قطر میں پاکستان ایسوسی ایشن کے زیرِ اہتمام تقریبِ رونمائی اور شاندار مشاعرہ

قطر میں پاکستان ایسوسی ایشن کے زیرِ اہتمام تقریبِ رونمائی اور شاندار مشاعرہ

رپورٹ : شوکت علی نازؔ ۔ قطر 
سید فہیم الدین کے شعری مجموعے کی رونمائی اور جناب توقیر احمد شریفی اور ظہیر مشتاق رانا کی پذیرائی
دوحہ قطر کے نئے ادبی منظر نامے میں انتہائی سرعت اور مقبولیت سے اپنا اہم مقام بنا لینے والی خالص اورواحدپاکستانی ادبی اور فنی تنظیم پاکستان ایسوسی ایشن قطر (PAQ)کے زیرِ اہتمام ایک شاندارتقریبِ رونمائی ،پذیرائی اور عالمی مشاعرے کا اہتمام کیا گیا۔ دوحہ قطر اور پاکستان کے معروف ترین شاعر اور دوحہ میں سب سے زائد اردو کتب کے خالق سید فہیم الدین کی آٹھویں طبع ہونے والی کتاب ’ ’ یہ عشق پہلا نہیں ہے‘‘کی تقریب رونمائی عمل میں آئی۔ 
تقریب میں شرکت کے لیے پاکستان ؍ سعودی عرب سے خصوصاً توقیر احمد شریفی تشریف لائے جو معروف و ممتاز ادیب ہونے کے ساتھ ساتھ بہت سی ادبی تنظیموں کی سر پرستی بھی فرما رہے ہیں ، علاوہ ازیں جدید لب و لہجے کے جواں عزم اورصاحبِ اسلوب شاعرظہیر مشتاق رانابھی پاکستان ایسوسی ایشن قطر کی دعوت پرکویت سے تشریف لائے اور یہ ان کا قطر کا پہلا دورہ تھا۔تقریب کی صدارت سفارتخانہ اسلامی جمہوریہ پاکستان (قطر ) کے دفاعی اتاشی کموڈور عرفان تاج نے کی، آپ ایک علم دوست اور کمیونٹی خیر خواہ کی حیثیت مقبول ہیں۔
تنظیم کے مشیر خاص شوکت علی نازؔ نے معزز مہمانوں کو اسٹیج پر آنے کی دعوت دی جبکہ تنظیم کے بانی صدر اعجاز حیدرؔ نے مہمانان کا استقبال کیا،
تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ کلام پاک سے ہوا جس کی سعادت قاری شمس الرحمن صدیقی نے حاصل کی ،
ا عجاز حیدر نے اگلے حصے کی نظامت سنبھالتے ہوئے کویت سے تشریف لائے مہمان شاعرظہیر مشتاق رانا کا مفصل تعارف پیش کیا ، جبکہ دوسرے مہمان توقیر احمد شریفی کا تعارف بڑی خوش اسلوبی اورفنی مہارت کا ثبوت دیتے ہوئے دوحہ کے معروف شاعر اور استاد قیصر مسعود نے پیش کیا، سید فہیم الدین کے شعری مجموعے پر اپنے پختہ خیا لات کا اظہار سید فہیم الدین کے دیرینہ حبیب مترنم شاعر اور استاد محمد شفیق اختر نے کیا جبکہ شوکت علی نازؔ نے سید فہیم الدین کو منظوم خراجِ تحسین پیش کیا ۔ 
سید فہیم الدین کی آٹھویں طبع ہونے والی کتاب ’ ’یہ عشق پہلا نہیں ہے‘‘کی تقریب رونمائی بدست جناب کموڈور عرفان تاج اور دیگر مہمان شعرا ء عمل میں آئی۔ تقریب میں شرکت کے لیے آنے والے مہمان شعراء توقیر احمد شریفی ، ظہیر مشتاق رانااور تقریب کے معاونین شاہد رفیق ناز اور جاوید اقبال عابد کی خدمت میں یادگاری شیلڈ پیش گئیں۔
اس بعد اس پروقار تقریب کا اہم حصہ عالمی مشاعرہ تھا جس کی نظامت کے لئے سید فہیم الدین کو مائیک پر بلایا گیا ۔ آپ نے بڑے احسن انداز میں زمامِ مشاعر ہ اپنے ہاتھ میں لی اور حسبِ مراتب کا خیال رکھتے ہوئے شعراء کو کلام پیش کرنے کی دعوت دی ،جن شعرا ء نے اپنے کلام سے سامعین کو محظوظ کیا اور داد و تحسین سے نوازے گئے ان کے اسمائے گرامی حاضر ہیں ۔
