ایوانِ اردو کے زیر اہتمام ’بیاد جمیل الدین عالیؔ ‘

ڈاکٹر رئیس صمدانی
6جمیل الدین عالیؔ اردو زبان و ادب کا نقصانِ عظیم ہے ۔ عالی ؔ جی ایک شخص کا نام نہیں بلکہ وہ اپنی ذات میں انجمن اور ادارہ ، کچھ کر گزرنے کے جَذبَہ سے شرشار ، مستقل کے لیے کچھ چھوڑجانے کا ولولہ لیے ہوئے تھے ۔ علمی ، ادبی، سماجی، فکری، تہذیبی حوالوں سے عالی ؔ جی کی کاوشیں روز روشن کی طرح عیاں ہیں۔علمی و ادبی سرمایے کے علاوہ انجمن ترقی اردو،جامعہ اردو ، رائیٹرز گلڈ ان کی زندگی کے ایسے عظیم کارنامے ہیں کہ جو انہیں مدتوں زندہ رکھیں گے۔ عالی ؔ جی کے لکھے ہوئے ملی نغمے ہمارے ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں۔بابائے اردو کے بعد اردو کے فروغ اور نفاذ کے لیے عالیؔ جی کی کاوشیں ہماری تاریخ کا حصہ ہیں ۔ انجمن ترقی اردو کے علاوہ مختلف اداروں کی جانب سے عالیؔ جی کی یاد میں تعزیتی اجلاسوں کے انعقاد کا سلسلہ جاری ہے ۔ عالیؔ جی کی شخصیت اور ان کی علمی و ادبی خدمات اس بات تقاضہ کرتی ہیں کہ ان کی انہیں خراج عقیدت پیش کیا جائے اور ان کے علمی و 
ادبی کارناموں کو روشناس کرایا جائے۔ 
ایوانِ اردو ایک قدیم ادارہ ہے جس کے بانی ڈاکٹر حمید الدین شاہد مرحوم تھے۔ جب تک ڈاکٹر شاہد حیات رہے ایوانِ اردو ادبی و علمی سرگرمیوں کے حوالے سے فعال رہا۔ ڈاکٹر شاہد نے اپنے گھر 43 بلاک بی ، فرید الدین بقائی روڈ ناظم آباد کا نام ہی ’ایوانِ اردو‘ رکھ لیا تھا اورآج بھی اس گھر پر ایوانِ اردو کی تختی آویزاں ہے۔ ڈاکٹر حمید الدی شاہد کے فرزند ار ڈاکٹر خرم حمید جو ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہیں نے عالیؔ جی کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے بیادِ جمیل الدین عالی کا اہتمام اپنی رہائش گاہ پر بروز ہفتہ 26دسمبربعد مغرب کیا۔ اس تقریب کے روح رواں جناب محمود عزیز صاحب تھے۔ وہ ایوان اردو کے معتمداعزازی بھی ہیں۔ محمود عزیز صاحب انجمن ترقی اردو میں باقاعدہ حاضری دینے والوں میں سے ہیں، لکھنا، پڑھنا ، لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرنا اور علمی وادبی موضوعات پر خوبصورت انداز سے گفتگو کرنا اور معلومات فراہم کرنا ان کے پسندیدہ مشاغل میں سے ہیں۔ راقم سے محمود عزیز صاحب سے تعلق کا ذریعہ انجمن ترقی اردو میں نشست اور انجمن کے زیر اہتمام ہونے والے ادبی پروگرام ہی ہیں۔ انجمن ترقی اردو گلشن اقبال نے مجھے کئی ادبی شخصیات سے نہ صرف متعارف کرایا بلکہ انجمن وسیلہ بنی متعدد علمی و ادبی شخصیات سے قربت کی روستی کا۔ ان میں سے ایک محمود عزیز صاحب بھی ہیں۔ ان کی شخصیت میں پوشیدہ خصوصیات پر سے کیسی اوروقت پردہ اٹھاؤں گا۔ محمود عزیز صاحب مختلف رسائل جیسے بقائی نیوز، سب رس، ابجد، تکبیر اور دیگر ادبی وعلمی رسائل سے قلمی تعاون کرتے رہے ہیں، روزنامہ مقدمہ میں بھی ادبی صفحہ مرتب کر چکے 
