رحجان ساز شاعر

۔۔ رحجان ساز شاعر۔۔۔۔ تحریر : فرہاد احمد فگار ؔ 
خال خال شعرا کی بابت یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ وہ حقیقی معنوں میں اپنے دور کے رحجان ساز شاعر ہیں۔لیکن ہم پورے وثوق کے ساتھ ن۔م۔راشد ؔ کو ایسا شاعر قرار د ے سکتے ہیں کیوں کہ انھوں نے نہ صرف اردومیں آزاد نظم کو متعارف کروایابلکہ اُردُوشاعری کوجدت بخشی اور نیا مِزاج عطا کیا۔ آپ کو بلا شبہ’’ صعودی اختراع ‘‘کا شاعر کہا جا سکتا ہے ۔راشدؔ نے روایتی شعری اظہارکے خزانے کو جہاں محدود جانا وہاں ہی اُس شعری سرمائے سے قیمتی جواہر کو کھوجا اور ان کی تراش کر کے دنیا کے نئے حقائق کی روشنی میں پیش کیا۔
ن۔م۔راشِدؔ کے قلمی نام سے لازوال شہرت پانے والے راشِدؔ کا اصل نام نذر محمد راشِدؔ تھا۔آپ یکم اکتوبر ۱۹۱۰ ؁ء کو ضلع گوجرانوالہ کے قصبے اکال گڑھ (موجودہ نام ’’علی پور چٹھہ‘‘ )میں راجا فضل الہی چشتی کے ہاں تولد ہوئے۔ آپ کے والد فارسی زبان کا اعلیٰ ذوق رکھتے تھے۔راشدؔ کے دادا ڈاکٹر غلام رسول (جو سول سرجن تھے ) بھی اردو اور فارسی کے شاعر تھے اور غلامیؔ تخلص کرتے تھے۔ میٹرک ۱۹۲۶ ؁ء ، انٹر میڈیٹ ۱۹۲۸ ؁ء، گریجوایشن ۱۹۳۰ ؁ء اور ایم اے سیاسیات ۱۹۳۲ ؁ء میں پنجاب یونی ورسٹی سے کیا۔ تعلیم کے اہم مراحل طے کرتے ہوئے انھوں نے اِنگریزی ، فرانسیسی(انٹر میڈیٹ سطح پر)جب کہ فارسی (گریجوایشن کی سطح تک) نہ صرف پڑھی بلکہ ان زُبانوں پر مکمل دسترس بھی حاصِل کی اور تین سال تک جامعہ پنجاب میں مذکورہ زبانوں کے اُستاد بھی رہے۔فارسی سے گہری شناسائی اُن کے شعری اُسلوب میں اس قدر نُمایاں ہے کہ آپ کے کلام کی ایک امتیازی خصوصیت تسلیم کی جاتی ہے۔
راشِدؔ کی عملی زندگی کا آغاز ۱۹۳۵ ؁ء میں کلرک کی حیثیت سے ہو ا جہاں سے آپ ترقی کی منازِل طے کرتے ہوئے آگے ہی بڑھتے رہے۔تقسیمِ برصغیر سے قبل آپ آل انڈیا ریڈیو سے بھی وابستہ رہے ۔آزادی کے بعد ریڈیو پاکستان سے منسلک ہو گیے ۔ پشاور،لاہور اور کراچی جیسے شہروں میں خدمات سرانجام دیتے ہوئے ۱۹۶۰ ؁ء میں ملازِمت سے سبک دوش ہوگئے۔راشدؔ اقوام متحدہ سے بھی وابستہ رہے اور اس سلسلے میں ایران،عراق،فلسطین،مصر،انڈونیشیا،امریکا،روس،اسٹریلیا،اٹلی،سیلون اور بیلجیئم کا سفر بھی کیا۔یہی عالَم گیرسیاسی اور سماجی حالات ہیں جن کا عملی مطالعہ راشدؔ کے کلام میں ملتا ہے۔جس کی مثال ا ن کاشعری مجموعے 249249ایران میں اجنبی،، کا سیاسی شعوراور مشرقی اقوام کا تنقیدی تجزیہ ہے۔
