جمال اُویسی اپنی تخلیقات کی روشنی میں

نغمہ پروین
ریسرچ اسکالر،پٹنہ یونیورسٹی ، پٹنہ
جمال اُویسی اپنی تخلیقات کی روشنی میں

تاریخ عالم کو پڑھنے سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ جتنے بھی لوگ آج صفحات پر زندہ ہیں بیشک وہ انسان دوستی یا انسان دشمنی کی وجہ کر، ورنہ تاریخ کے صفحات پر انہیں جگہ نہیں دی جاتی۔ قابل رشک ہیں وہ لوگ جنہوں نے دنیا میں امن و محبت کا پیغام دیا اور کارہائے نمایاں انجام دئیے اور قابل مذمت ہیں وہ لوگ جنہوں نے محب انسانیت کو سنگسار کر ان کے دامن پر داغ لگانے کی ناکام کوششیں کیں۔
جمال اُویسی کا شمار دوسرے گروہ کے لوگوں میں کیا جاتا رہا ہے۔ جمال دورِ جدید میں اُردو ادب کا وہ نام ہے جس نے اپنی پہچان بنانے کے لئے ہمیشہ بیساکھی کا سہارا لیا ہے، کبھی باپ کی شکل میں، کبھی اساتذہ کی شکل میں تو کبھی بڑے فنکار کی شکل میں۔ کہنے کو تو یہ شاعر و نقاد ہیں مگر اصل معنوں میں یہ دونوں صنف سے عاری ہیں۔ ان کے کلام میں لفظ’میں، میرا، ہم، ہمیں‘ بار بار آتا ہے۔ مانو ان کے سر پر خود ہی اپنے آپ کو متعارف کروانے کا جنون سوار ہے۔ ہاں شاید اُنہیں یہ پتا ہے کہ ان کا فن اس لائق تو ہے نہیں کہ ان کے قدر شناس پیدا ہوں۔ ویسے بھی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ انسان پہلے آتا ہے فن بعد کو۔ اگر کوئی انسان انسانیت سے عاری ہے تو اس کا فن قطعی بڑا نہیں ہوسکتا۔ ایک جگہ جمال صاحب لکھتے ہیں:۔
’’انسان کو بہت طرح سے دبایا جاتا ہے اور اس کے وقار کو کم کرکے پیش کیا جاتا ہے۔ یوں بھی آج کے انسان نے اپنا مرتبہ اپنے فکر و عمل سے بہت کچھ کم کرلیا ہے۔‘‘
(نقش گریز، ازجمال اُویسی، ص ۲۵)
اب اس کو کیا کہا جائے ،ان ہی کی زبان میں انہوں نے اپنا مرتبہ اپنے فکر و عمل کی وجہ سے کم نہیں مکمل ختم کرلیا ہے۔ یا یہ کہ مذکورہ تحریر جمال صاحب کی ہے ہی نہیں، یا تو مانگی ہوئی ہے یا خریدی ہوئی ہے، کہتے ہیں:
بازار ان دنوں ہے خرید و فروخت کا
علم و ہنر کے دام کوئی پوچھتا نہیں 
(شور کے درمیان ،از جمال اُویسی، ص۱۲۱)
جمال صاحب اپنی تعریف کرتے نہیں تھکتے چاہے وہ شاعری کا منچ ہو یا نثر کا میدان گویا انہوں نے ٹھان لیا ہے کہ جب میں خود ہی اپنی تعریف کرسکتا ہوں تو دوسروں سے کیوں کرواؤں۔ ایسا لگتا ہے کہ موصوف ادب کی دنیا میں نئے ہیں انہیں ادبی روایتوں اور فنی تقاضوں سے پوری واقفیت نہیں۔ یہ ادبی نہیں سیاسی آدمی معلوم پڑتے ہیں جنہیں جھوٹ بولنے میں مہارت حاصل ہے۔موصوف شاید یہ بھول جاتے ہیں کہ ادب کے قارئین سلجھے ہوئے ذہنوں کے مالک ہوا کرتے ہیں، کوئی بات ہوا میں کردی جائے اور ہمعصروں کے ساتھ آنے والی نسلیں بھی تسلیم کرلیں ایسا ادب میں ممکن نہیں۔ موصوف کی ایک کتاب سال ۲۰۱۷ء میں ’’جدید اُردو تنقید (پس منظر و پیش منظر)‘‘ کے نام سے شائع ہوئی ہے۔ پوری کتاب میں موصوف نے نئی تنقید کا سہارا لیکر اُردو کے مشہور و معروف ناقد پروفیسر کلیم ا لدین احمد کو اپنا ہدف بنایا ہے۔ موصوف نے کلیم الدین احمد پر ایسے ایسے الزمات گڑھے اور بیجا حملے کئے ہیں کہ ان کی غیرجانب داری قاری کے سامنے واضح ہوگئی ہے۔ پروفیسر آل احمد سرور، پروفیسر کلیم الدین احمد کا ذکرکچھ اس طرح کرتے ہیں:۔