ہیں، مجھے خوشی ہے کہ محمود عزیز جیسا ہمدرد دوست عمر کے آخری حصہ میں میسر آیا۔ سر دست ان کے لیے یہ شعر پیش خدمت ہے ؂
زندگی سے یہی گلہ ہے مجھے تو بڑی دیر سے ملا ہے مجھے
فاصلہ کچھ نہیں تیرے در تک زندگی راستے میں پڑتی ہے 
عالیؔ جی کے رخصت ہوجانے کے بعد میں نے اپنی اولین فرصت میں انہیں خراج تحسین پیش کیا اور میرا کالم روز نامہ ’جناح‘ میں 25نومبر کو شائع ہوا۔عالیؔ جی سے میرا روحانی علمی و ادبی تعلق تھا، یہ معلوم ہوجانے کے بعد کہ عالیؔ جی کی سانسوں کا سفر اختتام پزیر ہوچکا ہے ، ان کی تدفین صبح عمل میں آئے گی ، میں نے وہ رات آنکھو ں میں کاٹی اور انہیں خراج تحسین پیش کر کے سویا ، یہی خراج عقیدت دوسرے دن روز نامہ ’جناح‘میں شائع ہوا۔ ایک ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزرچکا عالیؔ جی کے حوالے سے کہیں نہ کہیں تعزیتی نشستیں منعقد ہورہی ہیں اور ان کی یادوں کے دیے جلائے جارہے ہیں۔ چند روز قبل جب ہم انجمن کے کتب خانے میں حسب معمول موجود تھے عزیز صاحب نے فرمایا کہ وہ بھی عالیؔ جی کو خراج تحسین پیش کرنے کے سلسلے میں کوئی تعزیتی اجلاس منعقد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور مجھے اس تقریب میں عالیؔ جی پر کچھ کہنا ہوگا۔ چند دن بعد عزیز صاحب نے تقریب کی تاریخ اور جگہ کے لیے فون پر اطلاع دی اور تقریب گاہ کا ایڈریس میسج بھی کردیا۔ طے پا یا کہ وہ میرے ہمراہ چلیں گے۔ تقریب شام میں تھی ، اسی روز صبح میں انجمن ترقی اردو میں صادقین کی مصوری اور رباعیات پر ڈاکٹر سلمان احمد (بانی صادقین فاؤنڈیشن ، امریکہ) سے گفتگو کا پروگرام بھی تھا۔ محمود عزیز صاحب سے طے ہوا کہ ہم بعد نماز عصر ان کے دولت کدے پر پہنچ جائیں گے اور پھر وہاں سے ہمارا سفر تقریب گاہ کے لیے شروع ہوگا۔ ایسا ہی ہوا، ہم وقت مقررہ پر پہنچ گئے ۔ محمود عزیز صاحب کے گھر دو احباب اور بھی تھے وہ بھی شریک سفر ہوئے۔محمود عزیز صاحب تقریب کو کامیاب بنا نے میں مستعدد و متحریک نظر آرہے تھے، کبھی خود فون کرتے اور کبھی ان کے پاس فون آجاتا۔ کہنے لگے کہ النساء چلیے ، ہم نے ان کے حکم کی تعمیل میں گاڑی النساء کی جانب دوڑا دی۔ وہاں پہنچ کر فرمایا معراج جامی آرہے ہیں، ابھی ان کا نام ہی لیا تھا کہ وہ النساء کے 
