اسلم خان (دربان ) :چمن میں پُھو ل کِھلے ہیں کہ خار دیکھو تو 

اسلم خان (دربان ) :چمن میں پُھو ل کِھلے ہیں کہ خار دیکھو تو 
ڈاکٹر غلام شبیر رانا
جن سے مِل کر زندگی سے پیار ہو جائے وہ لوگ 
آپ نے شاید نہ دیکھے ہوں، مگر ایسے بھی ہیں
یوسف شاہ روڈ جھنگ کے مغربی کنارے پر صدر تھانہ سے کچھ دُور مرکزی چوک کے شمال میں ایک نیشنلائزڈ بنک کی پر شکوہ عمارت تعمیر کی گئی ہے ۔ بنک کے سامنے واقع چوک کے وسط میں ایک گُھڑ سوار نیزہ باز کا بڑا آہنی مجسمہ نصب ہے جس کے ہاتھ سے نیزہ تو عرصہ ہوا شہر کے اُچکوں نے چھین کر کباڑ میں بیچ دیا ہے ۔اب قدیم تہذیب و ثقافت کی یادگارگھوڑے اور شہ سوار کے اس مجسمے کی باقیات پر بھی منشیات کے عادی بے حس درندوں کی نظر ہے ۔ یہ کرگس زادے اس گھوڑے کے آہنی مجسمے اور شہ سوار کے حصے بخرے کر کے اونے پونے داموں کباڑ خانے میں فروخت کرکے اپنا اُلو سیدھا کرنے کی فکر میں ہیں۔ کچھ دُور واقع اسی نیشنلائزڈ کمرشل بنک کے مرکزی دروازے پر ایک ادھیڑ عمر کا دربان اکثر دکھائی دیتا تھا جس کا نام اسلم خان تھا ۔بنک کا یہ دربان بنک میں موجودسب خزائن اور سامان کا نگہبان اور پُھلواڑیوں میں اُگے گل ہائے رنگ رنگ کا باغبان بھی تھا ۔بنک کا یہ انتہائی مستعدملازم ہر فن مولا تھا جو کام بھی اس کے ذمے لگایا جاتا وہ پلک جھپکتے میں اُسے پایۂ تکمیل کو پہنچا دیتا ۔وہ بنک کا مستعد اور فرض شناس محافظ توتھا مگر وہ بنک کے چھوٹے دِل والے بڑے افسروں کا مصاحب ہر گز نہ تھا ۔ اکثر لوگ یہ بھی کہتے کہ اسلم خان کی صورت میں اِس نیشنلائزڈ بنک کو ایک جِن ہاتھ لگ گیاہے جو ایک دربان کی تنخواہ میں درجنوں چھوٹے ملازمین جتنا کام کر نے اور متنوع ذمہ داریاں نبھانے پر ہمہ وقت پر کمر بستہ رہتا ہے ۔بنک کے افسروں کی گاڑیوں کی ڈرائیونگ ، شہر کے مختلف تجارتی اداروں اور اہم انتظامی شعبوں کو بنک کی ڈاک پہنچانا اور وہاں سے بنک کی ڈاک بنک کے دفتر میں لانا، بنک کی املاک کی نگہبانی ، بنک کی پُر شکوہ عمارت کے اندرونی حصے اور وہاں موجود آ رائشی اشیا کی جھاڑ پُھونک ، بنک کے سبزۂ نو رستہ اورکومل کلیوں کی باغبانی اس نے از خود اپنے ذمے لے رکھی تھی ۔ بنک میں اپنے ذاتی کاموں کے لیے آنے والے دردمندوں ،ضعیفوں ،بیماروں ،لاچاروں اور قسمت کے ماروں کی دست گیری کرنا سدا اس کا شیوہ رہا ۔ سچ تو یہ ہے کہ بنک کی ملازمت کے ساتھ ساتھ شانِ استغنا ، درویشی و فقیری اسلم خان کی پہچان بن گئی تھی۔ اسلم خان جھنگ صدر کے قدیم محلہ کچا کورٹ روڈ کا مکین تھا ۔ اس محلے کاماحول آج بھی پتھر کے زمانے کی یاد دلاتا ہے جہاں کی کچی گلیوں، خام سڑکوں اور بوسیدہ کھنڈرات کو یہاں کے باشندے طوفانِ نوح ؑ کی باقیات قرار دیتے ہیں۔ اسلم خان ابھی پرائمری جماعتوں کا طالب علم تھا کہ والد کا سایہ سر سے اُٹھ گیا۔گورنمنٹ ہائی سکول ،جھنگ سے میٹرک کا امتحان پاس کرنے کے بعد وہ بنک میں دربان ملازم ہو گیا ۔ مقامی بنک میں اپنی ہفتے عشرے کی مصروفیات کے سلسلے میں اسلم خان سے کبھی کبھی سر راہ سرسری سی ملاقات ہو جاتی تھی مگر خلاف معمول گزشتہ تین ہفتے سے میری اسلم خان سے کوئی ملاقات نہ ہو سکی ۔ میرے دِل میں کئی اندیشے اور وسوسے پیدا ہوئے مگر میں نے انھیں توہمات پر محمول کیا اوراپنی دُھن میں مگن معیشت کے افکار میں اُلجھا رہا ۔کئی بار سوچا کہ اسلم خان کے ساتھیوں سے اس کی غیر حاضری اور بنک کے صدر دروازے پر خلافِ معمول اُس کی عدم موجودگی کے بارے میں دریافت کر لوں لیکن اس کی نوبت ہی نہ آسکی۔ جون 2017کی ایک گرم دوپہر کو مجھے یہ اطلاع ملی کہ اجل کے بے رحم ہاتھوں سے بے لوث محبت ،انسانی ہمدردی ،ایثار،انسانیت نوازی اور خلوص کے ہمالہ کی یہ سر بہ فلک چوٹی زمیں بوس ہو گئی ہے۔مانو س اپنائیت ،سدا بہار ہنسی اور مسکراہٹ کے خوش رنگ دامنوں میں اپنی آہ و فغاں اور جذباتِ حزیں کو نہاں کر کے غم زدہ انسانوں کے آ نسو پُونچھنے والا درد آ شنا چپکے سے اس دنیا سے اُٹھ کر ہم سب سے اس قدر دُور پہنچ گیا جہاں سے کبھی کوئی لوٹ کر نہیں آ یا ۔۔سیف الدین سیفؔ نے سچ کہا تھا:
