۲۱واں عالمی فروغِ اُردو ادب ایوارڈ ۲۰۱۷ء

۲۱واں عالمی فروغِ اُردو ادب ایوارڈ ۲۰۱۷ء
خصوصی عالمی فروغِ اُردو ایوارڈ
۲۳واں سالانہ عالمی مشاعرہ ۲۰۱۷ء

رپورٹ: فرقان احمد پراچہ
عالمی شہرت یافتہ ادبی تنظیم ’’مجلس فروغِ اُردو ادب دوحہ ۔قطر‘‘ کے زیرِاہتمام انعقاد پذیر سالانہ تقریب میں ڈاکٹر حافظ جنید عامر سیال،ڈاکٹر محمد علیم ،جناب محمد عتیق ، جناب محمد صبیح بخاری نے ،ادبأ و شعرأ، عمائدینِ شہراور سیکڑوں محبانِ اردوادب کی موجودگی میں’’۲۱واں عالمی فروغِ اُردو ادب ایوارڈ۲۰۱۷ء‘‘، اُردو زبان وادب کی تاحیات گراں قدر اور اعلیٰ ترین خدمات کے اعتراف میں مشترکہ طور پر پاکستان سے نامور ادیب و دانشور پروفیسرفتح محمد ملک اور ہندوستان سے معروف فکشن نگارپروفیسر ڈاکٹر عبدالصمداور ’’خصوصی عالمی فروغِ اُردو ایوارڈ ‘‘ ڈاکٹر سیّد تقی عابدی کو تالیوں کی گونج میں پیش کیا۔
۱۹۹۶ ؁ء سے تاحال تواتر اور تسلسل کے ساتھ ہر سال ایک پاکستانی اور ایک ہندوستانی ادیب کی خدمت میں پیش کیا جانے والا ’’عالمی فروغِ اُردو ادب ایوارڈ‘‘ ایک لاکھ پچاس ہزارروپے کیش اور طلائی تمغے پر مشتمل ہے۔ ۱۹۹۶ ؁ء میں اجرأ پذیر ’’عالمی فروغِ اُردو ادب ایوارڈ‘‘احمد ندیم قاسمی اور پروفیسر آلِ احمد سرور سے لے کر اب تک ۲۱ پاکستانی اور۲۱ہندوستانی نثر نگاروں کی خدمت میں پیش کیا جا چکا ہے۔ ’’عالمی فروغِ اُردو ادب ایوارڈ ‘‘دنیائے اُردو میں درجۂ استناد حاصل کیے ہوئے ہے یہی وجہ ہے کہ دنیائے اردوکے ہرادبی فورم اور انفرادی سطح پر بھی پاک و ہند کے آزاد و خود مختار پینل آف ججز کے فیصلے کی توثیق کی جاتی ہے۔ 
مجلس کی سالانہ تقریبات کے سلسلے کی پہلی کڑی ’’تقریبِ پذیرائی برائے ایوارڈیافتگان‘‘ہے،جس کی میزبانی کا شرف گذشتہ اکیس سال سے چیرمین مجلس محمد عتیق اور رکن سرپرست کمیٹی بیگم شمیم عتیق کو حاصل ہے ، تقریبِ پذیرائی بتاریخ یکم نومبر۲۰۱۷ء بروز بدھ ، میریٹ ہوٹل سٹی سنٹردوحہ میں ایوارڈ یافتگان پروفیسرفتح محمد ملک،پروفیسر ڈاکٹر عبدالصمداور ڈاکٹر سیّد تقی عابدی کے اعزاز میں ہونے والی تقریب کی

????????????????????????????????????