ن۔م۔راشدؔ نے دو شادیاں کیں۔پہلی شادی ۱۹۳۵ ؁ء میں ۲۵ برس کی عمر میں ماموں زاد صفیہ بیگم سے ہوئی جو ۱۹۶۱ ؁ء میں واصلِ بہ حق ہوئیں۔اہلیہ کے انتقال کے دو سال بعد ۱۹۶۳ ؁ء میں شیلا انجلینی نامی ایک اطالوی انگریز خاتون سے دوسری شادی ہوئی۔ پہلی بیوی سے آپ کی اولاد میں ایک بیٹا(شہریار) اور تین بیٹیاں ( نسرین، یاسمین ، تمزین اور شاہین) ہوئیں۔ شاہین دسمبر ۲۰۰۵ ؁ء میں انتقال کر چکی ہیں جب کہ دوسری بیوی سے نزیل نامی ایک بیٹا ہے۔ اپنی زندگی میں’’ ملحد‘‘ اور’’ خدا کا باغی‘‘ جیسے الزامات کا سامنا کرنے والے ن۔م۔راشِدؔ ۹ ،اکتوبر ۱۹۷۵ ؁ء کوبرطانیہ میں اپنے ؔ انتقال سے قبل اپنی میت کو جلانے کی وصیت کرتے ہیں۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ انگلستان میں میت سوزی کی نسبت میت دفن کرنے کے اخراجات بہت زیادہ ہیں اس لیے آپ کی اطالوی اہلیہ نے میّت سوزی کی وصیت کا ڈراما رچایا۔ بہر حال وصیت کے مطابق ان کی میت سوزی کی۔ یہ واقعہ سخت تنقید اور متعدد مباعث کا سبب ٹھہرا۔ اس تناظر میں طارق حبیب کا دعویٰ ہے کہ: 249249راشدؔ آخیر وقت تک بلا شبہ ایک راسخ العقیدہ مسلمان تھے،،۔ جب کہ ساقی فاروقی اپنے ایک مضمون میں واضح الفاظ میں شیلا راشد کے بیان کی تصدیق کی ہے۔
ن۔م۔راشِدؔ کی ادبی زندگی میں وہ میراؔ جی کے ساتھ حلقہ اربابِ ذوق کے اولین کارکن کے طور پر شریک رہے۔خصوصا حلقے کی لاہور شاخ کے لیے آپ کی خدمات قابِل ستائش ہیں۔راشدؔ کی پہلی نظم ’’اتفاقات‘‘ بھی۱۹۳۵ ؁ء میں اسی اِدارے کے رسالے’’ادبی دنیا‘‘ میں شائع ہوئی۔یہ وہ دور تھا جب راشِدؔ اُردُو کے تین ادبی رسائل کی اِدارت کر رہے تھے۔ لاہور کے رسالے’’راوی‘‘میں (۱۹۳۱ ؁ء تا ۱۹۳۲ ؁ء) ملتان کے جریدے ’’نخلستان‘‘ میں(۱۹۳۲ ؁ء تا ۱۹۳۴ ؁ء)اور لاہور کے ادبی رسالے ’’شاہکار‘‘ میں(۱۹۳۴ ؁ء تا ۱۹۳۵ ؁ء) بہ طور مدیر ذمہ داریاں نبھاتے رہے۔اُردُو رسائل کے ساتھ ساتھ انھوں نے لاہور کے انگریزی رسالے ’’ دی بیکن‘‘(۱۹۲۷ ؁ء تا ۱۹۲۸ ؁ء) اور ریڈیو پاکستان کے رسالے ’’ پاکستان کالنگ‘‘ (۱۹۴۹ ؁ء تا ۱۹۵۰ ؁ء) کی ادارت بھی کی۔ 
جدید اردو نظم میں ن۔م۔راشدؔ کو مرکز کی حیثیت حاصل ہے آپ کو شعر گوئی کا شوق بچپن سے ہی تھا چناں چہ ابتدائی نظم’’انسپکٹر اور مکھیاں‘‘ ۱۹۱۷ ؁ء میں صرف سات سال کی عمر میں ’’ گلاب ‘‘ کے تخلص کے ساتھ کہی اور والد سے ایک روپیا انعام پایا ۔ آپ کے دادا (جو خود بھی شاعر تھے) نے جب نظم پڑھی تو جواب میں یہ شعر لکھ کر دیا
؂ میرے میاں گُلاب،دہن میں گُلاب ہو
خوش بو سے تیری بابا ترا فیض یاب ہو
