اُداس لمحوں کی کہانی شامِ شہاب کی زبانی

اُداس لمحوں کی کہانی شامِ شہاب کی زبانی
تحریر وتہذیب؛ سعید احمد سلطان، صحرائے چولستان، بہاول پور پاکستان

حرف بننا، لفظ چُننا اورپھر اُن سے رواں، ریشمی ، رنگین اور انتہائی معنی خیز جُملے تراشنا اُن پر بس تھا۔
علی گڑھ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل طلباء کی پہچان ہی یہی تھی کہ ان کے الفاظ اور جملوں میں معنویت کے جہان براجمان رہتے تھے۔ آپ اُن سے کسی موضوع پر گفتگو کیجئے انتہائی مدلّل، مفصّل خوبصورت باتیں سننے کو ملیں گی۔ وہ بھی تو علیگڑھ سے فارغ التحصیل تھے۔ پاکستان میں وہ ہمیشہ انتظامی اور مرکزی عہدوں پر نہایت جانفشانی اور فرض شناسی سے کام کرتے رہے۔ چولستان کی سنگت میں رہنے بسنے والے مرکزی شہر بہاول پور دار السرور میں بھی وہ بطور ڈپٹی کمشنر فرائض نبھاتے رہے۔ چونکہ ادب دوست، ادب نواز اور ادب پرور ادیب بھی تھے اس لئے یہاں کے شعری و ادبی حلقوں میں انہوں نے بہت جلد اپنی شناخت مستحکم کرا لی۔ 
دار السرور میں سیّد مسعود حسن شہاب صاحب ادبی ، شعری اور صحافتی سرگرمیوں میں معتبر مقام کے حامل شاعر، ادیب، محقق ،مدیراور صحافی تھے۔اس حوالے نے دونوں شخصیات کو ایک دوسرے کے قریب کر دیا۔یا تو وہ دفتر الہام اور گوشہء شہاب میں تشریف لے آتے یا پھر شہاب صاحب کو اپنے پاس بلوا لیتے۔ روایت پسندی تو دونوں ہی کا شیوہ و شوق تھا سو تعلقات محبتوں ، اپنائیتوں اور چاہتوں کے سبزہ زاروں میں پھلتے پھولتے رہے ۔ اور یہ اُسی روایت پرستی کا ثمر ہے کہ فاصلوں اور دوریوں کے باوجود دونوں ایک دوسرے کے ساتھ آدھی ملاقات یعنی خطوط کے ذریعے جُڑے رہے۔ اُن کے لکھے ہوئے شائستہ و نستعلیق انداز و اعجاز سے آراستہ خطوط ہمارے پاس آج تک محفوظ ہیں۔ اُن کے وہ محبت اور چاہت بھرے خلوص نامے ہمارے لئے انتہائی قیمتی اثاثہ ہیں ۔ 
سو حاضرینِ گرامی جب پندرہ اپریل کو ہمیں اُن کے اس جہان سے گذر جانے کی خبر ملی تو یقین جانئے یوں لگا کہ ہم ایک بار پھر یتیم ہو گئے ہیں۔
ان خیالات کا اظہاردلگیر انداز اور بھیگے لب و لہجے میں شہاب دہلوی اکیڈمی فورم کے اجلاس منعقدہ سات مئی دو ہزار سترہ میں شہاب دہلوی اکیڈمی کے روحِ رواں ، سہ ماہی الزبیر کے مدیر، شہاب دہلوی صاحب کے لائق فرزندپر وفیسر ڈاکٹر شاہد حسن رضوی چئیر مین شعبہ تاریخ و مطالعہ پاکستان اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور نے کیا۔ اور جو شخصیتِ موضوعِ گفتگو تھی وہ تھے منفرد اسلوب کے حامل صاحب طرز ادیب جناب مختار مسعود جن کا تخلیقی اثاثہ’’ آوازِ دوست‘‘،’’ سفر نصیب‘‘ اور لوحِ ایّام پر محیط ہے۔ 
