ہم جو کسی دن سوئے تو پھر سوئے ہی رہ جائیں گے >>> کامران غنی صباؔ

ہم جو کسی دن سوئے تو پھر سوئے ہی رہ جائیں گے
(آہ ندا فاضلی!)

کامران غنی صباؔ ،مدیر اعزازی اردو نیٹ جاپان
ہر طرف ہر جگہ بے شمار آدمی
پھر بھی تنہائیوں کا شکار آدمی
۔۔۔۔۔
دنیا جسے کہتے ہیں جادو کا کھلونا ہے
مل جائے تو مٹی ہے کھو جائے تو سونا ہے
۔۔۔۔
بڑے بڑے غم کھڑے ہوئے تھے رستہ روکے راہوں میں
چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے ہی ہم نے دل کو شاد کیاآٰایسے بے شمار مشہور اور خوب صورت اشعار کے خالق مقتدا حسن ندا فاضلی گزشتہ 8 فروری 2016کو اس دار فانی سے کوچ کر گئے ؂
اک مسافر کے سفر جیسی ہے ساری دنیا
کوئی جلدی میں کوئی دیر سے جانے والا
ندا فاضلی 12 اکتوبر1938 کو گوالیار میں پیدا ہوئے۔تقسیم کے وقت آپ کے والدین اور خاندان کے دوسرے افراد پاکستان چلے گئے لیکن وطن کی محبت نے ندا فاضلی کو پاکستان جانے سے روک دیا۔
ندا فاضلی نے اردو کی مختلف اصناف میں طبع آزمائی کی۔ ان کی مختلف زبانوں میں کل 24 کتابیں منظر عام پر آئیں۔جن میں پانچ شعری مجموعے ’’لفظوں کے پھول‘‘، مور ناچ‘‘،’’آنکھ اور خواب کے درمیان‘‘، ’’سفر میں دھوپ تو ہوگی‘‘، ’’کھویا ہوا سا کچھ‘‘ اور دنیا ایک کھلونا ہے شامل ہیں۔ ان کی ادبی خدمات کے عوض 1998 ء میں انہیں ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔2013 ء میں وہ ’’پدم شری‘‘ اعزاز سے نوازے گئے۔ندا فاضلی نے رضیہ سلطانہ، آپ تو ایسے نہ تھے، یاترا، سرفروش اور گڑیا جیسی فلموں کے لئے گیت بھی لکھے۔2003ء میں انہیں فلم ’’سر‘‘ کی نغمہ نگاری پر ’’اسٹار اسکریننگ ایوارڈ‘‘ سے نوازا گیا۔ ندا فاضلی فلم انڈسٹری سے بھی وابستہ رہے لیکن انہوں نے ادب کے اعلیٰ معیار کو ہمیشہ ملحوظ رکھا۔ ان کی شاعری میں تنہائی، کرب ذات، قدروں کی شکست و ریخت جیسے موضوعات ملتے ہیں۔ ندا فاضلی کی شاعری ہمیں انسان دوستی کا پیغام دیتی ہے۔ وہ مذہبی انتہا پسندی کے شدید مخالف تھے۔ مذہبی عدم رواداری اور تشدد پر انہوں نے اپنی شاعری کے توسط سے کاری ضرب لگائی ہے۔ ان کی شاعری میں ہمیں ایک ایسے معاشرے کا خواب دکھائی دیتا ہے جہاں انسان مذہبی قید و بند سے آزاد ہو۔ اس تناظر میں ان کا یہ شعر اتنا مشہور ہوا کہ ان کی شخصیت کا حصہ ہی بن گیا ؂
گھر سے مسجد ہے بہت دور چلو یوں کر لیں
کسی روتے ہوئے بچے کو ہنسایا جائے
بلا شبہ مذہبی انتہا پسندی نے عالمی سطح پر تشویش ناک صورت حال اختیار کر لی ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ ہم مذہبی اصطلاحات اور مذہبی اقدار کو ہی ہدف بنانا شرو ع کر دیں۔ کہیں کہیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ندا فاضلی رد عمل میں کافی آگے نکل گئے ہیں ندا فاضلی کے یہ اشعار دیکھیں ؂
گرجا میں مندروں میں اذانوں میں بٹ گیا
ہوتے ہی صبح آدمی خانوں میں بٹ گیا
۔۔۔
دعا کے ہاتھ پتھر ہو گئے ہیں 
خدا ہر ذہن میں ٹوٹا پڑا ہے
۔۔۔۔
اٹھ اٹھ کے مسجدوں سے نمازی چلے گئے
دہشت گردوں کے ہاتھ میں اسلام رہ گیا
۔۔۔۔
