دِلی والے کی تصنیف’ذکر کچھ دِلی والوں کا‘

دِلی والے کی تصنیف’ذکر کچھ دِلی والوں کا‘

* ڈاکٹر رئیس صمدانی

موصولہ تصنیف ’ذکر کچھ دلی والوں کا‘میرے محترم دوست محمود عزیز کی تصنیف ہے جو از خود دلی والے ہیں ۔ اس اعتبار سے دلی والوں کا حال ان سے بہتر کون لکھ سکتا تھا۔ محمود عزیز صاحب سے میرا تعلق اور دوستی کا مرکز و منبع انجمن ترقی اردوپاکستان کی لائبریری ہے۔ ہم انجمن کی لائبریری میں ملے ایک دوسرے کو بھلے لگے اور قریب آتے گئے۔ اکتوبر 16 تا18شہر کراچی میں ’’سر سید احمد خان دو سو سالہ یادگاری بین الا قوامی کانفرنس‘‘ منعقد ہوئی۔ جس میں اندرون و بیرون ملک سے آئے اردو کے پروانوں نے شرکت کی اور مقالات پیش کیے ۔ انجمن ترقی اردو پاکستان نے کانفرنس کے شرکاء سے ملاقات کا اہتمام 21اکتوبر 2017 کوکیا۔ مہمان اعزاز لاہور سے آئے ادیب ڈاکٹر تحسین فراقی ، ڈاکٹر ابو سفیان اصلاحی(علی گڑھ)، اشفاق احمد (کنیڈا)، جرمن اسکولر ڈاکٹر ہینز ورنر ویسلر (سوئیڈن) تھے جب کہ مقررین میں پروفیسر سحرؔ ؔ انصاری ڈاکٹر تنظیم الفردوس شامل تھیں ۔انجمن کے ادبی پروگراموں میں شرکت اور اس کی لائبریری میں نشست میرا کافی عرصے سے معمول ہے۔ وجوہات کئی ہیں ۔ ادب سے دلچسپی ،ادبی دوستوں سے میل ملاقات ، پروگراموں کاہفتہ کے دن صبح کے اوقات میں منعقد ہونا اور انجمن کا دفتر میرے گھر سے نزدیک ہونا شامل ہیں۔ کتاب جون 2017 ء میں شائع ہوئی ، چند دنوں بعد ہی محمود صاحب نے میرے لیے انجمن کی لائبریری میں دے دی کہ میں جب بھی لائبریری آؤں کتاب لے لوں۔ انہوں نے کتاب پر لکھا ’’معہ احترمات ڈاکٹر رئیس صمدانی کے لیے خلوص و محبت کے ساتھ‘‘،محمود عزیز (28اگست2017)، مجھے سالِ رواں میں حج پر جانا تھا، اگست سے پہلے سے ہی میں سفرِ حج کے معاملات میں مصروف رہا ، اس دوران انجمن آنا نہیں ہوا، 25اگست کو میں حج کے لیے روانہ ہوچکا تھا۔ گویا جب محمود عزیز صاحب نے میرے لیے یہ تحریر لکھی اس وقت میں مکہ المکرمہ میں تھا۔ واپسی 12اکتوبر کو ہوئی ۔ حج سے واپس آکر سرسید کے دو سو سالہ جشن ولادت پر خصوصی مضمون بعنوان ’’سرسید احمد خان۔ ایک عہد ساز شخصیت‘‘لکھا۔ تقریب میں محمود عزیز صاحب سے ملاقات ہوئی انہوں پہلا سوال ہی یہ کیا کہ کیا آپ نے میری کتاب ’ذکر کچھ دلی والوں کا‘معروف صاحب سے لے لی ۔ تقریب کے اختتام پر حسب معمول ہم لائبریری گئے جہاں محمود عزیز صاحب نے وہ کتاب ہمارے حوالے کی ، اُسی وقت ہمارے شاگردوں معروف اور زبیر نے محمود عزیز صاحب کے ساتھ ان لمحات کو تصویری صورت میں محفوظ بھی کر لیا۔ مَیں کوشش کرتا ہوں کہ موصولہ کتب کے صفحۂ عنوان کی تصویر فیس بک پر ڈالنے پر اکتفا نہ کروں بلکہ کتاب کو قارئین سے متعارف بھی کراؤں ۔ اس طرح کتاب کامطالعہ بھی ہوجاتا ہے،پڑھنے اور لکھنے کی عادت برقرار رہتی ہے، مصنف اپنی تصنیف پر کچھ مثبت رائے پا کر یقیناًخوش بھی ہوتا ہوگا، قارئین کتاب پر تبصرہ یا رائے پڑھ کر کتاب کے بارے میں مثبت رائے بھی قائم کرتے ہوں گے، ممکن ہے کہ بہت نہ سہی چند احباب کتاب کے حصول کی کوشش بھی کر لیتے ہوں۔ میرے ذاتی ذخیرے میں کئی موصولہ تصانیف محفوظ ہیں ، لکھنے کا سلسلہ کچھ اس قسم کا ہے کہ بعض کتب پر تو فوری کچھ نہ کچھ لکھ لیتا ہوں بعض بعض رکھی ہوئی ہیں ۔ کبھی کبھی ارادہ ہوتا ہے کہ میں بھی موصولہ کتب کے سر ورق کی تصویر فیس بک پر ڈال دیا کروں پھر ارادہ بدل دیتا ہوں ، یہ سوچ کر کہ کتاب دینے والے کا اتنا تو حق بنتا ہے کہ اس کی کاوش کو چند جملوں میں سراہا جائے۔ دلی والوں کے بارے میں لکھنے والا بھی دلی والا ہی ہے۔ کیونکہ مصنف نے لفظ’ دلی‘ لکھا ہے جب کے دلی’ دہلی‘ بھی ہے،اس لیے میں نے بھی لفظ ’دلی‘ ہی استعمال کیا ہے۔ دلی کی بات ہو تو دلی والوں کا ذکر لازمی ہے، دلی کے شعرا کے ذکرکے بغیر بات ادھوری ہوتی ہے اور دلی کے اجڑنے کی داستان کا ذکر آئے تو لکھنؤ کا ذکر بھی لازمی ہے ۔ اس لیے کہ جب دلی اجڑی تو شاعروں اور ادیبوں نے دلی سے لکھنؤ کا رخ کیا۔ اردو شاعری کی اساس دلی اور لکھنؤ دبستان ہیں۔ دبستانِ دلی کی شاعری داخلیت پسندی کے گرد گھومتی ہے جس میں سوز وگداز، درد مندی، غم والم، تصوف، حسن و جمال، احساساتِ حسن، خوبصورت تشبیہات، شگفتگی و ترنم،خلوص، سادگی، صداقت، خطابیہ انداز پایا جاتا ہے ۔ جب کہ دبستان لکھنؤ کی اپنی ایک شناخت ہے ،انفرادیت ہے ، یہاں کے شعراء میں خارجیت کارنگ پایا جاتا ہے۔ خارجیت پسندی میں لکھنؤ کا دبستان اتنے آگے نکل گیا تھا کہ وہ شعراء جو دہلی سے لکھنؤآئے جو داخلیت پسندی لیے ہوئے تھے انہیں بھی اپنے طرز اظہار میں خارجیت پسندی کو اختیار کرنا پڑا۔ جیسا کہ مصحفی ؔ نے کیا، مصحفیؔ پر تو سخت تنقیدبھی ہوئی یہاں تک کہ ان کے بارے میں یہ تک کہہ دیا گیا کہ ان کا اپنا کوئی رنگ نہیں ، اس کے باوجود انہیں شاعری میں منفرد اور یکتا مقام حاصل ہے۔آتشؔ میں بھی دلی اور لکھنؤی رنگ و روپ نمایاں تھا۔دلی کا ذکر ہو تو وہ میر تقی میرؔ اور دلی کے اجڑنے کی داستان کے بغیر ادھورا ادھورا سا لگتا ہے۔