نعتیہ مشاعرہ اور الپائنا گروپ آف سکولز

نعتیہ مشاعرہ اور الپائنا گروپ آف سکولز
تحریر وتہذیب؛ سعید احمد سلطان، صحرائے چولستان بہاول پور پاکستان
رسولِ رحمت، آیہ ء حکمت حضرت محمد مصطفیٰ، احمدِ مجتبیٰ ﷺ کی محبت میں عقیدت کی محفلیں سجانا ایک بہت بڑا اعزاز ہے، اور اعزاز نصیب والوں کو ہی ملتے ہیں۔ ایسے لوگ بہت خوش قسمت ہوتے ہیں جن کی کاوشوں اور کوششوں کو مرکز و محور رسولِ کریم ﷺ کی ذاتِ با برکات سے والہانہ عقیدت کے ساتھ سیرتِ رسول ﷺ کی پیروی کرنا بن چکا ہو۔اور جن کی پہلی اور آخری ترجیح گوشہ ہائے سیرت کے تمام پہلوؤں سے معاشرے کے ہر ایک فرد کو روشناس کرانا بن چکی ہو۔ 
الپائنا گروپ آف سکولز کے ڈائیریکٹر ، ممتاز ماہرِ تعلیم اور سنجیدہ شخصیت کے مالک پروفیسر سید محمد نسیم جعفری ایسے ہی خوش قسمت انسان ہیں جو حبِ رسول ﷺ کے چراغ دل میں روشن رکھتے ہوئے ہمیشہ محافلِ نعت اور نعتیہ مشاعروں کا جوش و جذبے کے ساتھ اہتمام کرتے ہیں۔جشنِ عید میلاد النبی ﷺ کا بابرکت موقع ہو کہ ماہِ صیام کے نیکیاں بانٹتے روز و شب۔ محرم الحرام کے دن ہوں کہ شبِ معراج کے لمحات، وہ ہر موقعہ کی مناسبت سے محافلِ عقیدت و مدحت کا اہتمام کرنے کی سعی کرتے ہیں۔ 
سال دو ہزار سترہ کی چوبیس تاریخ کو بھی سید محمد نسیم جعفری صاحب نے ایک نعتیہ مشاعرے کا اہتمام کی جس کی صدارت ممتاز دانشور، شاعر، صحافی ، تمغہ ء امتیاز سیدتابش الوری فرما رہے تھے جبکہ مہمانِ خصوصی حیثیت سے بہاول پور کی نمائندگی کرنے والے اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن، عالمِ دین اسلامی موضوعات پر کالم لکھنے والے ملک اللہ بخش کلیار موجود تھے۔
باقائدہ آغاز اللہ رب العزت کے بابرکت کلام کے ساتھ ہوا ۔ سعادت ابراہیم جعفری نے سمیٹی۔ نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پڑھنے کا موقعہ محمد علی کو ملا۔ بارگاہِ نبوت ﷺ میں گلہائے عقیدت پیش کرنے کے پھر تشریف لائے جناب دلشاد حسین۔
نعتیہ مشاعرے میں خصوصی خطاب کا شرف ملک اللہ بخش کلیا ر صاحب کو ملا ۔ انہوں نے فرمایا ۔
رب تعالی کے آخری پیغمبرحضرت محمد ﷺ ، جن پر انبیاء کا سلسلہ اپنے اختتام کو پہنچا اور دینِ ہدایت کامل صورت میں انسانیت کے لئے مینارہء نور بن کر محفوظ و مامون ہو گیا، ان کی ذاتِ والا صفات میں ، ان کے سمندر دل میں، ان کی دعاؤں میں سارے جہانوں کے رحمت، محبت اور شفقت کے سمندر موجزن رہتے ہیں جن تک رسائی ہر فرد و بشر کی ہوتی ہے۔ آپ ﷺ زندگی کے ہر ایک شعبے میں اپنی سیرت اور سنت اور حدیث کی روشنی میں رہنمائی فرماتے ہیں 