صدارت چیئرمین پاکستان جیوری پروفیسر ڈاکٹر خورشید رضوی نے کی ،مہمانِ خصوصی پروفیسر شافع قدوائی تھے ،جبکہ نظامت کے فرائض جنا ب فرتاش سیّد نے خوش اسلوبی سے سرانجام دیے۔ناظمِ تقریب نے پروگرام کا آغازتلاوتِ کلام سے کرتے ہوئے مجلس کا اجمالی تعارف پیش کیا۔
پروفیسر فرتاش سیّد نے خصوصی عالمی فروغِ اُردو ایوارڈ ونر ڈاکٹر سیّد تقی عابدی کے فنی سفر پر سیرحاصل گفتگو کی۔ڈاکٹر سیّد تقی عابدی نے ایوارڈ کو شرفِ قبولیت بخشتے ہوئے چیئرمین مجلس محمد عتیق اور ان کے رفقائے کار کا شکریہ اداکیا۔اُنھوں نے کہا کہ آج کی تقریب کوناظم بے مثال محترم فرتاش سیّدنے مزید خوب صورت اوریادگار بنادیا ہے۔اُنھوں نے کہا کہ میڈیکل ڈاکٹر ہونے کے باوجود مجھے یاد نہیں پڑتا کہ میں نے کبھی کسی ایک ہفتہ میں کم از کم ۳۰ گھنٹے اُردو ادب کے ٹیکسٹ پر کام نہ کیا ہو۔اُنھوں نے مزید کہا کہ گلوبل ویلج کے مسائل پوری طرح اُردو زبان پر حملہ آور ہیں۔اُردو کی نئی بستیاں اور اُردو کے رسم الخط کی ضرورت کو محسوس کیا جارہا ہے۔میرے نزدیک رسم الخط اُردو کے جسم پر لباس کی طرح نہیں بلکہ اس کی چمڑی کی طرح ہے۔ٹی۔ایس۔ایلیٹ نے بجاکہا ہے کہ جس زبان میں ادبِ عالیہ ہوتاہے وہ فنا نہیں ہوتی۔اِس لیے میں اُردو کے لیے کام کرنے والوں کو سلام پیش کرتا ہوں۔میں مجلس کا ممنون ہوں کہ مجھے یہ ایوارڈ دیاگیا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایوارڈ میرے فکراور جذبے کو میمیز کرے گا۔
پروفیسرشافع قدوائی نیپروفیسر ڈاکٹر عبدالصمد کی فکشن نگاری پرتفصیلی روشنی ڈالی ۔انھوں نے پروفیسر ڈاکٹر عبدالصمد کے فنی سفر کا احاطہ بڑے دلکش اور مربوط انداز میں کیا۔اُنھوں نے کہا کہ پروفیسر عبدالصمد کثیرالتصانیف ادیب ہیں اُن کا بنیادی کام فکشن اور سیاست پر ہے۔اُنھوں نے صاحبِ اعزاز کے افسانوں اور ناول کے موضوعات اور کرداروں کا تجزیہ بھرپور انداز میں کیا۔اُنھوں نے پروفیسر عبدالصمد کے اہم اور معروف ناول’’دوگززمین‘‘کے تناظر میں ۱۹۷۱ء میں پاکستان کی تقسیم اور مسلم سائیکی پر مربوط گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مذہب سے زیادہ ثقافت اور زبان کا رشتہ ہوتا ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر عبدالصمدنے کلماتِ سپا س و قبولیت AcceptanceSpeech)) عطا کرتے ہوئے کہا کہ میں ایوارڈ کا مستحق قراردینے پرہندوستان جیوری کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر گوپی چند نارنگ اور اراکینِ جیوری پروفیسرشافع قدوائی، محترم نند کشور وکرم اورپروفیسر عتیق اللہ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔انھوں نے چیرمین مجلس محمد عتیق ،صدرِ مجلس اور مجلس کے جملہ ذمے داران کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میں ایوارڈ کوقبول کرتے ہوئے خوشی محسوس کر رہا ہوں۔