گیٹ کے سامنے موجود تھے ، معراج جامی ہمیں دیکھ کر اور ہم انہیں دیکھ کرکھل اٹھے۔ہماری کیفیت مومنؔ کے اس شعر کی سی تھی ؂
سامنے سے جب وہ شوخ دلربا آجائے ہے
تھامتا ہوں پر یہ دل ہاتھوں سے نکلا جائے ہے
یہاں سے محمود عزیز صاحب نے ہمیں خدا حافظ کہا اور ان کی نشست پر معراج جامی آگئے ، پہلے ہی کیا کم خوش بختی تھی اب ایک اور ادیب و شاعر ہمارے دائیں جانب مسکرا مسکرا کر باتیں کر رہا تھا۔ عزیز صاحب نے فرمایا کہ وہ یہاں سے ٹیکسی میں دو دوستوں کے ساتھ تقریب گاہ جائیں گے ۔ ہم اب چلے معراج جامی کی سرپرستی میں تقریب گا۔ فوٹو گرافر صاحب کا بہت انتظار کیا گلشن چورنگی پر وہ کہیں کے کہیں چلے گئے بعد میں انہوں نے فون پر فرمایا کہ آپ جائیں میں خود آجاؤں گا۔ پروگرام کا آغاز چھ بجے ہونا تھا ، اس وقت ہم گلشن چورنگی پر تھے۔ کراچی میں یہ وقت ٹریفک کی روانی کے اعتبار سے انتہائی گھبیر ہوتا، پانچ منٹ کا فاصلہ تیس منٹ میں طے ہوپاتا ہے۔ تقریب گاہ پہنچے تو معلوم ہوا کہ ہم ہی لیٹ لطیف نہ تھے اوروں کا بھی یہی حال ہے ، پنڈال خالی ہی تھا، آنے والے ٹریفک میں پھنسے ہوئے تھے۔ انجمن کی معتمد اعزازی ڈاکٹر فاطمہ حسن کسی طرح پہنچ گئیں۔ البتہ راجو جمیل صاحب جنہیں آج کی تقریب کی صدارت کرنا تھا تقریب میں نہ پہنچ سکے۔ منتظمین نے ڈاکٹر فاطمہ حسن کی سربراہی میں تقریب کا آغاز کیا اور کرنا بھی چاہیے تھا ۔محمود عزیز صاحب نے تقریب کے آغاز میں چند باتیں کیں اور فرمایا کہ بقیہ کاروائی معراج جامی صاحب سر انجام دیں گے۔ جامی صاحب نے اپنی مسحور کن مسکراہٹ ، دلفریب اندازِ گفتگو کے ساتھ کاروائی کاغاز کیا، تلاوت وکلام پاک سے تقریب کا آغاز ہوا۔ ڈاکٹر فاطمہ حسن صاحبہ کومسندِصدارت عطا کی گئی۔ مجھے بھی دعوت دی گئی کہ میں بھی اسٹیج پر پہنچوں، تقریب میں گفتگوتو کئی بڑوں کو کرنا تھی جن میں عالی ؔ جی کے بیٹے راجو جمیل اور پروفیسر سحرؔ انصاری و دیگر شامل تھے لیکن وہ صاحبان بہ وجوہ نہ پہنچ سکے، چنانچہ تقریب کے مرکزی مقررہم ہی قرار پائے ۔ اس کے لیے ہم بالکل بھی تیار نہ تھے۔ یہ محبت تھی محمود عزیز صاحب کی ، انہوں نے عزت افزائی کی۔ حالانکہ میں نے کافی دیر ہوجانے کے باعث معراج جامی صاحب سے درخواست کی کہ تقریب کو مختصر کردیجئے اور چاہیں تو مجھے نہ بلوائیں۔ جس پر جامی صاحب نے کڑا سا جواب دیتے 
ہوئے فرمایا جی نہیں آپ ضرور بولیں گے۔خاموشی کے سوا چارہ نہ تھا ۔ 
