بزم دوستاں کی جانب سے شعری نشست کا اہتمام

پٹنہ;;;;عظیم آبادی کی معروف ادبی انجمن ’بزم دوستاں‘ کی طرف سے بزم کے دفتر میں ایک خوب صورت شعری نشست کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں شہر کے معروف و معتبر شعرا و شاعرات نے شرکت فرمائی۔ شعری نشست کی صدارت ممتاز شاعر و ناقد پروفیسر علیم اللہ حالی نے فرمائی جبکہ نظامت کا فریضہ نوجوان شاعر و صحافی کامران غنی صباؔ نے انجام دیا۔ اس موقع پر ’بزم دوستاں‘ کے سکریٹری معین کوثر نے بزم کے اغراض و مقاصد اور سرگرمیوں پر مختصراً روشنی ڈالی۔ اس مخصوص شعری نشست میں جن شعرا و شاعرات نے اپنے کلام پیش کیے ان کے اسمائے گرامی ہیں پروفیسر علیم اللہ حالی، قوس صدیقی، احسن راشد، سید ضیا الرحمن ضیا، معین کوثر، افتخار عاکف،احمد شاذ قادری، نیاز نذر فاطمی،عطا عابدی، میر سجاد،شکیل سہسرامی، چونچ گیاوی،تحسین روزی، تبسم ناز، کامران غنی صبا، پرویز انجم، کہکشاں توحید،نصر عالم نصر،شفیع بازید پوری، معصومہ خاتون،وارث اسلام پوری اور رشمی راج۔ ان کے علاوہ علمی مجلس کے جنرل سکریٹری پرویز عالم، ڈاکٹر محمد ارمان اور کامران توحید سمیت باذوق سامعین کی موجودگی نے شعری نشست کو مشاعرہ کا رنگ دے دیا تھا۔سید ضیا الرحمن ضیا کے شکریہ کے ساتھ اس خوب صورت شعری نشست کا اختتام ہوا۔ اس شعری محفل میں پیش کیے گئے کلام کا منتخب حصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے:

پروفیسر علیم اللہ حالی
مجھ کو معلوم تھا لہرو ں کا رویہ لیکن
ریت پر نقش بنانا نہیں چھوٹا مجھ سے
قوس صدیقی
مذہبِ سفاکیت کا شوق یوں پورا ہوا
شاخِ زیتوں پر کبوتر بھی ملا سہما ہوا
احسن راشد
بے کیفئ نگاہ کی کیا داستاں کہیں
اپنے چمن کے پھول بہاروں میں جل گئے
سید ضیا الرحمن ضیا
اترنے والا ہے نشّہ تیرا، بکھرنے والے ہیں خواب تیرے
ہے تیری طاقت کی یہ خماری، بس اور کچھ دن بس اور کچھ دن
معین کوثر
وہ وعدہ کرتے ہیں لیکن وفا نہیں کرتے
بہانہ یہ تھا طبیعت خراب تھی اُس دن
افتخار عاکف
غم نے ہے تم کو مارا تم غم کو مار ڈالو
کاندھے پہ لاش اپنی ڈھونے سے کچھ نہ ہوگا
احمد شاذ قادری
خوشبو جانے کب رخصت ہو جاتی ہے
گلدانوں میں پھول سجے رہ جاتے ہیں
نیاز نذر فاطمی
آئینہ دیکھنے کا وقت گیا
آل اولاد پر نظر رکھو
عطا عابدی
زخم اچھا نہ ہو تو بہتر ہے
کہہ رہی ہے یہ چارہ گر کی کشش
میر سجاد
پہچان میں نہ آئے قیافہ سے کوئی شخص
اب آدمی کے ظاہر و باطن بدل گئے
شکیل سہسرامی
حضور عشق میں بیمار مرنا پڑتا ہے
کئی دفعہ تو کئی بار مرنا پڑتا ہے
چونچ گیاوی
اپنا منھ جمہویت تکتی رہی
جب سے حاوی تغلقی فرمان ہے
بیویوں کا مال باہر آ گیا
منتری جی کا یہی احسان ہے
تحسین روزی
امیر شہر سے بیزار ہو کے بیٹھے ہو
علم اٹھاؤ کوئی انقلاب لے آؤ
تبسم ناز
وہ مری روح کے اندر ہے پپیہے کی طرح
جو مجھے ہر گھڑی جینے کی دعا دیتا ہے
کامران غنی صبا
حیران ہے وہ بھی وُسعتِ پرواز دیکھ کر
جس نے ہماری فکر پہ پہرے بٹھائے ہیں
پرویز انجم
مری وفاؤں کو سمجھو نہ میری مجبوری
مرا سلوک ہے زیور مرے گھرانے کا
کہکشاں توحید
نظم’میرا گھر کہاں ہے ماں‘
نصر عالم نصر
موت سے دنیا کا رشتہ نہیں ہرگز کوئی
کوئی صورت یہاں جینے کی نکالی جائے
شفیع بازید پوری
جانتے ہو کہ زمانے پہ خزاں چھائی ہے
دل کے گلشن میں نیا پھول کھلاتے کیوں ہو
معصومہ خاتون
زباں پہ کوئی دعا نہیں ہے، نظر میں کچھ التجا نہیں ہے
عجیب ہے بے خودی کا عالم کہ خود ہی اپنا پتا نہیں ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com