اُنھوں نے کہا کہ مجھ سے پہلے مستنصر حسین تاڑر نے بھی ’’عالمی فروغِ اُردو ادب ایوارڈ‘‘ کواُردو کا ’’نوبل پرائز‘‘قرار دیا ہے۔مین چیئرمین مجلس اور مجلس کے جملہ ذمے داران کا دل سے شکرگزار ہوں کہ اُنھوں نے مجھے اُردو کے نوبل پرائز سے نوازا۔اُنھوں نے مزید کہا کہ فرتاش سید جیسی خوب صورت نظامت کرنے والا آپ کو دنیا میں کم ملے گا۔اُنھوں نے اپنے تصورِ ادب پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوکہاکہ جب میں نے لکھنا شروع کیا تو میرے ذہن میں چند سوالات پیداہوئے اور کہ میں کیوں لکھتا ہوں۔میرے نزدیک لکھنا بڑی ذمے داری کا کام ہے کیوں کہ لکھنے کا شعور ایک طرح سے لکھنے والے کو ودیعت ہوتا ہے۔دھیرے دھیرے مجھے احساس ہوا کہ فکشن لکھنا بچوں کا کھیل نہیں ہے۔جہاں تک میں سمجھ پایا ہوں کہ لکھنا کوئی وقتی چیز نہیں ۔زمانہ گزرتا رہتا ہے لیکن زمانے کی روح کبھی نہیں مرتی کیوں کہ فکشن اپنے زمانے کی روح کا محافظ ہوتا ہے۔
عہدِ حاضر کی نامور ادبی شخصیت پروفیسر ڈاکٹرخورشید رضوی نے پروفیسر فتح محمد ملک کے شخصی و فنی خدوخال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پرفیسر
فتح محمد ملک متوازن،متحمل اور خوشگوار شخصیت کے مالک ہیں۔چوں کہ آپ اقبال کے سچے شیدائی ہیں اِس لیے آپ کی شخصیت اورکردار بقولِ اقبال:
نرم دمِ گفتگو، گرم دمِ جستجو
اُنھوں نے پروفیسر فتح محمد ملک کے فنی اکتسابات پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے اُنھیں دورِ حاضر کا اہم ادیب و دانشور قرار دیا۔اُنھوں نے صاحبِ اعزاز کے قلم کی روانی پر رشک کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے قلم سے لاتعداد مضامین نکل چکے ہیں۔اُنھوں نے مزید کہا کہ پرفیسر فتح محمد ملک ترقی پسند تحریک اور حلقۂ اربابِ ذوق دونوں سے وابستہ رہے لیکن کسی ایک کا مستقل حصہ نہیں بنے۔وہ خود کہتے ہیں:
’’میں خود کو ترقی پسند سمجھتا ہوں کیوں کہ ایک مسلمان اِس کے سوا کچھ اور ہو ہی نہیں سکتا۔لیکن میں ترقی پسند تحریک کی اجارہ داری تسلیم کرنے سے قاصر ہوں۔‘‘

[پروفیسر ڈاکٹرخورشید رضوی نے صاحبِ اعزاز کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مزید کہا کہ وہ اسلام کی مُلّائی تعبیر اور مشرکانہ تفسیر،دونوں سے مطمئن نہیں ،وہ فکرِ اقبال کے تتبّع میں اس کی حَرکی تفہیم پر یقین رکھتے ہیں۔ 
میزبانِ تقریب اور چیرمین مجلس محترم محمدعتیق نے کلماتِ تشکر ادا کرتے ہوئے جملہ مہمان شعرأ و ادبا اور حاضرینِ مجلس کو خوش آمدید کہا اُنھوں نے بطورِ خاص پروفیسرفتح محمد ملک،پروفیسر ڈاکٹر عبدالصمد اور ڈاکٹر سید تقی عابدی کا تقریبِ پذیرائی میں بنفسِ نفیس شرکت کرنے پر شکریہ ادا کیا۔اُنھوں نے ہند و پاک کے پینل آف ججز کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹرگوپی چند نارنگ اورپروفیسر ڈاکٹر خورشید رضوی اور اراکین جیوریز کا بھی شکریہ ادا کیا۔اُنھوں نے مجلس کی سرپرست کمیٹی کے اراکین اور مجلسِ انتظامیہ کے عہدیداران و اراکین کی پروگرام کو کامیاب بنانے کے لیے کوششوں کوبھی سراہا۔