مہمانِ خصوصی نے فرمایا کہ نعت کی روایت بہت قدیمی ہے۔ اللہ اور اس کے فرشتے آپ ﷺ پر درود و سلام کے تحفے بھیجتے ہیں یہ عرشیوں کا وظیفہ ہے ، ہم فرشیوں کا وظیفہ بھی یہی ہے۔ مکہ مکرمہ کے شاعروں نے آپ ﷺکی توصیف و ثنا بیان کی اور جب آپ ﷺ ہجرت کے وقت مدینہ منورہ تشریف لائے تو بچیوں نے ’’طلع البدر علینا‘‘ کی نعت ترنم سے پڑھ کر آپﷺ کا استقبال کیا۔ آپ ﷺ کی نعت تو انسانوں سے آگے پرندوں درختوں، صحراؤں وادیوں ، لہروں، موسموں، سمندروں اور آسمانوں تک نے کی ہے۔ نعت کہنا ، نعت لکھنا، نعت پڑھنا ایک بہت بڑا اعزاز ہے اور ایسے اعزاز نصیب والوں کو ملتے ہیں۔ 
میزبانِ دلنواز سید محمد نسیم جعفری صاحب نے الپائنا گروپ آف سکولز کی جانب سے منعقدہ نعتیہ مشاعرے میں شرکت کرنے والے شعرا اور سامعین کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا اور ایک اہم مسئلے کی جانب توجہ مبذول کرائی ۔ وہ یہ کہ انگریزی زبان میں حضرت محمد ﷺ کا اسمِ مبارک حروف ’’ایم‘‘ اور ’’او‘‘ سے لکھنا ضروری ہے اور ’’ایم‘‘’’ یو ‘‘ سے لکھنا غلط۔ چنانچہ ہم سب کو اس پیغام کو عام کرنا چاہئے۔
نعتیہ مشاعرے میں شرکت کرنے والے شعرائے کرام کے نعتیہ اشعار کا اندازِ عقیدت ملاحظہ فرمائیے۔
لفظ خود نعت کے امکان میں آجاتے ہیں۔۔جب بھی سرکار مرے دھیان میں آجاتے ہیں(خالد محبوب
خاص رب کی عطا محمدﷺ۔۔۔سب کہو صلِّ علیٰ محمد ﷺ ( عمران واقف)
سبز گنبد وہ جالیاں محسن۔۔۔یاد آئیں قدم قدم مجھ کو ( محسن دوست)
محمد کی غلامی سے نہیں بڑھ کے کوئی کارا ۔۔ضمانت ہے یہ جنت کی ، یہ جانے ہے جہاں سارا(رحیم طلب
آپ ہیں جلوہ نما قلب کے اندر بے شک۔۔اب تو مسجد نظر آتا ہے یہ مندر بے شک(مطلوب زیدی)
جو روزے کا گدا ہو جاؤں آقا۔۔۔سنور کر کیا سے کیا ہو جاؤں آقا (ؑ اطف نصیر)
میں چوموں سبز گنبد آتے جاتے۔۔مدینے کی ہوا ہو جاؤںآقا
وہی سرمایہء دامانِ حرفِ نا رسا نکلے۔۔جو آنسو آنکھ سے میری بیادِ مصطفیٰ نکلے( قیوم خان سرکش)
آؤ ثقلین اس رخ کی مدحت کریں۔۔جس سے پاتی رہی ہے جِلا روشنی (ؑ ڈاکٹرعاصم ثقلین)
چار سو جو اداسی کی پھیلی ہوئی سرمئی شام ہے۔۔اس کا تریاق بس آپ کا ذکر ہے آپ کا نام ہے (پعروفیسر ڈاکٹرذیشان اطہر) 
ایک بدو نے ہم کو نواحِ مدینہ میں دی یہ خبر۔۔ شہرِ طیبہ اسی رہگذر پہ فقط ایک دو گام ہے
رخصتِ دید ملی مجھ کو ، پہ مہلت کم تھی۔۔میں نے جی بھر کے نہ دیکھیدر و دیوارِ حرم( پروفیسر محمد لطیف)
میں کیوں نہ کروں نام تلاوت تیرا ہر دم۔۔شدید حبس میں میرے لئے ہوا بھی تو( پروفیسر نواز کاوش)
میرے آقا کا چرچا کو بکو ہے۔۔۔ہر اک محفل میں ان کی گفتگو ہے ( مجیب الرحمان خان)
