رسولِ رحمتﷺ کی شان میں بزمِ شہاب کا نعتیہ مشاعرہ

رسولِ رحمتﷺ کی شان میں بزمِ شہاب کا نعتیہ مشاعرہ
تحریر و تہذیب؛ سعید احمد سلطان
رسولِ اُمّی لقب، عالی نسب، کمالِ حسنِ طلب حضرت محمد مصطفی احمدِ مجتبی ﷺ کی شان اور عظمت ہم عاجز و ناتواں انسان کیسے بیان کر سکتے ہیں؟
وہ جو تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجے گئے، وہ جن کی شفاعت روزِ محشر گنہگاروں کا سہارا بنے گی، وہ جن کی سنت نے اُن کے ہر پیروکار کو ماسوا سے سے بیگانہ کر رکھا ہے، ان کی تعریف و توصیف ہم سے کیسے ممکن ہے؟ 
آپ ﷺ کی ذات مبارکہ وجہہِ تخلیقِ کائنات ہے، خالقِ کائنات نے آپ ﷺکا نور دلوں کے سرور کے لئے سب سے پہلے روشن و رخشاں فرمایا، آپ ﷺ کو انبیاء کا امام بنایا، اورر اتوں رات آپ ﷺ کو تمام آسمانوں کے دروازے اور دریچے کشاد کر کے عرش نشیں بنا دیا۔ یہ مقامِ اُولیٰ تخلیقِ کائنات سے آج تک کسی اور ہستی کا مقدر نہ بن سکا!
یہ سب حوالے آپ کی عظمت ،رفعت اور فضیلت کے روشن اُجالے ہیں۔آپ ﷺ کو خاتم النبیین ، قرار دے کر یہ طے کر دیا گیا کہ نبوت کے سب سلسلے اب ختم ہو چکے، اب انسانیت کو زندگی کے ہر ایک شعبے میں رہنمائی و رہبری کے لئے آپ ہی کی جانب دیکھنا ہے، آپ ہی کی حیات مبارکہ سے معلوم و نامعلوم راہیں تراشنی اور تلاشنی ہیں، اور کامیابی و کامرانی کے لئے آپ ﷺ کی ہی حیاتِ طیبہ کو مثال بنا کر اس کی پیروی کرنا ہو گی۔ دنیا کی زندگی ہو کہ آخرت کی انمٹ اور ابدی حیات اس میں کامیابی کے لئے رسولِ رحمت ﷺ کی پاک، شفاف اور مثالی زندگی کے ہر ایک کو پل کو روبرو رکھ کر اپنی راہیں متعین کرنا ہوں گی، اور یہ آسمانوں والے سوہنے رب نے طے کیا ہوا ہے، اور اس کا اظہار و اقرار اس اعلانِ حق سے برملا ہوتا ہے،
ان اللہ و ملا ئکتہُ یصلون علی النبی۔ یا ایھا الذین اٰ منو صلّو علیہِ و سلمو تسلیماََ۔
بے شک اللہ اور اس کے فرشتے حضرت محمدﷺ پر درود بھیجتے ہیں ۔ اے ایمان والو تم بھی ان پر درود بھیجا کرو۔
یہ تسبیح، یہ وظیفہ ہر اہلِ ایمان کے لئے دنیا میں سرخرو رہنے اور آخرت میں کامیابی سمیٹنے کا ذریعہ اور وسیلہ ہے۔ان خیالات کا اظہار شہاب دہلوی اکیڈمی کے ماہانہ اجلاس میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت فرمانے والے پروفیسر ابرار محی الدین نے جشنِ عید میلاد النبیﷺ کی مناسبت سے اہتمام کئے گئے نعتیہ مشاعرے میں کیا۔ 