پروفیسر ڈاکٹر خورشید رضوی نے صدارتی کلمات عطاکرتے ہوئے کہا کہ فرتاش سید صاحب کی کامیاب نظامت کے بارے میں بہت سے ستائشی کلمات بولے جا رہے ہیں لیکن میں عرض کرتا ہوں کہ اِن کی ستم ظریفی ہے کہ جو شخص آپ کی سمع خراشی کرتا رہا ہے انھوں نے ایک بار پھر آپ کے کانوں کو اس کے سپرد کردیا ہے۔اُنھوں نے کہا کہ یہ ایوارڈ اور اس کا اہتمام واقعی بہت منفرد ہے۔اُردو کے سلسلے میں اتنی جانفشانی اور اس قدر اہتمام کم از کم میرے علم میں نہیں ہے کہ کسی ملک میں بھی ایسا
ہورہا ہو۔اُنھوں نے مزید کہا کہ ملک مصیب الرحمن نام و نمود کو پسند نہیں کرتے تھے اور بالکل پس منظر میں رہ کر کام کرتے تھے اوریہ روح جو وہ چھوڑ گئے ہیں ،عتیق صاحب اور اُن کی پوری ٹیم میں موجود ہے۔اہلِ مجلس نام کو نمایاں کرنے کے بجائے صرف کام کرتے ہیں۔اُنھوں نے اُردو زبان کودرپیش مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ملک میں اُردو قومی زبان ہے،اُردو کے ادارے ہیں،چیف جسٹس نے حکم دیا ہے کہ اُردو کا بطورسرکاری زبان نفاذ کیا جائے ،لیکن شاید نیتوں میں ایسی کھوٹ ہے کہ اُردو کو سچ مچ نافذ کرنے کی کوشش ہی نہیں کی گئی۔اُردو کو کبھی سرکاری سرپرستی حاصل نہیں رہی،یہ اس کی روحانی
طاقت ہے کہ مرکز سے نکل کر دنیا بھر میں پھیلتی جارہی ہے لیکن ہمیں رسم الخط اور ذخیرہ الفاظ کی حفاظت کرنی ہوگی۔پُر تکلف عشائیہ کے بعد یہ خوب صورت اور مؤقر تقریب اختتام پذیر ہوئی۔ 
۲/نومبر۲۰۱۷ء ؁ بروز جمعرات ’’مجلس فروغِ اُردو ادب دوحہ ۔قطر‘‘ کے زیر انتظام و انصرام اکیسویں عالمی فروغِ اُردو ادب ایوارڈ کیِ تقسیم اور سالانہ عالمی مشاعرہ کی تقریب کتاراکے عالی شان اوپن ائر ایمفی تھیٹر میں منعقد ہوئی۔ جس میں پاکستان ،ہندوستان کینیڈا،برطانیہ ،کویت اور قطر کے شعرائے کرام نے شرکت کی۔تقریب کی صدارت پروفیسرڈاکٹر خورشید رضوی نے کی۔مہمانانِ اعزازی سفیرِ پاکستان برائے قطرجناب شہزاد احمد صاحب ،سفارت خانۂ پاکستان کے کمیونٹی ویلفیئر اتاشی ڈاکٹر جنید عامر سیال اور تھرڈ سیکرٹری سفارت خان�ۂ ہند ڈاکٹر محمد علیم تھے، پاکستان سے نامور مزاح گو شاعرڈاکٹر انعام الحق جاویدؔ اورہندوستان سے معروف نقاد و دانشور پروفیسرشافع قدوائی بطور مہمانانِ گرامی تقریب میں شریک تھے، جب کہ نظامت کے فرائض مجلس کے جنرل سیکرٹری فرقان احمد پراچہ نے خوش اسلوبی سے سرانجام دیے ۔ 


