گوشہء تابش میں نعتیہ مشاعرہ

گوشہء تابش میں نعتیہ مشاعرہ
تحریر و تہذیب ؛ سعید احمد سلطان صحرائے چولستان ،بہاول پورپاکستان

ماہِ صیام اپنی فضیلتوں، برکتوں اور سعادتوں کی بدولت تمام مہینوں کا سردار شمار ہوتا ہے۔ تین عشروں پر محیط اس کا پہلا عشرہ رحمت، دوسرا مغفرت اور تیسرا عشرہ عذابِ دوزخ سے نجات کا عشرہ تسلیم کیا جاتا ہے۔اس ماہِ مبارک کے ہر ایک پل، ہر ایک گھڑی اور ہر ایک لمحے میں رحمتوں کا نزول ہوتا ہے۔ بے شک وہ اہلِ ایمان خوش بخت اور خوش قسمت ہیں جو اس ماہِ مبارک کے ایک ایک لمحے سے مستفید ہوتے ہیں، جو اس مبارک مہنے میں جھولیاں بھر بھر کر نیکیاں سمیٹتے ہیں ، جو اپنے رب کی رضا کی خاطر روزے رکھتے ہیں ، راتوں میں قیام کر کے اپنے رب سے باتیں کرتے او ر اس کی رحمتوں کے حقدار ٹھہرتے ہیں۔
ماہِ صیام کو بڑی فضیلتیں اور برکتیں حاصل ہیں۔ ہم پاکستانیوں کے لئے تو رمضان المبارک کی اہمیت یوں بھی کئی گُنا بڑھ جاتی ہے کہ اسی مبارک مہینے کی ستائیسویں شب کو ، جس کو طاق راتوں میں لیلۃ القدر سمجھا جاتا ہے، اور جو ہزار مہینوں سے بڑھ کر ہے، پاکستان کا قیام عمل میں آیا تھا۔ رب تعالیٰ کی یہ سوہنی عطا ہمارے لئے ایک نہایت بیش قیمت تحفہ ہے ۔ بے شک ماہِ صیام کا ملنا خوش قسمتی ہے، خوش بختی ہے۔ 
روزہ مابینِ بندہ و خدا خالصتاََ جداگانہ اور منفرد معاملہ ہے۔ بھوک پیاس کی کیفیت میں رہ کر اپنی جسمانی، ذہنی اور روحا نی حیثیت کو بہتر سے بہترین کی طرف اس طرح لے جانا کہ کہیں بھی بناوٹ، تصنع اور ریا کاری کا ہلکا سا بھی پہلو نہ ابھرے ، روزے کا اصل مقصد ہے۔ روزے میں بندہ صرف اور صرف اپنے رب کے ساتھ معاملہ رکھتا ہے۔ بھوکا پیاسا رہ کر وہ اپنے اندر احساس کی کیفیت اور جذبے کو بھی فروغ دیتا ہے جس کے تحت اسے اندازہ ہوتا ہے کہ محروم، مجبور اور نادار و محکوم لوگ کس طرح کی کیفیات سے گذرتے اور زندگی گذارتے ہیں۔ یوں گویا فرد کی شخصیت اور کردار کی تعمیر ہوتی ہے اور فرد معاشرے کی بہتری کے لئے اپنا احسن کردار ادا کرنے میں کسی قسم کی دشواری محسوس نہیں کرتا۔ 
ان خیالا ت کا اظہار بزمِ ثقافت پاکستان کے ادبی پڑاؤ میں منعقدہ نعتیہ مشاعرے کی صدارت کے فرائض نبھاتے ہوئے، میزبانِ شام اور سفیرِ کتاب سیّد تابش الوری(تمغہء امتیاز) نے کیا ۔ انہوں نے شرکا ء کو خوش آمدید کہتے ہوئے حروفِ آغاز عطا کئے اور ماہِ صیام کی مبارک ساعتوں میں اپنے کردار اور شخصیت کی بہترین تعمیر پر اصرار کیا۔ 
بزمِ ثقافت پاکستان کے ادبی پڑاؤ دارالسرور بہاول پور کی علمی، ادبی اور تخلیقی سرگرمیوں میں ایک خاص پہچان رکھتے ہیں ۔ طویل عرصہ سے ہر شمسی مہینے کی سولہ تاریخ کو منعقد ہونے والے ادبی پڑاؤ بہاول پور کی معروف سیاسی، سماجی، صحافتی اور ادبی شخصیت سیّد تابش الوری کی محبتوں اور اپنائیتوں کا ثبوت بن کر مہکتے مسکراتے ہیں۔ حبِّ رسولﷺ کے والہانہ جذبوں سے سرشار سیّد تابش الوری کو یہ فضیلت بھی حاصل ہے کہ آپ غیر منقوط نعتیہ اشعار کے ایک ضخیم مجموعے سرکارِ دوعالم کے تخلیق کار بھی ہیںِ۔