بچپن کا یہ شوق پروان چڑھا ، شاعری کی مہربان دیوی اُترتی رہی ، لفظ آپ سے اُلفت نبھاتے رہے، شہرت آپ کے قدم چومتی رہی اور اُردو ادب آپ کے احسانات کے بوجھ تلے آتا چلا گیا۔ دنیا نے دیکھا کہ آپ نے اُردو ادب کو جدید نظم کی دولت سے مالا مال کر کے جلد ہی اتنا ثروت مند بنا دیا جتنا اس سے پہلے کبھی نہ تھا۔ آپ کے تین شعری مجموعے آپ کی زندگی میں طبع ہو ئے۔ پہلا مجموعہ ’’ ماورا‘‘ ۱۹۴۱ ؁ء میں منظر عام پر آیا۔ دوسرا مجموعہ ’’ایران میں اجنبی‘‘ ۱۹۵۵ ؁ء میں طبع ہوا جب کہ آپ کی زندگی میں شائع ہونے والا تیسرا شعری مجموعہ ’’ لا=انسان‘‘ ۱۹۶۹ ؁ء میں چھپا۔ چوتھا اور آخری شعری مجموعہ ’’گماں کا ممکِن‘‘ تھا جو آپ کی رحلت کے عین ایک سال بعد ۱۹۷۶ ؁ء میں سامنے آیا۔بہ حیثیتِ مجموعی ن۔م ۔راشِدؔ کا کلام اُردُو شاعری میں ایک نیا باب ثابِت ہوا۔ بہ قول ڈاکٹر رشید امجد:’’میراجیؔ کے ساتھ راشد ؔ ہر لحاظ سے روایتی نظم گوئی سے انحراف کی مثال ہیں‘‘۔عام طور پر راشِدؔ کے باغیانہ پن پر زیادہ زور دیا جاتا ہے۔لیکن اس کے باوجود میرا جیؔ اور راشِدؔ نے ادب کی گزشتہ روایات سے فقط بغاوت ہی نہیں کی بلکہ انھوں نے جدید شعریات کی طرح ڈالی۔ اس وجہ سے راشِدؔ کا باغیانہ رویہ بہَ یک وقت تعمیری اور تسخیری نظر آتا ہے۔ایک وسیع تر تناظر میں راشِدؔ کے اس انحراف کا مطلب مُکمل ترد
ید نہیں بلکہ اردو نظم نگاری میں نیا دَم پھونکنے کا عمل ہے۔اس عمل کی بدولت آزاد اور نظمِ معریٰ پرانی ہئیتوں کے ساتھ چلنے لگی۔نئے شعری لہجے اور علامات جدید مغربی ادب سے ماخوذ ہوئیں اورمروّج تمثالوں اور تلمیحات کو نئی اور نامانوس معنویت سے معمور کیا گیاتھا۔ڈاکٹر رشید امجد کے مطابِق:’’راشد ؔ اور میرا جیؔ کے کلام میں ایک نیا ہندوستانی ذہن جنم لیتا ہے جو جدید اُردو شاعری کی قدیمی وِراثت ثابِت ہوا ہے۔‘‘ 
ن۔م۔راشِدؔ شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ناقد کی حیثیت سے بھی خود کو منوانے میں کام یاب رہے۔ آپ کے ناقدانہ فن کا منہ بولتا ثبوت آپ کے وہ تنقیدی مقالات ہیں جو مغربی تنقید اور تحلیلِ نفسی کے انکشافات سے گہری وابستگی کی عمدہ مثالیں ہیں۔ ’’جدید ادب‘‘ کے عنوان سے یہ مقالات ۱۹۵۶ ؁ء میں جب کہ ’’غالِبؔ ہمارے عہد میں‘‘ اور’’ جدیدیت کیاہے؟‘‘ کے عنوانات سے ۱۹۶۰ ؁ء میں شائع ہوئے۔ان مقالات میں ن۔م۔راشدؔ نے فرد کی نفسیاتی پیچید گیو ں کو بہ طور استعارہ پیش کیا ہے۔یعنی فرد کی داخلی کیفیات ،اجتماع کے مسائل سے ایک علامتی تعَلُق رکھتی ہیں۔راشِدؔ کے مطابق شاعر اپنی انفرادی حیثیت سے اجتماع کے دکھ کا اظہار کرتا ہے۔