تقریبِ کے پہلے حصے میں، مجلسِ فروغِ اُردو ادب کے نائب صدر جاوید ہمایوں ،جوائنٹ سیکرٹریز امین موتی والااور قمرالزمان بھٹی نے شرکائے تقریب کا پُر تپاک استقبال کیا۔
تلاوتِ کلامِ پاک کی سعادت حافظ عبدالرسول سعیدی نے حاصل کی۔چیرمین محمد عتیق نے استقبالیہ کلمات ادا کرتے ہوئے ایوارڈ یافتگان پروفیسرفتح محمد ملک،پروفیسر ڈاکٹر عبدالصمد اور ڈاکٹر سیّد تقی عابدی کو مبار ک بادپیش کی۔ جناب محمد عتیق نے مجلس کے کلچرل پارٹنرکتارا کے جنرل مینیجر عزت مآب ڈاکٹر خالدبن ابراہیم السلیطی کا خصوصی شکریہ ادا کیا، جن کے حسنِ تعاون سے اس سال کی تقریب کو تاریخی حیثیت حاصل ہوئی۔اُنھوں نے کہا کہ امسال ہم نے اپنے پروگرام کو امیرِ قطر عزت مآب شیخ تمیم بن حمد الثانی کی پُرعزم قیادت کے نام معنون کیا ہے۔انھوں نے بانیِ مجلس ملک مصیب الرحمن(مرحوم) کی ہر دلعزیز شخصیت اور ان کی لازوال ادبی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ آج کی تقریب میں میں اپنے عزیز دوست اور بانیِ مجلس ملک مصیب الرحمن کی کمی کومحسوس کررہا ہوں۔ مزید برآں انھوں نے یہ اعتراف بھی کیاکہ بعض ادب پرور اور ادب نواز اداروں اور شخصیات کی معاونت،ہمارے فروغِ اردو کے سفر کو آسان بنائے رکھتی ہے، ہم ان سب کے سپاس گزار ہیں۔
مجلس کی سرپرست کمیٹی کے فعال رکن سیّد محمد صبیح بخاری نے کلماتِ تشکر ادا کرتے ہوئے مجلس کے سپانسرز کے حسنِ تعاون اور شائقینِ شعروادب کی تشریف آوری پر اُ ن کا شکریہ ادا کیا۔انھوں نے مجلس کی تقریبات کے کامیاب انعقادپر مجلسِ انتظامیہ کے عہدیداران کی کارکردگی کو بھی سراہا۔انھوں نے مزید کہا کہ شاعری لازوال چیز ہوتی ہے،گفتگو اور مکالمے تو ختم ہو جاتے ہیں لیکن شاعر کا کہا ہوا شعر ہمیشہ زندہ رہتا ہے کیونکہ شاعری میں جذبات،احساس اور انقلاب کی بات زیادہ مؤثر انداز میں کی جاتی ہے۔
رضا حسین رضا،محترمہ فرزانہ صفدراور روئیس ممتاز نے بالترتیب پروفیسر فتح محمد ملک،پروفیسر ڈاکٹر عبدالصمد اور ڈاکٹر سیّد تقی عابدی کی Citations (تعارف)پیش کیں۔

ڈاکٹر حافظ جنید عامر سیال،ڈاکٹر محمد علیم ،جناب محمد عتیق ، جناب محمد صبیح بخاری ،ادبأ و شعرأ، عمائدینِ شہراور سیکڑوں محبانِ اردوادب کی موجودگی میں’’۲۱واں عالمی فروغِ اُردو ادب ایوارڈ۲۰۱۷ء‘‘، اُردو زبان وادب کی تاحیات گراں قدر اور اعلیٰ ترین خدمات کے اعتراف
میں مشترکہ طور پر پاکستان سے نامور ادیب و دانشور پروفیسرفتح محمد ملک اور ہندوستان سے معروف فکشن نگارپروفیسر ڈاکٹر عبدالصمداور ’’خصوصی عالمی فروغِ اُردو ایوارڈ ‘‘ ڈاکٹر سیّد تقی عابدی کو تالیوں کی گونج میں پیش کیا۔معزز مہمانوں نے مشترکہ طور پرایوارڈ یافتگان کی تخلیقات پر معروف و نامورناقدینِ ادب کے لکھے گئے مضامین اور یادگار تصاویر پر مشتمل مجلس کے سالانہ ضخیم مجلے کی رونمائی بھی کی۔