میں ترے در کا غلام اور غلامی پہ نثار۔۔میری اولاد،مری جان، مرا گھر آقا(خورشید ناظر)
میں تری نعت کہوں میری یہ اوقات کہاں۔۔ میں کہ اک قطرہء کمتر، تُو سمندر آقا
صدرِ ذی وقار سید تابش الوری صاحب نے صدارتی کلمات ادا کرتے ہوئے فرمایا نعت کہنا، نعت لکھنا حضورِ اکرم ﷺ سے عشق کا اظہار ہے۔ نعت سنتِ رسولﷺ ہے۔ نعت سیرتِ رسول ﷺ ہے۔ نعت صورتِ رسولﷺ ہے۔نعت اقدارِ رسول ﷺ ہے، نعت معیارِ رسولﷺ ہے۔نعت کے ذریعے سے ہم حضور ﷺ کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم آپ کی تعلیمات کو اپنی زندگی کے ہر ایک پل میں شامل کر لیں، اپنی زندگیوں کو سنتِ رسولﷺ میں ڈھال لیں۔یہ طے ہے کہ دینِ اسلام اور آپ ﷺ کا پیغام ابد الآ باد تک جاری و ساری رہے گا ۔
سید تابش الوری نے فرمایا ہمیں جان لینا چاہئیے کہ ہر عہد حضورﷺ کا عہد ہے۔ آپ کا زندہ فلسفہ اپنی تمام تر صداقت کے ساتھ موجود ہے، ساری دنیا آپ کو سنتی اور سمجھتی ہے۔ یوروپ میں اسلام جس تیزی سے پھیل رہا ہے وہ اس مذہب کی حقانیت پر صاد ہے اور آپﷺ کی سنت و سیرت کا معجزہ ہے۔ علمائے کرام رسولِ رحمت کی تعلیمات کو عام کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کرتے رہتے ہیں مگر شعرا کرام جس والہانہ محبت، عقیدت اور خلوص کے ساتھ شانِ مصطفیٰ، آنِ مصطفیٰ ﷺ بیان کرتے ہیں وہ باتیں بڑی تیزی کے ساتھ دلوں میں اتر جاتی ہیں ۔ گویا شعرا کرام حضورِ اکرم ﷺ کی تعلیمات ، اقدار، کردار ، اوصاف کو فروغ دینے کے لئے اہم کردار ادا کر رہے ہیں آج کا نعتیہ مشاعرہ جس کے انعقاد میں سید محمد نسیم جعفری صاحب کی والہانہ محبت شامل ہے اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس پر ہم انہیں مبارک باد پیش کرتے ہیں۔
صدارتی کلمات کے بعد سید تابش الوری صاحب نے اپنا نعتیہ کلام عطا کیا۔
پھر محفلِ سرکار سجی تازہ بہ تازہ۔۔۔۔ہر سمت ہے خوشبوئے نبی تازہ بہ تازہ
یثرب سے بہار آنے لگی تازہ بہ تازہ۔۔کھلنے لگی جذبوں کی کلی تازہ بہ تازہ
روضے پہ نئے روپ میں شاداب کھڑی ہے۔۔اک روح کہ اشکوں سے دُھلی تازہ بہ تازہ 
نعتیہ مشاعرہ اپنے جلو میں روشنی، رنگ، رعنائی کی خوشبو لئے ہوا تھا، ایسے لمحے اور مواقع ہوں تو وقت کی رفتار تیز تر سے تیز ترین کی حدوں کو چھو لیتی ہے ، وقت گذرنے کی خبر بھی نہ ہوئی اور مشاعرہ اپنے اختتام کو پہنچ گیا ، شرکاء اور شعراء پر اک عجب والہانہ کیفیت کا غلبہ تھا جس میں حبِّ رسولﷺ کی مہکار تھی ، اک والہانہ پکار تھی۔ رب سے دعا یہی ہے کہ ہم سیرت و سنتِ رسولﷺ پر سچائی کی رعنائی کے ساتھ عمل کرتے رہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com