سُر تال کی چال اور شفیق توکل کے نام شامِ بے مثال

تحریر و تہذیب؛ سعید احمد سلطان، صحرائے چولستان بہاول پور پاکستان
)میرے پاس ایک ایسا طلسم ہے
جو کئی زمانوں کا اسم ہے
اُسے جب بھی سوچا بُلا لیا
اُسے جو بھی چاہا بنا لیا(مُنیر نیازی)
جو دل والے متوالے سُر تال کی چال سے واقف و آگاہ ہو کر ریاضت کے سمندر میں غوطے لگاتے رہتے ہیں وہ آخر اک روز شہرت و عظمت کی سیڑھی پہ چڑھتے ہوئے مو سیقی کی دنیا میں ایسا مقام حاصل کر لیتے ہیں کہ دُنیا اُنہیں احترام کی نگا ہ سے ،دیکھتی اور بڑی چاہ سے سراہتی ہے۔اِس سراہنے میں بناوٹ کا گُذر ہرگز نہیں ہوتا بلکہ چاہت کی سچی اور کھری کہانی ہوتی ہے اسی لئے شوق سے سنی جاتی ہے۔
سات سُروں کے سمندر کا پہلا سبق،، سارے گاما پا دھا نی ،،سے آشنائی گِنا جاتا ہے۔اور جو موسیقی سیکھنے کے شوقین اس سبق پر کامل دسترس حاصل کر لیتے ہیں ، اُن کی Bahawalpure mushairahآواز میں ایسا نکھار آجاتا ہے کہ عام سماعتیں بھی داد و تحسین دئیے بغیر نہیں رہ پاتیں۔ 
میرے سوہنے شہر بہاول پور کی حقیقی پہچان اس کی محبت بھری محفلیں، چاہت بھری شامیں اور اہلِ ہُنر کی پذیرائی کا سندیسہ سناتی راتیں ہیں۔ چاہے اُن کا تعلق علم سے ہو ، ادب سے ہو، کہ تہذیب و ثقافت کی نمائندگی کرنے والے علوم و فنون سے۔چونکہ دُنیا کا ایک عظیم صحرا، صحرائے چولستان میرے شہر کی آب و ہواکوہمہ رنگ، رعنائی اور روشنی سے آراستہ رکھتا ہے اسی لئے یہاں کی ہواؤں اور فضاؤں میں چاہت و محبت کے انوکھے نغمے گُھلے رہتے ہیں، یہاں صحرا کی ہوک اور کوک کا امتزاج سماعتوں کو اسیر بنا کر کبھی ہنساتا ہے اور کبھی ہجر فراق کے سنگیت بکھیر کر رُلاتا ہے، اور کہتے یہ بھی ہیں کہ زندگی ہنسنے اور رونے کا خوبصورت امتزاج ہے، اگروقت اور زمانہ ہر وقت ایک ہی رنگ روپ دکھلاتے رہیں تو حیات مُرجھائی مُرجھائی لگتی ہے اور سارے رنگ پھیکے پڑ جاتے ہیں۔ 
ان کیفیات سے، دلکش احساسات سے آشنائی اس وقت ہوئی جب جولائی کی تیس تاریخ کو حبس بھری رات میں جھوک سرائیکی اور بہاول پور آرٹس کونسل کے زیرِ اہتمام میٹھی متوالی آواز کے مالک شفیق توکل کے اعزاز میں اک شام سجائی گئی اور مقام تھا رشیدیہ آڈیٹوریم بہاول پور۔
)تم آئے ہو نہ شبِ انتظار گُذری ہے
تلاش میں ہے سحر بار بار گُذری ہے
سُر سنگیت کی شام ہو اور اُس میں، شاہینوں کے شہر سے تعلق رکھنے والے سابق ڈائیریکٹر تعلقاتِ عامہ بہاول پورجناب نذیر خالد مدعو نہ ہوں، یہ ہو نہیں سکتا، اگر چہ ریٹائر منٹ کے بعد سے اُن کا زیادہ تر وقت لاہور میں ہی گذرتا ہے لیکن موسیقی سے آراستہ کوئی بھی محفل یہاں سجتی ہے تو وہ یہاں تشریف لا چکے ہوتے ہیں، اور ہو یہ بھی سکتا ہے کہ وہ اس طرح کی محفلوں کو پلان کر کے وہاں سے چلتے ہوں۔بہر حال موسیقی کی محفل ہو، کلاسیکل موسیقار و گلوکار کی شامِ پذیرائی ہو، جناب نذیر خالد کی موجودگی لازمی سمجھی جاتی ہے۔ ویسے بھی وہ بہاول پور کے اہلِ ہُنر و موسیقی سے بہت محبت رکھتے ہیں اور اُن کے بارے میں مختلف قومی اخبارات میں رسائل و جرائد میں با کمال تعارفی مضا مین لکھتے رہتے ہیں، اور یقیناًیہی وجہ ہے کہِ اس دھرتی کے گلوکار، فنکاراور صداکار اُن سے والہانہ عقیدت و محبت رکھتے ہیں۔ 