بنی نوح انسان کی دکھی روح نئے شاعر کی فکر ہے مگر اس فکر کے اظہار کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی انفرادیت میں قائم رہے۔اس لیے وہ روایتی عاشِق کے مسائل تک محدود نہیں رہتا بل کہ اس دائرے سے نکل کر لکھتا ہے۔یہ افکا ر اگرچہ کافی حد تک ترقی پسند اقدار سے مماثلت رکھتے ہیں البتہ راشِدؔ کے ایک نظریے کے غلبے سے گریز کرتے ہیں۔مثال کے طور پر ’’ایران میں اجنبی‘‘ کے موضوعات اجتماعی نوعیت کے ہیں۔راشِدؔ نے ترقی پسندوں کی طرح مشرقی اقوام پر مغربی سیاسی اور سماجی تسلّط کے خلاف اپنی آواز انفرادی زاویے اور اِظہارِ خیال کے ساتھ اُٹھائی۔اس لیے بعض ترقی پسندوں نے اس مجموعے کو بے جا تنقید کا نشانہ بھی بنایا جس کے جواب میں راشِدؔ اتنا ہی کہاکہ’’میں نے ترقی پسند بیانات میں وہی نظریاتی تسلّط اور پابندی دیکھی جو بہ ظاہر ترقی پسند تحریک کے مطابق قابلِ قبول نہ تھی‘‘ اس لیے راشِدؔ خارجی نظریاتی نظام کی بجائے ذاتی بصیرت پر فن کے حامی نظر آتے ہیں۔ن۔م ۔راشِدؔ کے مطابق اِنسان کی غیر منظم بل کہ باغیانہ روّش کی حامل ذات انسانی مسائل کے جواب دینے کے لیے اِنسان کی منظم اور راست ذات کے مقابلے میں زیادہ قابِل ہے۔آپ کے ہاں داخلیت کا غلبہ نہایت اہم حوالہ بن گیا ہے۔ناقدینِ ادب نے راشدؔ کی داخلیت پسندی کو حلقہ اربابِ ذوق کے دیگر شعرا کے مقابلے میں اوپر مانا ہے۔’’ماورا‘‘ کی نظموں کے حوالے سے ڈاکٹر انور سدید لکھتے ہیں:’’راشِدؔ ذات کے اسیر نظر آتے ہیں‘‘ انہی نظموں کی بابت (بالخصوص’’رقص‘‘’’خود کشی‘‘اور’’انتقام‘‘)راشِدؔ کہتے ہیں کہ’’ یہ نظمیں بہ ذاتِ خود اس زمانے کے معاشرے کے استعارے ہیں‘‘۔
راشِدؔ وسیع موضوعاتی پیمانہ رکھتے ہیں جب کہ ان کا سماجی اور فلسفیانہ شعور بہت گہرا ہے۔اُن کا پہلا شعری مجموعہ’’ ماورا‘‘انقلابی حیثیت رکھتا ہے۔ (۳۷) سینتیس نظموں پر مشتمل اس مجموعے میں شامِل نظمیں ایسی ہیں جہا ں سے راشِدؔ کی آزاد نظم باقاعدہ طور پر متعارف ہوتی نظر آتی ہے۔’’ماورا‘‘کے جنسی رحجان کی وجہ سے بعض ناقدین نے راشِدؔ کو فحاشی کا مرتکب بھی ٹھہرایا تا ہم یہ بات کسی حد تک درست بھی ہے لیکِن اس کو مکمل طور پر تسلیم کر لینا بھی زیادتی تصوّر ہو گی۔ مثال کے طور پر ’’ماورا‘‘ کی نظم ’’انتقام‘‘ جس میں راشِدؔ ایک اجنبی عورت سے جنسی تلذّذ حاصل کرنے کی بات کرتے ہیں اور جنس کے زریعے انتقام لیتے ہیں۔ 
اُس کا چہرہ،اُس کے خدّوخال یاد آتے نہیں
اِک برہنہ جسم اب تک یاد ہے
اجنبی عورت کا جسم،
میرے’’ہونٹوں‘‘ نے لیا تھارات بھر
جس سے اربابِ وطن کی بے بسی کا انتقام
وہ برہنہ جسماب تک یاد ہے!
