خواتین ڈائجسٹوں میں لکھنے کا معیار

خواتین ڈائجسٹوں میں لکھنے کا معیار ہر ڈائجسٹ کا اپنا ہے۔ جہاں بہت سا غیر معیاری ادب پڑھنے کو ملتا ہے وہیں ان غیر معیاری تیسرے درجے کے رسائل میں کچھ ایسے بھی ہیں جنھوں نے معیار پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ گنتی کے ان چند ایک میگزین ایک مخصوص طبقے کی خواتین میں بے حد مقبول ہیں۔ ان رسائل کے معیار میں بہتری بھی آئی ہے مگر یہ کہہ دینا کہ خواتین ڈائجسٹ میں لکھنے والی تیسرے درجے کی نثر نگار ہیں، تنقید برائے تنقید کے سوا اور کچھ نہیں۔ 
پچھلے کئی روز سے سوشل میڈیا پر جیسے ایک تحریک سی چل پڑی ہے کہ کچھ خواتین لکھاریوں کو نام لے کر تنقید کا نشانہ بنایا جائے۔ بہت سی ویب سائٹس اپنی سائٹس پر اس قسم کی تحاریر کو جگہ دے کر ایسے دل جلوں کے حق میں راہیں ہموار کرتیں دکھائی دینے کے ساتھ خود بھی چھوٹے راستے سے شہرت کے بام عروج پر پہنچنا چاہتی ہیں۔ ایسے لوگ محض طنز کے تیر چلانا جانتے ہیں۔  ایسے دل جلے حضرات جو کسی کی کامیابیوں پر اپنے اندر دبے بغض کو سامنے لائے بنا نہیں رہ سکتے، ان کی اوٹ پٹانگ قسم کی پوسٹوں کو ان ہی کے جیسے پسندیدگی کی سند دیتے نظر آتے ہیں۔ یہی لوگ ہوتے ہیں جن کے سامنے بےپردہ لڑکی اچانک سے باحجاب رہنے لگے تو برملا سوال کرتے ہیں کہ کہیں فلاں خاتون لکھاری سے تو متاثر نہیں ہوگئی؟ 
ایسے صاحبان سے گزارش ہے کہ اگر کسی کا طرزِ تحریر آپ کو نہیں پسند تو مت پڑھیے۔ اگر تنقید کرنی ہے تو خدارا دلیل کے ساتھ کیجیے، خالی خولی طنز کے نشتر برسانے سے ان خواتین لکھاریوں کی شہرت کو زوال نہیں آنے والا نہ ہی آپ اس طرح شہرت حاصل کرسکتے ہیں۔ کلاسک کیا ہے؟ اس کی الف ب سے بھی آپ واقف نہیں، محض مشکل الفاظ کا چناؤ اگر کلاسک کہلاتا ہے تو جناب اس  سے آپ دل بہلائیے۔ گھر بیٹھی گھریلو خاتون کو اگر فرصت کے چند لمحات میں ان لکھاریوں کو پڑھنے سے راحت ملتی ہے تو جناب انھیں خوش ہونے دیجیے۔ آپ کا کیا جاتا ہے؟

 

 

تنزیلہ یوسف۔ لاہور

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com