تلاوت کلام پاک سے تقریب کا آغاز ہوا۔ معراج جامی صاحب نے عالی ؔ جی کی یاد میں ہونے والی تقریب کے حوالے سے خوبصورت جملوں سے بات کو آگے بڑھایا اور باری باری مقررین کو بلاتے رہے۔ بیچ بیچ میں عالیؔ جی کے حوالے سے شعر بھی سناتے رہے۔ قائدہ بھی ہے ، احترام کے پیش نظر مقررین جونیئر مقررین کو پہلے بلوایا جاتا ہے لیکن جب اس تقریب کی روداد مرتب کی جاتی ہے تو اس ترتیب کو احترام و عزت کے پیش نظر بدل دیا جاتا ہے۔ یعنی اول صدر محفل کی باتوں کو پیش کیا جاتا ہے پھر دیگر مقررین کی باتوں کو تحریر میں لایا جاتا ہے۔ سو یہاں بھی اسی قائدے اور احترام کو ہی مَلحُوظِ خاطِر رکھا جارہا ہے۔ 
انجمن ترقی اردو کی اعزازی معتمد ڈاکٹر فاطمہ حسن نے صدارتی خطاب میں عالیؔ سے اپنی وابستگی کا ذکر کیا، عالیؔ جی نے اپنی زندگی میں جو ذمہ داری ان کے کاندھوں پر ڈال دی ہے اس کی تفصیل بیان کی۔انہوں نے کہا کہ عالیؔ جی اپنی تحریروں کے حوالے سے ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ وہ محبِ وطن پاکستانی تھے۔ انجمن ایک باوقار اور مضبوط ادارہ ہے جس کی انہوں نے آبیاری کی اور یہ اپنی جگہ پر مستحکم ہے ، اسے برقرار رکھنا اب ہماری ذمہ داری ہے۔ان کا کہنا تھا کہ عالیؔ جی ایک غیر معمولی نابغہ شخصیت تھے، شاعری کے ساتھ ان کی توجہ اداروں کے ساتھ شخصیا ت پر بھی مرکوز رہی۔ انہوں نے بابائے اردو مولوی عبد الحق کی خدمت میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی انہوں نے کہا کہ عالیؔ جی نے مجھے اس اہم قومی ورثے کی ذمے داری سونپی اب کی رحلت نے مجھے دکھ کا گہرا احساس دیا، وہیں اس ذمے داری کے بوجھ کو بڑھا دیا ہے ۔ ڈاکٹر فاطمہ حسن نے کہا کہ عالی ؔ جی نے اردو کو دوہے کی صنف سے مالا مال کیا پبھر ان کے دوہے پڑھنے کا انداز لحن سونے پہ سہا گہ تھا۔ یہ عطائے تخلیق نعمت ہے۔ وطن سے محبت عالیؔ جی کے نغموں میں آہنگ کی طرح رچی بسی ہے۔ ان کا نغمہ ’’جیوے جیوے پاکستان‘‘ پاکستان کے ساتھ امر رہے گا۔ پھر ’’اے وطن کے سجیلے جوانوں میرے نغمے تمہارے لیے ہیں ‘‘ لکھا تھا ، آج بھی یہ قومی نغمہ دلوں میں وہی جذبے جگا دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالیؔ جی نے بابائے اردو مولودی عبد الحق کے مشن کو جاری رکھا ، انجمن کے ماقاصد کی تکمیل کریت ہوئے اردو یونیورسٹی کے خواب کو خیال سے حقیقت تک پہنچایا۔عالیؔ جی کا 
نام وطن، انجمن اور ادب کے روشن حوالوں کے ساتھ ہمیشہ چمکتا رہے گا۔ 
آرکیٹیک جناب حیات رضوی امروہوی جو ’عمارت کار‘ کے مدیر بھی ہیں نے اظہار خیا ل کرتے ہوئے عالیؔ جی سے اپنے مراسم کی تفصیل بیان کی انہوں بتایا کہ ایک دن عالیؔ جی کا فون آیا ، ان کی آواز سن کر مجھے یقین ہی نہیں آرہا تھا ، خوشی کا احساس اپنی حدوں کو چھو رہا تھا ، فرمایا کہ مجھ سے ملو، میں نے کہا کہ کب کہنے لگے ابھی آجاؤ، میں اسی وقت ان کے پاس گیا ، کہنے لگے کہ انجمن ترقی اردو کی عمارت ’اردو باغ ‘کا نقشہ تیار کرنا ہے ۔ 
