محسن قوم

محسن قوم

مرزا محمد یسین بیگ

رسول ہادی ﷺ نے کا فرمان عالی شان ہے کہ ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے والدین اس کو مجوسی،یہودی ، نصرانی یا مومن بناتے ہیں اسی طرح عالم اسلام کے ممتاز و قابل فخر تعلیمی فلاسفرامام غزالی اپنی شہرہ آفاق تصنیف ’احیاء العلوم ‘ میں بچوں کی تربیت کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ’’ بچوں کے اذہان کورے کاغذ کی مانند ہوتے ہیں ‘‘ اس پر جو بھی تحریر کرنا چاہیں کرسکتے ہیں ۔بیا ن کردہ دونوں حوالوں سے بخوبی اس بات کا اندازہ ہوتا ہے قومی کی زندگی ،ترقی و مستقبل میں نونہالان ملک و ملت کا کیا کردار ہوتا ہے یا ہوسکتا ہے ۔ بچے کسی بھی قوم کا مستقبل ،تشخص کے علمبردار،نقیب اور اس قوم کی کتب زیست کا اگلاباب،اوراق یا ایڈیشن ہیں ۔قوم کی مضبوطی،عزت اور خوشحالی بچوں سے ہی وابستہ ہے ۔جب قوم کا مستقبل ہی بچوں سے وابستہ ہے تو پھر یہ قومی ذمہ داری بنتی ہے کہ بچوں کو ان کے آمدہ کردارکے مطابق اہمیت و اولیت دی جائے ۔بچوں کی تعلیم و تربیت میں جہاں نصابی کتب اپنا کردار ادا کرتی ہیں وہاں بچوں کے لیے تخلیق کردہ ادبی کتب سے بھی انکار نہیں کیاجاسکتا ۔ نصابی کتب تو بچے باامر مجبوری پڑھتے ہیں لیکن ادبی و معلوماتی کتب وہ تفریح و دلچسپی کے پیش نظر پڑھتے ہیں ۔آج ہماری نوجوان نسل پریشان و سرگرداں ،تہذیبی اقدار سے ناواقف ، قلم و کتاب کی بجائے موبائل و انٹرنیٹ کی دلدادہ ، سماجی میل ملاپ کی بجائے تنہائی پسند، طرح طرح کی نفسیاتی الجھنوں اور عارضوں کا شکارمحض اس لیے ہے کہ اس نسل کا بچپن میں قلم و کتاب سے رسمی ناتا تو تھا لیکن قلم و کتاب سے حقیقی تعلق نہ تھا ۔آج کے نوجوان کا اگر عمومی جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے واٹس ایپ،فیس بک و دوسری سماجی سائٹ پر رومن اردو میں بے ربط چیٹ تو کرسکتا ہے لیکن اگر اسے کہا جائے کہ دو چار سطریں درست املاء کے ساتھ رقم کرے تو وہ بغلیں جھانکتا نظر آئے گا اور اسی طرح کلام میں غلط تلفظ اور بے ربط جملے ہی ادا کرپائے گا ۔ بچے کو آنے والے کل کا کامیاب وارث بنانے میں ادب اطفال کلیدی و کامیاب کردار ادا کرسکتاہے ۔بچے فطری طور پر قصے کہانیاں،ذہنی آزمائش، پہلیاں ،نظمیں اور معلوماتی و دلچسپ مضامین پڑھنا پسند کرتے ہیں ، ان اصناف کا مطالعہ بچے کے ذہنی کینوس کو وسیع کرتا ہے ،بچے کو اپنے تہذیبی ، ثقافتی اور اخلاقی ورثے کی پہچان ملتی ہے اور بچے میں اعلیٰ جذبات ، لطیف احساسات اور اخلاقی اقدار کی نموء ہوتی ہے ۔ادب اطفال زباں و بیاں کی ثقاہت ،ٖصحت تلفظ ، فکری صالحیت اور تنقیدی و تخلیقی صلاحیتوں کو بیدار بھی کرتاہے اور انہیں مہمیز بھی بخشتا ہے ۔