اگر اس نظم پر غور کیا جا ئے تو یہ نظم مغربی تسلّط کے خلاف ایک محبِ وطن شاعر کا تلخ احتجاج دکھائی دیتی ہے۔جنس اس میں ایک علامت کے طور نظر آتی ہے جو مرکزی موضوع بھی نہیں بل کہ مشرقی اقوام کی بے بسی پر غم اور اس کا شدید ردِعمل معلوم ہوتا ہے۔اس نظم کے علاوہ ’’ہونٹوں کا لمس‘‘اور ’’داشتہ‘‘وغیرہ میں بھی کسی حد تک جنسی رحجان موجود ہے۔ 
تیرے رنگیں رس بھرے ہونٹوں کا لمس
جس سے میرا جسم طوفانوں کی جولاں گاہ ہے
جس سے میری زندگی ،میرا عمل گمُراہ ہے
میری ذات اور میرے شعر افسانہ ہیں! 
’’ایران میں اجنبی‘‘ میں شامل نظموں کی تعداد (۴۹)اُنچاس ہے۔ اس مجموعے کی نظموں میں تہذیبی زوال کو مرکزی موضوع کی حیثیت حاصل ہے۔اقتدار اور بے بسی کا تضّاد ’’زنجیر‘‘ میں دیکھا جا سکتا ہے۔’’زنجیر‘‘ ایک نظم ہی نہیں بل کی علامت ہے ایسے معاشرے ہی جس کے قدم جکڑے ہوئے ہیں ۔
شُکر ہے دنبالۂ زنجیرمیں
اِک نئی جُنبش،نئی لرزش ہویدا ہو چلی 
کوہ ساروں ،ریگزاروں سے صداآنے لگی!
ظلم پروردہ غلامو!بھاگ جا ؤ 
پردۂ شب گیر میں اپنے سلاسل توڑ کر ، 
چار سو چھائے ہوئے ظلمات کو اب چیر جاؤ
اور اس ہنگامِباد آورد کو 
حیلۂ شب خوں بناؤ!
اسی طرح ’’سمُندر کی تہ میں‘‘ راشِدؔ کی نما ئندہ پُر اِسرار اساطیری فَضا سے بھرپور نظم ہے۔’ نظم’تیل کے سوداگر‘‘ میں راشِدؔ کا ایک اور نمائندہ منظر شہر کا ہے ۔ اس نظم میں وہ عہد رفتہ کے شان دار شہروں اور موجودہ دور کے ایرانی شہروں کا موازنہ کرتے ہیں۔ اس نظم میں راشِدؔ کا وہ مشاہدہ بھی نما یا ں ہوتا ہے جو آپ نے ان شہروں میں قیام کے عرصے میں کیا۔
بخارا،ثمر قند اِک خالِ ہندوکے بدلے!
بجا ہے، بخارا،ثمر قند باقی کہاں ہیں؟
بخارا ،ثمر قند نیندوں میں مدہوش،
اِک نیلگوں خامشی کے حجابوں میں مستور،
اور رہرووں کے لیے ان کے در بند
سوئی ہوئی مہ جبینوں کی پلکوں کی مانند،
رُوسی ’’ہمہ اوست‘‘کے تازیانو ں سے معذور
دو مہ جبینیں !
ن۔م۔راشِدؔ کا سوم شعری مجموعہ ’’لا=اِنسان‘‘(۴۲)بیالیس نظموں کا حامل مجموعہ ہے۔راشِدؔ کے مرکزی تصّوُرات یعنی ’’زندگی‘‘اور ’’انسان‘‘اس مجموعے کا اہم موضوع اور محورہیں۔اس کتاب کی نمائندہ نظمیں ’’زندگی اک پیرہ زن‘‘ اور ’’اندھا جنگل‘‘ ہیں۔ ان نظموں میں راشِدؔ کا اُسلوب درج ذیل مِثالوں میں ملاحظہ ہو۔
————زندگی اک پیرہ زن!
جمع کرتی ہے گلی کوچوں میں روز و شب پُرانی دھجیاں!
تیز،نم انگیز،دیوانہ ہنسی سے خندہ زن
بال بکھرے،دانت میلے،پیرہن
(زندگی اک پیرہ زن)

کرنیں پھر بھی دھنی ہیں ،کتنی دریا دِل
چھاپ رہی ہیں مردہ پتّوں ہی پر تصویریں!