’’پروفیسر کلیم الدین احمد ہمارے چوٹی کے نقادوں میں ہیں۔ میں انہیں ایک اہم نقاد ہی نہیں، تنقید کا ایک بہت اچھا معلم بھی سمجھتا ہوں۔ نقاد کا کام صرف بت گری ہی نہیں بت شکنی بھی ہے اور کلیم الدین احمد نے بہت سے بت توڑے ہیں۔‘‘
(دیباچہ، آل احمد سرور)
(۲)

دوسری طرف جمال صاحب کلیم الدین احمد کو جانب دار، تعصب پسند، نافہم، غیر سائنسی، کم علم، نقال اور ادبی سمجھ بوجھ سے خالی فنکاروں کا مزاق اڑانے والا مانا ہے۔ ذیل میں جمال صاحب کی کتاب ’’جدید اُردو تنقید(پس منظر و پیش منظر)‘‘ سے کلیم الدین کے بارے میں کہے گئے چند جملے پیش کئے جارہے ہیں۔ آپ خود ہی پڑھیں اور اندازہ لگائیں کہ اتنے بڑے ناقد پر اس طرح کی الزام تراشی کرنا ادبی نقطہ نظر سے کتنا صحیح ہے؟ اور موصوف کا مطمح نظر کیا ہے، لکھتے ہیں:۔
*’’ کلیم الدین احمد کا طرز استدلال طنز اور تحقیر سے لپٹا ہوا ہے اور ان پر نو آبادیاتی افکار کا غلبہ ہے‘‘
*’’کہا جاسکتا ہے کہ کلیم صاحب کے اندر ثقافتی شعور ناپید ہے‘‘
*’’کلیم صاحب کی باتیں اپنی جگہ درست معلوم ہوتی ہیں لیکن انہوں نے فراق صاحب کے انداز کو نہیں پہچانا‘‘
*’’حالی کی یہ عبارت کلیم الدین احمد کی سمجھ میں نہیں آئی‘‘
*’’کلیم الدین احمد کی تنقیدمیں ہمدردانہ عنصر عنقا ہے‘‘
*’’کلیم الدین احمد کے تنقیدی تعصب کو ظاہر کرتا ہے‘‘
*’’کلیم الدین احمد کی نکتہ چینی اس نوعیت کی ہے جیسے پچاس سال پہلے پیدا ہونے والے انسان کے بارے میں یہ کہتا ہوکہ وہ کمپیوٹر کیوں نہیں جانتا تھا‘‘
*’’غالب کو دانتے اور شیکسپیئر سے کمتر درجہ کا شاعر بتانا ایک غیرسائنسی اور غیر تحقیقی بات ہے‘‘
*’’کلیم صاحب شاید یہ نہیں جانتے تھے کہ ادبی تنقید میں سائنسی افکار یا سماجی علوم بعینہ وہ نہیں رہتے جس طور پر یہ موجود ہوتے ہیں‘‘
کمال ہے چھوٹا منھ اور بہت بڑی بات آپ کہئے، لکھئے آپ کو مکمل آزادی ہے، مگر کہنے کا ڈھنگ اور دلائل بھی پاس رکھئے۔ موصوف جب یہ تمام باتیں کہہ گزرتے ہیں تب شاید انہیں احساس ہوتا ہے کہ یہ کوئی اور ناقد نہیں پروفیسر کلیم الدین احمد ہی ہیں تو صاحب اپنی اسی کتاب میں یہ کہہ کر تمام باتوں کی نفی بھی کرجاتے ہیں، لکھتے ہیں:۔
’’بہرکیف کلیم الدین احمد اُردو تنقید کی تاریخ میں آج تک کا سب سے بڑا نام ہے۔‘‘
(جدید اُردو تنقید: پس منظر و پیش منظر، ص ۶۸)