جانب مختار مسعود نے ایک طویل عمر گذاری۔بہت پڑھا، مگر منتخب لکھا۔ بیسویں صدی کے اردو ادیبوں میں تین لوگ ایسے ملتے ہیں جو اپنے خیالات کو قلمبند نہیں بلکہ پنسل بند کیا کرتے تھے۔ کرنیں، لہریں،پرواز، انسانی تماشہ، حماقتیں، مزید حماقتیں، مدّ وجزر، دجلہ وغیرہ کے خالق افسانہ نگار و مزاح نگارکرنل شفیق الرحمان۔ خاکم بدہن، چراغ تلے، زرگزشت، آبِ گُم اور شامِ شعر یاراں کے خالق ممتاز مزاح نگار اور عہد یوسفی دینے والے جناب مشتاق احمد یوسفی اور جناب مختار مسعود ۔ دو شخصیات اپنے رب سے جا ملیں ۔ یوسفی صاحب الحمد لللہ اس جہانِ رنگ و بو میں ابھی موجود ہیں ۔
مذکورہ تینوں لوگوں کی عادت تھی کہ لکھتے ہوئے لیڈ پنسل استعمال کرتے تھے۔ بار بار جملوں کا جائزہ لیتے تھے۔ بار بار تحریر کو بناتے سنوارتے تھے۔ لفظوں کو اُلٹ پلٹ کرتے تھے اور جب تک مطمئن نہیں ہو جاتے تھے جملہ دوسروں کے لئے قرائت کے عمل سے محروم رہتا تھا۔ وہ اپنی تحریر سے مطمئن ہو جاتے تب اس کو دوسروں کے روبرو پیش کیا کرتے تھے تاکہ دل سے نکلی بات اپنی تاثیر اور تائثر کو بہم پہنچا سکے ۔ 
پیدا کہاں ایسے پرا گندہ طبع لوگ 
افسوس تم کو میر سے صحبت نہیں رہی
شہاب دہلوی اکیڈمی کا اجلاس شام آغاز ہونے پر طویل ہوتے ، پھیلتے، قد بڑھاتے سایوں کی سنگت میں شروع ہوتا ہے۔ ابتداء اللہ رب العزت کے بابرکت نام سے ہوتا ہے ۔ اس بار سعادت حسان بن شاہد رضوی نے سمیٹی۔ 
تلاوتِ کلامِ پاک کے بعد بارگاہِ نبوت ﷺ میں گلہائے عقیدت ننھے نعت خواں محمد بلال نے پیش کئے۔ نظامت کا فریضہ صادق پبلک سکول بہاول پور میں اردو کے پروفیسر سیّد طالب حسین طالب نبھاتے ہیں۔ 
مزدوروں کا عالمی دن ہر سال یکم مئی کو منا یا جاتا ہے جس کا مقصد سال ۱۸۸۶ء میں شکاگو کے مزدوروں کے انقلابی سفر میں ملنے والی بے پناہ صعوبتوں کو یاد کرنا اور اس شعور کو اجاگر کرنا ہے کہ مزدور بھی انسان ہیں ، مسلسل کام کوئی نہیں کر سکتا۔ وہ غلام نہیں ہیں۔ آٹھ پہروں میں زیادہ سے زیا دہ تین پونے تین پہر کام کرنے کے بعد زندگی کی دوسری مصروفیات میں مگن ہو جانا ان کا بھی حق ہے۔ اور یہ کہ ان کا استحصال بند کیا جانا چاہئیے۔سید طالب حسین طالب نے لیبر ڈے کے حوالے سے گفتگو کی اور اس بات کا اعادہ کیا کہ شہاب دہلوی اکیڈمی فورم کے پلیٹ فارم سے مزدوروں کے حق میں آواز ہمیشہ اُٹھائی جاتی رہے گی۔
مہمانِ خصوصی کی نشست پر جلو ہ افروز ادب نواز، ادب پرست شخصیت جناب محسن رضا جوئیہ
ایڈووکیٹ نے خصوصی کلمات میں فرمایا کہ انسانی حقوق کی علمبردار تنظیمیں انسانی حقوق کی ادائیگی و تکمیل کے لئے آوازیں تو ضرور بلند کرتی ہیں لیکن عملی طور پر یہ صرف ہمارا مذہب ہی ہے جو کہتا ہے کہ مزدور کو اس کا معاوضہ پیشانی کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کر دیا جائے۔ یہ اُصول ، یہ قائدہ، یہ ضابطہ سنہرا قانون ہے جس پر بجا طور پر عمل کو یقینی بنایا جائے تو معاشرے کی رگوں میں محنت کی بدولت زندہ لہو رواں رکھنے والے مزدور اور محنت کش طبقے کے حقوق بہترین انداز میں ادا ہو سکتے ہیں اور معاشرے سے جبر و اصتحصال کی کیفیت کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔
مہمانِ اعزاز قلمکار، کالم نگار، دانشور اور ماہر کاشتکار ملک حبیب اللہ بھٹہ تھے۔ مزدوروں کی حمایت کرتے ہوئے انہوں نے فرمایا کہ صرف یکم مئی کا دن منا کر ہم اپنے فرض سے سبکدوش نہیں ہو جاتے ہمارا فرض یہ بھی ہے کہ ہم مزدور پیشہ لوگوں کو احتام کی نگاہوں سے دیکھ کر ان کی عزتِ نفس کو بچانا اور سلامت رکھنا ہے۔
شامِ شہاب میں مسندِ صدارت پر جلوہ افروز شاعر و ادیب انجینئیر محمد جمیل چوہدری صاحب نے فرمایا کہ شہاب صاحب کے گھرانے سے ہمیشہ محبت بھرا تعلق قائم رہا ہے۔ ہم مشاعروں اور تقریبات میں شہاب صاحب کو سننا اور انہیں دیکھنا اور ان سے گفتگو کرنا ایک اعزاز سمجھتے تھے۔ بڑے لوگوں کی صحبت میں رہا جائے تو آپ کی شخصیت میں بھی مثبت تبدیلیاں نا گزیر ہو جاتی ہیں ، آج ہم جو کچھ ہیں یہ سب انہی صحبتوں کا فیض ہے ۔ 
صدرِ ذی وقار نے فرمایا کہ میں اکثر کینیڈا میں مقیم رہتا ہوں۔ جب فارغ وقت میسر آتا ہے تو شاعری سے دل بہلاتا ہوں ۔ ایک مجموعہء کلام پہلے آچکا ہے ۔ دوسرا مجموعہ اس برس لکیریں ریت کی منظرِ عام پر آیا ہے۔ برصغیر کی فلمی شاعری پر ایک ضخیم تحقیقی کاوش چھپ چکی ہے دوسری جلد آئندہ ایک آدھ برس میں سامنے آ جائے گی۔اس کے علاوہ علمِ عروض ایسے مشکل موضوع کو آسان بنا کر سامنے لانے کی آرزو ہے۔
شہاب دہلوی اکیڈمی کے اجلاس میں صدارتی کلمات ادا کرتے ہوئے انجینئیر محمد جمیل چوہدری نے فرمایا کہ شہاب دہلوی اکیڈمی شعر و ادب کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ مقاصد کے تحت کام کرنے والی ادبی تنظیمیں معاشرے کی تعمیر و تہذیب اور ثقافت کی ترویج میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ ہمیں ایسی تنظیموں کی سرپرستی کا فریضہ نبھانا چاہئیے تاکہ صحت مند معاشرہ وجود میں لایا جاسکے۔
نقیبِ شامِ شہاب سیّد طالب حسین طالب نے جناب ریاض احمد بھٹی کی جانب سے موصولہ محبت بھرا پیغام شرکاء کی نذر کیا۔ بھٹی صاحب کچھ عرصہ پہلے بہاولپور آرٹس کونسل کے ڈائیریکٹر کی حیثیت سے کام کرتے تھے آج کل ان کی تعیناتی ساہیوال میں ہے۔ اپنے گاؤں ، گلیوں اور شہر کی خوشبو من آنگن میں ہمیشہ بسیرا کر کے دل دریچوں کو مہکاتی رہتی ہے۔جناب ریاض احمد بھٹی کی جڑیں اسی مٹی میں پیوست ہیں اور یہ مٹی خواجہ غلام فرید رحمت اللہ علیہ کی شاعری کی خوشبو سے آراستہ رہتی ہے۔
شامِ شہاب میں تخلیق کاروں کی فکری کاوشیں شرکائے شام کی سماعتوں کی نذر کی جاتی ہیں۔ نثر اور شعر کو برابر موقع ملتا ہے۔ صادق پبلک سکول بہاول پور کے جناب سلیم الرشید صاحب طویل عرصہ بعد رونقِ شام بڑھانے کے لئے آئے تھے۔ انہوں نے اپنا انشائیہ بعنوان خوشی نذرِ شرکاء کیا۔ جناب افضال الرحمان ہاشمی ، جناب خالد محبوب، جناب اشرف خان، جناب محسن دوست، سیّد احمد علی شاہ مخمور، سیّد طالب حسین طالب، جناب قیوم سرکش اور سیّد مشہود رضوی نے اپنا منظوم کلام پیش کیا ۔ چند اشعار بطور نمونہء کلام ملاحظہ فرمائیں۔