موجودہ ادبی پڑاؤ منعقدہ سولہ جون سال دو ہزار سترہ کا ورود اس وقت ہوا جب دنوں کا سردار جمعۃ المبارک جلوہ فگن تھا اور ماہِ صیام کا دوسرا عشرہ اجازت لے کر رخصت ہو رہا تھا۔ تقریب کا باقائدہ آغاز اللہ ربّ العزّت کے بابرکت کلام سے ہوا، سعادت راؤ ریاض کامل نے سمیٹی۔ حمد بھی انہوں نے ہی پڑھی۔ نعت کہنے کی توفیق میاں ناصر اعوان کو حاصل ہوئی۔
ادبی پڑاؤ کے پہلے سیشن میں نثر کا مختصر سا سیشن رکھا گیا تھا ۔ صادق پبلک سکول بہاول پور کے پروفیسر نعمان فاروقی بہاول پور کی ادبی، سماجی، ثقافتی اور علمی تاریخ پر کامل دسترس رکھنے والے طالبعلم ہیں۔ انہوں نے بہاول پور میں نعت کی روایت کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا۔ 
’’بہاول پور میں نامعلوم عرصے سے نعت لکھی جا رہی ہے۔ مدحتِ رسولِ رحمت ﷺ کا فریضہ نہایت عقیدت اور خوش اسلوبی کے ساتھ ہمیشہ نبھا یا جاتا رہا ہے۔ سرائیکی زبان میں نعت کو مولود کا نام دیا گیا اور اس صنف سے ہمیشہ بہت زیادہ محبت و عقیدت کا اظہار کیا گیا۔ یہاں تک کہ زائرین حج و عمرہ کے لئے مکہ مکرمہ جانے کے لئے رختِ سفر باندھتے تو انہیں رخصت کرنے کے لئے ریلوے اسٹیشنوں تک قافلوں کی صورت میں چھوڑنے جایا جاتا اور ان کے آگے آگے مولود پڑھے جاتے، میلاد اور دوسری مذہبی تقاریب تو کاملاََ مولودوں سے ہی آراستہ ہوتیں۔ آج وقت اکیسویں صدی کی مسافت طے کر رہا ہے۔ اہلِ بہاول پور اسی سابقہ مذہبی جوش اور عقیدت سے سرشار رہ کر نعت کہتے ، لکھتے اور پڑھتے ہوئے مصروف ہیں۔‘‘
’’ اس وقت سیّد تابش الوری، جناب مجیب الرحمان خان، پروفیسر ڈاکٹر نواز کاوش، پروفیسر ڈاکٹر ذیشان اطہر، پروفیسرڈاکٹرافتخا ر علی افتخار، ڈاکٹر نصراللہ خان ناصر، پروفیسرڈاکٹرقاسم جلال، قیوم خان سرکش، اسلم جاوید، پروفیسر مشہود رضوی، جناب خورشید ناظر، جناب جمشید اقبال، جناب عاصم ثقلین درانی، جناب افضل خان، اور دوسرے بہت سے شعرا کرام نعت لکھنے کی سعادت حاصل کرنے میں مصروف ہیں، اور یہ سلسلہ ایسے ہی رواں رہے گا کہ عقیدت اور محبت کا سفر نہ رکتا ہے نہ ختم ہوتا ہے۔‘‘
ادبی پراؤ کے نعتیہ مشاعرے میں مہمانِ خصوصی کے طور پر الپائینا گروپ آف سکولز کے ڈائیریکٹر سیّد محمد نسیم جعفری موجود تھے۔ خصوصی کلمات میں انہوں نے فرمایا ۔
’’ یہ اللہ تعالیٰ کا کرم اور مہربانی ہے کہ ہمیں اپنی زندگی میں ایک بار پھر رمضان المبارک کے روزے رکھنے کی توفیق ملی ہے، یہ رب کا کرم ہے اور میرے رسولﷺ کی محبت ہے۔ اسلام ہمیں جس ہستی کے ذریعے سے، وسیلے اور وساطت سے ملا ، ان کے لئے ہماری عقیدت، محبت بے پناہ ہونی چاہئے۔شق القمر جیسے معجزے تو آپ کو عطا ہوئے ہی، لیکن سب سے بڑا معجزہ تو قرآن ہے۔ہمیں اپنے رسولﷺ کی سیرتِ طیبہ پر خلوصِ دل سے عمل کرتے ہوئے اپنی زندگیاں سنوار لینی چاہئیں، اسی سے دنیا و آخرت میں سر بلندی ملے گی۔ہمیں اپنے رب کا شکر ادا کرنا چاہئیے کہ اس نے ہمیں رحمت اللعالمین ﷺ جیسی باکمال ہستی سے نوازا اور ہمیں زندگی گزارنے حقیقی راستہ دکھایا۔‘‘