)ناہید بندشوں میں مقید ہے زندگی
جائیں ہزار بار بُلاوا کوئی تو ہو
ادبی بیٹھک شعور کے جنرل سیکرٹری جناب منیر سیال کے بُلاوے پر میں رشیدیہ آڈیٹوریم میں منعقدہ شامِ پذیرائی میں پہنچا تو جناب نذیر خالد صاحب کو دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوئی ۔سٹیج کے با لمقابل اگلی نشستوں پرجناب نذیر خالد ، شاعر و کلاسیکل گلوکارجناب اعجاز توکل ، سنگت ڈیویلپمنٹ کے صدرجناب اقبال جتالہ، ممبر پنجاب اسمبلی محترمہ فوزیہ ایوب صاحبہ،ڈائیریکٹر تعلقاتِ عامہ بہاول پور جناب اعجاز محمود رانا، معرو ف آرٹ ڈیزئینر،فوٹو گرافرجناب بلال جاوید، جھوک سرائیکی بہاول پور کے صدر رانا ساجد اقبال ایڈووکیٹ ، نائب صدرجناب عتیق الرحمان کھوکھر، الصادق ڈیزرٹ ویلفئیر آرگنایزیشن کے جناب ریا ض بلوچ، جناب اعجاز چنڑ ، جناب مہر ناصر سیال ، جناب اقبال سانول، جناب منیر سیال ، باکمال آواز کے مالک معروف گلوکار جناب سردار ملک، اور سُر تال کے سب اُتار چڑھاؤ سے گہری واقفیت رکھنے ، اور دل کی بات کہنے کے لئے بہت دل نشیں الفاظ کا انتخاب کرنے والے جناب امتیاز حسین لکھویرا موجود تھے۔
محمدشفیق توکل کو سننے کے لئے پنڈال بھرا ہوا تھا اور پروگرام کو لمحہ بہ لمحہ آگے بڑھانے کے لئے معروف ڈرامہ آرٹسٹ، فیچر فلم اداکارہ و کمپئیر اور خان پروڈکشن ہاؤس کی ڈائیریکٹرمحترمہ طاہرہ خان اپنی صدا کاری کی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر رہی تھیں۔ وہ سرائیکی دوہڑوں کے ذریعے محفل جما دیتی ہیں، توجہ سمیٹ لیتی ہیں۔
)میں پیش رفت نہیں چاہتا محبت میں
سو میرا ذکر غزالوں میں کم کیا جائے ( اعجاز توکل)
ابتداََ چند شاگردوں کو پروگرام آغاز کرنے کی دعوت دی گئی، پھر سردار ملک صاحب نے اپنی سُریلی آواز میں ایک خوبصورت غزل نذرِ سامعین و حاضرین کی ۔باقائدہ آغاز ہوا تو جناب اعجاز توکل نے علمِ موسیقی بارے سیر حاصل گفتگو کی اور بتلایا کہ سات سروں سے محبت کرنے والے بہت نفیس اور نرم دل لوگ ہوتے ہیں۔وہ انسان سے پیار کرنا سکھاتے ہیں، انسانیت سے محبت کرنا سکھاتے ہیں۔
ہم اک بارہ دری کی سیڑھیوں پر سو گئے تھے۔۔۔اور اک دریا ہمارے خواب سے ٹکرا گیا تھا 
جناب محمدشفیق توکل کے اعزاز میں سجائی گئی شام کی مہمانِ خصوصی ممبر پنجاب اسمبلی محترمہ فوزیہ ایوب نے فرمایا کہ آج ہمیں اور ہمارے معاشرے کو امن ، سکون اور رواداری کے جذبوں کی اشد ضرورت ہے، اور موسیقار و گلوکار اور فنکار اپنے فن کے ذریعے اِن جذبوں کی آبیاری کرتے ہیں۔ ان کی رگوں میں رچی محبت اور اُن کا نرم و نازک ہُنر دلوں میں اُتر کر انسانیت سے پیار کرنے کا درس دیتا ہے، ہمیں اپنے فنکاروں اور ہُنر مندوں کی بھر پور طریقے سے حوصلہ افزائی کرنی چاہئے۔ 
جب محمدشفیق توکل کو سٹیج پر ، مائیک کے روبرو اپنے فن کا مظاہرہ کرنے کی دعوت دی گئی تو وہ اک خاص عجز و انکسار کے ساتھ اپنی نشست سے اُٹھے اور بزرگوں کے سامنے سے نہایت ادب سے گذر کر مائیک کے روبرو جا بیٹھے، جہاں کچھ محترم ہستیاں اور چند سازندے اُن کے استقبال کے لئے موجود تھے۔ان سب نے مل کر جناب شفیق توکل کو محبتوں سے پروئے ہوئے پھولوں سے لاد دیا، ان کا خوبصورت چہرہ مہکتے پھولوں سے چُھپ سا گیا۔ 