خزاں کی آ ہٹوں پر کانپتی ہیں پتیاں گُل کی 
بکھرنے کو ہے اَب زُلفِ بہاراں ہم نہ کہتے تھے 
اسلم خان سے میر اتعلق گزشتہ بیس برس پر محیط تھا ۔ اس کے نہ ہونے کی ہونی دیکھ کر میرا دِل دہل گیا ۔ اس کی یادیں خزاں کے مسموم ماحول میں بھی بہار کے تازہ ہوا کے جھونکوں کی صورت میں واد�ئ خیال کو معطر کر دیتی ہیں۔اس سر چشم�ۂ فیض سے سیراب ہونے والے اس حقیقت سے آ گا ہ ہیں کہ اسلم خان کی زندگی شمع فروزاں کے مانند گزری ۔ خدمتِ خلق اور اِیثار کی یہ ضیا بار شمع آلامِ روزگار کے مہیب بگولوں کے سامنے پوری شدت اور قوت سے ضو فشاں رہی ۔ اَلم نصیب انسانوں کے یاس و ہراس سے بھرپور شب و روز کے مسائل و مضمرات پر اس کی گہری نظر تھی ۔آلامِ روزگار کے مہیب پاٹوں میں پسنے والے اِن مجبور انسانوں کے بارے میں وہ سوچتا بھی تھا اور ان آبلہ پا انسانوں کے ساتھ روا رکھی جانے والی شقاوت آمیز نا انصافیوں پر دِل ہی دِل میں کُڑھتا بھی تھا ۔حیف صد حیف کہ کسی شخص کو یہ خیا ل تک نہ آ یا کہ دونوں ا طراف سے جل کر سفاک ظلمتوں کو کافور کرنے والی اس مشعل تاباں کو صرصرِ ایام سے کیسے بچایا جائے ۔ اجل کے بے رحم ہاتھوں نے وہ پُھول تو ڑ لیا جس کی عطر بیزی سے مظلوم اور مجبور انسانوں کا قریۂ جاں سدا معطر رہتا تھا ۔ایسے فیض رساں انسانوں کی رحلت کے بعد پس ماندگان ایسی زندہ لاش کی صورت بن جاتے ہیں جن کی آوازیں بھرا جاتی ہیں اور گریہ و زاری کے باعث آنکھیں پتھر ا جاتی ہیں ۔جن عنبر فشاں پھولوں کی مہک نہاں خانۂ دِل کو معطر کرنے کا وسیلہ تھی جب گل چینِ اَزل انھیں توڑ لیتا ہے تو دِلوں کی بستی سُونی سُونی دکھائی دیتی ہے اور گرد ونواح کا پُورا ماحول سائیں سائیں کرتا محسوس ہوتا ہے ۔ حیا تِ مستعار کی کم مائیگی ، مر گِ نا گہانی کے جان لیوا صدموں ، فرصتِ زیست کے اندیشوں،سلسل�ۂ روزو شب کے وسوسوں ،کارِ جہاں کی بے ثباتی اور سیلِ زماں کے تھپیڑوں کے لرزہ خیز اور اعصاب شکن خوف کے سوتے کارِ جہاں میں زندگی کی کم مائیگی ہی سے پُھوٹتے ہیں۔ کسی عزیز ہستی کا زینۂ ہستی سے اُتر کر شہرِخموشاں میں تہہِ ظلمات پہنچ جانا پس ماندگان کے لیے بلا شبہ ایک بہت بڑ ا سانحہ ہے مگراس سے بھی بڑھ کر روح فرسا صدمہ یہ ہے کہ ہمارے دِل کی انجمن کو تابانی ، ذہن کو سکون و راحت ،روح کو شادمانی ،فکر و خیال کو ندرت ،تنوع ،تازگی اور نیرنگی عطا کرنے والے یہ گل ہائے صد رنگ جب ہماری بزمِ وفا سے اُٹھ کر ہمیں دائمی مفارقت دے جاتے ہیں تو یہ جانکاہ صدمہ دیکھنے کے بعد ہم زندہ کیسے رہ جاتے ہیں؟عدم کے کُوچ کے لیے رختِ سفر باندھنے والوں کی دائمی مفارقت کے بعدالم نصیب لواحقین پر زندگی کی جو تہمت لگتی ہے وہ خفتگانِ خاک پر دِل نذر کر نے اور جان وارنے والوں کو بے بسی اور حسرت ویاس کا پیکر بنا دیتی ہے ۔ لو گ کہتے ہیں کہ جب دریاؤ ں میں آنے والے سیلاب کی طغیانیوں سے قیمتی املاک اور مکانات دریا بُرد ہو جاتے ہیں تو اس آفتِ ناگہانی کی زد میں آنے والے مجبور و بے بس انسان غربت و افلاس کے پاٹوں میں پِس جاتے ہیں مگر اس بات کا کوئی ذکر نہیں کرتا کہ خلوص ،دردمندی ،وفا ،ایثار، رگِ جاں اور خونِ دِل سے نمو پانے والے رشتے جب وقت بُرد ہوتے ہیں تو الم نصیب پس ماندگان زندہ در گور ہو جاتے ہیں ۔ اسلم خان کی رحلت کے بعد دِل کی ویرانی کا کیا مذکور ہے:
بے کسی ہے اور دِل نا شاد ہے 
اب انہی دونوں سے گھر آباد ہے 
اب اُنہی کی فکر میں صیاد ہے 
جن کے نغموں سے چمن آباد ہے 
تم نے جو چاہا وہی ہو کر رہا 
یہ ہماری مختصر رودا ہے 