شاہد سلطان اعظمی،ظریف مہربلوچ،اتفاق انمول، راقم اعظمی،مشرف کمال، منصور اعظمی،قیصر مسعود،اعجاز حیدر،آصف شفیع،شوکت علی ناز ، شفیق اختر،ظہیر مشتاق رانا، توقیر احمد شریفی اور صاحبِ کتاب سید فہیم الدین۔
دیگر شرکاء میں ڈاکٹر عطاالرحمن ندوی،ڈاکٹر طارق مسعود،مسٹر قیصر(PWF)،مسٹرعتیق،بزمِ صدف کی انتظامیہ ، مسٹر شہاب الدین احمد، مسٹرمحمداجمل چوہدری، مسٹر لیاقت ملک،مسٹر مراد علی، مسٹر خاور، مسٹر شاہد ندیم (قطر گیس)اور مختلف کمیونٹیز کے شائقینِ مشاعرہ شامل تھے ۔
اپنے صدارتی خطاب میں کموڈور عرفان تاج نے پاکستان ایسوسی ایشن قطر کے اراکین اور عہدیداران کو اس خوبصورت اور پُروقار تقریب کے انعقاد پر مباکباد پیش کی ،اپنی خوشی اور نیک خواہشات اظہار کرتے ہوئے آئیندہ ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
جبکہ نائب سرپرست اعلیٰ جناب تجمل آفتاب چیمہ نے تقریب میں شریک شعراء اور حاضرین کا شکریہ ادا کیا، اسطرح یہ پُر وقار ادبی تقریب اپنے اختتام کو پہنچی ۔ 
حاضرین محفل کے لئے منتظمین شاہد رفیق ناز، جاوید اقبال عابد، تجمل آفتاب چیمہ ، اعجاز حیدر ، شوکت علی ناز اور سید فہیم الدین کی جانب سے پرُ تکلف عشائیہ کا اہتمام بھی کیا گیا تھا ۔
۔ ۔ ۔ قار ئین کی دلچسپی کے لیے شعراء کرام کا منتخب کلام پیشِ خدمت ہے ۔۔۔
شاہد سلطان اعظمی۔ تھا زمانے سے گلہ مجھ کو مگر تو نے بھی ۔۔ میرے اشعار زمانے سے بھی کم تولے ہیں
ظریف مہربلوچ۔ اس لیے میں اسیر ِ زنداں ہوں ۔۔ میرے ہاتھوں میں حق کا پرچم تھا 
اتفاق انمول۔ میں کہ گمنام تھا نامور ہو گیا ۔۔ میری ماں کی دعاؤں کی تاثیر ہے 
راقم اعظمی۔ ماں دعاؤں میں تیری اثر تھا کہ میں ۔۔ معتبر ہو گیا دیکھتے دیکھتے
مشرف کمال۔ ہیں قطر والے خوش نصیب بڑے ۔۔ بیٹھے ہیں ان کے درمیان فہیم
منصور اعظمی۔ یہی ہوتا چلا آرہا ہے صدیوں سے ۔۔ ردا غریب کے سر سے امیر کھیینچتا ہے
قیصر مسعود۔ وہ جو آنکھیں خرید سکتے ہیں ۔۔ خواب سارے خرید لیتے ہیں
اعجاز حیدر۔ کون تھا دو بدو میں رویا تھا ۔۔ وہ فقط تو تھا تو ، میں رویا تھا 
آصف شفیع۔ آخر کو میں نے پا ؤں کی زنجیر توڑ دی ۔۔ آخر مرا دماغ ٹھکانے پہ آ لگا 
شوکت علی ناز ۔ دل کی د ھڑکن اُ سی کے دم سے ہے ۔۔ اِس پہ وہ نازؔ کیوں نہیں کرتا 
شفیق اختر۔ مجھے صدیوں پرانا ہی مرا آغاز کافی ہے ۔۔ عرب کے ایک اُمی کا مجھے انداز کافی ہے
ظہیر مشتاق رانا۔ جس حبس میں رکھا ہے مجھے تو نے خدایا ۔۔ اس حبس میں بے جان بھی رکھا نہیں جاتا
توقیر احمد شریفی ۔ یوں سرِ بزم تماشا نہ بنا میرا خلوص ۔۔ تیرا محکوم ہوں میں سارے زمانے کا نہیں
سید فہیم الدین۔ میرے رستے کو کاٹنے والو ۔۔ جاؤ یہ راستہ تمہار ا ہوا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com