جمال کو میں ذہنی مریض یا Mental تصور کرتی ہوں جو اپنی بے بنیاد دُنیا میں کھویارہ کر صرف اور صرف خود نمائی کا پہلو تلاشتا رہتا ہے۔ تنقید پر تو آپ نے دیکھا ہی اورجب وہ اپنی نظم نگاری پر بات کرتے ہیں تو بڑے سے بڑے فنکار کو بھی نہیں بخشتے۔ نئے لکھنے والوں کے لئے یہ رائے قائم کرتے ہیں کہ ’’کلام کی اشاعت پر پابندی لگنی چاہئے‘‘ شاید وہ اس بات سے ناواقف ہے کہ ’’ساحل کے ساتھ مل کر بہنے والی موجیں بھی دریا کے وجود کا ناگزیر حصہ ہوتی ہیں‘‘ میں نے اوپر لکھا تھا کہ جمال صاحب اپنی تعریف کرتے نہیں تھکتے چاہے وہ شاعری کا منچ ہو یا نثر کا میدان، لکھتے ہیں:۔
’’میری نظمیں بعض مقامات پر بڑی Absurd اور نا مکمل سی محسوس ہوں گی، لیکن یہ صفت مری نظموں کی خامی نہیں خوبی ہے۔‘‘
(نقش گریز ، از جمال اویسی، ص۳۵)
’’خدا کا شکر ہے کہ میں بہت سی شاعرانہ کوتاہیوں اور پستیوں سے بلند ہوچکا ہوں‘‘
(وہاب اشرفی کو لکھے ایک خط میں بحوالہ تاریخ ادب اُردو، جلد سوم، ص ۱۸۷۶)
’’جمال اُویسی کی شاعری میں بھی ’’نوجوان انسان‘‘ کی شخصیت اچانک تبدیل ہوتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔‘‘
(شور کے درمیان، از جمال اویسی ص ۱۴۳)

(۳)
’’اخترالایمان کی طرح میں نے غزل کی مخالفت کی ضد میں نظم کو اپنا شعار نہیں بنایا بلکہ ان شعری ہئیتوں کو ان کے بنیادی تقاضوں کی روشنی میں برتا‘‘
(نقش گریز:از جمال اویسی ،ص ۳۲)
دیکھا آپ نے موصوف اپنی تعریف کرنے میں کتنی مہارت حاصل کرچکے ہیں، اخترالایمان کو بھی بلاوجہ گھسیٹ لے آئے ۔ یہاں بھی ان کا مقصد بس خودنمائی ہی تو ہے۔ میں نے کہا جمال صاحب ذہنی مریض ہیں مثال کے طور پر کچھ اشعار ان کے شعری مجموعہ ’’شور کے درمیان‘‘ سے ملاحظہ ہو:
مرا مجموعہ چھوڑ کر باقی
جس قدر شاعری ہے باسی ہے
۔۔۔۔۔۔
میں خانقاہ سے بیگانہ بن کے لوٹ آیا
اسے قبول نہیں ہوسکی مری ہستی
۔۔۔۔۔۔
میں زمین پر رینگتی مخلوق میں شامل نہ تھا
تنگ گلیوں میں بھی رہ کر آسماں پیدا کیا
۔۔۔۔۔۔
ملے گا کئی تہہ میں لپٹا ہوا
مرا شعر غالب کے دیوان میں
۔۔۔۔۔۔
میں خانقاہ سے گزرا ترانے گاتا ہوا
ترے ولی کو مری شاعری پسند نہیں
۔۔۔۔۔۔
مذکورہ اشعار میں لفظ ’میں‘ میرا جس شدت کے ساتھ آیا ہے وہ قابل دید ہے۔ خیر ’’ڈاکٹر ارشد جمیل۔ ایک تاثر‘‘ جمال کا ایک تاثراتی مضمون حالیہ دنوں میں میری نظروں سے گزرا۔ چاہتی ہوں اس مضمون کے حوالے سے کچھ باتیں کر اپنی بات تمام کروں۔
ڈاکٹر ارشد جمیل ہمہ جہت شخصیت کے مالک کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ ڈاکٹر ارشد جمیل صاحب کو نہ جمال کی ضرورت ہے اور نہ ہی کمال کی۔ آپ کو آپ کی دنیا مبارک ہو۔ اپنی وقتی شناخت بنانے کی جلدی میں جمال صاحب نے ڈاکٹرارشد صاحب کو بھی نہیں بخشا۔ پہلی بات تو یہ کہ تاثراتی مضمون لکھا کیونکر جاتا ہے اس کے تقاضے کیا ہیں وہ اس سے بالکل بھی واقف نہیں۔ یہاں بھی جمال صاحب خود کو ہی دکھانے میں مصروف ہیں۔جب وہ اپنے لئے ان باتوں کا ذکر کرتے ہیں تو ان کی ذہنیت اور سطحی سوچ واضح ہوجاتی ہے،لکھتے ہیں:۔ 
