جشنِ ’ریختہ ‘ سے پاکستانی شاعرہ و کالم نگارکا واک آؤٹ

جشنِ ’ریختہ ‘ سے پاکستانی شاعرہ و کالم نگارکا واک آؤٹ * ڈاکٹر رئیس صمدانی بھارت کے حکمرانوں، شدت پسندوں ، متعصبوں کا رویہ پاکستان کے ساتھ مسلسل خراب سے خراب تر ہوتا چلا جارہا ہے۔ خاص طور پر بھارت میں جب سے نریندر مودی کی حکمرانی قائم ہوئی ہے پاکستان کے ساتھ تعلقات میں انتہایہ خرابی اور کشیدگی آگئی ہے۔ اس لیے کہ مودی اپنے زمانے کا متعصب اور پاکستان دشمنی میں پی ایچ ڈی کی ڈگری رکھتا ہے۔ یہ پاکستان ہی نہیں بلکہ مسلمانوں کا دشمن نمبر ایک ہے اس کا اگر بس چلے تو ہندوستان میں بسنے والے مسلمانوں کے ساتھ بھی وہی کچھ کرے جو یہ مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں کے ساتھ کر رہا ہے۔ مودی ٹولے کی پاکستان دشمنی اس قدر کھل کر سامنے آگئی ہے کہ ابھی تک تو یہ دشمنی دیگر محاظ پر تھی اب تو بھارت دشمنی و تعاصب شاعروں، ادیبوں اور لکھاریوں کے خلاف بھی ابھر کر سامنے آگیا ہے۔ گزشتہ دنوں پاکستان شوبز سے تعلق رکھنے والوں کے ساتھ نارواں سلوک کیا گیا انہیں عین پروگرام کے دوران ہوٹ کیا گیا، پرفام کرنے سے روک دیاگیا، کھیل اور کھلاڑیوں کے ساتھ بھارتی حکومت، مودی اور انتہا پسندو ں کا متعصبانہ ، پاکستان دشمن رویہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ میں نے اپنے ایک کالم بعنوان ’’بھارت کا ’گوربا چوف ‘نریندر مودی‘‘ میں لکھا تھا کہ ’بھارت کے وزیر اعظم کی حیثیت سے نریندر مودی کے افراتفری، دہشت گردی، غنڈہ گردی، مسلمانوں، سکھوں، نچلی ذات کے ہندو ؤ ں اور دیگر اقلیتوں کے قتل عام، پاکستان کے خلاف زہر اگلنے جیسے واقعات کی روشنی میں یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ مودی بہادر اگر اسی ڈگر پر بھارت کو لیے دوڑتے رہے تو وہ وقت بہت جلد آجائے گا جب یہ روس کے گورباچوف کی طرح بھارت کے گوربا چوف بن کر دنیا کے سامنے سینہ تان کر کہیں گے کہ دیکھو میں نے یہ سچ ثابت کردیا کہ بھارت اب بھی ایک قوم کا ملک نہیں بلکہ اس میں مسلمان ، سکھ بڑی تعداد میں بستے ہیں ۔ہمارے قائد نے تو بانگ دھل کہا تھا کہ ہندوستان میں ایک نہیں دو قومیں بستی ہیں ، نریندر مودی تمہیں مبارک ہو تم نے ہمارے قائد کی بات کا اب بھی پاس رکھا ہوا ہے۔ یہی نہیں بلکہ تم انشاء اﷲ ان سے بھی آگے جاؤگے اور یہ ثابت کروگے کہ بھارت میں اب بھی مسلمان بڑی تعداد میں بستے ہیں، یہاں کشمیری بھی ہیں ، یہاں سکھ بھی ہیں جن کا جینا بھارت کے انتہا پسند ، متعصب ہندوؤں نے دوبھر کیا ہوا ہے‘۔ بات شروع کی تھی بھارت کی ادبی تنظیم ’ریختہ‘ کے جشن کی۔ اردو زبان وادب کے حوالے سے ریختہ کا کردار بھارت میں اور انٹر نیٹ پر قابل تعریف ہے۔ کوئی نظم، غزل یا کوئی شعر کسی معروف شاعر کا درکار ہو ریختہ کی ویب سائٹ پر بہ آسانی مل جاتا ہے، ریختہ فیس بک استعمال کرنے والوں کے لیے ادبی و شعری ذوق کی تسکین کا باعث ہے۔ اس تنظیم کے تحت گزستہ تین سالوں سے ہر سال تین روزہ ’’جشن ریختہ ‘‘ کے عنوان سے علمی و ادبی جشن کا اہتمام کیا جاتا ہے۔اس کا بنیادی مقصد اردوزبان جو پاکستان کی قومی اور بھارت کے دوسری بڑی زبان ہے کی ترقی ، ترویج و توسیع ہے۔ جشن ریختہ میں مختلف پروگرامز منعقد کیے جاتے ہیں جن میں مشاعرہ ، محفل سماع (قوالی)، افسانہ نگاری وغیرہ شامل ہیں۔ اس سال جشن ریختہ 17تا 19فروی 2017 کو بھارت کے شہر دہلی کے اندرا گاندھی نیشنل سینٹر فار آرٹس میں منعقد ہوا۔ ریختہ فاؤنڈیشن ایک غیر سیاسی اور خالصتاً ادبی تنظیم ہے ۔ سابقہ سالوں میں بھی پاکستان کے معروف شعراء اور ادیبوں کو جشن رختہ میں شرکت کی دعوت دی جاتی رہی ہے اور پاکستانی ادیب و شاعر اس میں شرکت کر کے اپنے نگارشات پیش کر کے داد و تحسین حاصل کرتے رہے ہیں۔ اس مرتبہ بھی ایسا ہی ہوا، پاکستانی ادیبوں اور شاعروں کو جشن ریختہ میں شرکت کی دعوت دی گئی۔ پاکستانی شاعرہ، ادیبہ اور کالم نگار کشور ناہید دیگر8 احباب کے ہمرہ بھارت تشریف لے گئیں۔مشاعرہ کے دوران ریختہ کی انتظامیہ نے ان کے ساتھ انتہائی ناروا سلوک کیا، وہ دل بر داشتہ ہوکر جشن کو ادھورا چھوڑ کر وطن واپس آگئیں ۔ اس کی تفصیل انہوں نے غیر ملکی اخبار’ دی ٹیلی گراف ‘کو کچھ اس طرح بتائی کہ ’’مجھ سمیت 9پاکستانی شاعروں کو کلام پیش کرنے کے لیے مدعو کیا گیا تاہم انتظامیہ نے بھارت پہنچتے ہی ہمارا تعارف بطور مہمان خصوصی کروایا۔ ان کا کہنا تھا کہ میں یہ سوچ کربھارت آئی کہ فیسٹیول میں اپنا کلام پیش کرنے کا موقع ملے گا کیونکہ یہ بڑے اعزاز کی بات ہے مگر ریختہ کے صدر سے جب اپنی باری کا دریافت کیا تو انہوں نے جواباً بڑی بہن کہتے ہوئے انکشاف کیا کہ آپ صرف مہمان خصوصی کے طور پر مدعو کی گئی ہیں‘۔ اخبار میں ریختہ کے صدر نے موقف اختیار کیا کہ بھارت میں موجودہ حالات کے پیش نظر وہاں کے (یعنی پاکستان کے) کسی شاعر کو کلام پیش کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ، ہمیں خوشی ہے کہ پاکستان کے شعرا ء تین روزہ فیسٹیول میں حصہ بن رہے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’تین روزہ فیسٹیول میں 9پاکستانی شاعروں کو بطور مہمان خصو صی مدعو کیا گیا ہے اور اُن کو بھیجے جانے والے دعوت ناموں میں کہیں بھی کلام پیش کرنے کا ذکر نہیں کیا گیا‘‘۔بہت خوب ، ریختہ کے صدر کی منطق بھی عجیب اور نرالی ہے، کہ دعوت دی گئی مشاعرہ میں شرکت کی اور وہ بھی مہمان خصوصی کی حیثیت سے اور فرمایا جارہا ہے کہ مہمان خصوصی کا کام زباں بندی کے ساتھ کرسی صدارت پر بیٹھے رہنا ہے۔کبھی کسی نے ایسا سنا یا یا دیکھا، عجیب منطق ہے، سمجھ سے باہر، تقریب میں مہمانِ خصوصی کو بولنے کی دعوت نہ دی گئی ہو، مجبوری والی کیفت کچھ اوربات ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ بھارتی ادارے اور تنظیمیں اور ان کے منتظمین خواہ ان کا تعلق کسی بھی شعبہ ہائے زندگی سے ہوبھارت کے انتہا پسند ،تنگ نظر، متعصب ہندوؤں اورپاکستان دشمنوں سے اس قدر خوف زدہ ہیں کہ انہوں نے اخلاقیات کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دی ہیں۔ ایسی تنظیم جس کا تعلق علم و ادب، شائستگی، ادب احترام سے نہ ہو تو بات سمجھ میں آتی ہے جو لوگ اردو زبان و ادب کے سائے میں پل کر جوان اور پھر بڑھاپے کی سیڑھی تک پہنچے ہوں، جو لوگ مہمان خصو صی کو سننے کے لیے رات رات بھر مشاعروں میں بیٹھ کر گزار دیتے ہوں، تہذیب وشائستگی جن کا شعار ہو ان کے ہاتھوں شاعروں اور ادیبوں کے اس طرح کا سلوک افسوس ناک اور دکھ کی بات ہے۔ بہت دور جانے کی ضرورت نہیں کلکرنی کا منہ کالا کرنے والا واقع سب کو یاد ہے ۔پاکستان کے سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری کی کتاب کی تعارفی تقریب کی دعوت بھارت کی ایک تھنک ٹینک تنظیم آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن کے چیئمین سدھندرا کلکرنی نے دی۔ سندھندراکلکرنی بنیادی طور پر کمیونسٹ خیالات کاحامل کالم نگار، صحافی اور سیاسی کارکن ہے۔ یہ بھارٹی کمیونسٹ پارٹی( مارکسسٹ) کا رکن بھی رہ چکا ہے۔انتہا پسندوں نے اس تقریب میں کلکرنی کا منہ کالا نہیں کیا بلکہ خود اپنا اور اپنے ملک بھارت کا منہ کالا کیا تھا۔ریختہ کے جشن میں پاکستانی شاعروں اور ادیبوں کے ساتھ جو سلوک کیا گیا اس سے ہمارے ادیبوں اور شاعروں کے وقار اور عزت میں کمی نہیں آئی بلکہ اس عمل سے خود بھارت کا مکروہ چہرہ علمی و ادبی دنیا کے سامنے کھلی کتاب کی مانند سامنے آگیا ۔ یہ کوئی اچھی روایت نہیں جو اردو زبان و ادب کی معروف اور معتبر تنظیم کی جانب سے ڈالی گئی۔ آئندہ سب ہی کو بھارتی اداروں کی جانب سے ملنے والے دعوت ناموں کے جواب میں سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا ہوگا۔ اس لیے کہ کسی معروف شاعر کو مشاعرے کی دعوت دی جائے تو اس میں یہ بھی ضرور لکھا ہوکہ آپ نے کلام پڑھنا ہے یا نہیں، کسی تقریب کا دعوت نامہ تقریب کی صدارت کے لیے موصول ہو تو یہ معلوم کر لینا چاہیے آیا صاحب صدر کو خطاب کی اجازت بھی ہوگی یا نہیں۔ اس کے باوجود بھارتی دانشوروں ، شاعروں اور ادیبوں کو فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں پاکستانی ایسا نارواسلوک ہر گز نہیں کریں گے۔ یہ ہماری روایت ہی نہیں، مہمان کی عزت و احترام ہمارا شعار ہے۔ آپ کو ہر گز پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ، آپ اپنا دل میلا کر کے نہ بیٹھ جائیں یا خوف میں مبتلا نہ ہوجائیں کہ آپ کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک کیا جائے گا، نہیں ہر گز نہیں، نہ اسلام اس بات کی اجاذت دیتا ہے اور نہ ہی یہ ہماری قومی روایات کا حصہ ہیں ۔ مہمان کی عزت ، احترام، تعظیم و توقیرہمارے بزرگوں کی اعلیٰ میراث ہے ۔ کشور ناہید صاحبہ نے جو قدم اٹھایا وہ بالکل مناسب تھا، انہیں ایسا ہی کرنا چاہیے تھا۔ ادیب برادری ان کے اس عمل پر انہیں خراج تحسین پیش کرتی ہے۔ ( یکم مارچ2017)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com