ماضی میں اسمعیل میرٹھی، صوفی تبسم ، سید ضمیر جعفری، ابوالحسن علی ندوی ، حکیم محمد سعید، یونس حسن حسرت اشتیاق احمد اور مسعوبرکاتی جیسی عظیم المرتبت شخصیات ادب اطفال میں گرانقدر خدمات سرانجام دے چکے ہیں اور دور حاضر میں رضیہ رحمان، اخترعباس نذیر انبالوی،عبدالرشید فاروقی، علی اکمل تصور، خواجہ مظہر صدیقی ،اشفاق احمد ،شعیب مرزا،فہیم عالم ،عبدالصمد مظفر، حاجی لطیف کھوکھر،ابوالحسن طارق،اشرف سہیل،راحت عائشہ ، ضیاء اللہ محسن،مزمل صدیقی،تصورعباس سہو، وقاص اسلم ،طارق سمراء،صداقت حسین ساجد،عاطف شاہ، غلام یسین نوناری، عاطف فاروق، محمد نواز ،ندیم اختر،اظہر عباس ،ملک شہباز،قاری محمد عبداللہ ، جویریہ ثناء وغیرہ جیسے سرپھرے ادب اطفال کی خدمت میں شبانہ روز مصروف عمل ہیں ۔اخترعباس اور نذیر انبالوی نے ادب اطفال کا دامن علم و اد ب کے موتیوں سے بھردیا ہے ، علی اکمل تصور نے ادب اطفال کو نئی جہتیں اور جدتیں عطا کی ہیں ، تصویر کہانی،اعلیٰ تربیتی مواد اور الفاظ و واقعات کی سلاست ان کا ہی خاصہ ہے ۔مزمل صدیقی ، عاطف شاہ اور غلام یسین نوناری جیسے نوجوانوں کی موجودگی میں ادب اطفال کا چہرہ روشن اور مستقل محفوظ نظر آتا ہے ۔
یہ لوگ اس کام کو جہاد سمجھ کرتو رہے ہیں لیکن معاشرے اور اداروں کی طرف سے ان عظیم لوگوں کی خاطر خواہ قدردانی نہیں کی جارہی بلکہ یوں کہیے کہ ان لوگوں کا حاصل بچوں کی دعائیں یا ان کی طرف سے پذیرائی و پسندیدگی کا ایک خط ہی زندگی کا حاصل ہے ۔ابھی حال ہی میں کراچی میں منعقد ہونے والی عالمی اردو کانفرنس میں ادب اطفال شامل ایجنڈہ نہ تھا جس پر بچوں کے ادباء کی طرف سے منظم ، پرزور اور باقاعدہ احتجاج سامنے آیا اور ادباء اطفال کے نمائندے ابن عاص نے کراچی آرٹس کونسل کے سربراہ سے ملاقات کی اور ادباء اطفال کے تحفطات سے آگاہ کیا ،جس کے نتیجے میں ادب اطفال کو کانفرنس کے ایجنڈے میں شامل کرلیا گیا۔ 
ادب اطفال سے وابستگان کی طرف سے ایک اور مطالبہ بھی شدومد سے سامنے آرہا ہے کہ اکادمی ادبیات ،اسلام آباد کی طرف سے تمام اصناف ادب کو سالانہ بنیادوں پر ایوارڈ و پذیرائی سے نوازا جاتا ہے ، اگرچہ حال ہی میں اس ادارے کے زیراہتمام بچوں کا ایک مجلہ ادبیات اطفال کے نام سے شروع کیا گیا ہے اور اس میں لکھنے والوں کو معقول عوضانہ بھی دیا جارہا ہے لیکن اس قومی ادارے کی طرف سے ادب اطفال کی تخلیقات کے لیے بھی دوسرے اصناف کی طرح ایوارڈ یا مراعات کا اعلان ہونا چاہیے تاکہ ادب اطفال کے لیے کام کرنے والوں میں احساس محرومی کا خاتمہ ہو۔بچوں کے لیے لکھنے والے قوم کے مستقبل کی ذہنی و فکری آبیاری اور ٹھوس علمی ،ادبی و اخلاقی بنیاد فراہم کرنے کا گرانقدر فریضہ سرانجام دے رہے ہیں اس لیے ان ہرسطح پر ان کی ٹھوس شکل میں حوصلہ افزائی و پذیرائی کی جانی چاہیے ، کیونکہ یہ لوگ محسن قوم ہیں اور زندہ قومیں اپنے محسنوں کی قدر کرتی ہیں ۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com