شامِ شہاب میں پیامِ آزادی

شامِ شہاب میں پیامِ آزادی
تحریر و تہذیب؛ سعید احمد سلطان، صحرائے چولستان، بہاول پور پاکستان
آزادی کا احساس ایک نعمت ہے تو آزادی بذاتِ خود ایک عنایت جو رب تعالیٰ کی رضا اور محبت سے ملتی ہے۔ویسے تو ہر انسان کو اس کے خالق نے آزاد ہی پیدا کیا ہے،لیکن اسی کے قبیلے کے انسان زورِ بازو اور قوت و طاقت سے دوسرے مجبور اور بے کس انسانوں کو اپنا غلام بنا لیتے ہیں۔اُن سے سانسیں لینے کا حق چھین لینے کا ارادہ کر لیتے ہیں۔ اورپھر اپنے غاصبانہ رویّوں سے غلامی کی راتوں کو طویل سے طویل تر کرنے اور رکھنے کے لئے جبر و استبداد کے تمام ہتھکنڈے آزماتے ہیں۔ برصغیر کے مسلمانوں کو بھی اسی صورتحال سے دوچار کر دیا گیا تھا۔
ایسٹ انڈیا کمپنی کی آمد اور پھر سنہری چڑیا کے پروں سے مسحور ہو کر اپنے قیام کو طول دینے کی تمام ممکنہ کوششیں استعمال کر کے بالآخر اپنے ارادوں میں کامیاب ہوجانے کی منزل تک پہنچ جانے کے بعد اقتدار کے مزے لوٹنے کے لئے جبر کے نئے انداز متعارف کرانے اور انہیں بے دردی سے استعمال کرنے کے راستے پر جو لوگ سب سے زیادہ نشانہ بنے اور بنائے گئے وہ مسلمان تھے۔ کیونکہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے غاصبانہ ارادوں کو بھانپ کر ان کا مقابلہ کرنے کی ہر ممکن سعی مسلمانوں نے ہی کی تھی کیونکہ وہ مغل حکمرانی کی صورت میں برصغیر کے مالک تھے اور ہندو جو کہ ایک بڑی اقلیت کی شکل میں موجود تھے، وہ مسلمانوں سے نفرت کرتے تھے۔انہوں نے اپنی عیّاری اور مکاری سے کام لے کرانگریز آقا کی
ساری ہمدردیاں سمیٹ کر اپنے حق میں کر لی تھیں، اور مسلمان جو رواداری، مساوات اور بھائی چارے کا درس دینے والے تھے قابلِ نفرت و حقارت ٹھہرے ۔اور یوں انگریز آقا کی حکمرانی نے اپنے جبر ، ظلم، اور استبداد کا سب سے زیادہ نشانہ مسلمانوں کو ہی بنایا۔ وجہ یہ بھی تھی کہ اٹھارہ سو ستاون کی جنگِ آزادی کا پرچم بھی مسلمانوں نے بلند کیا تھا، مگر اپنوں کی ریشہ دوانیوں اور پیٹھ میں چھرا گھونپنے والوں کی مدد سے مسلمان وہ جنگ ہار گئے، اور نتیجے میں چُن چُن کر مارے گئے۔ آزادی قربانیاں تو لیتی ہے۔
مسلمان گھرانوں اور افراد پر دونوں جانب سے مظالم برپا کرنے کے نت نئے سلسلے جاری رہے۔ کبھی زبان کو مسئلہ بنایا گیا ، کبھی آذان کی آواز کو نشانہء تنقید چنا گیا، کہیں رواداری اور بھائی چارے کو سازش اور انکار تصور کیا گیا اور کبھی نچلی قوموں کو نیا شعور دینے کو جرم سمجھ کر اس پر سوال جواب کئے گئے۔ مسلمان گھرانوں پر حکومتی اداروں اور شعبوں کے سارے دروازے بند کر دئیے گئے، ان کو بدن سے سانسوں کا رشتہ برقرار رکھنے کے لئے روزگار کے مواقع ختم کر دئے گئے۔ وہ جو تنکا دہرا کرنے سے نا آشنا اور بے خبر تھے، ان پر زندگی کے سارے راستے روک دئیے گئے۔
با لآ خر سرسیّد احمد خان نے انہیں نئی توانائی بخشی ۔ انہوں نے جنگِ آزادی کے مجرم ٹھہرائے جانے والوں کا مقدمہ لڑا۔ اس کے لئے انہوں تلوار اور بندوق کی جگہ قلم اور کاغذ کا استعمال کیا اور اسباب بغاوتِ ہند میں غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کوشش کی۔ دوسری جانب انہوں نے مسلمانوں کو جدید علوم سیکھنے اور انگریزی زبان سے رشتہ جوڑنے کی بھی تلقین کی۔