شہاب دہلوی اکیڈمی کے خصوصی اجلاس کا باقائدہ آغاز اللہ ربّ العزت کے بابرکت کلام کے ساتھ ہوا، سعادت حسان بن شاہد رضوی نے سمیٹی۔بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں گلہائے عقیدت شہیر حسن رضوی نے پیش کئے۔ نقیبِ محفل سید طالب حسین طالب نے رسولِ رحمت ﷺکی شان میں چند کلمات پیش کئے اور پھر مہمانِ خصوصی پرفیسر ابرار محی الدین کو دعوتِ کلام دی۔ انہوں نے علمی انداز میں تحقیق کے زاویوں کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے پیارے حبیب حضرت محمد ﷺ کی ذات مبارکہ کے بارے میں گفتگو فرمائی۔
پروفیسر ابرار محی الدین نے فرمایا کہ رب تعالی نے ہم انسانوں پر بے شمار احسانات فرمائے ہیں، لیکن کسی بھی احسان کو جتلایا نہیں۔ مگر جب بات پہنچی اللہ رب العزت کے محبوب آخری نبی حضرت محمد ﷺ کی ذات پر تو برملا یہ فرمایا کہ آپ ﷺکی ذات مبارکہ انسانیت کے لئے رحمت ہے۔سیرتِ طیّبہ کی دلکشی، دلداری ، رعنائی اور خوبصورتی کی بنیا د پر اسلام کی برتری اور فضیلت ہے۔ اسلام کے پاس اگر کتابِ حکمت و دانائی ہے تو اس کتاب کی تشریح و تفسیر کرنے والی ذات بھی موجود ہے، اور یہی اسلام کی خوبی ہے جو دیگر مذاہب میں نہیں ملتی۔آپ ﷺ کی ذات کو پیروی کا اعلی نمونہ اسی لئے کہا گیا ہے کہ آپ ﷺ کی حیات کا ایک ایک پل محفوظ ہے،سب پر آشکار ہے، اسی لئے قابلِ تقلید ہے۔یہ آپ ﷺ کی عظمت و رفعت کی مثال ہے۔ آپ ﷺ نے تمام انبیائے کرام کی تعلیمات کی سمری پیش کی ہے، تخلیق سے اب تک کے تمام احکاماتِ رب کو دلنشیں انداز میں گلدستے کی صورت پیش کیا ہے، آپ ﷺ کی سیرت اور سنت کے ایک ایک لمحے، ایک ایک پل کی موجودگی ایک عظیم معجزہ ہے، اسی لئے آپ ﷺ کی سیرت کو تمام انسانوں کے لئے مثالی نمونہ قرار دیا گیا ہے۔آج اگر ہم مختلف مسائل و مشکلات کا شکار ہیں تو ان سے نکلنے کا ذریعہ بھی ہمارے پاس موجود ہے اور وہ ہے حضرت محمد ﷺ کے کارناموں اور اصولوں کی پیروی کرنا، ان کے فرامین کے مطابق زندگی گزارنا۔
مہمانِ خصوصی کے کلمات کے بعد نعتیہ مشاعرے کا آغاز ہو گیا اور شعرائے کرام نے رسولِ رحمت سے محبت و عقیدت کا منظوم اظہار کیا۔چند ایک نعتیہ اشعار ملاحظہ فرمائیے۔
اذنِ خیر الا نام ہو جائے۔۔۔نعت گوئی انعام ہو جائے( سید طالب حسن طالب)
ان کے در کا فقیر ہو جاؤں ۔۔میرا شاہوں میں نام ہو جائے
وہ مسافر نہیں سکندر ہے۔۔۔جس کی طیبہ میں شام ہو جائے
جو کہا مصطفیٰ نے وہ کئے جائیں گے۔۔عشقِ احمد میں ہم تو جئے جائیں گے( افضال ہاشمی)
جب تلک مشکلیں ہم پہ آساں نہ ہوں۔۔ ذکرِ صلِّ علیٰ ہی کئے جائیں گے
اذن مل جائے گر مدینے سے۔۔۔نعت میں لکھ سکوں قرینے سے(محسن دوست)
کچھ نگینے عطا ہوں سائل کو۔۔۔آپ کے علم کے خزینے سے
رشک آتا ہے ان گلابوں پر ۔۔جن کو نسبت ہو پسینے سے