ایک وقت ایسا آیا کہ دلی کے حالات ابتری کی جانب رواں دواں تھے، مغلیہ سلطنت روبہ انحطاط تھی، ابدالیوں نے دلی پر حملہ کرکے اس کا حال برا کردیا تھا،مرہٹوں نے انتشار کی فضاء پیدا کی، روہیلوں نے مظالم در مظالم کرکے ظلم کی تاریخ رقم کردی تھی، نادر شاہ دلی پر حملہ آور ہوا اور اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ، اس کے بعد احمد شاہ ابدالی نے رہی سہی کثر پوری کرکے دلی کو تاراج کرلیا ، دلی کو خوب لوٹا گیا، سارا نظام درہم برہم کردیا گیا،یہی وقت تھا جب دلی کے اجڑنے کی داستان رقم ہوئی۔ 1857 ء کے غدر نے مغلیہ سلطنت کے ساتھ قدیم تہذیب و تمدن کی بساط الٹ کر رکھ دی۔اس طرح درانیوں، ابدالیوں، مرہٹوں، جاٹوں اور روہیلو ں نے یکے بعد دیگرے دلی کو خوب خوب لوٹا اور قتل و غارت گری سے دلی کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیا۔ یہاں تک کے مغل حکمراں انگریزوں کے ملازم بن کر رہ گئے۔ میرؔ دلی کی کاھِش پزیری کا حال اپنی آنکھوں سے دیکھتے رہے۔ وہ ایک حساس دل لیے ہوئے تھے ان واقعات سے الگ تھلگ کیسے رہ سکتے تھے۔ دلی کے اجڑنے کی داستان رقم کی۔ میرؔ نے کہا ؂ کیا بود و باش پوچھو ہو پو رپ کے ساکنوں ہم کو غریب جان کر ہنس ہنس پکار کے دلی جو ایک شہر تھا عالم انتخاب رہتے تھے منتخب ہی جہاں روزگار کے جس کو فلک نے لوٹ کے ویران کردیا ہم رہنے والے ہیں اسی اجڑے دیار کے دلی کے ابتر حالات نے وہاں کے باسیوں کو دلبرداشتہ کردیا تھا، شاعروں اور ادیبوں کی اکثریت نے دلی سے لکھنؤ کا رخ کیا ۔ میر تقی میرؔ نے بھی دلی کو خیر باد کہنے کا ارادہ کیا ۔ میرؔ شاعر کی حیثیت سے اپنی شہرت کا ڈنکا بجوا چکے تھے۔ نواب وزیر الملک آصف الدولہ بہادر نے میرؔ کو لکھنؤ بلوا بھیجا۔ میر نےؔ بھی اس پیش کش کو غنیمت جانا اور دلی کو چھوڑ لکھنؤ جا بسے۔ اس وقت میرؔ ساٹھ کے ہوچکے تھے۔ یہاں آکر اطمینان کا سانس لیا اور پھر لکھنؤ سے واپس مڑکر نہ دیکھا ۔ گو وہ لکھنؤ میں اداس ضرور تھے لیکن اس کے باوجود لکھنؤ کو اپنی آخری پناہ گاہ و آرام گاہ بھی بنا لیا اور زندگی کے اختتام تک لکھنؤ ہی کو آباد کیے رکھا ۔ وہ لکھنؤ گئے تو اپنی اداسی کا اظہار کچھ اس طرح کیا ؂ لکھنؤ دلی سے آیا یاں بھی رہتا ہے اُداس میرؔ کی سرگشتگی نے بے دل و حیراں کیا دبستانِ دہلی کا اپنا رنگ ہے ، دہلی اسکول آف اردو غزل کی وسعت اور اثرات اردو شاعری پر ہمیشہ سایہ فگن رہیں گے۔دبستان دہلی نے میر تقی میرؔ ،سوداؔ ، دردؔ ، مصحفیؔ ، انشاءؔ ، میرحسن، داغؔ دہلوی، بیخودؔ دہلوی اور بے شمار عظیم شاعر پیدا کیے۔