میں نے خوشی سے یہ ذمہ داری قبول کر لی اور مجھے فخر ہے کہ اردو باغ کا ڈیزائن میں نے عالیؔ جی کی فرمائش پر تیا رکیا ۔ یہ عمارت تکمیل کے مراحل میں ہے۔ تقریب کے پہلے مقرر محمد زبیرکا تعلق انجمن ترقی اردو کے کتب خانے سے ہے وہ گزشتہ آٹھ سال سے عالیؔ جی کے معاون کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ عالیؔ جی کی زندگی کے آخری ایام میں محمد زبیر ان کے قریب رہے ، خدمت کی ، خیال رکھا، جو ادبی کام عالیؔ جی ان سے کرانا چاہتے تھے ان میں معاونت کرتے رہے۔ ان کی حیثیت عالیؔ جی کے اہل خانہ کے ساتھ ساتھ اہم رکن کی حیثیت حاصل ہوگئی تھی۔ عالیؔ جی کے انتقال ، تدفین اور دیگر معلومات فراہم کرنے میں بھی محمد زبیر پیش پیش رہے۔ محمد زبیر کی گفتگو اور ان کا لب و لہجہ بتا رہا تھا کہ وہ عالیؔ جی کی سانسوں کے اختتام پر کس قدر افسردہ ہیں۔ انہوں نے بتا یا کہ آج سے آٹھ سال قبل فیصلہ ہوا کہ مجھے اب انجمن ترقی اردو کی لائبریری کے بجائے جمیل الدین عالیؔ کے گھر پر ان کے ادبی وعلمی کام خاص طور پر ان کے کالموں کی ترتیب و تدوین کے حوالے سے خدمات انجام دینا ہوں گی۔ میں نے اپنی پوری کوشش کی کہ عالیؔ جی کی تمام علمی ضروریات کا خیال رکھوں ۔ وہ انتہائی نفیس اور شفیق انسان تھے، ان کے ساتھ گزارا ہوا وقت میری زندگی کا قیمتی سرمایا ہے۔جہانگیر خان نے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عالیؔ جی اپنے وطن سے بے پناہ محبت کیا کرتے تھے۔ انہوں نے سقوط ڈھاکہ کے بعد ہندوستان کی سرزمین پر مشاعرہ پڑھنے سے انکار کردیا اس لیے کہ پاکستان کو دولخت کرنے میں ہندوستان کا کلیدی کردار تھا۔تقریب سے سید طارق حسین نے بھی اظہار خیال کیا جو سکھر سے تشریف لائے تھے ۔ انہوں نے ایوان اردو کے بانی ڈاکٹر حمید الدین شاہد کی ادبی خدمات خاص طور پر خطوط 
نویسی کے حوالے سے گفتگو کی۔ 
عالیؔ جی ان چند لوگوں میں سے تھے کہ جن کے دل پاکستان کے لیے دھڑکتے ہیں، ان کی ہر سائنس میں سے پاکستان کی خوشبو آتی ہے۔ پاکستان کے دائم و قائم رہنے کی دعا کرنے والے عالیؔ جی اب ہم میں نہیں رہے اﷲ تعالیٰ عالیؔ جی کے درجات بلند فرمائے اور انہیں جنت الفردوس 
میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین۔ مرتے مرتے بھی وطن کو زندہ رہنے کی دعا دے گئے۔
ہم تو مٹ جائیں گے اے ارض وطن لیکن تجھ کو
زندہ رہنا ہے قیامت کی سحر ہونے تک