کمیونٹی ویلفیئر اتاشی ڈاکٹر جنید عامر سیال نے سفیرِ پاکستان عزت مآب شہزاد احمد کی نیابت کرتے ہوئے اپنے خطاب میں کہا کہ آج مجھے اِس تقریب میںآ کر بہت خوشی ہوئی ہے،وہ اِس لیے کہ یہاں موجود تمام شرکأ اُردو زبان و ادب کی محبت میں آئے ہیں۔ اِس سے یہ بات بھی پایۂ ثبوت کو پہنچتی ہے کہ اِس مادیت پرست دور میں جب کہ سیکڑوں زبانوں کو اپنی بقا کا مسئلہ درپیش ہے اور آئے روز بیسیوں زبانیں ختم ہو رہی ہیں ،ایسے میں اُردوکا ہمارے ریجن کی اہم اور بڑی زبان کے طور پر سامنے آنا،اپنے وجودکا احساس دلانا اورفروغ پذیر ہونا،خوش آئند بات ہے۔اُنھوں نے اعزاز یافتگان کو مبارک باد پیش کی۔ مزید برآں اُنھوں نے چیئرمین مجلس جناب محمدعتیق،صدرِ مجلس فرتاش سید اور اُن کے جملہ رفقائے کار کو بھی کامیاب پروگرام کے انعقاد پر مبارک باد پیش کی۔
ڈاکٹر محمد علیم نے سفیرِ ہند عزت مآب پی۔کمارن کی نیابت کرتے ہوئے شعرأ و ادبأ کو خوش آمدید کہا ۔اُنھوں نے کہا کہ اُردو شاعری زندگی کو مخاطب کرتی ہے اور قوموں کے عروج و زوال پربحث کرتی ہے۔اُنھوں نے مزید کہا کہ آج کی شام بہت بامعنی ہے۔اُردو زبان سے اس کی اپنی شیرینی اور مٹھاس کو الگ نہیں کیا جاسکتا۔اُنھوں نے اعزاز یافتگان کو مبارک باد پیش کی۔ اُنھوں نے چیئرمین مجلس اور اُن کی پوری ٹیم کو بھی غیرمعمولی تقریب کے انعقاد پر مبارک باد پیش کی۔
فرقان احمد پراچہ نے پہلے دورکے اختتام کا اعلان کرتے ہوئے زمامِ نظامت، تالیوں کی گونج میں معروف شاعرو ادیب اور ناظمِ مشاعرہ پروفیسر فرتاش سیّد کے حوالے کر دی۔

اس عظیم الشّان اور یادگار عالمی مشاعرے میں پاکستان سے میرِ مشاعرہ پروفیسرڈاکٹر خورشید رضوی،جناب خالد شریف،ڈاکٹر انعام الحق جاویدؔ ،جناب سیّد نوید حیدر ہاشمی،محترمہ ثبین سیف،جناب زعیم رشید،محترمہ فاخرہ انجم ،ہندوستان سے جناب فرحت احساسؔ ،محترمہ لتا حیاؔ ،جناب عزم شاکریؔ ، ڈاکٹر مہتاب عالمؔ ،جناب وجےؔ تیواری ،کینیڈا سے ڈاکٹرسیّد تقی عابدی،کویت سے جناب بدر سیماب،برطانیہ سے محترمہ غزل انصاری تشریف لائے ۔ ناظمِ مشاعرہ پروفیسر فرتاشؔ سیّد،جناب عزیز نبیل اور جناب مشفق رضا نقوی نے نے قطر کی نمائندگی کی۔
مجلسِ فروغِ اُردو ادب ،دوحہ۔قطر نے برِ صغیر سے باہر جشنیہ مشاعروں کا آغاز کیا،عالمی فروغِ اُردو ادب ایوارڈ اورسلیم جعفری انٹرنیشنل ایوارڈ کا اجراء کیا،خصوصی عالمی فروغِ اُردو ایوارڈ کا سلسلہ شروع کیا۔امسال مجلس نے اپنے ۲۳ویں سالانہ عالمی مشاعرے کو کتارا کے اوپن ائر ایمفی تھیٹر میں منعقد کر کے ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔لوگوں کے خدشات اُس وقت دور ہوئے جب قطر کے اہلِ ذوق کی ایک بڑی تعداد نے ایمفی تھیٹر کا رخ کیا۔