اسلم خان نے جھنگ صدر میں واقع کچا کورٹ روڈ،جھنگ کی ایک نواحی بستی میں مقیم ایک خود دار ،با وقار اور معزز پٹھان خاندان میں آ نکھ کھولی ۔ پرائمری ،وسطانی اور ثانوی جماعتوں میں اس ہو نہار طالب علم نے اپنی فقید المثال کامیابی کے جھنڈے گاڑ دئیے ۔اس کے ساتھی اور اساتذہ اس فطین طالب علم کی ذہانت کے معترف تھے ۔ثانوی سکول امتحان گورنمنٹ ہائی سکول ،کالج روڈ جھنگ سے امتیازی نمبر حاصل کر کے پاس کیا ۔اسی دوران میں اس کا والد اچانک حرکتِ قلب بند ہوجانے کے باعث چل بسا ۔اسلم خان اپنے بھائی بہنوں میں سب سے بڑا تھا ،تقدیر نے پورے گھر کے مسائل کی ذمہ داری اس نو عمر بچے کے کندھے پر ڈال دی۔ مصیبت کی اِس گھڑی میں اسلم خان کی والدہ نے بیوگی کی چادر اوڑھ کر محنت مشقت کر کے اپنے کم سِن یتیم بچوں پرورش کی۔اسلم خان نے امتیازی نمبر حاصل کر کے میٹرک کے امتحان میں کامیابی حاصل کی۔اس کے بعد تقدیر نے اس یتیم طالب علم پر کالج کی تعلیم کے دروازے بند کر دئیے ۔ شہر کے بارسوخ اور خدا ترس معززین کی دستگیری اس خاندان کے لیے خضرِ راہ ثابت ہوئی اور ایک مقامی کمرشل بنک میں اس میٹرک پاس نوجوان کو دربان کی ملازمت مل گئی۔ کساد بازاری ،گرانی اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری کے اس دور میں اسلم خان کی و الدہ اورگھر کے سب افراد روزگار کے اس موقع پر مطمئن تھے ۔اسلم خان نے اپنی خودی کا بھرم قائم رکھتے ہوئے غریبی میں نام پیدا کرنے کے لیے خدمت خلق کو شعاربنایا اوربے بس و لاچار دکھی انسانیت کے ساتھ جو عہدِ وفا استوار کیا اسی کو علاج گردشِ لیل و نہار قرار دیا ۔صبا اکبر آبادی نے سچ کہا تھا :
ہے جو درویش وہ سلطان ہے معلوم ہوا
بوریا تختِ سلیمان ہے معلوم ہوا 
ڈھونڈنے نِکلے تھے جمیعتِ خاطر لیکن 
شہر کا شہر پریشان ہے معلوم ہوا 
اپنی تہذیب و ثقافت سے اسلم خان کو والہانہ محبت تھی یہی وجہ ہے کہ اسلم خان نے پنجابی کلاسیکی شاعری اور جدید پنجابی شاعری میں ہمیشہ گہری دلچسپی لی ۔ اگرچہ وہ کم پڑھا لکھاتھا مگر ارضی و ثقافتی حوالے سے اس کے مشاہدات اورتجربات کی وسعت اس کے بصیرت کی مظہر تھی ۔وہ اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کرتا تھا کہ مغرب کی کورانہ تقلید اور نقالی کے باعث صدیوں پرانی پنجابی تہذیب و ثقافت پر جان کنی کا عالم ہے اور دیہی زندگی کی سادگی اور بے تکلفی اب آخری ہچکی لے رہی ہے ۔اس نے سادہ ،باوقار اور پُر اعتماد زندگی بسر کی ۔مٹی کے دانوں والی ایک تسبیح سدا اس کے دائیں ہاتھ کی کلائی سے لٹکی رہتی اور وہ دِل ہی دِل میں آیات ، قرانی ،احادیث اور دوردِ پاک کا وِرد کرتا رہتا ۔ خوفِ خدا،تصوف اورروحانیت اُس کے رگ و پے میں سرایت کر گئی تھی ۔ اسلم خان وقت کے اس سانحے پر دِ ل گرفتہ رہتا تھا کہ پس نو آبادیاتی دور میں منزلوں پر ان لوگوں نے غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے جو شریک سفر ہی نہ تھے ۔ یہ حالات کی ستم ظریفی نہیں تو اور کیا ہے کہ جاہل کو اس کی جہالت کا انعام مِل رہاہے مگراِس بے حس معاشرے میں جوہرِ قابل کا کوئی پُرسانِ حال کہیں دکھائی نہیں دیتا۔رام ریاض کی کتاب پیڑ اور پتے کی تقریب رونمائی میں جھنگ میں مقیم دھات کے نئے برتنوں کے پُرانے تاجر عبدالغنی ظروف سازنے جب عالمی شہرت کے حامل پنجابی زبان کے ممتاز شاعر افضل احسن رندھاوا (1937-2017)کے یہ اشعار پڑھے تو سامعین پر رقت طاری ہو گئی ۔ اسلم خان اکثر کہاکرتا تھا کہ یہ اشعار سُن کر ایسا لگتا تھا کہ حالات کے نباض شاعر نے نہ صرف زندگی کی حقیقی معنویت کا اُجاگر کرنے کی سعی کی ہے بل کہ نوجوان نسل کو زندگی کے تلخ و تُندحقائق کے اِحساس و اِدراک پر مائل کرکے فکر و نظر کو مہمیز کرنے کالائق صدر شک و تحسین کام بھی کیا ہے ۔
بچیاں دا کوئی کھیل اے بچڑا 
جیل تے آخر جیل اے بچڑا 
جیہڑا ہتھ کھڑے کر جائے 
عشق اِچ اوہی فیل اے بچڑا 
ٹِکٹاں والے پیدل ٹُردے 
بے ٹِکٹاں دی ریل اے بچڑا