معراج جامی صاحب ہر مقرر کے بعد عالی ؔ جی کو خراج تحسین پیش کررہے تھے۔ تحسین سرور کے بیٹے علی فیضان نے بھی عالی جای کے ساتھ اپنے والد کے تعلقات کااحاطہ کیا۔ حسین علی امام بھی دیگر مقررین میں سے ایک تھے۔ تقریب میں ایوان اردو کی جانب سے اعزاز توسیفی بعد از مرگ جمیل الدین عالی کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں ان کے صاحبزادے راجو جمیل صاحب کو پیش کی جانا تھا۔ یہ شیلڈ سامعین کو ڈاکٹر حمید الدین شاہد کے صاحبزادے اور میزانِ تقریب ڈاکٹر خرم نے سامعین کو دکھانے کا فریضہ انجام دیا۔ راقم نے بھی اس موقع پر عالیؔ جی کو خراج 
عقیدت پیش کیا۔ جس کی تفصیل کچھ اس طرح ہے۔
کچھ دن گزرے عالی صاحب عالیؔ جی کہلاتے تھے
محفل محفل قریے قریے شعر سنانے جا تے تھے
جمیل الدین عالیؔ ایک عہد ساز شخصیت ، اپنی ذات میں انجمن اور ادارہ ، کچھ کر گزرنے کے جَذبَہ سے شرشار ، مستقل کے لیے کچھ چھوڑجانے کا ولولہ لیے ہوئے تھے ۔ علمی ، ادبی، سماجی، فکری، تہذیبی حوالوں سے عالی ؔ جی کی کاوشیں روز روشن کی طرح عیاں ہیں۔علمی و ادبی سرمایے کے علاوہ انجمن ترقی اردو،جامعہ اردو ، رائیٹرز گلڈ ان کی زندگی کے ایسے عظیم کارنامے ہیں کہ جو انہیں مدتوں زندہ رکھیں گے۔ عالی ؔ جی کے لکھے ہوئے ملی نغمے ہمارے ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں۔بابائے اردو کے بعد اردو کے فروغ اور نفاذ کے لیے عالیؔ جی کی کاوشیں تاریخ کا حصہ ہیں ۔ 23نومبر کو عالیؔ جی کی سانسوں کو سفر اختتام پزیر ہوا۔اگلے روز 24نومبر کو کراچی کے آرمی قبرستان میں اپنی والدہ اور شریک حیات کے درمیان ابدی نیند سو گئے۔ عالیؔ جی سے کون واقف نہیں، کس کس کے کام عالیؔ جی نہیں آئے، کون ہے جو ان سے نہیں ملا، کس کس پر انہوں نے عنایتیں نہیں کیں۔ ایک طویل فہرست ہے ان لوگوں کی جو عالیؔ جی سے اپنی محبت و عقیدت کا اظہار کرنا چاہیتے ہیں، اپنے ٹوٹے پھوٹے الفاظ ہی میں سہی انہیں خراج تحسین پیش کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ عالیؔ کے اس دنیا سے رخصت ہوجانے کے بعد انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ آرمی قبرستان میں تدفین کے حوالے سے عالی ؔ جی کے فرزند ارجمند راجو جمیل صاحب نے بتا یا تھا کہ آرمی چیف آف اسٹاف مرزا اسلم بیگ تھے، اس وقت عالیؔ جی کو آرمی کی جانب سے خط موصول ہوا جس میں لکھا تھا کہ ہم آپ کو کسی اچھی جگہ کشادہ پلاٹ دینے کی خواہش رکھتے ہیں، راجو جمیل نے بتا یا کہ والد صاحب نے اس خط کے جواب میں لکھا کہ مجھے دو نہیں بلکہ تین پلاٹ چاہیے، ایک اپنے لیے، ایک اپنی والدہ کے لیے اور ایک اپنی شریک حیات کے لیے اور یہ تینوں پلاٹ مجھے آرمی کے قبرستان میں چاہیے۔