میرؔ کا انداز اور شاعری سب سے جد ا، گفتگو کا انداز مختلف اور سخن نرالا ہے جس کا اعتراف خود میرؔ نے اس شعر میں کیا ؂ نہیں ملتا سخن اپنا کسو ‘سے ہماری گفتگو کا ڈھب جُدا ہے شاعر مشرق علامہ اقبال ؔ نے دہلی کے بارے میں یہ خوبصورت شعر کہے ؂ اے جہاں آباد ! اے گہوارۂ علم و ہنر ہیں سراپا نالۂ خاموش تِرے بامو در ذرہ ذرہ میں ترے خوابیدہ ہیں شمس و قمر یوں تو پوشیدہ ہیں ترے خاک میں لاکھوں گہر دفن تجھ میں کوئی فخر روزگار ایسا بھی ہے تجھ میں پنہاں کوئی موتی آبدار ایسا بھی ہے مصنف کے بارے میں سید محمد ناصر علی نے لکھا’محمود عزیز دلی والے ہیں اور اس پر فخر کرتے ہیں کہ دلی ہے ہی یگانہ روزگار اور وہ خود بھی گفتار میں کردار میں منفرد ‘۔ ڈاکٹر ممتاز خان نے لکھا کہ’ ’محمود عزیز مطالعہ کے خوگر اور اس سے کشیدکر دہ احساسات اور جذبات کو رقم کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔ ان کا اسلوب شائستہ اور سلیس ہے ‘‘۔ ڈاکٹر شیخ معین قریشی نے ’گاہے گاہے بازخواں‘ کے عنوان سے لکھا ’’اتنے بہت سے حقا ئق کو اکھٹا کرنا، انہیں ایک منطقی انداز میں ترتیب دینا اور پھر آسان ، رواں اور شستہ انداز میں پیش کرنا ایک کاردارد تھا جس میں وہ پورے اترے ہیں۔دوسرے الفاظ میں اختصار بھی اس کتاب کا ایک طرہ امتیاز ہے ‘‘۔ اب آتے ہیں ان دلی والوں کی جانب جن کا ذکر مصنف نے اپنی اس کاوش میں کیا ۔ ’سر سید احمد خان مسیحائے قوم ‘کے عنوان سے کتاب کا پہلا مضمون ہے جس کی ابتدا اس جملے سے کی گئی ہے کہ ’1857ء کی جنگ آزادی کے بعد جسے انگریز نے غدر اور سر سید احمد خان نے بغاوت کہا ‘۔اس مضمون میں مضمون نگار نے مسلمانوں پرانگریز کے ظلم کی داستان رقم کی پھر سر سید جو دہلی کے یک ممتاز خاندان کے ذی وقار فرد تھے نے مسلمانوں کو خراب حالات سے نکالنے میں جو کلیدی کردار ادا کیا اس کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔ گویا سر سید کی جدوجہد کی داستان کو دریا کو کوزہ میں بند کردیا گیا ہے۔ دوسرا مضمون مولانا عبد السلام نیازی پر ہے جس کا عنوان ہے ’’دلی کی ایک یاد گار ہستی‘‘۔ مولانا کے بارے میں مصنف نے خوب چھان بین کی کہ مولانا کے بارے میں کچھ سامنے آجائے لیکن اس عمل میں تو خلیق انجم بھی ناکام رہے ، مولانا صاحب صاحب تصنیف تھے، تصوف ان کا موضوع تھا۔ ایک مضمون’ مصور غم :راشد الخیری‘ کے عنوان سے ہے ،’ خواجہ حسن نظامی ۔