جیہڑا سامنے آئے، ہے نہیں 
انھے ہتھ غلیل اے بچڑا 
افضل احسن لُٹ کے لے جا
درد فراق دی سیل اے بچڑا 
اسلم خان دیہاتوں کی سادہ زندگی کا دلدادہ تھااور ہمیشہ دیہی علاقوں کے رہن سہن کے گُن گاتا تھا ۔وہ اس بات پر دِل گرفتہ رہتا کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی نے دُور افتادہ دیہی علاقوں کی سادہ اور بے تکلف زندگی کا سار ا منظر نامہ ہی بدل دیا ہے ۔وہ مثالیں دے کر سمجھاتا کہ اب دیہاتوں میں نہ تو کھار ہے نہ لانی،نہ ریڑکے ہیں نہ مدھانی،نہ پکسے گارے ہیں نہ گھانی،نہ چتڑی ہے نہ دائی ، نہ گندم کی کٹائی ہے نہ لائی ،نہ کچے کوٹھے ہیں نہ گوبر،گارے اور تُوڑی کے ملغوبے سے لپائی،نہ دُدھان ہے نہ کھلیان،نہ سُبی ہے نہ سروچا ، نہ تِیلی ہے نہ مانجا،نہ چنگیر ہے نہ چِھکُو،نہ کلوٹی ہے نہ بھڑولا،نہ خود رو پودوں کی بالیاں ہیں نہ کچے کوٹھے میں جُڑی کورے بر تنوں کی پالیاں ،نہ دُھنائی ہے نہ بُنائی،نہ چھپری ہے نہ ڈھپری،نہ حلوہ ہے نہ پُوری ،نہ ساہل ہے نہ ماہل،نہ گہی ہے نہ بہی ،نہ تونگ ہیں نہ پچھی ،نہ نلیاں ہیں نہ پلیاں ،نہ ٹوپے ہی نہ پڑوپی،نہ نسار ہے نہ سنسار،نہ مراثی رہے نہ سنیاسی،نہ کھاٹ ہے نہ کھٹولی،نہ پاٹھ شالہ ہے نہ پٹھا پٹھورا، نہ گُڑیاں ہیں نہ پُڑیاں ،نہ پٹو ہے نہ پٹولی،نہ کولی ہے نہ مُنگر ،نہ صحنک ہے نہ کُنالی ،نہ کُھوہی ہے نہ بوکا ، نہ لُنگی نہ لنگوٹا،نہ تَندی ہے نہ تانا،نہ کُچ ہے نہ کُچِن ،نہ اٹیرن ہے نہ ڈھیرا ،نہ ہاٹ ہے نہ کھاٹ،نہ بیلنے رہے نہ پُونیاں نہ گھڑے رہے نہ چُھونیاں اور نہ داستان گورہے نہ کہانیاں،حیف صد حیف!نئے دور کی حشر سامانیاں ماضی کی سب نشانیاں بہا لے گئیں ۔ اب تو زندگی اُڑن کھٹولا بن گئی ہے جسے دیکھو ہوا کے بمبو کاٹ پر فراٹے بھرتا پھرتا ہے ۔اسلم خان کو ابن الوقت ،مفاد پرست اور مرغانِ باد نما سے ہمیشہ یہی شکوہ رہا کہ وہ اپنے ذاتی مفادات کی خاطر دیرینہ رفاقت اور پیمان وفا سے دست بردار ہو نے میں بھی تامل نہیں کرتے ۔ ذاتی محافظوں میں گِھرے کالا دھن کمانے والوں کے کروفر اور اللے تللے دیکھ کر وہ پیچ و تاب کھانے لگتا اور اکثر یہ بات زور دے کر کہتا کہ حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ لُٹنے والے نہتے لوگ تو در بہ در اور خاک بہ سر پھرتے ہیں مگر لُٹیروں نے اپنے گرد مسلح محافظوں کا حصار بنا رکھا ہے ۔ محبت کو ہوس سے آلودہ کرنے کو وہ نفرت کی نگاہ سے دیکھتا تھا ۔وہ تاریخ اور اس کے پیہم رواں عمل پر گہری نظر رکھتا تھا ۔ عالمی ادب کی لوک داستانوں اور حسن و رومان کے قصوں کے اردو تراجم کا اس نے شوق سے مطالعہ کیا تھا ۔وہ لیلیٰ اور مجنوں،نپولین اور جوزفائین ،شیریں اور فرہاد ،ٹرسٹن اور آئسولڈ ،رومیو اور جولیٹ ،کلو پترا اور مارک انٹونی ، پیرس اور ہیلینا ، جین آئر اور روچسٹر ، کی المیہ داستان محبت کو وہ عبرت کی مثال قرار دیتا تھا ۔ وہ اکثر یہ بات دہراتا کہ رہ نوردِ شوق کے لیے پیمانِ وفا باندھنا بے حد سہل ہے مگر اِسے پای�ۂ تکمیل تک پہنچانے کے لیے اپنے لہو سے ہولی کھیلنے اور دُکھوں کے کالے کٹھن پہاڑ اپنے سر پر جھیلنے کااُس میں حوصلہ بھی ہونا چاہیے ۔ وہ سلیم احمد کا یہ شعر پڑھ کر تزکیۂ نفس کی صورت تلاش کرتا تھا ۔
عشق میں جس کے یہ احوال بنا رکھا ہے 
اب وہی کہتاہے اس وضع میں کیا رکھا ہے 