پھرشاعرِ فکر و دانش اقبال خوش خصال نے تاریک گرہوں میں قید مسلمانوں کو نیا خیال دیا، انہوں نے ملتِ اسلامیہ کے عالی شان ماضی کو بازیا فت کرتے ہوئے انہیں زندگی کی دوڑ میں دوبارہ قدم رکھنے پر آمادہ کیا۔انہیں ایک نئے خطّہء ارض کے حصول کا خواب اور خیال دیا۔ بات دلوں کو بھلی لگی۔دسمبر انیس سو پانچ میں آل انڈیا مسلم لیگ کی بنیا د رکھی گئی تاکہ برصغیر کے مسلمان سیاسی طور پر عملی جدو جہد کرتے ہوئے ایک علیحدہ مملکت حاصل کر سکیں۔ خواب کو تعبیر کی منزل تک پہنچانے کے لئے سوئے ہوئے دلوں اور دماغوں میں قائد اعظم محمد علی جناح نے با وقار اور مضبوط پلیٹ فارم سے اپنی
آ واز پہنچائی، انہیں ایک پلیٹ فارم پر اکھٹے ہونے اور آزادی حاصل کرنے لئے منظم انداز میں، مل کر جدوجہد کرنے کا سلیقہ سکھا یا۔ با لآخر مسلمان تیئیس مارچ انیس سو چالیس کو قائد اعظم رحمتہ اللہ علیہ کی رہبری میں منٹو پارک میں جمع ہوئے، بھاری اکثریت سے قرار دادِ پاکستان منظور ہوئی اور بالآخر سات برس کے مختصر ، مگر بھرپور عرصے کی بے مثل جدوجہد نے دنیا کے نقشے پر ایک نئی اسلامی مملکت کا آفتاب روشن کر دیا، اور آفتاب آپ جانتے ہیں، راستے میں لاکھوں راتیں آئیں، کروڑوں بار گہن لگیں کبھی رکتا نہیں، کبھی بجھتا نہیں، تو ہم اسی آفتاب صورت وطن کے مالک ہیں جس کی ستّر ہویں (۷۰) سالگرہ بھرپور جوش و جذبے اور والہانہ عقیدت و احترام سے منائی جا رہی ہے۔ ‘‘
شام کے انمول، ملکوتی لمحے گوشہء شہاب میں نرم رو انداز میں محوِ سفر تھے اور معروف محقق، دانشور، استاد ،سابق صدر شعبہء اردو ، پروفیسر ڈاکٹر شفیق احمد عطش جشنِ آزادی کے سنہرے دنوں میں منعقدہ شہاب دہلوی اکیڈمی کے اجلاس میں بطور مہمانِ خصوصی اظہارِ خیال فرما رہے تھے۔
پاکستان کو بنے ستّر برس ہونے والے ہیں۔چودہ اگست سن دو ہزار سترہ کو اس کی سترہویں سالگرہ ہو گی، جس کو جوش ، ولولے، جذبے اور عقیدت سے منایا جائے گا۔ دارالسرور بہاول پور کی اہم علمی و ادبی تنظیم شہاب دہلوی اکیڈمی جو ہر شمسی مہینے کی پہلی اتوار کو اپنا اجلاس بلاتی اور شعراء، ادباء اور دانشوران کو دعوت دیتی ہے تاکہ نوجوان نسل کی درست سمت میں فکری تربیت کی جا سکے۔ اکیڈمی کے روحِ رواں سابق چئیر مین و صدر شعبہ تاریخ و مطالعہ پاکستان پروفیسر ڈاکٹر سیّد شاہد حسن رضوی ہیں ۔ ان کے اپنائیت بھرے سندیسے اہلِ ہُنر کو گوشہء شہاب میں والہانہ انداز میں چلے آنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ ماہ اگست ۲۰۱۷ء کا اجلاس جشنِ آزادی کے اعلیٰ پیغام سے رسا بسا ہوا تھا، اس لئے سب شرکاء نے آزادی کی اہمیت، ضرورت اور اس کے تحفظ کی بات چھیڑی۔ 
سیّد طالب حسین طالب نے اجلاس کو رواں رکھنے کے لئے گاہے بگاہے ملّی جذبوں سے آراستہ اشعار نذرِ شرکاء کئے۔ انہوں سید شاہد حسن رضوی کے برخوردار سیّد شہیر حسن رضوی کو زندگی کے دلکش رشتے میں بندھ کر خوشگوار ازدواجی سفر شروع ہونے پر مبارک باد بھی پیش کی۔
شامِ آزادی کی تقریب کا باقائدہ آغاز اللہ ربّ العزّت کے با برکت کلام کے ساتھ ہوا۔ بارگاہِ نبوت ﷺ میں ہدیہء عقیدت صہیب رضوی نے پیش کیا۔مسندِ صدارت پر معروف کالم نگار اور دانشور صاحبِ علم ملک اللہ بخش کلیار جلوہ افروز ہوئے جو حال ہی میں سعودی عرب سے تشریف لائے ہیں۔ مہمانِ خصوصی کے فرائض پروفیسر ڈاکٹر شفیق احمد عطش نے نبھائے۔ 