میری نظر میں ‘ جاندار مضمون ہے، ’ملا واحدی کی کہانی‘خوبصورت انداز میں بیان کی ہے ، ملاواحدی نے تو خود اس موضوع پر کتاب لکھی جس کا عنوان ہے ’میرے زمانے کی دلی‘ ،’ میر باقرعلی داستان گو‘،’ شان الحق حقی : ایک نادر علمی و ادبی شخصیت‘،’ عالی جی کی کویتا رانی‘ کے عنوان سے عالی جی کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ عالیؔ جی کا ایک شعر درج مضمون ہے جس میں عالیؔ جی نے اپنے دہلوی ہونے کا ذکر کیا ہے ؂ جانتے ہیں تمام لوگ گو کوئی مانتا نہیں سن تو رکھا ہے تم نے بھی عالیؔ دہلوی کا نام ’ مسٹر دہلوی کی مزاحیہ شاعری‘ کے عنوان سے مضمون ہے جس میں مسٹر دہلوی کے متعدد مزاحیہ اشعار درج کیے ہیں شاعری کے بارے میں مسٹر دہلوی کے دو اشعار ؂ شاعری ایسی دق ہے کہ ا س کے درجہ اول میں انسان شعر جب اچھا سنتا ہے گردن کو ہلانے لگتاہے درجہ دوم کی ہے علامت شعر وہ کہنے لگ جائے درجہ آخر میں جب آئے ۔ شعر سنانے ہے لگتا ان کے علاوہ’ دلی کے چٹخارے ‘، ’انوکھے لوگ دلچسپ واقعاتُ ، اور ’نرالی اردو‘ جیسے مضامین بھی کتاب کا حصہ ہیں۔کتاب ہر اعتبار سے دلچسپ اور معلومات کا مرقع ہے۔ دلی ، دلی کے شعرا ، دلی کے اجڑنے کی داستان ایسے موضوعات ہیں کہ جن پر کئی دہلویوں نے قلم آزمائی کی ہے۔ ملاواحدی کی کتاب ’’میرے زمانے کی دلی‘‘، ڈاکٹر صلاح الدین کی کتاب ’’دلی والے‘‘، اشرف صبوحی کی تصنیف ’’دلی کی چند عجیب ہستیاں‘‘، ڈاکٹر خلیق انجم کی کتاب ’’دلی والے‘‘ اور شائستہ سہروردی اکرام اللہ کی تصنیف ’’دلی کی خواتین کی کہاوتیں اور محاورے‘‘ تو میرے علم میں ہیں ۔ بہت ممکن ہے کہ اور اس موضوع پر اور بھی تصانیف ہندوستان سے شائع ہوئی ہوں۔ مضامین کا تو کوئی ٹھکانہ ہی نہیں دلی اور لکھنؤ کے شعرا ، شاعری اور دلی کے اجڑنے کی داستانیں تو بے شمارشاعروں نے نظم کی ہیں۔ ’دس برسوں کی دلی‘ قسط وار شائع ہوئی۔محمود عزیز صاحب نے دلی والوں پر لکھنے کے عمل کا تسلسل برقرار رکھا ہے۔ الطاف حسین حالی نے دلی کا مرثیہ لکھا چند اشعار ؂ تذکرہ دہلی مرحوم کا اے دوست نہ چھیڑ نہ سنا جائے گا ہم سے یہ فسانہ ہرگز چپے چپے پہ ہیں یاں گوہر یکتا تہہ خاک دفن ہو گا نہ کہیں اتنا خزانہ ہر گز لے کے داغ آئے گا سینے پہ بہت اے سیاح دیکھ! اس شہر کے کھنڈروں میں نہ جانا ہرگز بات دلی والوں کی ہو تو کم از کم میں اُس دلی والے کا ذکر کیے بغیر نہیں رہ سکتا جس کا نام حکیم محمد سعید ہے ۔ کبھی وہ حکیم محمد سعید دہلوی لکھا کرتے تھے۔ 9 جنوری1920ء میں شہر دہلی کے کوچہ کاشغری، بازار سیتارام میں پیدا ہوئے تھے ۔پاکستان بنا تو پاکستان آگئے ، اعلیٰ خدمت کے جوہر دکھائے اسی سرزمین میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہو رہے۔ ان کا خاندان اب بھی دلی کے مکینوں میں سے ہے۔ مجھے حکیم محمد سعید شہید پر سب سے پہلے پی ایچ ڈی کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔ میرے مقالے کا موضوع حکیم محمد سعید کی شخصیت ، کتاب سے محبت اور کتب خانوں کی ترقی اور فروغ کے حوالے سے ہے۔ متعدد دلی والے شاعروں اور نثر نگاروں پر مضامین لکھ چکا ہوں۔ محمود عزیز صاحب نے یہ کتاب ترتیب دے کراپنے دلی والے ہونے کا حق ادا کردیا ہے۔دلی والے شاعر اور ادیب تعداد ، رتبے، علمی وادبی خدمات، شاعری اور مقام میں اتنے قدر آور ہیں کہ ’’دلی والے شاعر وں اور ادیبوں کا انسائیکلو پیڈیا ‘‘ کئی جلدوں میں تر تیب دیا جاسکتا ہے۔ محمود عزیز صاحب اس کام کا بیڑا اٹھائیں تو انہیں معاونت ملنا مشکل نہیں۔ کتاب کا سرورق حسین و دیدہ زیب ہے۔ دہلی کی جامعہ مسجد، بیرونی گیٹ اور خوبصورت گنبدوں و مینار کے ساتھ لشکارے مار رہی ہے ، اس کے بائیں جانب قطب مینار کی تصویر ہے اور عقب میں انڈیا گیٹ دلی کی یاد دلا رہا ہے ۔جنہوں نے دلی کو دیکھا ہے وہ اس تصویر کو دیکھ کر ماضی کی یادوں میں کھوجائیں گے ، مصنف اور سرورق و لے آوٹ ڈیزائن کرنے والے محمد عاطف فاروقی صاحب کو داد دیے بغیر نہ رہ سکیں گے۔کتاب کی پشت پر محمود عزیز صاحب کی تصویر کے ساتھ ان کا مختصر تعارف کچھ اس طرح ہے کہ ’’محمود عزیز شہر قائد کراچی کی ان شخصیات میں شامل ہیں جن کو خدمتِ زبان اردو سے دلچسپی ہے۔ وہ تواتر کے ساتھ مختلف جرائد میں چھپتے رہتے ہیں۔ ادبی حلقے میں جانے پہچانے ہیں۔ روزنامہ مقدمہ کراچی کے ادبی صفحہ کے مدیر رہے۔ انجمن ترقی اردو کے بہی خواہوں میں شامل ہیں۔ انجمن کے رسالے قومی زبان میں ان کی قلمی خدمات شامل رہتی ہیں۔ فدائے اردو پروفیسر خواجہ حمید الدین شاہد کے رسالے ماہنامہ سب رس کے معاون مدیر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں ان کی شعری کیلنڈروں کی تدوین قابل داد ہے‘‘۔ اگر میں بھی محمود عزیز صاحب کا تعارف کراتا تو بھی یہی ہوتا۔مصنف کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد ، اللہ ان کے قلم کی روانی کو قائم و دائم رکھے۔ کتاب کی طباعت واشاعت بقائی یونیورسٹی پریس کی ہے، حالانکہ بقائی یونیوورسٹی کی خدمات کا شعبہ میڈیکل ہے ۔ ادبی موضوع پر کتاب شائع کر کے انہوں نے اپنی خدمات میں نئی جہت کا اضافہ کیا ہے جو قابل تحسین ہے۔ کتاب کے تقسیم کار معروف طباعتی و اشاعتی ادارے فضلی بکی سپر مارکیٹ کی ہے۔ (یکم نومبر2017)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com