تاریخ کے مسلسل عمل اور ماضی کی نشانیوں سے اسلم خان کو ہمیشہ گہری دلچسپی رہی۔بر صغیر کی تاریخ کے نشیب و فراز کا اس نے عمیق مطالعہ کیا تھا ۔ وہ اکثر کہا کرتا تھا کہ سیلِ زماں کے تھپیڑوں کی زد میں آنے کے بعد دنیا بھر میں ماضی کے کئی پُر تعیش ٹھکانے اب عبرت کے تازیانے بن چکے ہیں ۔ طوفانِ حوادث کے بگولوں اور ابلقِ ایام کے سُموں کی گرد میں جاہ و جلال ،مال و منال ،عظمت و حشمت اور قوت و ہیبت کے سب سلسلے اس طرح اوجھل ہو جاتے ہیں کہ ان کا نام و نشاں تک نا پید ہو جاتا ہے ۔وہ مثالیں دے کر واضح کرتا کہ شاہی قلعہ لاہور، اہرام مصر،قطب الدین ایبک کا مزار، مو ہنجو دڑو ،ہڑپہ ،ٹیکسلا،قطب مینار،مقبرہ جہانگیر ، فتح پور سیکری کے محل،مقبرہ نور جہاں ، میر جعفر کی نمک حرام ڈیوڑھی ،مالچا محل، تاج محل ،آگرہ کا قلعہ،ہمایوں کا مقبرہ،لال قلعہ،ماچو بی چو (پیرو)،بے بی لون (عراق)،پے لنکو (میکسیکو)،دیوار چین اور ٹی کال (گوئٹے مالا)آشوبِ زمانہ سے غافل رہنے والوں کو جھنجوڑ کر اس امر سے متنبہ کر رہے ہیں کہ یہ دنیا فانی ہے اور بقا صرف ربِ ذوالجلا ل کو حاصل ہے ۔اس عالمِ آب و گِل میں طبعی زندگی کی مثال سطحِ آب پر حباب یا ریگ صحرا پر نوشتہ ایام کی ایسی تحریر کی سی ہے جس کا جانا ٹھہر گیا ہے ،یہ صبح گئی کہ شام گئی ۔وہ مطلق العنان بادشاہ جن کی حکومت کا ہر سُو ڈنکا بجتا تھا جب ان کی حکومت کو زوال ہوا تو اُن کی آنکھیں خنجر سے نکال کر پھینک دی گئیں۔ دارا و سکندر کا نام و نشاں نہ رہا ،نہ صدام کا کوئی مقام رہا اور نہ ہی قذافی کی کوئی تلافی ہو سکی ۔ موت سے کسی کو رستگاری نہیں ،اس دنیا میں ہر انسان اپنی باری بھر کر عدم کی بے کراں وادیوں کی جانب کُوچ کر جاتاہے ۔ اس لیے ہر انسان کو اپنے اس اٹل اور نا گزیر سفر کے لیے زادِ راہ تیار رکھنا چاہیے جوکوہِ ندا کی سدا سنتے ہی ساتواں در کھول کر شروع کرنا پڑتا ہے ۔
اپنی بنک کی ملازمت کو اسلم خان نے مجبور اور بے بس و لاچار انسانیت کی بے لوث خدمت میں عظمت کی ایک مثال بنادیا ۔دردمندوں ،ضعیفوں ،بیماروں ، بے سہاراخواتین اور کم سِن بچوں کی بے لوث خدمت سدا اسلم خان کا شعاررہا۔اپنے علاقے کے معذوروں ،بیواؤں ،مزدوروں ،طالب علموں اور بے سہاراافراد کے ساتھ اُسنے زندگی بھر معتبر ربط بر قرار رکھا ۔ انسانیت کے ساتھ مہربانی ،ہمدردی،شفافیت ، اعلاکردار ،احسانات ،سخاوت اور بھلائی کی تڑپ کامظہر سلوک ہی مخلص لوگوں کا امتیازی وصف ہے ۔ اسلم خان کو اس بات کا کامل یقین تھا کہ عملی زندگی میں مستحق افراد کو دریا دِلی سیصدقہ و خیرات دینے سے کبھی دامن تہی نہیں ہوتا بل کہ خست و خجالت اورہوس انسان کو کردار سے عاری کر کے ذہنی افلاس کی بھینٹ چڑھا دیتی ہے ۔ اس بات پر وہ اکثر دل گرفتہ ہو جاتا کہ بے بصری ،کور مغزی اور جہالت کی زد میں آنے کے بعد یہ شہر بھی عجیب ہو رہا ہے جو طوطا چشمی اور پیمان شکنی کی قبیح روایت میں کوفے کے قریب ہو رہا ہے ۔ایسے شہر جہاں سنگ دِل اور انسانیت سے عاری درندوں نے غاصبانہ تسلط قائم کر رکھا ہے اور مفلس و قلاش ،بے بس و لاچار اور بے یار و مدد گار دُکھی انسانیت کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے اُنھیں سپردِ آتش کر دینا چاہیے ۔ اس کا خیال تھا کہ انسان کو محض ذاتی مسرت و شادمانی کی فراوانی ہی کو اپنا مطمح نظر نہیں ٹھہرانا چاہیے بل کہ اپنی زندگی کو افادیت سے لبریز ،مروت و شفقت سے عطر بیز اور خلوص و دردمدنی سے مزین کر کے ایک درخشاں مثال قائم کرنی چاہیے ۔سچ تو یہ ہے کہ دنیا میں صرف وہی افراد عملی زندگی میں بے حد موثر اور مفید ثابت ہوتے ہیں جو الم نصیب اورجگر فگار انسانوں کے زخموں پر مرہم رکھتے ہیں اوراُن کا بوجھ اُٹھا کر ان کے لیے آسانیاں تلاش کرتے ہیں۔ وہ اس جانب متوجہ کرتا کہ قلب اورروح پر لگنے والے کچھ گھاؤ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کا اندمال صرف خلوص و مروّت اور شفقت و محبت کے اشاروں اور والہانہ وابستگی اور ہمدردانہ سلوک کے استعاروں کا مرہونِ منت ہے ۔جہاں تک ابن الوقت ،منافق اور مفاد پرست استحصالی عناصر کا تعلق ہے وہ تو خود زمین کا بوجھ ہیں ۔ وہ ہر ماہ باقاعدگی سے اپنے محلے کے معمر لوگوں ،بیواؤ ں اور معذوروں کے گھر جاتااور یوٹیلٹی بلز اورواجب الادا رقم وصول کر کے اگلی صبح بنک میں وہ رقم جمع کر ا دیتا اور رسید اسی شام ان لوگوں کے گھر پہنچا دیتا۔ مصروف زندگی بسر کرنے والے اپنے پڑوسیوں اور احباب کی یہ خدمت وہ بِلا معاوضہ انجام دیتا ۔اگر کوئی سادہ پانی کا ایک گلاس بھی پیش کرتا تو نہایت ادب سے معذرت کر لیتا اور صرف دعا کی استدعا کرتا ۔ اسلم خان کی زندگی شمع کے مانندگزری مگر وہ ایک شعل�ۂ مستعجل ثابت ہوا ۔اس کا سبب یہ تھاکہ اس کی زندگی کی مشعل دونوں سروں سے جلتی رہی۔ وہ جبر کے مختلف رُوپ ،زندگی کے تلخ حالات کو دیکھتا ،ان کے بارے میں سوچتا اور دِل ہی دِل میں زندگی کے تضادات ،بے اعتدالیوں اور شقاوت آمیز ناانصافیوں پر کُڑھتا بھی تھا ۔اسلم خان نے عجز و انکسار اور سادگی کو اپنا شعار بنایا اور دکھاوے سے ہمیشہ اجتناب کیا ۔اس کی سادگی ،قناعت اور استغنا کے عجب رنگ تھے ۔کئی بار ایسا بھی ہوا کہ وہ سر شام جب دردمندوں ،ضعیفوں اور بے سہارا لوگوں کی مدد کے لیے گھر سے نکلتاتو اس کے بوسیدہ لباس کو دیکھ کر لوگ اس فقیرِ سرِ راہ خیال کرتے تھے۔اس کے باوجود وہ وہ سمجھتا تھا کہ اپنی اوقات سے بڑھنے کی صورت میں وہ سرابوں کے صحرا میں گم ہو جائے گا ۔ اس کا فقر کبھی مائلِ نقرہ و طِلا نہ ہوا اور چادر دیکھ کر پاؤں پھیلانا اس کی فطرت ثانیہ بن گئی ۔ اس کے دِل میں ظاہری شان کے ارمان نہ تھے اور نہ ہی اپنی سوختہ سامانی اور خستہ حالی پر اُسے کوئی ملال نہ تھا بل کہ وہ ہر حال میں راضی بہ رضا رہتا تھا ۔اپنی وضع قطع اور چال ڈھال بدلنے کے بجائے اسلم خان غم زدوں کا حال بدلنے کے بارے میں تشویش میں مبتلا رہتا تھا ۔اپنی حقیقت سے آ گہی ،خود اعتمادی اورسع�ئ پیہم کو وہ عملی زندگی میں کامیابی کا زینہ قرار دیتا تھا ۔وہ اس بات پر زور دیتا تھا کہ پیشہ ورانہ زندگی میں وقار اور عزت و تکریم حاصل کرنے کے لیے نظم و ضبط کو شعار بناتے ہوئے خون پسینہ ایک کرنا پڑتا ہے ۔وہ گدڑی کا ایسا لعل تھاجس نے للچائی ہوئی نگاہ سے کسی صاحب ثروت کی طرف کبھی نہ دیکھا ۔وہ ہمیشہ اپنی دُھن میں مگن رہا ،رُوکھی سُوکھی کھا کر اور سادہ لباس پہن کر وہ اپنے خالق کا شکر ادا کرتااور کسی کا احسان لینا کبھی گوارا نہ کرتا ۔آئین�ۂ ایام میں اِس درویش منش فقیر کی ہر ادا دیکھ کر اس کے پیکر و تسلیم و رضا ہونے کا یقین ہو جاتا تھا ۔اُسے اتنی فرصت ہی نہ مِل سکی کہ وہ اپنی ذات پر توجہ دے ۔ 
یہ جام�ۂ صد چاک بدل لینے میں کیا تھا
مہلت ہی نہ دی فیض ؔ کبھی بخیہ گری نے 
ہمہ گیر مقبولیت اور ہر دِل عزیز شخصیت بننے کے اوصاف کسی کو میراث میں نہیں ملتے ۔ سماجی زندگی میں محبوب خلائق بننے اور عزت و احترام کے بلند منصب پر فائز ہونے کے لیے اپنے خون دِل سے اُمیدوں کا چمن سیراب کرنا پڑتا ہے ۔ اسلم خان زندگی بھر اجتماعی بھلائی اورمعاشرتی فلاح کے لیے کوشاں رہا ۔خدمتِ خلق کے کاموں کو وہ عقائد کی پختگی اور جذبوں کی صداقت کی دلیل سمجھتا تھا ۔ وہ اس بات پر یقین رکھتا تھا کہ ہرشقی القلب درندے پر لعنت بھیجنے ،جبر کا ہر انداز مسترد کرنے اور ہر قسم کے ظلم و نا انصافی کے خلاف بغاوت کرنے کا حق صرف اسی شخص کو پہنچتاہے جو آلام روزگار کے کوہِ گراں کے نیچے سسکنے والے میں مصیبت زدہ انسانوں کی دست گیری کا حوصلہ اور مظلوم کے آ نسو پونچھنے کا ولولہ رکھتا ہو ۔وہ اس بات پر اصرار کرتا کہ جو بھی شخص مظلوم انسانوں کے ساتھ یک جہتی ،محبت اور ہمدردی کے جذبات کا اظہار نہیں کرتا وہ نہ صرف انسانیت کی توہین ،تذلیل ،تضحیک اور بے توقیری کا مرتکب ہوتا ہے بل کہ وہ اپنے ا شرف المخلوقات ہونے کی بھی نفی کرتا ہے ۔قوتِ ارادی سے متمتع انسان تقدیر کے ستم سہنے والے کم زورانسانوں کو روندنے اورپچھاڑنے کے بجائے اُن کی دست گیری کی فکر کرتے ہیں اوراُن کی ڈھارس بندھا کرزندگی کے مسائل سے عہدہ بر آ ہونے کی تلقین کرتے ہیں۔قحط الرجال کے موجودہ زمانے میں کسی زوال پزیر معاشرے میں اسلم خان جیسے مذہب کے شیدائی ، بے لوث خادم ،ایثار پیشہ رفق ،مونس و غم خوار پڑوسی اور جری مصلح کاوجود خالق کا ئنات کا انعام سمجھنا چاہیے ۔