دل کی گہرائیوں سے کی گئی پذیرائی کا انداز جو اعجاز دکھلاتا ہے اُس سے بسا اوقات آنکھیں بھیگ جاتی ہیں، شفیق توکل کی آواز میں بھی بے پناہ چاہت کے سبب سے نمی اُتر آئی تھی۔ابتدائی کلمات کے بعد شفیق توکل نے اسٹیج چھوڑ کر اپنے استادِ موسیقی و گائیکی جناب اعجاز توکل کی خدمت میں حاضری دی ، محبت بھرا نذرانہ پیش کیا اور اجازت حاصل کر کے واپس اسٹیج پر چلے گئے۔
تالیوں کی گونج بھی کیا جادو اثر منتر ہے، جب داد دینے کے لئے آغاز کیا جاتا ہے تو سب دل ایک ساتھ دھڑکنے لگتے ہیں اور فنکار کا سینہ چوڑا ہو جاتا ہے، دل فخر اور انبساط سے بھر جاتا ہے اور سُر اپنا سر اُٹھا کر چاروں طرف حیرت و شوق سے دیکھنے لگتے ہیں۔ کیا دلکش منظر ہوتا ہے وہ!!! موقعہ ملے تو ضرور مستفیذ ہوئیے گا۔
) سُنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں
یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں
ہاتھ تال سے تال ملا کر پنڈال کے منظر کو با کمال و بے مثال بنا رہے تھے، اور محمدشفیق توکل سُر کی لہروں پہ سوار سب بصارتوں اور سماعتوں کو اسیر کر رہے تھے۔ سُروں کا یہ سفر بڑی دیر تک جاری رہا۔ درمیان میں علمِ موسیقی سے بھرپور شناسائی رکھنے والے ، من موہنے اندازِ گفتگو کے مالک، میٹھے لب و لہجے کے حامل جناب امتیاز حسین لکھو یرا کو اظہارِ خیال کی دعوت دی گئی۔ اور لکھویرا صاحب بولے، خوب بولے، انہوں نے موسیقی کا علم سیکھنے والوں کی ہُنرمندی اور قابلیت کا اعتراف کرتے ہوا واضح کیا کہ یہ کوئی آسان علم اور فن نہیں ہے، ایک ایک سُر پر دسترس حاصل کرنے کے لئے برسوں کی ریاضت کی ضرورت ہوتی ہے، مگر وہ جن کے سینے لگن کی لَو سے جگمگاتے ہوں وہ کسی مشکل کو خاطر میں نہیں لاتے، وہ ہمت اور حوصلے کا دامن تھامے مسلسل آگے ہی آگے بڑھتے رہتے ہیں۔اور لگن کی لگی بالآخر اُن کو شہرت و عظمت کے بلند میناروں پر پہنچا دیتی ہے، محمد شفیق توکل بھی خلوص کی انگلی پکڑے سات سُروں کی لہروں پہ رواں ہیں۔
)اُس نے دیوار پہ مٹی کا دیا کیا رکھا
روشنی مجھ کو بلانے مرے گھر تک آئی
اور پھر جب رات اپنا دامن سمیٹنے لگی اور باہر آسمان پر ستارے اپنا خاصا سفر طے کر چُکے تو ڈائیریکٹر تعلقاتِ عامہ و ریذ یڈنٹ ڈائیریکٹر بہاول پور آرٹس کونسل رانا اعجاز محمود نے سب شرکائے شام کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا ۔ انہوں نے فرمایا کہ بہاول پور آرٹ کونسل کا یہ پلیٹ فارم پہلے ایک بھوت بنگلے کا سا تائثر دے رہا تھا ، لیکن دوبارہ تزئین و آرائش کے بعد یہاں سجنے والی محفل نے رونق اس قدر بڑھا دی کہ سب حیرت زدہ ہیں ، میرے یہاں پر فرائضِ منصبی سنبھالنے کے بعد بہاول پور آرٹ کونسل کایہ پہلا موسیقی پروگرام ہے ، یہ سب رونقیں یہاں کے محبت کرنے والے لوگوں اور شعر و ادب و ثقافت سے جُڑے ہُنر مندوں کی وجہ سے ہیں، میری بھرپور کوشش ہو گی کہ مثبت رویوّں کو فروغ دینے والی اس طرح کی تقریبات اک تسلسل کے ساتھ منعقد ہوتی رہیں ،آپ جیسے مہربان اُن میں شریک ہوتے رہیں اور سفر جاری رہے۔
)اب تو جاتے ہیں مَیکدے سے میر
پھر ملیں گے اگر خُدا لایا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com