یقیناًخط کا جواب پڑھ کر متعلقہ حکام حیران و پریشان ہوگئے ہوں گے، انہیں یہ یقین نہیں آرہا ہوگا کہ پاکستان میں ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں۔ گویا عالی جی کی خواہش تھی کہ وہ آرمی کے قبرستان میں اپنی ماں اور اپنی شریک حیات کے ساتھ دنیا وی زندگی کے بعد کی زندگی ایک ساتھ آرمی کے قبرستان میں بسر کریں۔ ایسی مثالیں بہت کم ملتی ہیں، یقیناًاس جواب سے آرمی کے افسران لاجواب ہوگئے ہوں گے اور عالیؔ جی کا قد ان کی نظروں میں کس قدر بلند ہوا ہوگا اس کا اندازہ وہی لوگ لگا سکتے ہیں۔ ایسا ہی ہوا، عالی ؔ جی کو ان کی زندگی میں ہی ان کی خواہش کے مطابق تین پلاٹ آرمی کی جانب سے الاٹ کر دیئے گئے تھے، ان میں سے دو پلاٹوں پر دائیں جانب عالی ؔ جی کی والدہ ، بائیں جانب عالی ؔ جی کے شریک حیات طیبہ بانو آرام فرما ں تھیں ، درمیان کا پلاٹ 23 نومبر تک خالی تھا لیکن قبر بے تابی سے اپنے مکین کی راہ تک رہی تھی اوراپنے ہر دلعزیز مکین کے لیے اپنا سینہ واہ کیے ہوئے تھی ، 24نومبر کو اس کی گود عالیؔ جی کے جسم اطہر سے منور 
ہوگئی۔ 
عالیؔ جی کے تین کارنامے تاریخ میں سنہرے الفاظ سے لکھے جائیں گے۔ ایک بابائے اردو کے بعد طویل عرصہ انجمن ترقی اردو پاکستان کے اعزازی معتمد کی حیثیت سے خدمات انجام دینا ، دوسری جامعہ اردو کا قیام اور تیسرارائیٹرز گلڈکا قیام اور اس کی زیر سایہ پاکستان کے شاعروں اور ادیبوں کو جمع کرنا ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے ۔ کہا جاتا ہے کہ عالیؔ جی انجمن اور گلڈ کے معاملات میں اس قدر فنا تھے کے ان کی اولادوں کا کہنا تھا کہ آپس میں کہا کرتے تھے کہ وہ چانچ بہن بھائی نہیں بلکہ سات بہن بھائی ہیں، یعنی پانچ وہ اور ایک بہن ’انجمن‘ اور ایک بھائی ’گلڈ‘ ہے۔ راجو جمیل 
رائیٹرز گلڈ دوبارہ سرگرم کرنے کی خواہش رکھتے ہیں ۔ خدا کرے کہ وہ اس میں کامیاب ہوں گلڈ کے حوالے سے عالی جی ایک شعر ؂
پھر دیکھا کہ بچہ بچہ ہنستا تھا اور عالی جی
فردیں لکھتے مسلیں پڑھتے اور’’گلڈ‘‘ چلاتے تھے
عالیؔ جی جب بھارت ماتا سے پاکستان آئے تو وہ شاعر کی حیثیت سے معروف تھے۔اس فن میں اپنا اپنا سکہ بٹھا چکے تھے۔ پاکستان کے 
حوالے سے انہوں نے دنیا بھر میں نام روشن کیا وہ یادگار ہے۔ عالیؔ جی کے تمام کام تاریخ کاحصہ ہیں جنہیں کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔بقول پروفیسر سحرؔ انصاری وہ پیش رو اور پیش بیں شخصیت تھے ۔ انہوں نے ادب کی مختلف اصناف پر بہت کچھ اور بامقصد لکھا ہے۔ ان کے لکھے ہوئے کالم 