اللہ کریم نے اسلم خان کو بصیرت کی دولت سے متمتع کیا ساتھ ہی آثارِ مصیبت کے احساس کے سلسلے میں زرقا الیمامہ جیسی پیش بینی کی حیران کُن صلاحیت سے بھی نوا ز ا تھا ۔آج سے پندرہ برس پہلے شہر کے مضافاتی محلہ بُوم نگر میں ثباتی نام کی ایک بیوہ ڈھڈو کٹنی نے اپنی نیلی آ نکھوں والی نوجوان بیٹی ظلی جسے واقفِ حال خون آشام بِلّی کہہ کر پکارتے تھے، کی آ ڑ میں حسن و رومان کی وادی میں مستانہ وار گھومنے والے لا اُبالی پن کے شکار نوجوان لڑکوں کی زندگی کی تمام رُتیں بے ثمر ، نگاہیں بے بصر ،کلیاں شرر، گلیاں پُر خطر ،آ ہیں بے اثر اور زندگیاں مختصر کر دی تھیں ۔نوجوان لڑکوں کو اپنی نگاہوں کے تیرِ نیم کش اوراداؤں کے وار سے گھائل کرنے کے بعد نائکہ ثباتی جھٹ منگنی کا جھانسہ دے کر اِن راہ گُم کردہ نوجوانوں سے اُن کے گھر کاسار ا زرو مال اور اَندوختہ ہتھیا لیتی تھی ۔اِس قسم کی منگنی تو بِلا شبہ پلک جھپکتے میں ہو جاتی مگر اِس منگنی کے بعد سرابوں میں بھٹکنے والے بے آ ب و گیاہ صحراؤں میں آرزوئے وصل سے تشنہ لب کاس�ۂ گدائی تھامے اِن سایہ طلب قسمت سے محروم ان نو جوانوں کے بیاہ کی کبھی نوبت ہی نہ آتی تھی۔کئی بار یہ سانحہ بھی ہوا کہ اجل نے ان درماندہ و مضمحل نو جوانوں کے دردِفرقت کا مداوا کیا ۔شُوم نگرکا خسیس بھڑوا رموں کنجڑا اِن طوائفوں کا سر پرست اور محافظ بن بیٹھا ۔ اپنی لُوٹ مار اور کالا دھن کمانے کے قبیح دھندے سے ان درندوں نے سسلی مافیا کی صورت اختیار کر لی ۔ رمو ں کنجڑے نے کرگس نگر میں ’’پاجی مرکز بیاہ ‘‘کھول رکھا تھا ۔ پاجی مرکز بیاہ میں رموں کنجڑے کے ساتھ ثباتی ،ظلو ،روبی ،پونم اور سمی بھی شریکِ جرم تھیں ۔شادی کرانے کا جھانسہ دے کر حسن پرست نوجوان لڑکوں سے زرو مال بٹورنا ان طوائفوں ، ٹھگوں اور اُچکوں کا وتیرہ تھا ۔اسلم خان نے ہمیشہ یہی کوشش کی کہ اس قسم کے شادی گھر وں اور ان میں موجود جو فروش گندم نما مہا مسخروں کے مکر کی چالوں اور گھناونے کردار کے بارے میں نوجوانوں کو قبل از سانحہ خبردار کیا جائے ۔شہر کی کچی آبادیوں اور پس ماندہ علاقوں کے متعدد سادہ لوح باشندے جن میں ریٹائرڈ ملازمین کی کثرت تھی، اپنی زندگی کے آخر ی ایام میں اپنے نوجوان بچوں کی خوشیاں دیکھنے کی تمنا میں اِن نوسر بازوں کے ہاتھوں زندگی بھر کی جمع پونجی سے محروم ہو گئے ۔ ’’ پاجی مرکز بیاہ ‘‘کے بارے میں اسلم خان اکثر یہ شعر پڑھتا جسے سُن کر محفل کِشتِ زعفران بن جاتی :
صبح ہوتی ہے شام ہوتی 
جعلی منگنی مدام ہوتی ہے 
بنک میں جب کوئی ضعیف شخص اپنے بچت کھاتے میں سے رقم نکلوانے کے لیے پہنچتا تو وہ مطلوبہ رقم جلدنکلوانے اور اس رقم کی گنتی میں مدد کے لیے اسلم خان سے ضرور ملتا ۔اسلم خان یہ جان لیتا کہ یہ چراغِ سحری جوریگِ ساحل پہ نوشتہ گردشِ ایام کی تحریر ہیں، اپنی زندگی کی سفاک ظلمتوں کو کافور کرنے اور اپنے کلب�ۂ احزاں میں روشنی کی کرن دیکھنے کی موہوم تمنا میں اپنی ساری جمع پونجی بنک کے بچت کھاتے میں سے نکلوانے اور ثباتی اور ظلی کے قدموں میں ڈھیر کرنے پر تُل گئے ہیں۔وہ ان بُھولے بھٹکے لوگوں کو جن کی زندگی حباب کی سی ہوتی ہے یہ باور کرانے کی کوشش کرتا کہ چڑیلیں ،ڈائنیں ،بُھوت اور آسیب سدا جفا ہی کرتے ہیں،اِن سے پیمانِ وفا باندھنا خود فریبی اور اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی مارنے کے سوا کچھ بھی نہیں ۔ وہ لوگوں کو سمجھاتا کہ ظلی کی جوانی کے آغاز کے ساتھ ہی اِن موذی و مکار درندوں نے ظلی کی منگنی کا سوانگ رچا کر ٹھگی کی لرزہ خیز ،اعصاب شکن اور تباہ کن کہانی کے ایک ہزار کے قریب خونچکاں باب رقم کیے ہیں ۔ گھاٹ گھاٹ کا پانی پینے والی یہ وہ زہریلی ناگنیں ہیں جن کا کاٹا پانی بھی نہیں مانگتا ، اپنے اجل گرفتہ شکار کو موت کے گھاٹ اُتار کر ہی دم لیتی ہیں ۔ منافقت ،جعل سازی اور مکر و فریب نے موجودہ دور میں گمبھیر صورت اختیار کر لی ہے ۔آج کے دور میں انسان شناسی اور شخصیت کے راز سمجھنا ایک کٹھن مر حلہ بن چکا ہے۔ جب سادہ لوح اور فریب خوردہ لوگ پیشہ ور ٹھگ اور بدنا م نوسر باز بھڑوے رموں کنجڑے اور اس کے شریکِ جرم ساتھیوں کو بھائی کہہ کر مخاطب کرتے تو ایک ان جانے خوف سے اسلم خان کے چہرے کا رنگ فق ہو جاتا اور انھیں سمجھانے کی خاطر یہ شعر پڑھتاتھا :