حضور آپ کے در پر جو ہم پڑے ہوئے ہیں۔یہ لگ رہا ہے کہ افلاک پر کھڑے ہوئے ہیں( اسلم ذہین )
حاصلِ کُن فکاں رحمتِ عالمیں۔۔ماورائے گماں رحمتِ عالمیں( ڈاکٹر افتخار علی افتخار)
جس سے سب کو ملی منزلوں کی خبر۔۔آپ ہیں وہ نشاں رحمتِ عالمیں
غم کا ماروں کا ہے گوشہء عافیت۔۔آپ کا آستاں رحمتِ عالمیں
وہ نور کا پیکر ہیں وہ ہیں ابرِ کرم اور۔۔میں کیسے بتاؤں تمہیں وہ اور ہیں ہم اور( سید مطلوب علی زیدی)
ہے آپ کے دم سے دلِ مردہ میں نئی جان۔۔مرتا نہیں لیتا ہے نئی صبح جنم اور
ہے نظرِ کرم آپ کی تسکینِ دل و جاں۔۔۔۔لللہ کرم اور، کرم اور کرم اور
ہم غریبوں پر کرم کی ردا سرکار ہیں۔۔ہم فقیروں کی مہکتی دعا سرکار ہیں( سید مشہود حسن رضوی)
جب لیا نامِ محمد ملے آپس مین لب۔۔ہے لبوں کا معجزہ حق نما سرکار ہیں
سب نبی ہیں محترم امتی کے واسطے۔۔۔جانتے ہیں سب شہِ انبیاء سرکار ہیں
موسمِ گلُ میلاد کی محفلیں لے کر طلوع ہوتا اور نئی خوشبوئیں بکھیرتا ہے، اس گلستاں گلستاں عالمِ خوش ادا میں اپنی عقیدتوں کے غنچے پروفیسر ڈاکٹر ذیشان اطہر نے یوں مہکائے۔ 
پھول کھلنے لگے اور ہوا مسکرانے لگی۔۔ابر چھانے لگا اور فضا گنگنانے لگی
ساعتِ آمدِ مجتبیٰ جوں ہی آنے لگی۔۔خود خوشی ہر گلی شادیانے بجانے لگی
صد مبارک کہ آمنہ کے گھر وہ چاند آگیا۔۔جس کی کرنوں کی بارش میں دنیا نہانے لگی
گود میں جب حلیمہ نے سرکار کو لے لیا ۔۔۔روشنی ان کے چہرے پہ ہالہ بنانے لگی
اونٹنی تیز چلنے لگی، فاصلے مٹ گئے۔۔۔ان کی موجودگی معجزے یوں دکھانے لگی
طفل کو بادِ شب لوریاں جب سنانے لگی۔۔۔ماہ و انجم کو بھی اس گھڑی نیند آنے لگی
سوتے سوتے اگر طفلِ مسعود رونے لگا۔۔خود ہی بادِ صبا ان کا جھولا جھلانے لگی
آپ کا بچپنا ڈگمگایا جو چلتے ہوئے ۔۔یہ زمیں خود سنبھلتے ہوئے لڑکھڑانے لگی
ابرِ رحمت برسنے لگا، شہر بسنے لگا۔۔۔امن کی فصل پھر ہر طرف لہلہانے لگی
رنگِ دنیا بدلنے لگا ، ظلم ڈھلنے لگا۔۔۔مفلسی پونچھ کر اشک ہنسنے ہنسانے لگی
اُڑ گئے زاغ طیبہ سے اور امن کی فاختہ۔۔۔شاخِ زیتون پر بیٹھ کر چہچہانے لگی
نعتیہ مشاعرے کی صدارت شہر کے بزرگ شاعر اور حبِّ رسولﷺ میں پور پور بھیگے ہوئے جناب خورشید ناظر فرما رہے تھے۔ نعت جس عقیدت اور محبت کا تقاضا کرتی ہے، وہ سارے کا سارا جناب خورشید ناظر کے ہاں پیار کا پیرہن اوڑھ کر نمایاں ہوتا ہے۔ نعتیہ کلام پیش کرنے سے پہلے انہوں نے صدارتی کلمات سے نوازا۔ انہوں نے فرمایا۔ 
