تعارف ایک اللہ والے کا

تعارف ایک اللہ والے کا۔ تحریر۔محمد اشرف عظیمی اوکاڑہ 

کئی دنوں سے سوچ رہا تھا کہ فارغ اوقات میں کچھ لکھنا چاہیے میں ایک عاجز بندہ ہوں اور لکھنے وغیرہ کے اصولوں سے واقف نہیں ہوں بہرحال سوچا کہ لکھیں تو کس عنوان پر لکھیں ! آخر میں فیصلہ یہ ہوا کہ کسی روحانی شخصیت پر چند حروف لکھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اِسی لیے میرا انتخاب دور حاضر کی ایک عظیم سائنسی اور روحانی شخصیت سید محمد عظیم برخیا المعروف حضور قلندر بابا اولیاء ہیں ۔ ان پر بہت سے لکھاریوں نے بہت کچھ لکھا اور مزید ان کے اقوال و افکار پر لکھا جارہا ہے انہوں نے روحانی علوم کو سینوں اور خانقاہی نظام سے نکال کر عوامی پلیٹ فارم پر متعارف کروایا یہی نہیں بلکہ یہ بھی بتایا کہ جس طرح فزکس ، کمسٹری ، ریاضی اور بائیولوجی سائنسی مضامین ہیں اسی طرح روحانیت بھی ایک سائنس ہے یہی وجہ ہے کہ آج اس مضمون کے اندر بھی خواتین و حضرات پی ایچ ڈی کررہے ہیں آپ نے تصوف کو ایک سائنس قرار دیا آپ نے دو کتابیں ورثہ میں چھوڑیں ۔ (۱) لوح و قلم (۲) رباعیات ۔کتاب لوح و قلم روحانی سائنس پر پہلی کتاب ہے جس کے اندر کائناتی نظام اور تخلیق کے فارمولے بیان کیے گئے ہیں جس میں فارمولوں کو سمجھانے کے لیے مثالوں سے وضاحت اوران کی توجیحات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے ، اس کتاب میں مختلف عنوانات پر بحث کی گئی ہے آپ نے یہ کتاب حضور اکرم ﷺ کی اجازت اور ان کی ہدایات کی روشنی میں تحریر فرمائی اس کتاب میں بہت سے موضوعات پر لکھا گیا ہے جن میں سے چند ایک کے نام یہاں لکھنا ضروری خیال کرتا ہوں ۔ روح کی تلاش ، لوح محفوظ ، ادراک اور وجدان ، کن فیکون ، علم لدئی ، ملکوتی و بشری صفات ، دوزخ واعراف ، مراقبہ اور مراقبہ کی اِقسام ۔ ویسے تو ہر سلاسل میں مراقبہ کروایا جاتا ہے مگر دیگر سلاسل میں مرشد پاک یہ دیکھتے ہیں کہ کونسا مرید مراقبہ کر سکتا ہے یا نہیں ۔ مگر سلسلہ ءِ عظیمیہ جو کہ حضور قلندر بابا اولیاءؒ کے نام سے منسوب ہے اس میں بنیاد ہی مراقبہ ہے ۔ دوسری کتاب جو آپ نے لکھی وہ رباعیات حضور قلندر بابا اولیاءؒ کے نام ہے یہاں پر چند ایک رباعیات کا حوالہ دینا ضرور ی ہے ۔
*اہرام فراعین کا مدفن ہیں آج 
سیاحوں سے تحسین کا لیتے ہیں اخراج
رفتارزمیں کی ٹھوکریں کھا کھا کر 
مل جائیگا کل تک ان کا مٹی میں مزاج 

*مٹی سے نکلتے ہیں پرندے اُڑ کر 
دنیا کی فضا دیکھتے ہیں مڑ مڑ کر 
مٹی کی کشش سے اب کہاں جائینگے 
مٹی نے انہیں دیکھ لیا ہے مڑ کر 

*ہر ذرہ ہے ایک خاص نمو کا پابند 
سبزہ ہو صنوبر ہو کہ سرد بلند 
انسان کی مٹی کے ہر اِک ذرہ سے 
جب ملتا ہے موقع تو نکلتے ہیں پرندے 
اس رباعی میں خاص نمو سے مراد متعین تخلیقی مقداریں ہیں ۔ قرآن مجید میں ہے ’’ بلند مرتبہ ہے وہ ذات جس نے تخلیق کیا اور مقداروں کیساتھ ہدایت بخشی ‘‘ ( 3.1.87)یعنی مٹی ایک ہے اور ہر پیدا ہونیوالی شے دوسری سے مختلف ہے ۔ یہی مختلف مقداریں ہیں ۔ یہ بڑی تفصیلی بحث ہے مگر یہاں پر نہایت مختصر تحریر کیا گیا ہے ،قلندر بابا اولیاءؒ نے ظاہری تعلیم علی گڑھ یونیورسٹی سے حاصل کی بعد اَزاں آپ نے 9سال تک روحانی تربیت ہفت کلیم حضرت بابا تاج الدین ناگپوری ؒ سے حاصل کی جو رشتہ میں آپ کے نانا لگتے ہیں ۔ آپ1898ء میں شہر پلمند بھارت میں پیدا ہوئے قیام پاکستان کے بعد آپ نے ہجرت فرمائی ،کراچی کو اپنا مسکن بنایا اور ڈان اخبار میں بطور ایڈیٹر کام کرنے لگے آپ نے ابوالفیض قلندر علی سہروردی سے 1956میں بیعت فرمائی ، حضور قلندر بابا اولیاءؒ نے حضور اکرمﷺ کی اجازت سے 1960میں سلسلہ عظیمیہ کی بنیاد رکھی اور اس کا ایک سلیبس بھی منظور کروایا ۔ بابااولیاؒ اکیس سلاسل کے مربی مشفی ہیں ،حضور قلندر بابا اولیاؒ کی تعلیمات قرآن پاک کی رہنمائی میں کائنات میں غور و فکر کی طرف متوجہ کرتی ہیں اور اس طرح جو لوگ تفکر کرتے ہیں ان کا تعلق اللہ تعالیٰ سے قائم ہوجاتا ہے ، تفکر (مراقبہ) کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ کائنات جن فارمولوں سے تخلیق ہوئی ہے وہ اسمائے الہیٰ ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کی قربت کے علوم ہیں جو صرف کائنات میں انسان کو منتقل ہوتے ہیں ، حضور قلندر بابا اولیاءؒ نے اِس دنیا فانی کو 27جنوری 1979ء میں خیر آباد کہ خالق حقیقی سے جاملے ۔ اسی نسبت سے ہر سال آپ کا مرکزی عرس مبارک کراچی مراقبہ ہال سرجانی ٹاؤن میں منعقد ہوتا ہے ، اس کے علاوہ دیگر ممالک اور پاکستان کے دیگر شہروں کی طرح اوکاڑہ کے مراقبہ ہال میں عرس کی تقریبات مورخہ14جنوری 2018کو ہونگی جس میں ہرمکتبہ فکر کے خواتین و حضرات کو شامل ہونیکی دعوت دی جارہی ہے ، اِس روحانی اور علمی محفل میں شامل ہوکر شکریہ کا موقع فراہم کریں اور حضور قلندر بابا اولیاءؒ کی تعلیمات سے آگاہی حاصل کریں ۔ 

چوہدری محمد اشرف عظیمی اوکاڑہ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com