منفرد اور معلوماتی ہوا کرتے تھے۔ کالم نگاری میں بھی عالیؔ جی نے جدت پیدا کی۔ جس موضوع پر کالم ہوتا اس کے بارے میں ذاتی مشاہدات اور 
معلومات بھی جمع کردیا کرتے تھے۔ وہ اتنا سب کچھ کرنے کے بعد بھی مطمئن نہیں تھے وہ کچھ اور کرنا چاہتے تھے۔ 
عالی تونے اتنے برس اس دیس کی روٹی کھائی
یہ تو بتا تیری کوتارانی دیس کے کس کام آئی؟
عالی ؔ جی کی اصول پسندی کا ایک واقعہ رضوان احمد صاحب نے سنا یا تھا جسے میں آپ کے گوش گزار کرنا چاہتا ہوں۔رضوان صاحب نے فرمایا کہ وہ ایک شام دیگر کے ساتھ عالیؔ جی کے گھر کسی تقریب میں مدعو تھا ۔ اتنے میں فون کی گھنٹی بجی ، ’عالیؔ جی نے سلام دعا کی اور ایک دم گویا ہوئے 
کون گورنر؟ میں کسی گورنر کو نہیں جانتا، انہوں نے مجھ سے وقت لیا ؟ میں اس وقت مصروف ہوں ، ان سے نہیں مل سکتا‘۔ رضوان احمد کاکہناتھا کہ ہم نے ان سے دریافت کیا کہ گورنر صاحب ہیں تو انہیں بلالیجئے، ملاقات کر لیجئے، کہنے لگے سندھ کے نئے گورنر کا پی اے کا فون تھا، کہتاتھا کہ گورنرصاحب ابھی آپ کے گھر حاضر ہونا چاہتے ہیں۔ میں انہیںآنے کی اجازت کیسے دے دوں، گورنر ہوں گے اپنے لیے، یہ تقریب پہلے سے 
طے ہے، اگر انہیں ملنے آنا ہے تو وقت لے کر ضرور آجائیں۔ 
عالیؔ جی سچے محب وطن اور کٹر پاکستانی تھے۔ اس کا ثبوت ان کے لکھے ہوئے بے شمار ملی نغمے ہیں۔انہیں پاکستان کے دولخت ہونے کا 
شدید دکھ تھا۔ انہوں نے اپنے ایک شعر میں علامہ اقبال سے اعتراف کرتے ہوئے کہا ؂
ہاں میرے بابا، ہاں میرے مرشد میں تجھ پر قربان
تو نے بنایا ، میں نے بگاڑا تیرا پاکستان
اپنے وطن کو دعا دیتے ہوئے کہتے ہیں ؂
ہم تو مٹ جائیں گے اے ارض وطن لیکن تجھ کو
زندہ رہنا ہے قیامت کی سَحر ہونے تک
عالیؔ جی اپنی تحریروں کے حوالے سے ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ وہ محبِ وطن پاکستانی تھے۔عالیؔ جی کے لازوال قومی 
نغموں میں پاکستان سے محبت جھلکتی ہے ، عالیؔ جی نے ثابت کردیا کہ وہ صرف خواب نہیں دیکھتے تھے بلکہ اس کی تعبیر بھی کرتے تھے۔ عالیؔ جی کے دل 
میں مکمل پاکستان بساہوا تھا۔وہ پاکستان کو اپنے ساتھ لے کر چلا کرتے تھے عالی جی کے اس شعر پر بات کو ختم کروں گا ؂
اب جو میرے بغیر انجمن آرائی ہے
لوگ کہتے ہیں کہ تم کو میری یاد آئی ہے
ایوان اردو میں بیاد جمیل الدین عالی ؔ کی تقریب رات گئے اختتام پزیر ہوئی۔ معراج جامی نے تمام مہمانِ گرامی کا شکریہ ادا کیا ۔ 

One comment

  1. گزشتہ برس کی یادیں تازہ ہو گئیں۔ بہت شکریہ ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی صاحب

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com