اللہ کے آخری محبوب نبی حضرت محمدﷺ کی حیات مبارکہ ہم سب کے لئے ایک روشن مثال اور نمونہ ہے۔سیرتِ پاک کا ہر ایک پہلو ہم سب کے لئے ایک روشن ، واضح اور کھلا راستہ ہے، مگر دوسری جانب حقیقت یہ بھی ہے کہ ہم مسلمان آپ ﷺ کی ذاتِ گرامی سے والہانہ عقیدت و محبت کا دعویٰ کرنے کے باوجود آپ کی سیرتِ پاک کے مطابق زندگی گزارنے سے کتراتے ہیں، ہم اگر اپنا احتساب خود کریں تو یہ حقیقت کُھل کر سامنے آ جائے گی کہ ہم گفتار کے غازی تو ضرور ہیں ، مگر کردار کے غازی ہونے سے کوسوں دور ہیں۔ اور حقیقت یہ ہے کہ کامیابی کی ضمانت آپ ﷺ کی تعلیمات کے عین مطابق اور انہی کی روشنی میں زندگی گزارنے میں ہے۔
ہم اگر کامیاب و کامران زندگی کے خواہشمند اور طلبگار ہیں تو ہمیں اپنی حیات کے ہر ایک پل کو آنحضورﷺ کی بتائی ہوئی تعلیمات کی روشنی میں مرتب کرنا ہو گا، انہی مبارک اور روشن اصولوں کے اجالے میں لانا ہو گا جو آپ ﷺ نے قرآنِ پاک کی تفسیر و تشریح کرتے ہوئے ہم پر واضح کیئے ہیں۔ قرآنِ مجید کی یہ تفسیر آپ ﷺ کی سیرت اور سنت میں مخفی ہے، ہم حیاتِ طیبہ کا خلوص کے ساتھ مطالعہ کریں ، ہم پر سارے راستے روشن ہو جائیں گے۔
صدرِ ذی وقار نے فرمایا کہ شہاب دہلوی اکیڈمی نے نعتیہ مشاعرے کا اہتمام کر کے اپنے لئے کامرانیاں سمیٹی ہین اور ہماری خوش قسمتی یہ ہے کہ ہمیں اس عقیدت و احترام کی محفل میں شرفِ باریابی میسر آیا ہے۔ اللہ ہم سب کو اپنے پیارے رسولﷺ کی سیرت اور سنت کے مطابق زندگی گزارنے کی تو فیق عطا فرمائے۔
میرے پیارے نبی، میرے پیارے نبی
آپ کی خاکِ پا، ہر مرض کی دوا
خندہء زیرِ لب ہر خوشی کا سبب
آپ نے جو کہا ، بحرِ علم و عطا۔۔۔ مانتے ہیں سبھی، میرے پیارے نبی
سعادتوں بھری اس بزم میں نیکیوں اور خوشیوں سے اپنا دامن بھرنے والوں میں سبھی شامل تھے۔ پروفیسر سید زوار حسین ، پروفیسر ڈاکٹر آفتاب گیلانی، پرفیسر قدرت اللہ شہزاد، جناب مسعود احمد خان، پروفیسر ڈاکٹر زیشان تبسم، پروفیسر سلیم الر شید، حاجی ملک محمدریاض اعوان، جناب بلال جاوید، میاں کاشف سلیم ایڈووکیٹ، جناب محمد عارف جان، ڈاکٹر محمد اسلم ، اور دوسرے ڈھیر سارے دوست۔
وقت تیز رفتار ہے، بہت بیقرار ہے، اس کو کہیں سکوت اور ٹھہراؤ میسر نہیں آتا، اور یہی اس کی شان اور آن ہے، مگر اس کو ٹھہرنا پڑا تھا، جب شبِ اسریٰ کا ورود مسعود ہوا تھا، اور اب بھی جب عرش پر اپنے رب سے ملاقات کے لئے تشریف لے جانے والے رسولِ رحمت ﷺ کا ذکر رواں ہو تو وقت ساکت ہو جاتا ہے، 
تو وقت ٹھہرا ہوا تھا،
کہ گوشہء شہاب سے متصل خانہء خدا کے بلند میناروں سے اللہ اکبر اللہُ اکبر کی الوہی صدا گونجنے لگی اور شام زینہ در زینہ سفر کرتی آسمانوں کی سمت پرواز کر گئی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com