسکتاہے۔انہوں نے کہاکہ اردو دنیاکی تیسری بڑی زبان ہے۔ اپنی زبان میں تخلیق کردہ ادب ہی معاشرے میں فروغ پاسکتاہے اوریہ بچوں کو کامیاب انسان بنانے میں مددگار ثابت ہوسکتاہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ ہم بچوں کے لیے سائنسی ادب تخلیق کرنے کے لیے اپنے اسلاف کی تخلیقات سے آج بھی بھرپور استفادہ کرسکتے ہیں۔
ڈائریکٹرجنرل اردو سائنس بورڈ ڈاکٹر ناصر عباس نیّر نے سیمینارکے شرکاکا شکریہ اداکرتے ہوئے اپنے خطاب میں کہا کہ کتاب تفریخ اورتعلیم کا سب سے بہترین ذریعہ بن سکتی ہے۔ امتحانی نظام میں کتب بینی کے مضمون کو شامل کرکے نوجوان نسل کو کتب بینی کی طرف راغب کیا جاسکتاہے۔ انہوں نے کہاکہ بچوں کے سائنسی ادب کے فروغ کے لیے اردو سائنس بورڈ جلد ایک ایوارڈ کا اجراکرے گااور اس سلسلے میں ایک ورکشاپ کا بھی اہتمام کیا جائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com