اِس تاریخی مشاعرے کا آغاز میرِ مشاعرے نے ’’شمعِ مشاعرہ ‘‘فروزاں کرنے کے بعد اپنے نثری و شعری کلام سے ہوا۔حضرت خورشید رضوی نے تقریب کو غیرمعمولی قرار دیتے ہوئے کہا،’’جس طرح روح نظر نہیں آسکتی جب تک اُسے کوئی جسم نہ ملے،اِسی طرح تہذیبیں دکھائی نہیں دتیں جب تک وہ کچھ رویتوں کے ذریعے اپنا اظہار نہ کریں۔برِصغیر کی عظیم الشان مسلم تہذیب نے اپنے اظہار کے لیے جو راوایات پیداکیں اُن میں سے ’’مشاعرہ‘‘ایک اہم تہذیب ہے۔اس میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں مجلس کے چیئرمین جناب محمد عتیق اور اُن کے جملہ رفقائے کار کا سپاس گزار ہونا چاہیے جنھوں نے ہم سب کو اِس عظیم عمل میں شریک کیا۔‘‘

چادرِ ابر میں سورج کو چھپانے کے لیے
وہ پسِ پردہ بھی بیٹھے نظر آنے کے لیے
میں کئی بار خفا ہوکے چمن سے اٹھا
پھر کوئی گل نکل آتا ہے بلانے کے لیے

اِس یادگار اور ناقابلِ فراموش مشاعرے میں شعراے کرام نے اپنی خوبصورت شاعری اور ناظمِ مشاعرہ نے اپنی علمیت و ادبیت ، برجستگی و بے ساختگی اور جوش و ولولے سے سامعین کو مشاعرے کے آخر ی مرحلے تک ہم آہنگ اور مربو ط رکھا ۔اِس مشاعرے کی خاص بات یہ تھی کہ کوئی ایک بھی ایسا شاعر نہیں تھا جس نے اپنے خوب صورت اشعار پر داد نہ سمیٹی ہواور یوں دلوں کو چھُو جانے والے اشعار پیش کر کے شعرائے کرام نے مشاعرے کو یادگار بنا دیا۔۔صبح دوبجے تک جاری رہنے والے اِس عظیم الشان،تاریخی اور یادگار سالانہ عالمی مشاعرے میں سیکڑوں شائقینِ ادب نے شروع سے آخر تک تالیوں اور واہ وا ، داد و تحسین ،آفریں آفریں ،بہت خوب ،بہت خو ب اورسبحان اللہ، سبحان اللہ جیسے دلپذیراوربے ساختہ حروفِ تحسین اورتبصروں سے مشاعرے کو بیدار سماعتوں اور پورے وجود کے ساتھ سماعت کیا۔ شائقین و سامعین نے مذکورہ عالمی مشاعرہ۲۰۱۷ء پر تبصرہ کرتے ہوئے،اسے دوحہ قطر کی تاریخ کا کامیاب ترین مشاعرہ قرار دیا۔شعرائے کرام کا نمونۂ کلام :


پروفیسر ڈاکٹر خورشیدؔ رضوی (میرِ مشاعرہ):
اُسی ایک پل کی تلاش ہے شب و روز میں، مہ و سال میں 
وہ کہیں بھی مجھ کو ملا نہیں، نہ فراق میں نہ وصال میں
جو کہو تو جال سمیٹ لوں،فقط ایک موج ہے جال میں 
اُسے کیا خبر کہ میں خواب ہوں، وہ جو گم ہے میرے خیال میں 
جناب خالدؔ شریف:
عشق کرنے کے بھی آداب ہوا کرتے ہیں
جاگتی پلکوں پہ بھی کچھ خواب ہوا کرتے ہیں
ہر کوئی رو کے دکھا دے یہ ضروری تو نہیں ہے
خشک آنکھوں میں بھی سیلاب ہوا کرتے ہیں
جناب فرحت احساسؔ :
میں نے خود پر یہی دو کام ہی لازم رکھے
سخت اذیت بھی سہی،ہوش بھی قائم رکھے
مجھ پہ سورج نے عنایت تو بہت کی، لیکن
وہ کہاں تک مری مٹی کو ملائم رکھے
ڈاکٹر سیّد تقی عابدی :
بھٹکے ہوئے منزل پہ پہنچ جائیں گے خود ہی
رستوں سے اگر راہنماؤں کو ہٹا دو
لوگوں میں فقط عیب نظر آتے ہیں جس کو
اس کو بھی کبھی آئینہ خانے میں بٹھا دو
پروفیسر فرتاشؔ سیّد(ناظمِ مشاعرہ):