پوچھو،کب تصویروں سے بدلیں ہیں تقدیریں!
ہو تو ان کا دل چیریں!
(اندھا جنگل) 
ن۔م۔راشِدؔ کے آخری مجموعے اور بعد کی شاعری میں ان کی فنی پختگی سر چڑھ کر بولتی نظر آتی ہے۔ آپ کی یہ شاعری آپ کی تہ دار علامت نگاری کی عمدہ مثال ہے۔شہر�ۂآفاق نظمیں ’’حسن کوزہ گر‘‘اور’’اندھا کباڑی‘‘ایسی کرداری نظمیں ہیں جن میں راشدؔ کا فن بامِ اوج پر پہنچا ہوا ہے۔ اُسلابیاتی سطح پر بھی مذکورہ نظمیں بے مثل ہیں۔ ’’اندھا کباڑی‘‘ شہر کے گلی کوچوں میں آوازہ لگاتا ہے لیکن اس کی ایک نہیں سنی جاتی۔ ’’حسن کوزہ گر‘‘ اردو کی ایک طویل نظم ہے جو چار(۴) حصوں میں ایک کُل کی تکمیل کرتی ہے ۔اگر یوں کہا جائے کہ جو مقام و مرتبہ اقبالؔ کے ہا ں ’’مسجدِقُرطبہ ‘‘ کو حاصل ہے وہ راشِدؔ کے ہاں ’’ حسن کوزہ گر‘‘ کو حاصل ہے تو ہر گز مبالغہ آرائی نہ ہو گی ۔ راشدؔ کی بے مثال نظموں کی فہرست میں سے ان نظموں کو ہرگز خارج نہیں کیا جا سکتا۔ 
دونوں نظمیں روانی اور آپ کی فنی دسترس کی بہترین مثالیں ہیں۔آپ نے آزاد نظم کے کام یاب تجرِبات کر کے اردو نظم میں وہ وسعت لائی جو اس سے قبل ممکن نہ ہو سکی ۔ راشِد ؔ کے ہاں بعض الفاظ کا استعمال بار بار ملتا ہے۔ مثلاً:خواب،شہر،ریت،ریگ،سمُندر،رات،ساحل، صدا،تہ اور جھانکنا وغیرہ۔اِن علامات کے حوالے سے محمد حسن عسکری نے لکھا ہے کہ:’’راشِدؔ کی اساطیری تمثال نگاری کا عُنصر ٹھیٹ دیو مالائی نہیں بل کہ لا شعور کی معنویت سے تعَلُق رکھتی ہے۔‘‘ راشدؔ کے ہاں’’ خواب ‘‘ کا تصور بھی نمایا ں ہے اور بارہا برتا گیا ہے۔طارِق حبیب کے خیال میں:’’خواب سے مراد بہ یک وقت تاثرات،اصلاحی رویّہ،قومی نظریات اور سگمنڈ فرائڈ کے انکشافات ہو سکتے ہیں۔‘‘ راشد ؔ اور ’’خواب ‘‘ لازم و ملزوم ہو چکے ہیں آپ کے ہاں یہ فقط ایک لفظ ہی نہیں بل کہ ایک علامت ہے جو آپ کی شاعری میں کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔
رات ہو جاتی ہے 
خوابوں کے پلندے سَر پر رکھ کر
مُنہ بسورے لوٹتا ہوں 
رات بھر پھر بڑبڑاتا ہوں 
’’یہ لے لو خواب۔۔۔‘‘
اور لے لو مجھ سے ان کے دام بھی
خواب لے لو ،خواب۔۔۔
میرے خواب۔۔۔
خواب۔۔۔میرے خواب۔۔۔
خواااااب ۔۔۔ 

اِن کے دام بھی ی ی ی۔۔۔‘‘
راشِد ؔ کاہر ہر لفظ دل کی آواز ہے جس میں کرب و تکالیف ہیں ۔انسان کے لیے،عوام کے لیے،اقوام کے لیے،ہم وطنوں کے لیے،ناداروں کے لیے اور سب سے بڑھ کر اِنسانیت کے لیے۔ن۔م۔راشِدؔ حقیقی معنوں میں ایک بڑا تخلیق کار تھا جس نے اپنے فن سے اور اپنے آپ سے کبھی دھوکا نہ کیا۔قارئین کا آرا ء کا انتظار رہے گا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com