نعتیہ مشاعرے میں جن شعرا ئے کرام کو نعت پڑھنے کی توفیق عطا ہوئی ان کے اسمائے گرامی ہیں۔جناب افضال الرحمان ہاشمی، جناب پارس مزاری، جناب خالد محبوب، جناب اشرف خان، راؤ ریاض کامل، جناب ظہور چوہان،جناب افضل خان، جناب شبیر کلامی، جناب مجیب الرحمان خان اور سیّد تابش الوری۔ نعتیہ کلام کے چند نمونے ملاحظہ فرمائیے۔
میرے حامی و ناصر سرکار ہیں، سرکار ہیں۔۔۔آپ کے در پہ حاضر سرکار ہیں، سرکار ہیں( افضال ہاشمی)
باغِ جنت کے زینے سے واقف نہیں۔۔۔جو ہمارے مدینے سے واقف نہیں( پارس مزاری)
ورنہ یوں راستے میں اُترتا ہے کون۔۔۔۔غالباََ تو سفینے سے واقف نہیں
لفظ خود نعت کے امکان میں آجاتے ہیں۔جب بھی سرکار مرے دھیان میں آ جاتے ہیں(خالد محبوب)
آنکھ جب چومتی ہے لفظ تو مرے آقا۔۔مسکراتے ہوئے قرآن میں آجاتے ہیں
دل تے نُور دی جھات تھئی ہے۔۔۔اَج سرکار دی نعت تھئی ہے ( اشرف خان)
کتھ میں ، کتھ سرکار دی مدحت۔۔ اُوں دَر توں خیرات تھئی ہے
خوبصورت یہ کیسا سماں ہو گیا۔۔ماہتابِ نبوت عیاں ہو گیا( راؤ ریاض کامل)
نبضِ ہستی بھی یکلخت تھم سی گئی۔۔آپ آئے تو روشن جہاں ہو گیا
ہائے پھر رہ گیا دل گرفتہ سا میں۔۔قافلہ پھر مدینے رواں ہو گیا
مل گئی جب مجھے اک نئی زندگی علم کے شہر سے( ظہور چوہان)
میری نسبت ازل سے ابد تک رہی علم کے شہر سے
یہ جو اس دل کو جنوں میں بھی سکوں ہے ، یوں ہے ( افضل خان)
ذہن پر اسمِ محمدﷺ کا فسوں ہے، یوں ہے 
رمضان مہربان قدر دان آگیا۔۔لے کے رحمتوں کا وہ سامان آگیا( شبیر کلامی)
مجھے اپنا جلوہ دکھا دیجئے۔۔میری بگڑی قسمت بنا دیجئے( مجیب الرحمان خان)
مجیب اس مرض کی شفا ہے یہی ۔۔ میرے آقا مجھ کو دعا دیجئے
تخلیق کا معیار ہیں، کون ہیں ؟ سرکار ہیں!!( سیّد تابش الوری)
اللہ کا شہکار ہیں، کون ہیں؟ سرکار ہیں!!
سر تا قدم تیّار ہیں ، کون ہیں؟ سرکار ہیں۔۔غزووں میں خود سالار ہیں ، کون ہیں؟ سرکار ہیں
ایمان ہیں ، اقرار ہیں، ایقان ہیں ، ایثار ہیں۔۔کردار ہیں، معیار ہیں، کون ہیں؟ سرکار ہیں
رسولِ امیں، شفیع المذنبیں، رحمۃ اللعا لمیں ﷺ کی مدحت میں سجائے گئے پڑاؤ میں نیکیاں اور سعادتیں سمیٹنے کے لئے موجود تھے پندرہ روزہ حقیقت کے مدیر جناب سعید احمد، فوٹو گرافر ڈیزائینر جناب بلال جاوید، کتاب دوست ، ادب نواز جناب محسن رضا جوئیہ ایڈووکیٹ، جناب کاشف سلیم ایڈووکیٹ، جناب ثنائاللہ چوہدری، جناب جاوید بھٹہ، جناب نصیر الاسلام، جناب جنید نذیر، جناب انور گریوال، جناب اے ڈی سیال ، جناب مظہر حسن، جناب طلعت محمود، جناب عبدالخالق قریشی، اور دوسرے بہت سارے مہربان۔ 
مہر و محبت کی محفلیں بزرگوں کی دعاؤں اور کاوشوں کا ثمر ہوتی ہیں ، خدا کرے ہمارے بزرگ سلامت رہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com