عرصۂ ہجر میں سینے سے لگائے ہوئے ہیں
ہم تری یاد کو تعویز بنائے ہوئے ہیں
ترے نزدیک تو ہے کارِ محبت بھی مذاق 
یہ تو ہم لوگ ہیں جو کام چلائے ہوئے ہیں
ڈاکٹر انعام الحق جاویدؔ :
کل اِک چاند سی لڑکی دیکھ کے ہو گیا دل بے قابو
کَہ دیا میں نے سامنے جا کر پیار سے اُس کو چندا
فوراً دس کا نوٹ تھما کر شوخی سے وہ بولی
یہ بتلا دو کس مسجد کا مانگ رہے ہو چندا
محترمہ لتا حیا:
خدا کی راہ پر چلتے تو یوں برباد نہ ہوتے
جو یوں فرقوں میں نہ بٹتے تو یوں برباد نہ ہوتے 
خدا کی ایک رسی کو پکڑ کر ساتھ جو چلتے 
تو شیطاں راج نہ کرتے جو یوں برباد نہ ہوتے
جناب عزم شاکری:
صبح تک کیسے گزاری ہے یہ اب پوچھتی ہے
رات ٹوٹے ہوئے تاروں کا سبب پوچھتی ہے
تو اگر چھوڑ کے جانے پہ تلا ہے، تو جا 
جان بھی جسم سے جاتی ہے تو کب پوچھتی ہے
ڈاکٹر مہتاب عالم:
پھولوں میں جھلک حسنِ رخِ یار کی نکلی
ہم خوش ہیں کوئی شکل تو دیدار کی نکلی
نیلام ہوئے چاند ہر اِک شہر میں لیکن
رونق نہ کہیں مصر کے بازار کی نکلی
جناب سیّد نوید حیدر ہاشمی:
خدائے عشق مرا اضطراب کم کر دے
تو خواب ہی میں سہی آ کے مجھ پہ دم کر دے
منافقینِ محبت کا قتل واجب ہے 
قلم کی نوک سے تو ان کے سر قلم کر دے
جناب وجے تیواری:
بھٹکتی رہتی ہے قسمت کو کون سمجھائے
قطر میں بگڑی طبیعت کو کون سمجھائے
کسے عزیز نہیں اپنے ملک میں رہنا
مگر یہ بات ضرورت کو کون سمجھائے
جناب زعیم رشید:
یہ بات اب کے اُسے بتانا نہیں پڑے گی
غزل کو ہرگز غزل سنانا نہیں پڑے گی
جو وہ ملا تو میں خرچ کردوں گا ایک پل میں 
بدن کی خوشبو مجھے بچانا نہیں پڑے گی
محترمہ ثبین سیف:
دل تو کیا جان ہار سکتی ہوں
ہر خوشی تجھ پہ وار سکتی ہوں
پہلے ڈرتی تھی اِک پتنگے سے
ماں ہوں اب سانپ مارسکتی ہوں
جناب عزیز نبیل :
بہت اونچی اڑانیں بھر رہے ہو
بکھرنے کا ارادہ کر لیا کیا
مری غیبت تو اُس کا مشغلہ ہے
مگر تم نے گوارا کر لیا کیا
جناب بدر سیماب :
تجھ سے مگر یہ دکھ کبھی کہتا نہیں ہوں میں
تیرے بنا سکون سے رہتا نہیں ہوں میں 
اِک بات ہے جو آپ بھی سنتے نہیں کبھی
اِک بات ہے جو آپ سے کہتا نہیں ہوں میں
محترمہ فاخرہ انجم:
ہر چیز مرے گرد ستمگر کی طرح ہے
اب مجھ کو کنارہ بھی سمندر کی طرح ہے 
کچھ اور ہی میں سوچ کے آئی تھی مرے گھر
افسوس ! ترا گھر بھی مرے گھر کی طرح ہے
محترمہ غزل ؔ انصاری:
سرکشی پہ آمادہ دل سے ڈر ہی لگتا ہے
عشق کا مسافر تو دربدر ہی لگتا ہے
عمر بیت جاتی ہے ایک گھر بنانے میں 
اور اسے جلانے اِک شرر ہی لگتا ہے 
جناب مشفق رضاؔ نقوی:
دلوں پر راج کرتا ہوں کسی سرکار کی صورت
میں پوشیدہ بھی رہتا ہوں کبھی اسرار کی صورت
میں پانی میں بنا کر درد کی مورت بہاتا ہوں
میں غم تخلیق کرتا ہوں کسی فنکار کی صورت

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com