حیراں ہے وہ بھی وُسعتِ پرواز دیکھ کر: جس نے ہماری فکر پہ پہرے بٹھائے ہیں

حیراں ہے وہ بھی وُسعتِ پرواز دیکھ کر: جس نے ہماری فکر پہ پہرے بٹھائے ہیں
ویشالی کلکٹریٹ میں شاندار شعری محفل کا انعقاد
محمد عرفان

حاجی پور14 دسمبر(پریس ریلیز) اردو ڈائرکٹوریٹ، پٹنہ اور اردو زبان سیل ویشالی کی طرف سے گزشتہ روز ویشالی کلکٹریٹ، حاجی پور کے کانفرنس ہال میں شاندار فروغ اردو سمینار کا انعقاد ہوا جس کے بعد ایک خوب صورت محفلِ سخن بھی سجائی گئی۔ جس میں اثر فریدی، ناظم قادری، بدر محمدی، کامران غنی صبا، ڈاکٹر قیصر جمال، بشر رحیمی، مظہر وسطوی اور اعجاز عادل ویشالوی نے اپنے کلام پیش کیے۔شعری محفل کی صدارت شعبۂ اردو بی آر اے بہار یونیورسٹی کے ایسو سی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر ممتاز احمد خاں نے کی جبکہ نظامت کا فریضہ نوجوان شاعر اور سہ ماہی دربھنگہ ٹائمز کے معاون مدیر کامران غنی صبا نے انجام دیا۔ پروگرام کا افتتاح رچنا پاٹل ضلع مجسٹریٹ ویشالی نے کیا۔ اس موقع پر اردو ڈائرکٹوریٹ کے ڈائرکٹر امتیاز احمد کریمی، سینئر ڈپٹی کلکٹر اور اردو زبان سیل، ویشالی کے انچارج محمد ظفرعالم، ڈاکٹر اسلم جاوداں انچارج اردو پروگرام اردو ڈائرکٹوریٹ، ڈاکٹر حامد علی خاں، پروفیسر محمد ظفیرالدین انصاری صدر شعبۂ اردو للت نارائن متھلا یونیورسٹی، دربھنگہ ، ڈاکٹر شفیع الزماں معظم پرنسل انٹر کالج راگھوپور، ویشالی، کاروانِ ادب حاجی پور کے سکریٹری اور معروف تحریک کار انوار الحسن وسطوی، ڈاکٹر عارف حسن، مولانا صدر عالم ندوی سمیت کثیر تعداد میں دانشورانِ علم و ادب اور محبان اردو موجود تھے۔ سمینار اور مشاعرہ کو کامیاب بنانے میں اردو زبان سیل کے انچارج محمد ظفر عالم کے علاوہ ضلع کے اردو عملہ ڈاکٹر قیصر جمال، محمد عرفان، محمد نعمان، سید مجتبی حسن، ریحانہ خانم، اقبال حیات،غیاث الدین وغیرہ پیش پیش رہے۔ شعری محفل میں پیش کیے گئے کلام کا منتخب حصہ پیش خدمت ہے:
پان پیغام ہے محبت کا
ہم وطن پاندان ہو جاؤ
اثر فریدی
گلاب و نرگس و لالہ چمن میں پھر کہاں کھلتے
جگر کے خون سے فصلِ بہاراں کر دیا ہم نے
ناظم قادری
دوسروں سے خوف کھانے کی اسے پروا نہیں
ٓآدمی خود سے ڈرا ہے آج کی تاریخ میں
بدر محمدی
حیراں ہے وہ بھی وُسعتِ پرواز دیکھ کر
جس نے ہماری فکر پہ پہرے بٹھائے ہیں
کامران غنی صبا
میں نے سیلاب کی دھاروں کی روانی دیکھی
مجھ سے بے جان سمندر نہیں دیکھے جاتے
ڈاکٹر قیصر جمال
اک دوسرے کو توڑنا جن کا تھا مشغلہ
ابکے برس وہ صاحبِ کردار ہو گئے
بشر رحیمی
خوب واقف ہوں میں موجوں کی ہنرمندی سے
مجھ کو ہی تم یہ بتاتے ہو کہ دریا کیا ہے
مظہر وسطوی
 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com