بھاگ ان بردہ فروشوں سے کہاں کے بھائی 
مار ڈالیں گے جو یوسف ؑ سا برادر ہووے 
اپنی اصلاحی کوششوں میں اسلم خان کو خاطر خواہ کامیابی ہوئی اور شہر کے متعدد ضعیف لوگ اسلم خان کو دعائیں دیتے کہ اس کی بر وقت رہ نمائی اور دست گیری کے اعجاز سے وہ ’’پاجی مر کز بیاہ ‘‘کی لُوٹ مار سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے ۔
پا کستان کی نئی نسل کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کر نا اسلم خان دیرینہ خواب تھا ۔ اس نے آلامِ روزگار کے مہیب پاٹوں میں پِسنے والے جگر فگار والدین کے کم سِن بچوں کی تعلیمی اعانت اور موثر رہنمائی کے لیے شام کے وقت کا م کرنے والے تدریسی مراکز اور ٹیوشن سنٹرز سے معتبر رابطہ قائم رکھا جہاں ان غریب بچوں کو نصابی و ہم نصابی سر گرمیوں کے بارے میں موثر رہ نمائی فراہم کی جاتی تھی ۔ اس مقصد کے لیے جن ممتازماہرین تعلیم نے اسلم خان کی آواز پرلبیک کہا ان میں فیض خان ارسلان ،گد ا حسین افضل ، چودھری نور احمد ، ظہور احمد شائق ،عاشق حسین فائق ، محمد شفیع ہمدم ، حا جی حافظ محمد حیات ، محمد بخش گھمنانہ ، فیض محمد خان ، عمر حیات بالی ، غلام مر تضی شاکر ترک ،اوراسحاق مظہر شامل ہیں۔ْ غریب طلبا کی امداد کے لیے اسلم خان نے اپنے معتمدساتھیوں کے اشتراک اور تعاون سے ’’ ثمر نورس ‘‘ کے نام سے اپنی مدد آپ کے تحت مقامی سطح کی ایک فلاحی تنظیم بنائی ۔ ہر ماہ کی دس تاریخ کو یہ سب ساتھی جن میں شہر کے مخیر افراد اورمعززین علاقہ شامل تھے ایک گُل دان لیے گھر سے نکلتے اور خدا ترس لو گ اس تہی گُل دان کو اپنے عطیات سے بھر دیتے ۔ اس طرح جمع ہونے والی چندے کی رقم سے محلے کے مستحق طلبا و طالبات کے لیے کتب اور ملبوسات خر یدے جاتے ۔ یہ سب ضروری اشیا غریب مستحقین کو اس قدر راز داری سے فراہم کی جاتیں کہ ان کی عزت نفس پر حرف نہ آئے ۔ شہر کے ثروت مند لوگوں سے اسلم خان کا رابطہ رہتا تھا ۔کسی غریب بچی کی شادی کا مرحلہ آتا توا سلم خان اور اس کے وفادار ساتھی فاقہ کش والدین کی غریب بچی کی محرومیوں کا مداوا کرنے کے لیے کاسہۂ گدائی لے کر اُٹھ کھڑے ہوتے اور جہیز کے لیے درکار سامان کی فراہمی کو یقینی بنانے میں کوئی کسر اُٹھا نہ رکھتے تھے ۔ 
اسلم خان سے مل کر زندگی کی رعنائیوں پر یقین پختہ ہو جاتا اوراس کے ساتھ طویل نشست کے بعد بھی تشنگی کا احساس برقراررہتا ۔ گلی ،محلے اور شہر کے سب لوگ اُس سے ٹُوٹ کر محبت کرتے تھے ،وہ ایسا رانجھا تھا جو سب کا سانجھا تھا۔اس کی بے لوث محبت اور لا محدود چاہت لوگوں کے دِلوں کو مسخر کر لیتی تھی ۔اس کی دل آویز گفتگو سننے والوں کے دِل کی گہرائیوں میں اُتر جاتی تھی ۔خدمتِ خلق کے کاموں سے دِلوں میں سماجانے والے لوگوں کی یاد کبھی دِل سے نکل نہیں سکتی ۔لوگوں کے حاشی�ۂ خیال میں ان کی یادوں کے سدا بہار پھولوں کی عطر بیزی کبھی ختم نہیں ہوتی ۔ اسلم خان نے تو اس عالمِ آب و گِل سے تعلق توڑ کر عدم کی بے کراں وادیوں کی جانب رختِ سفر باندھ لیا ہے مگر شہر میں موجود سیکڑوں مداحوں کے دِلوں میں اس مسیحا صفت انسان کی یادیں ہمیشہ موجود رہیں گی۔ ممتاز شاعر خورشید رضوی نے سچ کہا تھا :
کب نکلتا ہے کوئی دِل میں اُتر جانے کے بعد 
اِس گلی کے دوسری جانب کوئی رستہ نہیں 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com