شام ڈھل گئی ہے جنگل میں۔۔۔جانے کی ہم کواجازت دیجئے(افضال الرحمان ہاشمی)
خالی ہو گئے پیمانے سارے۔۔۔زہر سے تھوڑی قرابت دیجئے 
تبھی سار ا ثمر بٹا ہو ا تھا۔۔۔پیڑ د یوار سے بڑھا ہوا تھا( محسن دوست)
کام بنتے بگڑ رہے تھے میرے۔۔۔دھیان تیری طرف لگا ہوا تھا
جو بات کر رہا ہوں لپٹی ہوئی نہیں۔۔۔اُمید کوئی آپ سے رکھی ہوئی نہیں( خالد محبوب)
بے خوف ہو کے اپنا سفر کر رہا ہوں میں۔۔۔ جوتی کسی کی پاؤں میں پہنی ہوئی نہیں
سُکھ نال جیونڑ سکھ گھن۔۔۔کاوڑ پیونڑ سکھ گھن( اشرف خان)
عجز بلند کریسی۔۔۔۔نیواں تھیونڑ سکھ گھن 
(ترجمہ؛سکھ سلامتی کے ساتھ جینا چاہتے ہو تو غصہ پینا سیکھ لو ۔ اور سنو سرجھکا کے چلو کہ عاجزی و انکساری بلندی عطا کرتی ہے۔)
چُپ کر اوکھی گالھ نہ کر۔۔۔بھا ہ ہے ایکو نال نہ کر
ہر دل وچ اوندا دیرا ہے ۔۔کاوڑ اوندے نال نہ کر 
دلدار سلامت،رہے کوچہء دلدار سلامت( سیّد طالب حسین طالب)
وہ جن سے گذرتا ہے وہ بازار سلامت
سر ان کا سلامت رہے، دستار سلامت
طالب رہیں تاحشر میرے یار سلامت
زخمِ جگر ہے گُل فشاں لالی لبوں سے کہہ۔۔۔عشرت رسا ہے تیرگی ان مہہ وشوں سے کہہ(قیوم سرکش)
آتا ہے ایک آبلہ پا اس طرف شتاب ۔۔۔کانٹوں سے، کرچیوں سے، کنکروں سے کہہ
یہ جو سخن سراب ہے، مے خانہ ہے کلام۔۔سرمستِ اضطراب ہوں بادہ کشوں سے کہہ
ہوا زنجیر تھی مجھ کو نوا تعزیر تھی مجھ کو۔۔میں تیرے شہر کے ان طائران نغمہ گر میں تھا ( مشہودرضوی)
سراغِ زندگی مشہود ملتا ہے تمنا سے۔۔جو منظر چھو لیا خواہش نے وہ منظر نظر میں تھا
شاعری اور نثر پاروں سے لطف اندوز ہونے والوں میں ڈھیر سارے مہربان شامل تھے۔ پروفیسر ڈاکٹر سیّد مطلوب علی زیدی، جناب طارق حسن خان، جناب نصیر الاسلام، جناب بلال جاوید، جناب عبد الخالق قریشی، جناب عابد رضوی، جناب شہیر رضوی، سیّد شہود رضوی، حاجی ریاض احمد خان، ڈاکٹر محمد اسلم، پروفیسر قدرت اللہ شہزاد، جناب مسعوداحمد خان اور دوسرے بہت سارے دوست۔ 
زندگی دُکھ اور سُکھ کے امتزاج سے رنگین و رعنا بنتی ہے۔چاروں طرف اگر سُکھ اور خوشیوں کے باغ مہکتے رہتے تو یکسانیت کا اصول بے رنگی و بے رُخی کا پہلو غالب کر دیتااور پھر خوشی محسوس ہی نہ ہوتی۔اور اگر صرف دُکھ ہی دُکھ ہوتے تو یہ دنیا نظر بھر کے دیکھنے کے قابل بھی نہ رہتی۔ رب تعالیٰ کی ذات انسان کی بہتری اور بھلائی کے لئے جو سوچتی ہے بہترین سوچتی ہے۔اسی لئے تو راضی برضا رہنے والوں کو بہترین اَجر و انعام کی خوشخبری سنائی گئی ہے۔ اِس کا احساس ہمیں اُس وقت ہوتا ہے جب خانہء خُدا کے بلند میناروں سے اللہُ اکبر اللہُ اکبر کی صدائیں بلند ہوتی ہیں اور اُن میں فلاح کی طرف آؤ کا واضح بلاوا ہوتا ہے۔
شام اپنا سفر طے کر رہی تھی کہ گوشہء شہاب سے متصل مسجد کے میناروں سے اُلوہی پیغام حرفِ انعام بننے لگا ، شام نے قدم روک لئے، مسافروں نے رختِ سفر باندھ لیا ، اگلے پڑاؤ تک پہنچنے کے لئے سفر ضروری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com