’’ارشد جمیل صاحب لسانیات پڑھایا کرتے تھے، جہاں تک مجھے یاد آتا ہے ضیاء الرحمن صاحب تنقید اور اقبالیات کا پرچہ پڑھایا کرتے تھے۔ سب رس، ڈاکٹر فاران شکوہ یزدانی پڑھایا کرتے تھے بلکہ وہ قطب مشتری بھی سنبھالتے تھے۔ میں ان کلاسوں کے دوران یا تو شعرگوئی کیا کرتا تھا یا پھر ابن صفی کو پڑھاکرتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ لوگ نئے نئے آئے تھے اور پڑھنے پڑھانے کی مشق میں لگے ہوئے تھے۔۔۔‘‘
(ڈاکٹر ارشد جمیل:ایک تاثر، از جمال اُویسی)
(۴)
ہزاروں کی تعداد میں ان اساتذہ کے شاگردآج بھی موجود ہیں اور کامیاب زندگی گزار رہے ہیں، کیا کوئی ایک بھی شاگرد ان کے علاوہ ایسا مل سکتا ہے جو ان بزرگوں کے کلاس کا اس طرح مزاق اُڑا رہا ہو۔ ہم نے تو یہاں تک سنا کہ ارشد صاحب کے پڑھانے کاانداز اس طرح کاتھا کہ کلاس میں بیٹھا عالم ہو یا عامی ان کی باتیں ان کے ذہن و دل سے ہوتی ہوئیں ان کے دماغ پر اثر انداز ہوجایا کرتی تھیں ۔
بیشک اگر گدھے پر کتابیں ہی لاد دی جائیں تو وہ ان سے کیا فائدہ اٹھاسکتا ہے اسے تو بوجھ ہی معلوم پڑے گا۔ جمال صاحب نے اتنے پر ہی بس نہیں کیا حضرت عمرؓ ہاں وہ حضرت عمرؓ جنہوں نے آقاؐ کی محفل پاکراپنے اعمال و کردار سے رہتی دنیا تک کے لئے انسانیت کی ایک مثال قائم کردی۔ یہاں تک کہ حضرت ابوبکرؓ نے اپنا نائب مقرر کرتے ہوئے عمرؓ کے بارے میں یہ فرمایا:۔
’’میں خدا سے کہوں گا کہ میں نے تیرے بندوں پر اس شخص کو افسر مقررکیا جو تیرے بندوں میں سب سے زیادہ اچھا تھا۔‘‘ 
(بحوالہ ۔ الفاروق از شبلی نعمانی، ص ۷۲)
اچھی بات یہ ہے کہ جمال صاحب نے حضرت عمرؓ کو اس تاثراتی مضمون میں اپنا آئیڈیل تسلیم کیا ہے اور اصل بات تو یہ ہے کہ حضرت عمرؓ سے جمال کو کوئی مناسبت نہیں ہے۔ حضرت عمرؓ جو انسانیت کے اعلیٰ مقام پر فائز ہیں تو دوسری طرف موصوف جسے انسان کہنے میں بھی انسانوں کو شرم آتی ہے۔ اب یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ موصوف نے حضرت عمرؓ کو اپناآئیڈیل کیوں لکھا ہے، یہاں بھی وہی پرانی باتیں بیساکھی۔۔۔ بیساکھی۔۔۔ بیساکھی۔۔۔!
اخیر میں بس میں یہی کہوں گی کہ اگر آپ کو کسی صنف پر دسترس حاصل نہیں، اس کے فنی تقاضوں کو پورا نہیں کرسکتے، اس کے آداب سے واقف نہیں تو آپ اس صنف میں طبع آزمائی کیوں کرتے ہیں اور اگر کرتے ہیں تو قاری کا وقت اور ذہن دونوں خراب کرتے ہیں۔۔۔!!ایسے ہی لوگوں کو ذہن میں رکھ کر کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے:۔
کتنی آسانی سے مشہور کیا ہے خود کو
میں نے اپنے سے بڑے شخص کو گالی دے کر
***

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com