اردو کا نفاذ وقت کی اہم ضرورت

اردو کا نفاذ وقت کی اہم ضرورت ،تحریر :عروبہ عدنان،کراچی
اردو ایک عالمگیر زبان ہے اور اس کی تاریخ صدیوں پہ محیط ہے جس میں یہ مختلف ادوار اور نشیب وفراز سے گزرتی ہوئی آج اپنی پوری آب وتاب کے ساتھ ہمارے سامنے موجود ہے ،ہم زیادہ پیچھے نہیں جاتے 711سے ابتداء کرتے ہیں جب محمد بن قاسم برصغیر میں داخل ہوا اسوقت محمد بن قاسم کی فوج میں زیادہ تعداد عربیوں کی تھی اور جب اس کی فتوحات کا سلسلہ برصغیر میں شروع ہوا تو اس کے ساتھ آئے ہوئے عربیوں نے برصغیر کے باشندوں سے راہ و رسم قائم کئے اس دور میں برصغیر میں بہت سی قومیں آباد تھیں جن میں ہندو ،ترکی افغانی اور ایرانی شامل تھے۔ اسی میل ملاپ کے نتیجے میں ہی اردو زبان نے جنم لیا۔ پھر اردو نے مزید دور دیکھے اور ایک ایسا دور بھی دیکھا جب وہ باقاعدہ اپنی حیثیت منوانے میں کامیاب ہو گئی ۔یہ دور 1193 کا دور تھا جب مسلمان پورے پونے دوسو برس لاہور میں رہنے کے بعد افغانیوں اور ترکیوں کی قیادت میں دہلی میں داخل ہوئے تب اردو کو پہچان ملی۔ اب ہم مزید آگے بڑھتے ہیں اور پھر ایک ایسے دور کا ذکر کرتے ہیں جب اردو کو درباری حیثیت حاصل ہوئی ۔یہ سترہویں صدی کا ذکر ہے جب مغل بادشاہوں کی پسندیدہ زبان اردو بن چکی تھی۔ اردو میں خط وکتابت ہونے لگی ،شعرو شاعری ہونے لگی اس وقت اردو کو اردوئے معلی نام دیا گیا تھا جو پھر آگے چل کے لفظ اردو ہوگیا ۔ اس کے بعد اردو کی ترقی کا دور شروع ہوا۔۔ صوفیائے کرام نے اردو کی شہرت و مقبولیت دیکھتے ہوئے اردو کواسلام کی تبلیغ کا ذریعہ بنایا صرف یہی نہیں بلکہ اس وقت کے بادشاہوں نے اسے اپنے دربار کی زبان بنایا نیز یہ کہ دہلی میں یہ شعراء ،دانشورں کی پسندیدہ زبان بن گئی۔ یہاں سے اردو مزید مراحل طے کرتے ہوئے ایسے دور میں داخل ہوئی جس میں سوچی سمجھی سازش کے تحت اس کی حیثیت کو پامال کرنے کی کوشش شروع کر دی گئیں یہ وہ دور تھا جب برصغیر فرنگیوں کی غلامی میں آگیا تھا۔ فرنگیوں نے اردو کو ختم کرنے کی ناکام کوششیں شروع کیں اور انگریزی کو فروغ دینا شروع کر دیا اور ایک غیر ملکی زبان کو سرکاری زبان کا درجہ دے کر اردو کو ختم کرنے کی اپنی سی بھرپور کوشش کی۔ اس کے بعد اردو نے ایک اور دور دیکھا جب مسلمانانِِ ہند اپنے لیے ایک الگ ریاست کی کوششیں کر رہے تھے اس وقت مسلم لیگ کے جھنڈے تلے جتنے بھی مسلم رہنما تھے انہوں نے اردو کو ہی اپنی جدوجہد کا ذریعہ بنایا یہاں تک کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوئے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان وجود میں آیا۔ اردو ہر جگہ اس دور میں بھی موجود تھی۔ اردو کی اہمیت اور حیثیت کو دیکھتے ہوئے پاکستان کے قومی رہنما قائدِ اعظم محمد علی جناح نے اعلان کیا کہ"اردو ہماری قومی زبان ہے ہمیں اس کو ہر قسم کے نقصان سے محفوظ،آلودگیوں سے پاک اور مخالفین کے جارحانہ اور معاندانہ عزائم سے بچائے رکھنے کے لیے اپنی پوری تواناء اور زور لگا دینا چاہیے " اسی طرح ایک اور موقع پر انہوں نے فرمایا " میں واضح الفاظ میں یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ پاکستان کی سرکاری زبان اردو اور صرف اردو ہو گی ،جو شخص آپ کو اس سلسلے میں غلط راستے میں ڈالنے کی کوشش کرے وہ پاکستان کا پکا دشمن ہے ایک مشترک زبان کے بغیر قوم نہ تو پوری طرح متحد ہو سکتی ہے اور نہ کوئی کام کر سکتی ہے (خطاب ڈھاکہ 21 مارچ 1948) پاکستان کو بنے 70 سال کا عرصہ ہو چلا مگر اب تک ہم اردو زبان کو وہ حیثیت نہ دے سکے جس کا حکم ہمارے قائدِ اعظم محمد علی جناح نے دیا تھا۔ اس کے باوجود کہ 1973 کے آئین کی شق 251 میں یہ یہ بات وضاحت سے بیان کر دی گئی ہے کہ پاکستان کی قومی زبان اردو ہو گی جس کا نفاذ ریاست کے ہر ہر شعبہ پہ ہو گا لیکن بڑے افسوس کی بات ہے کہ 1973 کے آئین کو نافذ ہوئے 46 سال کا عرصہ بیت گیا مگر ہم ابھی تک اردو کو سرکاری زبان کا درجہ نہ دے سکے۔اس سلسلے میں بہت سی تحریکوں نے سر اٹھایا لیکن باقاعدہ طور پر 2009 میں نفاذِ اردو کے لئے جدوجہد کا آغازجو "پاکستان قومی زبان تحریک " کی سرپرستی میں ہوا اور اس میں مزید تیزی 2014 میں اس وقت آء جب کء محبِ وطن سیاسی جماعتوں نے اس کی حمایت کا اعلان کر دیا۔ اس تحریک کا مقصد پاکستان میں ہر ہر شعبہء زندگی میں نفاذِ اردو کو یقینی بنانا ہے۔ یہ تحریک وقت کے ساتھ ساتھ زور پکڑتی جا رہی ہے جسکا واضح ثبوت 8ستمبر 2015 کو عدالتِ عظمی (سپریم کورٹ ) کا حکم نامہ جاری کرنا ہے، جس میں عدالت عظمی نے حکومت کو اس بات کا پابند کیا کہ وہ اردو کو پاکستان کی سرکاری زبان کی حیثیت سے نافذ کرے۔ انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ حکومت نے اس اہم حکم نامے کو بالکل سنجیدگی سے نہیں لیا اور اس حکم نامے پہ عملدرآمد کروانے میں ناکام رہی۔ پاکستان میں 98 % ایسے افراد ہیں جو اردو کو ناصرف سمجھتے ہیں بلکہ ان کی ایک دوسرے سے رابطے کی زبان فقط اردو ہی ہے۔ اس کی حیثیت سے انکار دراصل اپنی حیثیت سے انکار کے مترادف ہے۔ دنیا کی ہر باعزت قوم کی اپنی زبان ،اپنا تشخص ہوتا ہے۔ جس پہ انہیں بجا طور پر فخر بھی ہوتا ہے۔باوقار قومیں اپنی زبان کو ہی اپنا ذریعہ تعلیم بناتی ہیں اور اسی زبان کے زریعے بین الاقوامی روابط قائم کرتی ہیں۔ 1943 میں چین آزاد ہوا۔اس نے انگریزی زبان کو فوری طور پر رد کر کے اپنی زبان کو اپنایا اور ترقی کی راہ پہ گامزن ہو گئے۔ اسی طرح انگلینڈ کی سرکاری زبان جب تک جرمنی اور فرانسسی رہی وہ ایک حقیر قوم رہی۔ جب انھوں نے اپنی زبان کو اپنایا تو وہ بھی ترقی کی دوڑ میں نمایاں حیثیت حاصل کر گیا .چلیں اور ممالک کو چھوڑیں اور ارضِ مقدس سعودی عرب کو ہی لے لیں انہوں نے یونانی زبان سے بہت کچھ لیا مگر اپنایا اپنی ہی زبان کو ہی۔ عام بول چال سے لے کر لین دین کے تمام اصول وضوابط ،تجارت سے لے کر تعلیم تک سب کے لیے انہوں نے اپنی ہی زبان یعنی عربی ہو اپنایا۔ یہ تو چند مثالیں ہیں تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ جس قوم نے اپنی زبان کو اپنایا وہی قوم زندہ قوم قرار پائی۔ قرآن پاک میں سورہ ابراھیم کی آیت نمبر 4 میں ہے کہ " اپنی قوم کو اسی کی زبان میں تعلیم دی جائے " ایسا کیوں کہا گیا … ایسا اس لیے کہا گیا کیونکہ قوم وہی زبان سمجھ سکتی جو اس کی قومی زبان ہوتی ہے۔
بڑے افسوس کی بات ہے کہ ہم اپنے ملک کے 98% ذہین فطین دماغ صرف اس لیے استعمال نہیں کر پا رہے کہ وہ انگریزی زبان نہیں جانتے .کیا یہ ایک ناقابل تلافی نقصان نہیں۔۔۔ !!!!کیا آئین اسٹائین نے کسی اور کی زبان میں پڑھا اور کسی اور کی زبان میں اپنے نظریات پیش کئے۔ اسی طرح آپ نیوٹن کو لے لیں یا کسی اور مفکر یا سائنسدان کو لے لیں۔سب نے اپنی زبانوں میں تعلیم حاصل کی اور اپنے نظریات بھی فقط اپنی زبان میں پیش کئے۔ ہمیں اب ہوش میں آ جانا چاہیے اور اس غلامانہ سوچ سے باہر نکل کر اپنے مستقبل کے معاروں کو اردو زبان کی اہمیت کا احساس دلانا چاہیے تاکہ وہ اسی زبان کو اپنائیں اور ترقی کی دوڑ میں حصہ لے سکیں۔اب حکومت وقت کو نفاذِ اردو کیلیے ہنگامی بنیادوں پر احکامات جاری کرنے چاہیں اور اسے مکمل طور پر پورے پاکستان پہ لاگو کرنا چاہیے۔ اگر اب بھی ایسا نہ کیا گیا تو بہت دیر ہو جائے گی اور ہم ترقی کی راہ پ اسے اپنانا ہو گا تاکہ ہم بھی توقی کی راہوں پہ گامزن ہو سکیں اور زندہ اور باوقار قوم کہلائیں۔ 8 ستمبر کو پاکستان بھر میں ہر شعبہ زندگی میں ہر سطح پر نفاذ اردو کے حوالے سے عدالت عظمیٰ کے فیصلہ کے دو سال مکمل ہونے پر پاکستان قومی زبان تحریک نیملک بھر میں "یوم قومی زبان" منانے کا فیصلہ کیا ہے.اس سلسلے میں ملک کے چاروں صوبوں میں یومِ قومی زبان منانے کے لیے اجلاس منعقد کئیے جائیں گے۔ جس میں محبانِ اردو اور محبانِ وطن کی ایک کثیر تعداد شریک ہو گی۔ 
اردو کی شان میں ایک خوبصورت غزل 
محبتوں کی حسیں داستان ہے اردو
کہ حیرتوں کا یہ کوئی جہان ہے اردو
خیال و خواب پہ چھائی ہوئی ہے میری زباں
یقین ہے مرا اردو، گمان ہے اردو
بلوچی ، سندھی ، نہ پشتو نہ کوئی پنجابی
مرے لیے تو یہ پاکستان ہے اردو
اسی سے میری تو پہچان ہے جہاں بھر میں
مرا مقام ، مرا سائبان ہے اردو
اسی لیے میں عروبہ عزیز ہوں سب کو
کہ میرا لہجہ محبت ، زبان ہے اردو 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com