جشنِ آزادی، ستر سالہ تقریبات، احساسِ آزادی، آنے والی نسلوں کی عمدہ اور مکمل تربیت، حبّ الوطنی کے جذبوں کے فروغ کے لئے کاوشیں، پاکستانیت کی پہچان کے لئے رویّوں کی آبیاری ایسے موضوعات پر جناب طارق حسن خان ایڈووکیٹ، کتاب دوست انسان جناب محسن رضا جوئیہ، شعبہ تاریخ و پاکستان کے سکالر طالبعلم محمد سبطین نے مدلل، موئثر اور حسبِ حال گفتگو فرمائی۔
جناب عبدالرزاق عباسی، سیّد احمد علی شاہ مخمور، جناب اشرف خان، پروفیسر ڈاکٹر سیّد مطلوب علی زیدی اور جناب قیوم خان سرکش نے وطن کے حضور منظوم نذرانہ ہائے عقیدت و محبت پیش کئے۔ 
مہمانِ خصوصی پروفیسر ڈاکٹر شفیق احمد عطش نے ایک قرارداد منظور کرنے کے لئے پیش کی کہ بہاول پور کے بڑے شعراء جناب ظہور نظر اور سیّد شہاب دہلوی کو اکادمی ادبیات اور حکومتِ پاکستان ایوارڈز اور اعزازات سے نوازے کہ ان ہستیوں کے علم، ادب، صحافت اور شاعری کے میدان میں بہت زیادہ کاوشیں ہیں ۔ قرار داد بھاری اکثریت سے منظور کر لی گئی۔
ڈاکٹر صاحب نے فرمایا کہ ہمیں پاکستان کی تہذیب و تعمیر و سلامتی کے لئے اقبال اور قائد سے اپنے رشتوں کو بحال کر کے مضبوط بنانا ہو گا، اپنے اندر حب الوطنی کا جذبہ بڑھانا ہو گا، بے عملی سے بھرے ہوئے راستوں کو ترک کر کے کوشش اور کاوش کی رہگزر پر چلنا ہو گا۔ ہمیں اپنی خامیاں تلاش کر کے، ان کا خاتمہ کرنا ہو گا۔جب ہم یہ سب کام کر لیں تو پھرخلوصِ نیت کے ساتھ تعمیرِ پاکستان میں
مصروف ہو جانا چاہئے۔اسی میں ہماری اور ہماری آنے والی نسلوں کی بقا ہے۔
صدرِ ذی وقار ملک اللہ بخش کلیار نے صدارتی کلمات عطا فرماتے ہوئے کہا کہ وطن ہماری پہچان ہے، یہ بلند و بالا چوٹیوں، ہری بھری وادیوں ، سرسبز و شاداب میدانوں ، گونجتے ہوئے دریاؤں، وسیع و عریض صحراؤں سے آراستہ دھرتی ہماری شناخت ہے، ہم دنیا بھر میں اپنے وطن کی بنا پر، اسی کے حوالے سے محترم اور معتبر ٹھہرتے ہیں۔آزادیء فکر و عمل اور آزادیء خیال و جمال کے ساتھ جب یہ سب کچھ وطن کے سبب سے ہے تو ہمیں اپنے اس سوہنے وطن کی تعمیر و ترقی کے لئے ہر ممکنہ اقدام اٹھانا ہوگا، جذب و شوق کے ساتھ کام کرنا ہو گا۔ شہاب دہلوی اکیڈمی بھی یہی فکرسنوارنے اور نکھارنے کا فریضہ نبھا رہی ہے۔ 
شامِ شہاب کی گلرنگ ساعتوں سے لطف اندوز ہونے کے لئے محترم حاجی ریاض احمد اعوان، آرٹ ڈائیریکٹر جناب بلال جاوید، پروفیسر قدرت اللہ شہزاد، شعبہ میڈیا سٹڈیز اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کے پروفیسر ڈاکٹر رانا محمد شہزاد، جناب اظہر ڈوگر، جناب مسعود احمد خان، پروفیسر سید مشہود رضوی ، جناب شہود رضوی، جناب عبدالخالق قریشی اور دوسرے بہت سے مہربان موجود تھے۔
شامِ شہاب کے دلفریب، دلآویز انداز اپنا حصار بڑھا رہے تھے کہ گوشہء شہاب سے متصل خانہء خدا کے بلند میناروں سے اللہُ اکبر، اللہُ اکبر کی الوہی صدا گونجنے لگی، دل آنکھوں کو فرشِ راہ بنائے مسجد جانے لگے اور شام سمٹے ہوئے پر پھیلا کر آسمان کی وسعتوں میں چاند ستاروں کی ہمراہی بن گئی۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com