ندا فاضلی کی شاعری خاص و عام کو یکساں طور پر متاثر کرتی ہے۔ وہ مانوس الفاظ کا استعمال کرتے ہیں ۔ سیدھے سادے انداز میں بھی ان کا لہجہ اس عہد کے دوسرے شعرا سے یکسر منفرد ہے۔ فطرت سے ہم آہنگ ہونے کی تمنا،ماضی میں لوٹنے کی طلب اور بچپن کی خوشگوار یادیں اس زمانے کی شاعری کے خاص موضوعات ہیں۔ندا فاضلی کے یہاں یہ موضوعات اپنے خاص انداز میں ملتے ہیں۔ چند اشعار ملاحظہ فرمائیں:
بچوں کے چھوٹے ہاتھوں کو چاند ستارے چھونے دو
چار کتابیں پڑھ کر وہ بھی ہم جیسے ہو جائیں گے
۔۔۔۔
ایسے بھی گلی کوچے ہیں بستی میں ہمارے
بچپن میں بھی بچے جہاں بچے نہیں رہتے
۔۔۔۔
ندا فاضلی کی شخصیت میں میں کوئی دوہرا پن نہیں تھا۔وہ جو محسوس کرتے اس کا برملا اظہار بھی کرتے تھے۔انہوں نے کئی خاکے بھی لکھے جو پہلے تو’’ انقلاب ‘‘اور دوسرے اخبارات میں شائع ہوئے اور بعد میں ’’ملاقاتیں‘‘ کے زیر عنوان کتابی صورت میں منظر عام پر آئے۔ ’’ملاقاتیں‘‘ کی اشاعت کے بعد فلمی دنیا سے وابستہ کئی بڑے شعرا ندا فاضلی سے سخت ناراض ہو گئے۔ ان میں علی سردار جعفری، کیفی اعظمی اور ساحر لدھیانوی بھی شامل تھے۔ندا فاضلی کو بھی اپنے مزاج کا بخوبی اندازہ تھا۔ وہ منافقت، ضمیر فروشی اور خوشامد کو بالکل بھی پسند نہیں کرتے تھے ؂
اس کے دشمن ہیں بہت آدمی اچھا ہوگا
وہ بھی میری ہی طرح شہر میں تنہا ہوگا
سائنسی ایجادات اور گلوبلائزشن نے سب سے زیادہ نوعمروں اور بچوں کی زندگی کو متاثر کیا ہے۔آج کے سائنسی عہد میں بچے وقت سے پہلے ہی بالغ ہونے لگے ہیں۔ ان کی پسند و ناپسند اور معیار بھی اب پہلے جیسے نہیں رہے ہیں۔یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ سائنسی ترقیات نے بچوں سے ان کا بچپن چھین لیا ہے۔اس تناظر میں ندا فاضلی کے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں ؂
بچوں کے چھوٹے ہاتھوں کو چاند ستارے چھونے دو
چار کتابیں پڑھ کر وہ بھی ہم جیسے ہو جائیں گے
۔۔۔۔
ایسے بھی گلی کوچے ہیں بستی میں ہمارے 
بچپن میں بھی بچے جہاں بچے نہیں رہتے
ندا فاضلی کا اسلوب خالص ہندوستانی ہے۔ وہ شعوری طور پر عربی و فارسی کے الفاظ اور تراکیب سے اجتناب کرتے ہیں۔ ان کی شاعری میں مصوری اور موسیقی کا حسین امتزاج نظر آتا ہے۔ بطور نمونہ چند اشعار ملاحظہ فرمائیں ؂
ہم لبوں سے کہہ نہ پائے ان سے حال دل کبھی
اور وہ سمجھے نہیں یہ خامشی کیا چیز ہے
۔۔۔
دنیا جسے کہتے ہیں جادو کا کھلونا ہے
مل جائے تو مٹی ہے کھو جائے تو سونا ہے
۔۔۔
اکثر پہاڑ سر پہ گرے اور چپ رہے
یوں بھی ہوا کہ پتہ ہلا دل دہل گیا
چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے دل کو شاد کرنے والا یہ عظیم شاعر ساری دنیا کو روتا ہوا چھوڑ کر ابدی نیند سو گیا۔ آج ان کا یہ شعر اپنی صداقت کا اعلان کر رہا ہے کہ ؂
ہم سے محبت کرنے والے روتے ہی رہ جائیں گے
ہم جو کسی دن سوئے تو پھر سوتے ہی رہ جائیں گے

One comment

  1. بہت خوب !

     

    عمدہ! متوازن تحریر! 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com